تحریر : محمد حسن رضا تاریخ اشاعت     27-05-2026

قربانی، احساس اور انسانیت

عیدالاضحی کی صبح ہے‘ شہر میں تکبیرات کی آوازیں ہیں‘ مگر گھروں میں خاموشی ہے۔ جہاں لوگوں کو اپنی آرزوئیں قربان کرنا پڑیں‘ کوئی بچوں کے نئے کپڑے نہ بنا سکے‘ کسی کو اچھے کھانے‘ کسی کو عزتِ نفس اور کسی کو امید کی قربانی دینا پڑے۔ جہاں خالی جیب کے ساتھ باپ اپنے بچوں سے نظریں چرا رہا ہو‘ جہاں دن رات کام کرنے کے باوجود مائیں سالن میں پانی بڑھاتے بڑھاتے اپنی آنکھوں میں پانی بھر بیٹھی ہوں‘ جہاں مزدور صبحِ عید کو بھی مشقت کرتا ہے کہ گھر کی ضرورتیں اس کی جیب دیکھتی ہیں۔ یہ ایک طرف کا منظرنامہ ہے اور دوسری طرف حکومتی اشرافیہ ہے جسے عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے سے سروکار نہیں۔ وہ نت نئے ٹیکسوں کا نمک چھڑکتی ہے۔ آدمی بجلی جلائے تو ٹیکس‘ موبائل چلائے تو ٹیکس‘ پٹرول ڈلوائے تو ٹیکس‘ بینک سے پیسے نکلوائے تو ٹیکس‘ اور اگر غریب مر جائے تو اس کے لیے قبر کی زمین بھی مہنگی ہے۔ غریب کے چولہے میں آگ کے بجائے اس کے ارمان جلتے ہیں مگر سرکاری فائلوں سے ترقی کے شعلے لپکتے ہیں۔ حکمرانوں کے بیانات‘ دعوئوں اور اعلانات میں پاکستان ایشیا کا ٹائیگر بن رہا ہے جبکہ حقیقت میں لوگوں کے گھروں میں دودھ خریدنے کی مالی سکت بھی نہیں بچی‘ بیروزگاری عروج پر‘ تعلیم سرکاری ترجیحات میں شامل نہیں۔ عید کے دن اگر کسی غریب کے گھر جائیں تو وہاں سب سے بڑا راز خاموشی ہوتی ہے۔ وہ خاموشی جو بچوں کی آنکھوں میں پائی جاتی ہے‘جو ماؤں کے چہروں پر بچھی ہوتی ہے‘جو باپ کو اندر ہی اندر کاٹتی رہتی ہے۔ لیکن حکمران خوش وخرم ہیں ‘ بیرونی دورے چل رہے ہیں‘ قہقہے لگ رہے ہیں‘ تصویریں بن رہی ہیں‘کانفرنسیں ہو رہی ہیں۔ حکمرانوں کے پروٹوکول بڑھتے جا رہے ہیں اور عوام کی چادریں چھوٹی ہوتی جا رہی ہیں۔ سرکاری قافلے ایسے دوڑتے ہیں جیسے ملک میں دولت کا سیلاب آیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر گھر میں معاشی کہرام برپا ہے۔ حکومت کہتی ہے اخراجات کم کریں گے اور اس کے ساتھ ہی نئی گاڑیاں بھی خرید لی جاتی ہیں‘ نئے وفود تشکیل پاتے ہیں اور نئے دورے شروع ہو جاتے ہیں۔ نئے دفاتر کھل جاتے ہیں‘ نئے مشیر بھرتی ہو جاتے ہیں۔ غریب آدمی عید پر اپنے بچوں کو جوتے تک نہیں دلا سکتا لیکن حکمرانوں کی گاڑیوں اور جہازوں کے ٹائر ہمیشہ نئے ہوتے ہیں۔ ایک طرف وہ عورت ہے جو اپنے بچے کو کہتی ہے‘ بیٹا اگلے سال اچھی عید آئے گی اور دوسری طرف وہ حکمران ہیں جو ہر سال یہی کہتے ہیں کہ قوم قربانی دے۔ بھلا قوم کے پاس اب قربان کرنے کو رہ ہی کیا گیا ہے؟ بھوک؟ عزت؟ نیند؟ اولاد کا مستقبل؟ یا پھر زندہ رہنے کی آخری خواہش؟ ہر بجٹ کے بعد عوام کی کھال اترتی ہے۔ ٹیکس نہیں لگتے غریب کی سانسیں نیلام ہوتی ہیں۔ پٹرول مہنگا‘ بجلی مہنگی‘ آٹا مہنگا‘ دوائی مہنگی‘ تعلیم مہنگی اور تو اور اب موت بھی مہنگی۔ سرکاری فائلوں میں ترقی دکھائی دیتی ہے مگر ہسپتال سے دور مریض رکشوں میں مر جاتے ہیں۔ کراچی میں ایک باپ نے پچھلے مہینے اپنی بیٹی کی شادی ملتوی کر دی۔ وجہ یہ تھی کہ مہمانوں کو کھانا کیسے کھلائیں۔ حکمران طبقے کی پالیسیاں اب صرف خواب نہیں توڑتیں‘ رشتے توڑتی ہیں۔ منٹو نے کہا تھا ایک سڑی ہوئی بدبودار لاش سے اتنی بدبو نہیں آتی جتنی احساس کے مر جانے کے بعد کردار سے آتی ہے۔ ہمارا معاشرہ اسی بے حسی کی بدبو سے آلودہ ہے اور لوگ قسطوں میں زندہ رہنے پر مجبور ہیں۔ روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا۔ پاکستان کے عوام کو مہنگائی‘ بیروزگاری اور لاقانونیت نے زندہ درگور کر دیا۔ فیصل آباد میں ایک مزدور اپنی بیوی کے علاج کیلئے خون بیچ رہا ہے۔ ادھر جنوبی پنجاب میں لوگ بجلی کے بل دیکھ کر بے ہوش ہو رہے ہیں۔ نوجوان ڈگریاں اٹھا کر چین‘ دبئی‘ قطر اور یورپ کی لائنوں میں خوار ہو رہے ہیں۔ اور اوپر سے کہا جاتا ہے کہ معیشت بہتر ہو رہی ہے۔ کہاں کی معیشت؟ کس کی معیشت؟ اُس وزیر کی جس کی گاڑی کا پٹرول سرکار دیتی ہے یا اس افسر کی جس کا اے سی چوبیس گھنٹے چلتا ہے؟ غریب کے گھر جا کر دیکھیں وہاں فریج نہیں‘ ٹھنڈی خاموشی پڑی ہے‘ وہاں روٹی نہیں حسرت پکتی ہے۔ وہاں عید نہیں آتی صرف تاریخ بدلتی ہے۔ اور اوپر بیٹھے لوگوں کو لگتا ہے کہ قوم صرف پریزنٹیشن سے خوش ہو جائے گی۔ تین تصویریں لگاؤ‘ پانچ نعرے مارو اور عوام کو بتاؤ کہ سب اچھا ہے۔ کیا اس شخص کیلئے جس نے بیوی کے زیور بیچ کر بجلی کا بل اداکیا؟ یا اس نوجوان کیلئے جو ڈگری ہاتھ میں لیے دربدر دھکے کھاتا ہے؟ قوم اپنے بچوں کا دودھ چھڑا کر بھی ٹیکس دیتی ہے اور انہی پیسوں سے کوئی وفد بیرونِ ملک جاکر لیکچر دیتا ہے کہ ہم عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔ خدمت؟ خدمت وہ ہوتی ہے جب کسی غریب کے گھر چولہا جلے‘ جب آدمی دوائی خرید سکے‘ لوگوں کو روزگار ملے‘ لیکن یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ جس ملک میں کفایت شعاری ہونی چاہیے وہاں شاہ خرچیاں بڑھ رہی ہیں۔ جہاں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے وہاں نئے سے نئے ٹیکس لگ رہے ہیں۔ حکمران کہتے ہیں ملک مشکل میں ہے‘ مگر کسی وزیر کی پلیٹ چھوٹی ہوئی؟ کسی بڑے افسر کا پروٹوکول ختم ہوا؟ کسی سرکاری محل کی بجلی بند ہوئی؟ کسی طاقتور نے اپنے خرچے آدھے کئے؟ یہاں قربانی صرف کمزور کیلئے لکھی ہے۔ ایک استاد پچھلے دنوں بتا رہے تھے کہ میں نے بیٹے کی فیس بھرنے کیلئے اپنی کتابیں بیچ دیں۔
عید کے دن بازاروں میں جا کر دیکھیں لوگ کپڑوں کو ایسے ہاتھ لگاتے ہیں جیسے یتیم بچے شیشے کے پار کھلونے دیکھتے ہیں۔ اب تو حالت یہ ہے کہ لوگ بجلی کے بل ایسے دیکھتے ہیں جیسے سزا کا پروانہ آیا ہو۔ لیکن حکمرانوں کے محل روشن ہیں‘ لان سبز ہیں‘ دسترخوان سجے ہیں‘ دورے جاری ہیں اورعوام صرف زندہ رہنے کی مشق کر رہے ہیں۔ فیض نے کہا تھا: نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں‘ چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے۔ اس شعر کی حقیقی تشریح عوام بچشم سر دیکھ رہے ہیں۔ سر اٹھاؤ تو بل گر جاتا ہے‘ سوال اٹھائو تو ایک نیا عذاب‘ سانس لو تو ٹیکس۔ مگر پاکستانی غریب اب بھی اپنے بچوں کے لیے اور مستقبل کی امیدوں کے لیے جیتا ہے۔ وہ اب بھی عید پر آدھا کلو گوشت لاکر خوش ہو جاتا ہے۔ وہ اب بھی پھٹی جیب میں خواب رکھتا ہے۔ ورنہ سچ تو یہ ہے کہ حالات قبرستان سے بھی زیادہ خاموش اور خوفناک ہیں۔ خاموش آدمی اندر سے مر چکا ہوتا ہے اور یہاں خاموش لوگوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ دکھ اس بات کا ہے کہ ایٹمی طاقت والا ملک اپنے لوگوں کو روٹی‘ بجلی‘ دوائی اور عزت نہیں دے پا رہا۔ یہاں حکمرانوں کے جہاز نئے ہوتے گئے اور عوام کے ارمان پرانے۔ مگر یاد رکھنا چاہیے بھوک زیادہ دیر تک دبائی نہیں جا سکتی۔ اور وہ دن بڑا خطرناک ہوتا ہے جب غریب آدمی کو مرنے کا ڈر ختم ہو جائے۔
اور شاید اسی لیے بھی امید ابھی باقی ہے کہ اس معاشرے میں اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنی پلیٹ سے نوالہ نکال کر کسی بھوکے کے منہ میں ڈالتے ہیں۔ عیدالاضحی صرف جانور قربان کرنے کا نام نہیں‘ اپنی انا‘ غرور‘ نمود ونمائش اور خود غرضی قربان کرنے کا بھی پیغام ہے۔ فریج گوشت سے بھرنے کے بجائے ان گھروں تک گوشت پہنچائیں جہاں کئی دنوں سے چولہا ٹھنڈا ہے۔ ان بچوں تک عید پہنچائیں جن کے والدین مہنگائی کے ہاتھوں ٹوٹ چکے ہیں۔ قربانی کسی غریب کے چہرے پر خوشی بن کر اترے‘ یہی اس کارِ خیر کا بنیادی مقصد ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved