ترقی پسندوں نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کا ارادہ باندھا تھا مگر وہ دو شکار تو نہ کر سکے‘ تاہم ایک شکار بڑی کامیابی سے کر لے گئے‘ جو اُن کے لیے کافی دور تک نتیجہ خیز ثابت ہوا۔ وہ جمعیت کو جامعہ پنجاب میں شکست تو نہ دے سکے مگر جہانگیر بدر جیسے باہمت طالبعلم رہنما کو اپنے حلقے میں پوری طرح شامل کر لیا۔ جہانگیر بدر جب اُن کے حلقے میں شامل ہو گئے تو انہیں بڑا پروٹوکول دیا گیا اور انہوں نے بھی وفاداری بشرطِ استواری اصل ایمان ہے کے مصداق ساری زندگی پیپلز پارٹی کی نذر کر دی۔ غالب نے کیا خوب کہا تھا:
وفاداری بشرطِ استواری اصل ایمان ہے
مرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو
اُس وقت تک جو غیر جانبدارانہ پوزیشن تھی اس کے مطابق اگر سارے امیدوار سنجیدگی سے انتخاب لڑتے تو جمعیت بغیر کسی مشکل کے واضح اکثریت حاصل کر کے کامیاب ہوتی۔ جہانگیر بدر کو ہیلے کالج سے اکثریت ملنے کی توقع تھی‘ اس کے علاوہ کسی شعبے میں ان کو دیگر امیدواروں کی موجودگی میں شاید قابلِ ذکر ووٹ نہ ملتے۔ بہرحال ہمارے مدمقابل باقی سب امیدواروں سے زیادہ ووٹ جہانگیر بدر ہی لے سکتے تھے۔ جہانگیر بدر ہیلے کالج کے صدر رہ چکے تھے اور اب لاء کالج میں (ایل ایل بی) فائنل ایئر کے طالب علم تھے۔
زمینی صورت حال یہ تھی کہ ایک تو ہیلے کالج میں بدر صاحب کا بڑا مضبوط گروپ تھا جس کا روایتی نام ''پاوا پارٹی‘‘ تھا۔ دوسرا‘ ہیلے کالج کے عام طلبہ کو یہ باور کرایا گیا کہ ان کی تعداد یونیورسٹی کے کسی بھی دوسرے شعبے سے کہیں زیادہ ہے‘ مگر ان کا کوئی نمائندہ جامعہ پنجاب کی یونین میں بطور صدر کبھی کھڑا نہیں ہوا۔ اب ان کا ایک سابق طالبعلم اور سابق صدر ہیلے کالج یونین اس الیکشن میں کھڑا ہوا ہے تو اسے کامیاب بھی ہونا چاہیے۔ یہ کالج کی عزت کا سوال ہے۔ 'پاوا پارٹی‘ کا ہیلے کالج پر بڑا تسلط تھا اور کالج میں عام طلبہ کو ہراساں کرنے کی شکایات بھی ملتی رہتی تھیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ابتدائی کلاسوں کے نئے اور سادہ لوح طلبہ ان کے تعصبانہ نعرے سے بھی کسی حد تک مسحور تھے۔
پردوں کے پیچھے بیٹھ کر مہروں کی چالیں بدلنے والوں نے رائو عثمان‘ خواجہ سلیم‘ شاہد محمود ندیم‘ امتیاز عالم شاہ اور ادریس کھٹانہ کو جہانگیر بدر کے حق میں بٹھا دیا۔ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں متفقہ طور پر جہانگیر بدر کی غیر مشروط حمایت کا اعلان ہوا۔ اگرچہ ادریس کھٹانہ نے آخری دنوں میں گڑبڑ کرنے کی کوشش کی اور اپنے کاغذات داخل کرا دیے مگر انہیں ''غائب‘‘ کرا دیا گیا۔ یہ بھی بڑا دلچسپ افسانہ ہے‘ مگر ہم اسے فی الحال نہیں چھیڑتے۔ ''طلبہ تحریکیں‘‘ میں افتخار فیروز مرحوم اور کئی دیگر طلبہ رہنمائوں نے اپنے مضامین میں اس پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ مذکورہ ناموں کے علاوہ باقی کے جو ایک آدھ امیدوار میدان میں رہ گئے‘ ان میں سے کوئی بھی کسی شمار میں نہ تھا‘ وہ محض نمائشی نام تھے۔
'بڑے دماغوں‘ نے تمام قابلِ ذکر امیدواروں کے درمیان جو سمجھوتا کرایا تھا اس سے وہ بڑے خوش تھے۔ ایک تو ان کی جھوٹی امید بندھ گئی تھی کہ ہمیں شکست ہو جائے گی اور دوسرا‘ انہوں نے سوچا تھا کہ اس طرح جہانگیر بدر ہمیشہ کے لیے ان کے حاشیہ بردار بن جائیں گے۔ ان کی دوسری امید جیسا کہ پہلے بھی اشارۃً تذکرہ ہوا ہے مکمل طور پر بر آئی اور جہانگیر بدر مرحوم نے واقعتاً آخری وقت تک ہر بھلے اور برے وقت میں بھٹو مرحوم اور ان کی پارٹی سے وفاداری نبھائی۔ اس کے نتیجے میں پارٹی نے بھی انہیں ایم این اے‘ سینیٹر اور وفاقی وزیر کے علاوہ پارٹی کے اعلیٰ تنظیمی عہدوں (جنرل سیکرٹری) سے نوازا۔ اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے۔
بارک اللہ خان صاحب اس الیکشن میں اپنے ذاتی فیصلے کے علاوہ ہمارے ہی بعض مہربانوں اور سابق جمعیتی ساتھیوں کے کہنے سننے کی بنا پر کھڑے ہوئے تھے مگر وہ پرانا دور‘ جب خان صاحب نے یونیورسٹی کے در و دیوار ہلا کر رکھ دیے تھے‘ یقینا اس نئے دور سے قطعاً مختلف تھا۔ گفت وشنید جاری رہی۔ تنظیمی مشاورت کے مطابق ایک شام ہمارا ایک وفد مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی سے بھی ان کے دفتر ذیلدار پارک اچھرہ میں ملا۔ مولانا سے ہماری ملاقاتیں اکثر ہوتی رہتی تھیں اور وہ جس شفقت ومحبت سے ہمارا استقبال کیا کرتے تھے‘ وہ کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
اس شام جب ہم مولانا سے ملنے کے لیے ان کے دارالمطالعہ کے باہر پہنچے تو میں نے اپنے دوستوں سے کہا: جب بھی ہم مولانا محترم سے کسی مسئلے پر رہنمائی کے لیے ملتے تھے تو ہمیشہ میں ہی مولانا محترم سے بات چیت کا آغاز کیا کرتا تھا اور زیادہ تر مولانا مجھ ہی سے مخاطب ہوتے تھے مگر آج میں مولانا سے کچھ نہیں کہوں گا۔ اب آپ لوگوں ہی کو بات کرنا ہو گی۔ عبدالوحید سلیمانی‘ منیر راحت‘ زاہد بخاری اور عبدالجبار قریشی کے ہمراہ میں مولانا محترم کے سامنے بیٹھا تھا۔ وہ ملاقات واقعی بڑی یادگار تھی۔ ساتھیوں نے مولانا کے سامنے ساری صورت حال رکھی۔ مولانا کا یہ کمال تھا کہ وہ روزانہ کے اخبارات میں سے مفید مطلب خبریں ہر روز پڑھتے اور انہیں مارکر کے ساتھ ہائی لائٹ کر کے اخبار کے ساتھ اپنے ذہن میں بھی محفوظ کر لیتے۔ اس موضوع پر جو کچھ اخبارات میں چھپ چکا تھا مولانا اس سے پوری طرح باخبر تھے۔ ساتھیوں کی زبانی صورتحال سن کر سید مودودیؒ نے اس موقع پر جو کچھ ارشاد فرمایا وہ ہمارے لیے بڑا ہی حوصلہ افزا تھا۔ انہوں نے کہا: خان صاحب کو اب کیا شوق چڑھا (یا چرایا) ہے کہ اتنے عرصے کے بعد پھر سٹوڈنٹس یونین کے انتخاب میں کود پڑے ہیں۔ گفتگو کے آخر میں انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں نے جمعیت کے اجتماع میں جو کچھ فیصلہ کیا ہے وہ بالکل درست ہے اور میں اجتماعیت کے اس فیصلے پر مطمئن ہوں۔ آپ اپنی مہم پُرامن طریقے سے منظم انداز میں چلائیں۔ اللہ برکت عطا فرمائے گا۔
مولانا محترم سے ہم اکثر پیچیدہ معاملات میں رہنمائی حاصل کرتے رہتے تھے‘ اس شام تمام دوست مولانا کے کمرے سے نکلے تو طمانیت قلب کی دولت کے ساتھ عزم وہمت کے ہتھیار سے بھی لیس تھے۔ اس واقعہ سے کچھ ہی دن قبل دو جرائد ' نصرت‘ اور 'ترجمان اسلام‘ نے ہمارے خلاف ایک مسموم اور مذموم مہم شروع کی تھی۔ ایک مضمون میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ جمعیت نے جامعہ پنجاب کے انتخاب میں جو امیدوار کھڑا کیا ہے وہ دراصل اچھرے کا ایجنٹ ہے اور حوالے کے طور پر لکھا گیا کہ ''حافظ ادریس کو مودودی نے اپنا روحانی فرزند قرار دیا ہے‘‘۔
اپنے معمول اور فطرت کے مطابق مخالفین نے بالکل جھوٹ گھڑ کے یہ زہر پھیلانے کی کوشش کی۔ اصل صورتِ واقعہ یوں تھی کہ مولانا مرحوم کی عصری نشستوں میں سے ایک نشست میں کسی صاحب نے وہ سوال دہرایا جو مولانا سے بار بار پوچھا جاتا تھا۔ سوال تھا مولانا کی اولاد اور ان کے تحریک میں کردار اور شمولیت کے بارے میں‘ مولانا نے طویل جواب دیا جس کا ایک حصہ یہ تھا کہ یہ نوجوان جو میرے سامنے بیٹھے ہیں یہ بھی تو میری اولاد ہیں اور پھر مولانا نے جمعیت کے کارکنان کی طرف اشارہ فرمایا۔ اس پر خوب مرچ مسالے لگائے گئے اور مذکورہ بالا پرچوں نے دل کی بھڑاس نکالی اور سارا نزلہ مجھ پر گرا دیا۔ ا س دور کے یہ دونوں رسالے اس قسم کی پروپیگنڈا خرافات سے پُر ہوتے تھے۔ (جاری)
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved