دوسری جنگِ عظیم کے دوران امریکی صدر فرینکلن ڈیلانو روز ویلٹ نے کہا تھا کہ کوئی اُس وقت تک آپ کے حقوق کو سلب نہیں کر سکتا جب تک کہ آپ خود اپنے حقوق سرنڈر نہیں کر دیتے‘ اور کوئی آپ کو آپ کے حقوق پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیتا‘ اس کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ بلاشبہ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ اس ملک کے عوام کبھی اپنے حقوق کے لیے نہیں نکلے۔ یہ جب بھی سڑکوں پر نکلے کسی اور کے لیے نکلے‘ اور زیادہ تر پاکستان کے مقتدر طبقوں کے ہاتھوں سیاست اور مذہب کے لیے استعمال ہوئے۔ انہیں صرف ٹشو پیپر کی حیثیت حاصل ہوئی۔ پاکستان کے عوام کو اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے جو کہ وہ کر نہیں رہے بلکہ ان پر بے حسی طاری ہے اور اسی وجہ سے ان پر مسلسل ظلم جاری ہے۔ بقول شخصے:
سنا ہے ڈوب گئی بے حسی کے دریا میں
وہ قوم جس کو جہاں کا امیر ہونا تھا
پاکستان کے مقتدر طبقوں نے انہیں کٹھ پتلی بنا کر دو وقت کی روٹی کے حصول میں الجھائے رکھا اور اپنی عیاشیوں کا سامان ان کی خون پسینے کی کمائی سے کیا۔ یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔ کسی دانشور نے ٹھیک کہا تھا کہ عوام کو دو وقت کی روٹی میں الجھا دو وہ کبھی بھی تمہاری طاقت‘ چوری یا سازش پر سوال نہیں کریں گے۔ یہ جملہ محض ایک سیاسی طنز نہیں بلکہ ایک گہری سچائی ہے جو پاکستان میںمسلسل دہرائی جا رہی ہے۔ عوام کی اسی بے حسی کے باعث ان کے ساتھ بھیڑ بکریوں جیسا سلوک ہوتا ہے۔ ہر طرح کا ٹیکس دینے کے باوجود عوام بنیادی انسانی حقوق سے محروم رہتے ہیں‘ انہیں پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہوتا‘ بیمار ہو جائیں تو دوا نہیں ملتی‘ ان کے بچے تعلیم کی نعمت سے محروم ہیں۔ ان تمام محرومیوں کے باوجود عوام اپنے بنیادی انسانی حقوق کے حصول کے لیے کبھی بھی سوال نہیں کرتے۔
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ خدا نے انسان کو سوچنے‘ سمجھنے‘ پرکھنے‘ اختیار کرنے اور ترک کرنے جیسی منفرد صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ خدا انسان کو کٹھ پتلی نہیں بنانا چاہتا‘ اس نے انسان کو اپنی اطاعت کی دعوت بھی تعقل‘ تفکر‘ تدبر اور اختیار کے ساتھ دی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جتنے بھی مصلح آئے انہوں نے انسانوں کو مطلق العنان حکمرانوں کے سامنے کٹھ پتلی بننے سے روکا کیونکہ جب آدمی انسانیت کی سطح سے گر کر کٹھ پتلی بن جاتا ہے تو وہ عقل‘ فہم اور شعور کے ہوتے ہوئے بھی بے جان مجسموں کی طرح زندگی گزارتا ہے اور صرف بے جان مجسموں کی طرح زندگی نہیں گزارتا بلکہ اس سے بھی بدتر حال میں گر جاتا ہے اور بغیر سوچے سمجھے مذہبی اور سیاسی آمروں کے اشاروں پر چلنے لگتا ہے اور جب آمروں کے اشاروں پر حرکت کرنے لگتا ہے تو اس کی اپنی سوچ‘ فکر‘ شعور‘ دانائی اور حتیٰ کہ حرکت تک گویا سلب ہو جاتی ہے۔
امریکی صدر روز ویلٹ کی اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ روز ویلٹ دونوں ٹانگوں سے معذور تھا۔ 39برس کی عمر میں اسے پولیو ہوا جس کی وجہ سے اس کا نچلا دھڑ مفلوج ہو گیا۔ اس نے وہیل چیئر کا سہارا لے کر اپنا سیاسی کیریئر جاری رکھا۔ وہ امریکہ کا بتیسواں صدر بنا اور وہ واحد امریکی صدر تھا جو چار بار الیکشن جیت کر برسراقتدار آیا۔ وہ 1933ء سے 1945ء یعنی اپنی موت تک صدارت کے فرائض ادا کرتا رہا۔ اس کے دور میں امریکہ کو دو بڑے بحرانوں‘ کساد بازاری اور جنگ عظیم دوم کا سامنا کرنا پڑا۔ فرینکلن روز ویلٹ نیویارک کے ایک امیر گھرانے میں 30جنوری 1882ء کو پیدا ہوا۔ اس کے والد جیمز روز ویلٹ بزنس مین تھے۔ فرینکلن جیمز کی دوسری بیوی سارہ ڈیلانو کا اکلوتا بیٹا تھا۔ فرینکلن روز ویلٹ ابھی نوجوان تھا کہ باپ کا انتقال ہو گیا۔ روزویلٹ کی زندگی میں اس کی ماں سارہ ڈیلانو کا کردار بہت نمایاں ہے۔ اکلوتا بیٹا ہونے کی و جہ سے وہ ماں کی آنکھوں کا تارہ بن گیا۔ سارہ جنون کی حد تک بیٹے کی حفاظت کرتی تھی۔ فرینکلن ہارورڈ گیا تو سارہ نے ہارورڈ کے نزدیک ٹاؤن ہاؤس خرید لیا تاکہ بیٹے کے قریب رہے۔ فرینکلن نے سیاست میں آنے سے پہلے ہارورڈ یونیورسٹی اور کولمبیا لاء سکول میں تعلیم حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے صدر ووڈرو ولسن کے ماتحت بحریہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دیں۔ پھر وہ نیویارک کے گورنر اور بعد میں صدر بن گئے۔
روز ویلٹ نے امریکی تاریخ کی بدترین کساد بازاری سے نمٹنے کے لیے بہت سے معاشی اور سماجی پروگرام متعارف کرائے‘ ان میں سویلین کنزرویشن کور‘ پبلک ورکس ایڈمنسٹریشن‘ اور سوشل سکیورٹی ایکٹ شامل تھے۔ ان پروگراموں کی بدولت وفاق کے ڈھانچے میں بہتری آئی‘ امریکیوں کے لیے ملازمتوں کے دروازے کھلے اور انہیں معاشی تحفظ میسر آیا۔ روز ویلٹ نے معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ایمرجنسی بینکنگ ایکٹ نافذ کیا۔ بینکوں میں جمع شدہ رقوم کی حفاظت کے لیے فیڈرل ڈپازٹ انشورنس کارپوریشن بنایا۔ سٹاک مارکیٹ کو ریگولیٹ کرنے کے لیے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن قائم کیا۔ روز ویلٹ نے 1935ء میں سوشل سکیورٹی کا نظام متعارف کرایا۔ اس نظام کے تحت بزرگوں‘ بے روزگاروں اور معذوروں کو مالی امداد فراہم کرنے کا انتظام کیا۔ سوشل سکیورٹی کو امریکہ کے سوشل ویلفیئر سسٹم میں سنگِ بنیاد کی حیثیت حاصل ہے۔ روز ویلٹ نے وفاق کی تعمیر و ترقی کے لیے جو پروگرام شروع کیے ان کے تحت ہزاروں سڑکیں‘ پل‘ سکول اور عوامی عمارتیں تعمیر کی گئیں نیز وفاق کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنایا اور لاکھوں شہریوں کے لیے روزگار کا انتظام کیا۔
دوسری جنگ عظیم میں روز ویلٹ نے برطانیہ اور سوویت یونین کے ساتھ مضبوط اتحاد قائم کیا۔ اتحادیوں کو جنگی ساز و سامان کی فراہمی کے لیے امریکہ کے کارخانوں میں پیداور بڑھائی گئی۔ امریکہ کی فوجی امداد اور قیادت کے بل بوتے پر یورپ کے ممالک محوری طاقتوں کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے۔ روز ویلٹ کی قیادت میں یالٹا کانفرنس نے جنگ کے بعد کے ورلڈ آرڈر یا عالمی نظام کو تشکیل دینے اور اقوام متحدہ کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ روز ویلٹ کا انتقال اپریل 1945ء میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے سے چند ماہ قبل ہوا۔
اس کالم کے آغاز میں درج کیے گئے روز ویلٹ کے قول کی روشنی میں پاکستان کے عوام کے طرزِ عمل کا جائزہ لیا جائے تو عجیب حیرت سے واسطہ پڑتا ہے۔ ہمارے لوگ ظلم پر ظلم برداشت کرتے ہیں لیکن اپنی حقوق کے لیے تگ و دو نہیں کرتے۔ حالیہ برسوں میں عوام دوست حکومت نے پٹرولیم لیوی کی مد میں آئی ایم ایف کے دو قرض پروگراموں سے بھی زیادہ رقم عوام سے وصول کر لی لیکن یہ عوام بولے تک نہیں۔ وفاقی حکومت نے صرف دو سال میں شہریوں سے پٹرولیم لیوی کی مد میں دو ہزار 700ارب روپے سے زائد کی ریکارڈ وصولی کی۔ سر کاری دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ ‘جولائی 2025ء سے مارچ 2026ء کے دوران ایک ہزار 205ارب روپے سے زائد کی لیوی وصول کی گئی جبکہ گزشتہ مالی سال میں وفاقی حکومت نے 1220ارب 21کروڑ روپے لیوی وصول کی تھی۔ وفاقی حکومت نے اپریل 2024ء سے لے کر مارچ 2026ء کے دو سال کے دوران پٹرولیم لیوی کی مد میں 2725ارب وصول کیے جو کہ جو کہ آئی ایم ایف کے دونوں قرض پروگراموں کی مجموعی رقم سے بھی زیادہ ہے۔ آئی ایم ایف کے جاری دونوں قرض پروگراموں کی مجموعی رقم موجودہ ایکسچینج ریٹ کے حساب سے پاکستانی کرنسی میں تقریبا 2340 ارب روپے بنتی ہے۔ اس کے علاوہ اپریل سے جون 2024 ء کی سہ ماہی میں لیوی کی وصولی 299ارب 63کروڑ روپے تھی۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved