تحریر : سعود عثمانی تاریخ اشاعت     25-05-2026

ایرانی جوئے شیر اور پاکستانی کوہ کن

مبارک تو دینی ہے لیکن حالات کے اتار چڑھاؤ کب کسی مبارک کو غارت کر دیں کچھ علم نہیں۔ اس سے پہلے بھی کئی بار ایسا لگا کہ امریکہ اور ایران میں معاہدے کے دستخط بس آئندہ 24 گھنٹوں میں ہو جائیں گے‘ پھر کوئی نادیدہ ہاتھ معاہدے کے کاغذات چھین کر لے گیا اور مبارکبادیں دھری رہ گئیں۔ اس لیے اصل مبارک تو اس دن ہو گی جب اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے نمائندے معاہدے پر دستخط کریں گے اور پاکستان گواہ کی حیثیت میں۔ کئی اور عرب ممالک بھی شریکِ محفل ہوں گے۔ پھر بھی اِس وقت یہ خوش آئند خبریں امریکی اور ایرانی نمائندوں سمیت اتنی جہات سے آ رہی ہیں کہ لگتا ہے وہ کام ہو گیا جس کے لیے پاکستان سر توڑ کوششیں اور سفارتکاری کر رہا تھا‘ بس رسمی کارروائیاں باقی ہیں۔
تہران یونیورسٹی‘ خیابانِ ولیِ عصر اور اطراف سے اس سے آ کر ملنے والی چھوٹی سڑکیں ان دنوں بہت یاد آ رہی ہیں۔ وہ سارا پُررونق مگر پُرسکون علاقہ اب کس حال میں ہے‘ کچھ معلوم نہیں۔ پرانے تہران میں قاچار بادشاہوں کے گلستان محل اور اس کے قریب قدیم مسقف بازار پر گزشتہ جنگوں کے بیچ کیا گزری‘ کچھ پتا نہیں‘ ان دکانوں پرخشک میوؤں کے لگے ہوئے ڈھیر اب بھی لگے ہیں یا جنگ نے انہیں اجاڑ دیا‘ کچھ کہہ نہیں سکتا۔ چلو کباب‘ جوجہ کباب اور ایرانی لسی دوغ کی قیمتیں اب کیا ہیں‘ کہہ نہیں سکتا۔ زرشک پلاؤ کی قاب اب کتنے کی ہے‘ نہیں جانتا۔ بالائی تہران میں کوہ دماوند کی ڈھلوانوں پر رضا شاہ پہلوی کا سعد آباد محل اب بھی شاداب ہے یا اُجڑ چکا۔ پہاڑوں سے زیریں تہران میں سڑکوں کے کنارے بہنے والی تیز رود کوہی کی آواز ہنستی کھلکھلاتی گونجتی رہتی ہے یا خاموش ہو چکی‘ کچھ خبر نہیں۔ سیاح کی نظروں میں تو وہی منظر بسے رہتے ہیں جو اس نے آخری بار دیکھے تھے‘ لیکن مجھے کچھ باتوں کی بہرحال خبر ہے۔ ایک دو دن پہلے تہران کے بارے میں ایک رپورٹ پڑھ رہا تھا اور پھر وہ سب مقامات یاد آئے جن کا ذکر کیا ہے۔
لیکن یہ رپورٹ پڑھ کر تو اور شدت سے دعا اور خواہش دونوں یکجا ہو گئیں کہ پاکستان کی کوششیں کسی طرح بارور ہو جائیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایک بار پھر تہران پہنچے اور 24 گھنٹے گزار کر واپس پہنچ گئے۔ آئی ایس پی آر نے حوصلہ افزا مذاکرات کی نوید دی۔ پاکستانی وزیر داخلہ پہلے ہی ایک ہفتے کے دوران دو بار تہران جا چکے تھے۔ قیاس تو کیا جا سکتا تھا کہ کوئی امید بندھی ہو گی‘ کچھ یقین دہانیاں لی گئی ہوں گی تبھی یہ دورے ہو رہے ہیں۔ لیکن یہ امیدیں تو دو ماہ سے چل رہی تھیں۔ کونپل سر نکالتی تھی اور مَسلی جاتی تھی۔ بار بار یہی ہو رہا تھا۔ سب تجزیے غلط ہو جاتے ہیں لیکن امید ختم نہیں ہوتی۔ پوری دنیا کی نظریں اور امیدیں ادھر ہی لگی ہوئی تھیں۔ ہفتے کی رات سے وہ خوشخبریاں آنا شروع ہوئیں جن کا انتظار تھا۔
میں سمجھتا ہوں کہ کسی ملک کو سب سے زیادہ اس امن کی ضرورت تھی تو وہ ایران ہے۔ باقی سب ملک بعد میں آتے ہیں۔ لوگوں کو اندازہ نہیں کہ ایران میں کیسی خوفناک معاشی صورتحال ہے۔ ہمارے ہاں ایران کے جذبے کی بات ہوتی ہے لیکن بے خبری ہے کہ ایران میں لوگ کس طرح زندہ ہیں۔ شاعر نے کہا تھاکہ
گزرنے والے جہازوں کو کیا خبر ہے کہ ہم
اسی جزیرۂ ناآشنا میں زندہ ہیں
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) اور ایران کے شماریاتی ادارے (Statistical Center of Iran) کی رپورٹس کے مطابق ایران اس وقت عالمی سطح پر سب سے زیادہ مہنگائی والے چند ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔ آئی ایم ایف کی مئی 2026ء کی رپورٹ کے مطابق ایران میں سالانہ مہنگائی کی شرح 69 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے جو دوسری عالمی جنگ کے بعد ملک کی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔ عام استعمال کی اشیا اور کھانے پینے کی چیزوں میں مہنگائی کی رفتار 73 فیصد سے زائد ہو چکی ہے۔ گوشت‘ کوکنگ آئل اور روٹی جیسی بنیادی چیزیں غریب اور تنخواہ دار طبقے کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں۔ مقامی اخبارات کے مطابق گوشت اب ایک پُرتعیش آئٹم بن چکا ہے اور حکومت کا راشن کوپن سسٹم بڑھتی ہوئی قیمتوں کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہے۔ ایران میں ایک عام ملازمت پیشہ شخص کی اوسط ماہانہ تنخواہ تقریباً 230 سے 280 امریکی ڈالر کے درمیان ہے۔ یعنی پاکستانی روپے میں تقریباً 64 سے 78 ہزار لگ بھگ۔ اگر تہران میں پانچ افراد کا ایک کنبہ تصور کیا جائے تو اس کنبے کے اخراجات رہائش‘ کھانے‘ بلوں کی رقوم اور ٹرانسپورٹ سمیت 1200 سے 1400 امریکی ڈالر ہیں۔ اصفہان اور مشہد میں یہی خرچ تیس فیصد کم لگا لیں۔ آپ ایک اوسط آمدنی 70 ہزار روپے کا موازنہ اوسط خرچ ڈھائی لاکھ روپے سے کریں تو اندازہ ہو جائے گا کہ ایک عام کنبہ کس خوفناک صورتحال میں ہے۔ زندگی کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے کنبے میں زیادہ سے زیادہ افراد کام کرتے ہیں اور خرچ ہے کہ پھر بھی پورا نہیں پڑتا۔
یہی حال ایرانی کرنسی کا ہے۔ ایران میں دو شرحِ مبادلہ ہیں۔ ایک سرکاری اور دوسرا اوپن مارکیٹ۔ اصل حالات کا اندازہ اوپن مارکیٹ سے ہوتا ہے جہاں ایرانی ریال کی قدر بُری طرح گر چکی ہے۔ ایران میں عام طور پر حساب کتاب تومان میں ہوتا ہے اور ایک تومان 10 ریال کے برابر ہے۔ (یہ برابری بھی کچھ سال پہلے طے کی گئی تھی اور کئی صفر ہٹا کر ایرانی ریال کو یہاں تک لایا گیا تھا) آج کے اوپن مارکیٹ کرنسی ریٹ دیکھ لیں‘ امریکی ڈالر تقریباً 1323400 ایرانی ریال (یعنی 132340 تومان) کا ہے۔ پاکستانی روپیہ 4750 ریال یعنی 475 تومان کا ہے۔ کچھ دوستوں نے بتایا‘ جو ایران میں کچھ عرصہ قیام کرکے واپس آئے ہیں اور اندرونی حالات سے واقف ہیں کہ یونیورسٹیوں اور کالجوں کے اساتذہ بھی فارغ وقت میں ٹیکسیاں چلانے پر مجبور ہیں کیونکہ گزارا نہیں ہوتا۔ پاکستان میں بھی اوسط آمدنی اور اوسط خرچ کی صورتحال بہت خراب ہے اور لوگوں کی چیخیں نکل رہی ہیں‘ پھر بھی پاکستان میں افراط زر 11 فیصد کے لگ بھگ ہے۔ اگر مجھے اور آپ کو یہ صورتحال کنار ے پر پہنچ ہوئی لگتی ہے تو کیا ایرانی فیصلہ سازوں کے علم میں نہیں ہو گی۔
اس پورے قضیے میں ایران کے دو بنیادی مسئلے کھل کر سامنے آئے۔ ایرانی فیصلہ سازوں کا بہت بڑا مسئلہ ناک بچانے کا اور سیاسی اقتدار کو محفوظ رکھنے کا ہے۔ دوسرا مسئلہ اندرونی رائے منقسم ہونا اور سیاسی اور پاسدارانِ انقلاب کی قیادتوں کا اپنے اپنے مؤقف پر جمے رہنا؛ چنانچہ یہ تو بعد کا مسئلہ تھا کہ ایران اور امریکہ کا باہمی تصفیہ ہوتا ہے یا نہیں‘ پہلے یہ مسئلہ حل ہونا تھا کہ ایرانی سیاسی اور فوجی قیادتوں میں ہم آہنگی کیسے پیدا کی جائے۔ پاکستان کو ان دونوں محاذوں پر مسلسل کام کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ ایک اور بڑا مسئلہ تھا بلکہ ابھی ہے کہ جب دونوں فریق اپنے اپنے سیاسی بیانات کے اسیر ہو چکے ہوں اور بتانا چاہتے ہوں کہ جیت ہماری ہوئی ہے۔ جب متحارب طاقتیں‘ انا اور ناک کی جنگ لڑ رہی ہوں تو یہ مسئلہ پیچھے رہ جاتا ہے کہ لوگ کس چٹان تلے پسے ہوئے ہیں۔ پھر ثالث کی ساری توجہ مسئلہ حل کرنے سے زیادہ دونوں کی ناک بچانے کی طرف ہو جاتی ہے۔ پاکستان اس وقت کوشش کر رہا ہے کہ ایسی صورت نکل آئے جس میں دونوں اپنے اپنے عوام کو فاتحانہ بیان دے سکیں۔ جب معاہدے کی شقیں طے ہو رہی ہوں گی تو یہ بھی طے ہوا ہو گا کہ کس فریق نے اپنے لوگوں کو اور دنیا کو کیا بتانا ہے۔ داد دینی چاہیے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر‘ وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر کوہ کنوں کو کہ انہوں نے اس دور میں سنگلاخ پہاڑ کاٹے ہیں اور جوئے شیر بہائی ہے۔ یہ ناممکن کو ممکن بنانا تھا۔ یہ سفارتکاری پاکستان کے سوا کسی اور کے بس کی بات نہیں تھی۔ اور ہمیں اس پر فخر ہونا چاہیے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved