ایران امریکہ اور اسرائیل کی جنگ سے پہلے دنیا کا منظر نامہ کچھ اور تھا اور اب حالات کچھ اور ہیں۔ کچھ دوست دوست نہ رہے تو کچھ نئے دوست اور اتحاد سامنے آئے۔ سفارتکاری جلد رنگ بدل لیتی ہے۔ کبھی برسوں کی محنت ضائع چلی جاتی ہے تو کبھی کچھ دنوں کی محنت برسوں کا کام کر جاتی ہے۔ ہندوستان ایک مدت سے پاکستان کے خلاف سفارتکاری کرتا رہا۔ اپنے مراسلوں‘ سفارتکاری‘ فلمز اور آرٹیکلز میں پاکستان کو دہشت گرد کہتا رہا جبکہ پاکستان تو خود دہشت گردی کا شکار تھا اور اس کے خلاف جنگ لڑ رہا تھا۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف بھاری سرمایہ کاری کی لیکن پاکستان کو تنہا نہ کر سکا۔ حالیہ امریکہ ایران جنگ کے بعد پاکستان نے ذمہ داری کا ثبوت دیا۔ پاکستان کی امن کاوشوں کو دنیا بھر میں سراہا گیا۔ جب اس جنگ کا آغاز ہوا تو سب کو یہ لگ رہا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کو دفاعی طور پر برتری حاصل ہے تو ایران بہت جلد پسپا ہو جائے گا‘ مگر ایسا نہیں ہوا۔ اپنی سپریم قیادت کھو دینے کے باوجود ایران نے مقابلہ جاری رکھا۔ وہاں کے عوام جرأت و بہادری کے ساتھ ڈٹ گئے۔ اسرائیل کا آئرن ڈوم ایرانی حملوں کے سامنے بے بس نظر آیا۔ اسرائیلی ملک چھوڑ کر بھاگنے لگے۔ خلیجی ممالک میں بھی خوف کا ماحول پیدا ہو گیا کیونکہ ایران نے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ خلیجی ممالک میں دنیا کے امیر ترین لوگوں کی سرمایہ کاری ہے اور یہ سیاحت اور فنونِ لطیفہ کے مراکز ہیں۔ وہ تو سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ایسی پُر امن جگہوں پر بھی میزائل گریں گے۔ خلیجی ممالک اس صورتحال کے لیے تیار نہیں تھے کہ جنگ ان کی طرف بھی آجائے گی۔ اسی طرح ساری دنیا کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کردیا‘ جس سے دنیا بھر میں تیل کی ترسیل متاثر ہوئی۔ امریکہ کی کھلی دھمکیوں کے باوجود ایران نہیں جھکا‘ یہاں تک کہ امریکہ کو مذاکرات کیلئے پاکستان آنا پڑا۔ تاہم اس وقت تو بات نہیں بن سکی لیکن جنگ بندی کی وجہ سے لوگوں نے سکھ کا سانس لیا کہ وہ اب معمول کی سرگرمیاں کر سکیں گے اور سفر کر سکیں گے۔ اس سے پاکستان کے قومی وقار میں مزید اضافہ ہوا۔ تیل کی ترسیل میں بندش کی وجہ سے بہت سے ممالک متاثر ہوئے۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں جنگ کے بعد مہنگائی میں بہت اضافہ ہوا‘ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ بھی اس میں شامل ہے۔ یہ اضافہ عام آدمی کی کمر توڑ رہا ہے۔ پاکستان کو سفارتی سطح پر تو کامیابیاں نصیب ہو رہی ہیں مگر معیشت پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔ مہنگائی‘ ٹریفک جام‘ وی آئی پی روٹس‘ انصاف کی عدم فراہمی‘ اشرافیہ کو اس طرف بھی دیکھنا ہو گا اور جو مسائل حل طلب ہیں ان کو حل کرنا ہو گا۔ جیسے امریکہ اپنے مفادکے لیے اپنی سفارتکاری کو بدل رہا ہے۔ پہلے اس کا جھکاؤ بھارت کی طرف تھا اب پاکستان کی طرف نظر آرہا ہے۔ وہ امریکہ جس نے اپنے زعم میں ساری دنیا پر ٹیرف لگا دیے تھے وہ اب انہی ممالک کے ساتھ مذاکرات کررہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورۂ چین بہت اہمیت کا حامل ہے۔ چین حالیہ حالات میں اہم طاقت کے طور پر ابھرا ہے اور تمام ممالک اس کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔ امریکہ کی یہ خواہش ہے کہ چین ایران کو کسی قسم کی معاونت نہ فراہم کرے۔ امریکی صرف ایران کے معاملے میں نہیں یوکرین اور روس کے معاملے میں بھی چین کو اپنے ساتھ ملانا چاہتے ہیں۔ امریکہ کے صدر کا خود چین جانا عالمی معاملات میں تبدیلی اور طاقت کے کھیل کو واضح کرتا ہے۔ چین بطور قوم معاشی ترقی کی منازل طے کررہا ہے۔ وہ خود کو عالمی جنگوں اور تنازعات سے دور رکھتا ہے۔چین میں ایران کے وزیر خارجہ کی آمد بھی اہم ہے جو خطے میں چین کی طاقت اور اہمیت کا مظہر ہے۔ چین تین ماہ سے جاری جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے۔ امریکہ نے چین کی کچھ توانائی کی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی تھیں صدر ٹرمپ کے حالیہ دورے کے بعد وہ بھی نرم کردی جائیں گی۔ اس دورے میں اہم تجارتی معاہدے ہوئے‘ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر ٹیرف بھی کم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ صدر ٹرمپ اس دورے سے اپنے ملک میں مڈٹرم الیکشن میں کامیابی سمیٹنا چاہتے تھے مگر ان کو خاص کامیابی نہیں ملی۔ تاہم چین نے ان کا کا اچھا استقبال کیا اور دونوں ممالک کی اہم شخصیات ایک دوسرے سے ملیں۔ اس دورے میں امریکہ اپنی بڑی کاروباری شخصیات کو بھی لے کر آیا۔ چین اب عالمی نظام کا محور ہے۔ چین اس وقت ایران کی خاموش حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس وقت شاید ابھی چین امریکہ کے دوران بہت بڑا بریک تھرو نہیں ہوا لیکن دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ امریکہ کے صدر کے بعد روس کے صدر ولادیمیر پوتن چین گئے۔ روس اب چین پر زیادہ انحصار کرتا ہے۔ دونوں کے درمیان اچھے سفارتی تعلقات ہیں۔
اس دوران پاکستان کو بھی داد دینا ہو گی کہ اس نے اپنی خارجہ پالیسی میں ایران‘ سعودی عرب‘ امریکہ اور چین سب کو متوازن رکھا۔ یوکرین جنگ کے بعد روس کا انحصار چین پر مزید بڑھ گیا۔ صدر ٹرمپ کے دورۂ چین کے فوری بعد صدر پوتن کا دورہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان نئے تعلقات کا دور بھلے شروع ہورہا ہو لیکن ماسکو اور بیجنگ میں پہلے والی گرمجوشی قائم ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان چا ہزار کلو میٹر طویل سرحد ہے اس لیے مستحکم روس ہی چین کے حق میں ہے۔ دونوں کے درمیان اہم تجارتی معاہدے ہیں۔ چین روسی قدرتی ایندھن کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ دونوں ممالک قدرتی گیس کی پائپ لائن کے منصوبے پر بھی کام کررہے ہیں۔ روس اور امریکہ کے علاوہ پاکستان‘ برطانیہ‘ سربیا اور تاجکستان کے رہنماؤں نے بھی چین کے دورے کیے۔ چین‘ پاکستان اور سعودی عرب موجودہ صورتحال میں خاموشی سے اثر انداز ہورہے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ امن قائم ہو جائے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی حال ہی میں ایران کا دورہ کرکے آئے ہیں۔ پاکستان بڑے محتاط انداز میں امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کروا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف گزشتہ دنوں چین کے دورے پر تھے جبکہ کچھ ہی دن پہلے صدر آصف علی زرداری بھی چین کا دورہ کرکے آئے ہیں۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ کا بیان سامنے آیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں جبکہ امریکی سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایسا معاہدہ طے پا سکتا ہے جس سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کا خاتمہ ہو جائے۔ ممکنہ معاہدے کی شرائط اور نکات تو منظر عام پر نہیں آئے لیکن سفارتی مبصرین کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب ہو گئے تو آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی‘ ایران کو تیل فروخت کرنے کی آزادی ہو گی اور لبنان میں جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ امریکہ اس بات کا خواہاں ہے کہ ایران اپنا جوہری پروگرام محدود کر دے لیکن ایران اس پر نہیں مانے گا۔ ایران نے جس طرح ایک سپر پاور کا مقابلہ کیا ہے وہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے۔ اس جنگ میں پاکستان کا سفارتی کردار بھی بہت اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ اگرچہ پاکستان اس وقت بہت سے معاشی اور سیاسی مسائل کا شکار ہے لیکن سفارتی حکمت عملی نے اسے عالمی دنیا کی سفارتکاری میں صفِ اول میں لاکھڑا کیا ہے۔ یہ نیا منظر نامہ دنیا کے لیے نیک شگون ثابت ہو گا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved