تحریر : ڈاکٹر حسین احمد پراچہ تاریخ اشاعت     30-05-2026

کتب خانوں سے لے کر سکرینوں تک

زمانوں سے اہلِ مشرق نے کتاب کے مطالعے کے ساتھ طرح طرح کے حسین و جمیل تصورات وابستہ کر رکھے ہیں۔ اہلِ فارس بھی کتاب کے بڑے دلدادہ ہیں مگر انہوں نے محو اور مگن ہو کر کتاب سے لطف اٹھانے کیلئے تین شرائط کی یکجائی کو ضروری گردانا ہے۔ فراغتی و کتابی و گوشۂ چمنی۔ یعنی فرصت کے لمحات میسر ہوں‘ کتاب کا ساتھ ہو اور کنج چمن ہو۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ایک عرب صاحبِ ذوق نے ان تین چیزوں کے ساتھ آبِ رواں کی اضافی شرط بھی عائد کی تھی۔ البتہ مطالعۂ کتب کے حوالے سے مشرق ہی میں بعض ایسے ''بلانوش‘‘ بھی ہوتے ہیں کہ جنہیں جب اور جہاں کتاب میسر ہو وہیں مطالعے میں مگن ہو جاتے ہیں۔ گویا جس جگہ بیٹھ کے پی لیں وہی مے خانہ بنے۔
مغرب میں چھوٹے بڑے ہزاروں کتب خانوں کی موجودگی کے باوجود کتابیں پڑھنے والوں نے کتاب بینی کیلئے کوئی روحانی و زمانی شرط اپنے اوپر عائد نہیں کر رکھی۔ چار پانچ دہائیاں پہلے تک مغرب میں کتاب بینی کا زبردست رواج تھا۔ آپ کسی ایئر پورٹ پر ہوں‘ کسی ریلوے سٹیشن یا بس سٹینڈ پر ہوں یا جہاز اور گاڑی کے اندر‘ آپ کو تقریباً ہر مسافر کے ہاتھ میں کتاب یا کوئی میگزین نظر آتا تھا۔ جاپان کا سفر کرنے یا وہاں مقیم رہنے والے لوگوں نے بتایا کہ ٹرین یا ٹرام میں سفر کرتے ہوئے مسافر جاپان کے پلیٹ فارموں پر بنے ریڈنگ پوائنٹس پر جاتے اور وہاں رکھی ہوئی کتابوں یا رسالوں میں سے کوئی اٹھا لیتے تھے۔ بعض اوقات رش کے دوران گاڑی میں کھڑے جھولتے ہوئے مسافر بھی کتاب پڑھنے میں مگن رہتے تھے اور جس سٹاپ پر وہ اترتے وہاں کی مطالعہ گاہ میں وہ کتابیں واپس رکھ دیتے۔ یوں کتابوں کی آمد و رفت جاری رہتی۔
1990ء کی دہائی میں انٹرنیٹ کے رواج پا جانے کے بعد اب آپ کو یورپ و امریکہ اور جاپان وغیرہ میں دورانِ سفر کتاب نہیں سمارٹ فون یا لیپ ٹاپ ہر ہاتھ میں نظر آتا ہے۔ آن لائن ٹرانسفر آف نالج کے رواج پانے کے بعد بڑی بڑی لائبریریاں ہتھیلی میں پکڑے ہوئے سمارٹ فون میں سما جاتی ہیں۔ گویا علوم و فنون آپ کی مٹھی میں موجود ہیں۔ جب بھی کسی کتاب کو طلب کریں گے وہ ہاتھ باندھے آپ کی خدمت میں فوراً حاضر ہو جاتی ہے۔ بہرحال کتابوں کی آن لائن منتقلی کے باوجود ''بادہ ظرف قدح خوار‘‘ دیکھ کر پیش کیا جاتا ہے۔ ہر سیل فون میں اتنی گنجائش نہیں ہوتی کہ اس جامِ جم میں جہاں بھر کے ہر شعبے کا احوال پیش کیا جا سکے۔ تاہم لائبریریوں میں اب ای بک سیکشن بنائے جا رہے ہیں تاکہ جو قاری اوراق والی مطلوبہ کتاب کتب خانے میں نہ پائے تو پھر وہ ڈیجیٹل سیکشن میں نیٹ پر کتاب تلاش کرے جو اسے بالعموم مل جائے گی۔ کیونکہ ای لائبریری میں ہزاروں نہیں لاکھوں کتابیں قاری کی راہ تک ہوتی ہیں۔ زمانے کی رفتار کا ساتھ نہ دینے والوں کو اب یہ خدشہ لاحق ہے کہ آن لائن کتابوں کا کلچر جس تیزی سے رواج پا رہا ہے اس سے یہ لگتا ہے کہ اب کاغذی کتابوں کا دور ختم ہونے والا ہے۔ تبھی تو جناب سعود عثمانی نے کہا ہے:
کاغذ کی یہ مہک یہ نشہ روٹھنے کو ہے
یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی
عثمانی صاحب نے کاغذی کتابوں سے جدائی کے لمحات و خدشات کو جذب و سوز سے بیان مگر میں شاعرِ محترم کو یقین دلاتا ہوں کہ کتابوں سے عشق کم نہیں ہو گا بلکہ بہت بڑھے گا۔ ہماری خوش قسمتی تھی کہ دورِ طالب علمی میں گورنمنٹ کالج سرگودھا میں پروفیسر غلام جیلانی اصغر‘ ڈاکٹر خورشید رضوی‘ ملک افضل اور پروفیسر عزت علی جیسے کتابوں کے شائقین اساتذہ اور دوستوں میں حافظ محمد سعید اور سیّد فاروق گیلانی جیسے کتاب بینی کا ذوق رکھنے والوں کا ساتھ میسر تھا۔ یہ وسیع و عریض کالج کی خوش قسمتی تھی کہ اسے مختلف ادوار میں پروفیسر سراج الدین آذر‘ پروفسر یو کرامت اور پروفیسر احمد عابد علی جیسے کتاب دوست پرنسپل ملے۔ ان شخصیات نے کالج لائبریری کو مختلف علوم کے کتابی خزانوں سے بھر دیا۔
مجھے آج تک یاد ہے کہ ہمارے کالج کے ایک نائب لائبریرین شاہ صاحب تھے۔ چابیوں کا ایک بڑا گچھا ہر وقت ان کی کمر کے گرد بندھا رہتا۔ شاہ صاحب کیٹیلاگ دیکھے بغیر کتابوں کے سمندر سے گوہرِ مطلوب نکال لاتے مگر کسی کتاب کی جدائی شاہ صاحب پر یوں گراں گزرتی جیسے باپ پر بیٹے کی جدائی۔ کتاب دوست زمانے کے بعد کئی دہائیوں تک سرکاری کالجوں اور پبلک لائبریریوں کا دورِ زوال تھا۔ اس پس منظر میں جب میری ملاقات پنجاب میں پبلک لائبریریوں کے سربراہ سے ہوئی تو مجھے دلی مسرت ہوئی۔ وہ یقینا کوئی شُبھ گھڑی ہو گی جب ان جیسی کتاب دوست شخصیت کا کتابوں کے کلچر کو فروغ دینے کیلئے انتخاب ہوا۔ وہ پنجاب کی پبلک لائبریریوں میں تقریباً تین دہائیوں کے بعد وسیع تر اور گراں قدر اضافے کر چکے ہیں۔ ان کا کتابوں سے عشق گورنمنٹ کالج سرگودھا کی لائبریری کے شاہ صاحب کی کتابوں سے گہری وابستگی سے بالکل مختلف ہے۔ شاہ صاحب کتابوں سے جدائی گوارا نہ تھی جبکہ یہ صاحب چاہتے ہیں کہ خوشبو کی طرح روایتی کاغذی کتابیں سرکاری لائبریریوں اور ڈیجیٹل لائبریری کے ذریعے گھر گھر پہنچیں۔ موصوف پنجاب پبلک لائبریری اور قائد اعظم لائبریری لاہور سے سینٹرل لائبریری بہاولپور اور پبلک لائبریری حضرو اٹک تک کی سولہ لائبریریوں کو وسعت دے رہے ہیں۔ قائداعظم لائبریری لاہور نہ صرف قارئین کے ذوقِ مطالعہ کیلئے زیادہ سہولتیں فراہم کرتی ہے بلکہ سنجیدہ نوعیت کے تخلیقی و تحقیقی کام کرنے والی تنظیموں کو علمی و ادبی نوعیت کے سیمینار منعقد کرنے کیلئے ہال کے علاوہ دیگر مدد بھی فراہم کرتی ہے۔ قائداعظم لائبریری علم‘ تحقیق اور مطالعے کے فروغ میں ایک ممتاز ادارے کی حیثیت رکھتی ہے۔ گزشتہ چار پانچ برس سے لائبریری انتظامیہ نے بھی ادارے کی بہتری‘ جدید سہولیات کی فراہمی اور قارئین کو زیادہ سے زیادہ آرام دہ ماحول مہیا کرنے میں بعض اہم اقدامات کیے ہیں۔ لائبریری کے ذخیرہ کتب میں بہت بڑا اضافہ ہوا ہے۔ شاید کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ باغ جناح لاہور میں جس عمارت میں آج قائداعظم لائبریری قائم ہے‘ 1866ء میں یہی عمارت لاہور جمخانہ کے طور پر تعمیر کی گئی تھی۔ یہ عمارت اس دور کے برطانوی افسران کیلئے ایک سماجی و تفریحی مرکز تھا۔ کئی دہائیوں کے بعد 1981 میں صدر ضیا الحق نے اس جگہ لائبریری قائم کرنے کی منظوری دی اور بعد ازاں 1984ء میں لائبریری کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اس حوالے سے ہم نے پنجاب میں پبلک لائبریریوں کے سربراہ سے پوچھا کہ اب ساری دنیا میں روایتی کاغذی کتابیں لائبریریوں کی شیلفوں سے آن لائن سکرینوں پر منتقل ہو رہی ہیں تو کیا آپ 'آئینِ نو‘ سے ڈر رہے ہیں اور طرزِ کہن پر اڑ رہے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ ایسا ہرگز نہیں‘ حکومت تیزی سے سارے پنجاب کی کاغذی کتابوں کو ڈیجیٹلائز کر رہی ہے۔ اس طرح پنجاب بھر کی لاکھوں نادر کتابیں لیپ ٹاپ اور سیل فونوں کی سکرینوں پر منتقل ہو جائیں گی۔ پھر اس آن لائن سسٹم کو دنیا بھر کے عالمی آن لائن علمی خزانوں سے منسلک کر دیا جائے گا۔ یوں پنجاب کے کسی گاؤں میں بیٹھا ہوا طالب علم‘ آکسفورڈ‘ کیمبرج‘ ہارورڈ‘ برکلے اور سٹینفورڈ کے علمی و تحقیقی خزانوں سے استفادہ کر سکے گا۔ گویا اب علم کے متلاشیوں کے پاس علم کا بحرِ بیکراں خود چل کر آئے گا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved