جون 2026ء میں اگلے مالی سال کیلئے جب وفاقی بجٹ پیش ہوگا تو حسبِ روایت معیشت‘ ترقیاتی منصوبوں‘ محصولات اور مہنگائی پر طویل بحث ہو گی۔ حکومت اپنی کامیابیاں بیان کرے گی‘ وزرا کی طرف سے اعداد وشمار کی جادوگری کے حیران کن مظاہرے ہوں گے۔ ا پوزیشن حسبِ روایت تنقید کرے گی‘ ایوان میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دے گی۔ ٹی وی سکرینوں اور سوشل میڈیا پر معاشی تجزیوں کا طوفان امڈ آئے گا۔ مگر اس سارے شور میں ایک سوال کی طرف کسی کا دھیان نہیں جائے گا۔ ''کیا تعلیم واقعی ہماری قومی ترجیح ہے؟‘‘۔ شاید حکومت اور اپوزیشن کیلئے اس سوال کی کوئی اہمیت نہیں مگر یہ سوال ہماری قومی ترقی کی اساس ہے۔ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ کسی بھی ملک کا مستقبل اس کی شاہراہوں‘ میٹرو منصوبوں یا بلند عمارتوں سے نہیں بلکہ اس کے سکولوں اور کلاس رومز میں تشکیل پاتا ہے۔ جو ممالک تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں وہی مضبوط معیشت اور بہتر سماجی ڈھانچہ قائم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
بدقسمتی سے پاکستان کی تعلیمی تاریخ اس حوالے سے زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہی۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے ہر حکومت نے صرف زبانی کلامی تعلیم کو قومی ترجیح قرار دیا۔ بلند بانگ دعوے کیے گئے‘ مختلف تعلیمی پالیسیوں کا اعلان کیا گیا‘ ان پالیسیوں اور اصلاحاتی منصوبوں میں بڑے بڑے اہداف مقرر کیے گئے۔ کبھی شرحِ خواندگی بڑھانے کی بات ہوئی‘ کبھی ''تعلیم سب کے لیے‘‘ کا دلکش نعرہ لگایا گیا اور کبھی علم پر مبنی معیشت کے خواب دکھائے گئے۔ مگر تلخ زمینی حقیقت یہی ہے کہ تعلیم کبھی وفاقی بجٹ کی ترجیحات میں اہم نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی پاکستان بنیادی تعلیمی مسائل سے نبرد آزما ہے۔ ہمارے سکولوں کی اکثریت میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔ گرمیوں میں کلاس رومز تپ رہے ہوتے ہیں اور شدید سردیوں میں کلاس رومز میں سردی سے بچنے کا کوئی انتظام نہیں ہوتا۔ اکثر سکولوں کی عمارتیں خستہ ہیں۔ ایک ہی کمرے میں مختلف جماعتوں کے بچے بیٹھے ہوتے ہیں۔ نہ بجلی‘ نہ پنکھا‘ نہ پانی۔ ان حالات میں استاد سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ پوری تندہی سے پڑھائے اور طلبہ ذوق وشوق سے تعلیمی عمل کا حصہ بنیں۔ سرکاری سکولوں کی اکثریت کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ کاش بجٹ بنانے اور بجٹ پر بحث کرنے والے ان سکولوں کی خستہ حالی کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں تاکہ انہیں احساس ہو کہ تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کس قدر ضروری ہے۔ لیکن پالیسی سازوں کے اپنے بچے ایلیٹ سکولوں میں پڑھ رہے ہوتے ہیں‘ لہٰذا قوم کے بچوں سے ان کو کوئی سروکار نہیں۔
آج پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ ان بچوں اور ان کے والدین کے بھی کچھ خواب تھے لیکن مالی وسائل کی کمی نے ان کے خواب گلی کوچوں میں بکھیر دیے۔ ان بچوں کی اکثریت دیہی علاقوں‘ اندرونِ سندھ‘ جنوبی پنجاب‘ بلوچستان اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتی ہے۔ غربت‘ بچوں سے مشقت‘ کمزور انفراسٹرکچر‘ طویل فاصلے اور صنفی رکاوٹیں انہیں تعلیم سے دور رکھتی ہیں۔ لڑکیوں کی صورتحال اور بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ بہت سی بچیاں صرف اس لیے تعلیم چھوڑ دیتی ہیں کہ سکول میں بنیادی سہولتیں یا خواتین اساتذہ دستیاب نہیں ہوتیں۔ ایسا نہیں کہ ان بچوں میں ذہانت کی کمی تھی یا انہیں پڑھائی میں دلچسپی نہیں تھی۔ وہ ذہین تھے اور پڑھنا بھی چاہتے تھے لیکن ان کا واحد قصور ان کی غربت تھی‘ جو ان کے راستے کی دیوار بن گئی۔
پاکستان کا تعلیمی بحران صرف رسائی تک محدود نہیں۔ جو بچے سکول پہنچ جاتے ہیں ان میں سے بھی 53 فیصد آٹھویں جماعت میں پہنچنے تک ڈراپ آئوٹ ہو جاتے ہیں۔ جو خوش قسمت سکول میں باقی رہ جاتے ہیں‘ ان میں سے بڑی تعداد سیکھنے کی بنیادی صلاحیت سے محروم رہتی ہے۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق دس سال کی عمر کے تقریباً 80 فیصد بچے ایک سادہ عبارت روانی سے نہیں پڑھ سکتے۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہمارا مسئلہ صرف سکول تک رسائی کا نہیں بلکہ تعلیمی معیار کا بھی ہے۔ پاکستان میں شرحِ خواندگی 63 فیصد تک ہے‘ یعنی آج بھی تقریباً چالیس فیصد آبادی ناخواندہ ہے۔ یہ بحران صرف تعلیم کے شعبے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے منفی اثرات معاشرے اور معیشت پر بھی پڑتے ہیں۔ ایسا معاشرہ جہاں ایک بڑا طبقہ بنیادی تعلیم سے محروم ہو وہاں جمہوری شعور‘ تنقیدی فکر اور سماجی شرکت بھی ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو جاتا ہے جب ہم سرکاری سطح پر تعلیمی اخراجات کا جائزہ لیتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے پاکستان میں تعلیم پر جی ڈی پی کا چار فیصد خرچ کرنے کا وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔ 2009ء کی تعلیمی پالیسی میں تو یہ نوید بھی دی گئی کہ اگلے چند برسوں میں تعلیم کے لیے جی ڈی پی کا سات فیصد تعلیم کیلئے مختص کیا جائے گا۔ مگر افسوس یہ ہدف کبھی حاصل نہ ہو سکا۔ ستم ظریفی یہ کہ تعلیم کے لیے مختص فنڈز میں اضافہ کے بجائے ہر سال کمی ہوتی گئی۔ حتیٰ کہ 2024-25ء میں تعلیمی اخراجات جی ڈی پی کا محض 0.8 فیصد رہ گئے۔ یہ شرح نہ صرف عالمی معیار سے بہت کم ہے بلکہ جنوبی ایشیا کے ممالک سے بھی پیچھے ہے۔ کم بجٹ کے ساتھ دوسرا بڑا مسئلہ ترجیحات کا ہے۔ تعلیمی بجٹ کا بڑا حصہ تنخواہوں اور جاری اخراجات میں صرف ہو جاتا ہے جبکہ ترقیاتی منصوبوں‘ لائبریریوں‘ لیبارٹریوں‘ ٹیکنالوجی اور تدریسی وسائل کے لیے بہت کم رقم بچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں سکول آج بھی بجلی‘ پانی‘ بیت الخلا اور دیگر بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔
اس پورے منظرنامے کا سب سے تکلیف دہ پہلو تعلیمی عدم مساوات ہے۔ ایک طرف اشرافیہ کے نجی تعلیمی ادارے ہیں جہاں بچوں کو جدید سہولتیں‘ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور عالمی معیار کی تعلیم میسر ہے جبکہ دوسری طرف ایسے بے آسرا سرکاری سکول ہیں جہاں بچے فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ گویا ایک ہی ملک میں دو الگ تعلیمی دنیائیں آباد ہیں۔ یہ فرق تعلیمی ہی نہیں بلکہ سماجی تقسیم کو بھی گہرا کر رہا ہے۔
تعلیمی مالیات کا مسئلہ صرف وسائل کی کمی تک محدود نہیں بلکہ وسائل کے مؤثر استعمال کا سوال بھی اتنا ہی اہم ہے۔ فنڈز کے اجرا میں تاخیر‘ کمزور منصوبہ بندی‘ بیورو کریٹک رکاوٹیں اور ناقص احتسابی نظام صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ کئی مرتبہ بجٹ صرف اس لیے خرچ کیا جاتا ہے کہ مالی سال ختم ہو رہا ہوتا ہے‘ نہ کہ اس لیے کہ اس سے تعلیمی معیار بہتر بنایا جا سکے۔ نئے مالی سال کا بجٹ اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان اس وقت ایک بڑے سماجی اور معاشی دوراہے پر کھڑا ہے۔ آبادی میں تیزی سے اضافہ‘ نوجوانوں کی بڑی تعداد‘ بڑھتی بیروزگاری‘ مہنگائی اور تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی ایک نئے تعلیمی وژن کا تقاضا کرتی ہے۔ اگر ہم نے اب بھی تعلیم کو قومی ترجیح نہ بنایا تو آنے والے برسوں میں یہ مسائل مزید سنگین ہو جائیں گے۔
بجٹ 2026-27ء میں ہمیں تعلیم کیلئے جی ڈی پی کا کم از کم چار فیصد مختص کرنا ہو گا‘ جو بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے تجویز کردہ کم سے کم رقم ہے۔ دوسرا اہم کام وسائل کی منصفانہ تقسیم ہے۔ بجٹ سازی میں دیہی علاقوں‘ بلوچستان‘ جنوبی پنجاب‘ اندرونِ سندھ اور دیگر پسماندہ علاقوں کو خصوصی ترجیح دینا ہو گی۔ اسی طرح لڑکیوں کی تعلیم کیلئے سکالرشپس‘ محفوظ ٹرانسپورٹ‘ خواتین اساتذہ کی بھرتی اور دیگر سہولتوں پر توجہ دینا ہو گی۔ بجٹ سازوں کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ قومی ترقی کا تصور معیاری تعلیم کے بغیر نامکمل ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved