تحریر : مفتی منیب الرحمٰن تاریخ اشاعت     30-05-2026

کون جیتا، کون ہارا!

ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں: ''موجودہ دور میں جنگ تباہی ہے‘ ہلاکت ہے‘ بربادی ہے‘ قومی‘ ملکی اور ملّی وسائل کا ضیاع ہے‘ جنگی قوانین صرف فائلوں کی زینت ہیں‘ برسرِ زمین وہ نافذ ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے‘ غزہ کی حالیہ جنگ اور ایران پر امریکہ و اسرائیل کا حملہ اس کا بیّن ثبوت ہے۔ اسی لیے کہاجاتا ہے: محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے‘‘۔ ایران پر مسلّط کردہ امریکہ و اسرائیل کی جنگ میں کون جیتا اور کون ہارا‘ یہ تاحال ایک متنازع مسئلہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران کی تباہی مثالی ہے مگر اس کے باوجود امریکہ و اسرائیل کیلئے فتح کا دعویٰ محلِّ نظر ہے کیونکہ اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بچہ جمورا بناکر ایران پر حملے کیلئے آمادہ کیا کہ 48گھنٹے میں ایران گھٹنے ٹیک دے گا‘ حکومت زمیں بوس ہو جائے گی اور امریکہ واسرائیل فتح کے شادیانے بجاتے ہوئے ایران میں ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے‘ لیکن یہ خواب ہنوز شرمندۂ تعبیر ہے۔ جنگ موقوف کرکے مذاکرات شروع کیے اور پھر مذاکرات کا سلسلہ یکدم منقطع کرکے امریکہ واسرائیل دوبارہ حملہ آور ہو گئے‘ مگر پانچ ہفتے کی جنگ کے باوجود فیصلہ کن فتح حاصل نہ کر سکے۔ اسی لیے بعض تجزیہ کار جنگی مقاصد کے حصول میں ناکامی پر امریکہ کو شکست خوردہ قرار دے رہے ہیں۔ ایران نے جنگ کی بھاری قیمت ادا کی۔ را اور موساد کا نیٹ ورک ان کی بنیادوں میں جڑ پکڑ چکا تھا‘ اس لیے ان کی قیادت کی پہلی دو تین درجوں (Tiers) کو امریکہ و اسرائیل نے کامیابی سے نشانہ بنایا مگر حکومت بدلی نہ جا سکی۔ ایران کے ریاستی ادارے بے انتہا نقصان برداشت کرنے کے باوجود قائم رہے‘ انہوں نے بھاری قیمت ادا کرنے کے باوجود شکست قبول نہیں کی‘ اس لیے تجزیہ کار اس جہت سے ایران کو فاتح قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ اس کا ملکی وملّی وجود زخموں سے چور چور ہے۔ انہوں نے حالیہ انسانی تاریخ میں بے مثال مزاحمت کا ثبوت دیا ہے اور قربانیوں سے ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ مقامِ رہبری کا تسلسل بھی قائم رہا‘ ریاستی جمہوری ادارے بھی بدترین حالات کے باوجود نیست و نابود نہیں ہوئے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے پہلے مرحلے پر دعویٰ کیا کہ ہم نے ایران کے ایٹمی پروگرام اور انکی بحری اور فضائی افواج کو تباہ کر دیا ہے مگر اُنکی قوتِ مزاحمت کو مکمل طور پر پامال نہیں کر سکے۔ ایران نے جدید تاریخ میں پہلی بار اسرائیل وامریکہ اور انکے حلیفوں پر حملے کر کے یہ ثابت کیا کہ ایسا بھی نہیں ہے کہ کوئی انہیں چھو نہ سکے۔ ایران نے اپنی میزائل اور ڈرون صلاحیت کا کامیابی کیساتھ استعمال کیا اور امریکہ واسرائیل کے دفاعی حصار کو کسی حد تک توڑنے میں کامیاب رہے۔ ان دونوں ممالک کا دشمن کے فضائی حملوں کو فضا میں مداخلت کرکے تحلیل کرنے کا نظام یعنی آئرن ڈوم یا فضائی دفاعی نظام ناقابلِ شکست ثابت نہ ہو سکا اور امریکہ واسرائیل کو بھی اس جنگ کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔ سرِدست جنگ میں غیر معیّنہ مدت کیلئے وقفہ ہے اور بظاہر پاکستان کی ثالثی کے ذریعے جنگ بندی کے معاہدے میں دوماہ کی توسیع ہوتی نظر آرہی ہے۔ دوماہ میں تفصیلی معاہدہ طے پانے کی نوید سنائی گئی ہے۔ اگرچہ ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے لیکن ایرانیوں کا عزم ابھی توڑا نہیں جا سکا‘ مستقبل کا حال اللہ کو معلوم ہے۔
کہا جاتا ہے کہ امریکی صدر فیصلہ کن فتح نہ ملنے کے سبب مایوس ہیں۔ امریکہ نے اس جنگ کی قیمت تو بہت ادا کی ہے لیکن قوم کو کامیابی کی نوید سنانے کیلئے کچھ نہیں ہے۔ اسی طرح ٹرمپ کا چین کا دورہ اور چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی اور اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہوا۔ صرف دو سو بوئنگ طیاروں اور سویا بین کی خریداری کی بات سننے میں آئی ہے لیکن کوئی ٹھوس معاہدہ سامنے نہیں آیا۔ چینی صدر نے امریکہ پر تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کیلئے دباؤ ڈالا اور وہ کسی حد تک کارگر ثابت ہوا ہے۔ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے کافی محنت کی ہے اور سفارت کاری کی مہارت کا ثبوت دیا ہے اور ابتدائی طور پر کامیابی بھی حاصل کی ہے۔ پاکستان کے اس کردار کی عالمی سطح پر پزیرائی کی جارہی ہے۔ امریکہ اور عرب میڈیا سے ایسے اشارات مل رہے ہیں کہ فریقین مفاہمت کے قریب ہیں۔ اس مہم کو سر کرنے میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیرداخلہ محسن نقوی کی کاوشوں کو امریکہ سمیت ساری دنیا تسلیم کر رہی ہے اور کواڈ کے اجلاس میں شرکت کیلئے آئے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے دہلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا: ''ہم افزودہ یورینیم کو ایران کے پاس رہنے نہیں دیں گے‘‘ یہ امریکہ کے رویے میں تنزّل ہے کیونکہ پہلے وہ کہتے تھے کہ اسے ہم لازماً اپنے پاس امریکہ لے آئیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ چین اور روس نے درپردہ کردار ادا کیا ہے اور ممکن ہے کہ ایران کا افزودہ یورینیم روس کی تحویل میں دے دیا جائے اور چین اس کی نگرانی کیلئے ضامن کے طور پر کردار ادا کرے۔ پس اب یہ بات درست معلوم ہو رہی ہے کہ امریکہ اپنی جنگ چھیڑنے کے فیصلے پر پچھتا رہا ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کرنے کا جو منصوبہ بنایا وہ تدبیر و تدبّر سے عاری تھا۔ مدبّر اُس حکمران کو کہتے ہیں جو کسی اقدام سے پہلے اس کے نتائج پر غور کرے اور اس بات کا جائزہ لے کہ ان نتائج کے حصول کے امکانات کس قدر ہیں۔ دراصل امریکی صدر کے پاس اپنی قوم کو مطمئن کرنے کیلئے کوئی اطمینان بخش جواب نہیں ہے جبکہ اس جنگ میں مختلف روایات کے مطابق امریکہ کا مجموعی نقصان 25سے 100ارب ڈالر تک کا ہو چکا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے قضیے سے جلد نکل کر کیوبا وغیرہ میں کوئی نئی رونق لگانا چاہتا ہے تاکہ امریکی قوم کا ذہن امریکہ ایران جنگ سے پھر جائے مگر شاید یہ آسان نہیں ہو گا اور نومبر 2026ء کے وسط مدتی انتخابات میں شاید ڈونلڈ ٹرمپ کو اس کی قیمت چکانی پڑے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاکستان کی خواہش یہ ہے کہ ایران مزید تباہی سے بچ جائے اور وہ تمام وسائل جو اس جنگ کے طولانی ہونے پر خرچ کرنے پڑیں‘ انہیں اپنے ملک کی بحالی اور اپنے منجمد وسائل کی بازیابی پر خرچ کرے۔ تاوانِ جنگ کا ملنا تو شاید آسان نہ ہو لیکن منجمد اثاثوں کا مل جانا یعنی Defreezeہونا اور تجارتی پابندیوں سے نکل جانا بہت بڑی کامیابی ہے۔ اسے اس ممکنہ یا متوقع یا زیرِ اندیشہ جنگ پر خرچ ہونے والے وسائل کو اپنی قومی تعمیرِ نو پر خرچ کرنا چاہیے۔ اس جنگ نے خلیجی ممالک کو بھی یہ احساس دلایا کہ اپنے دفاع کیلئے امریکہ پر انحصار کرنا خود فریبی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ جب حقیقی جنگ برپا ہوئی تو امریکی فوجیوں نے ان ممالک میں قائم امریکی اڈوں کو خالی کردیا اور ہوٹلوں اور نجی عمارتوں میں منتقل ہو گئے۔ایران پر مسلط کردہ امریکی واسرائیلی جنگ نے جدید جنگ کے سارے میکانزم اور فلسفے کو تبدیل کردیا ہے۔ افغانستان پر اتحادی افواج کی یلغار اور ماضی میں عراق پر امریکی یلغار کے موقع پر فضائی برتری کافی تھی۔ جب فضا سے ملک کا دفاعی اور شہری ڈھانچہ تباہ وبرباد کردیا گیا تو پھر ان کے منحوس قدم برسرِ زمیں آگئے مگر اب پاکستان و بھارت کی جنگ اور ایران جنگ نے یہ ثابت کیا کہ تنہا فضائی قوت اور برتری بھی غلبے کیلئے کافی نہیں ہے۔ اب میزائل‘ راکٹ اور ڈرونز حملے بھی غلبے یا دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے کی دلیل بن چکے ہیں۔ پس جدید جنگ کا پورا سائنسی سیٹ اَپ تبدیل ہوگیا ہے۔ اسی لیے بھارت آپریشن سندور کو ناتمام کہنے کے باوجود دوبارہ حملے کی ہمت نہیں کر سکا کیونکہ پاکستان کے پاس برابر یا بہتر جوابی حملے کی صلاحیت موجود ہے اور اقتصادی برتری‘ پانچ گنا بڑے رقبے‘ کئی گنا زیادہ دفاعی افواج کے باوجود بھارت کو اپنی فیصلہ کُن فتح کا اب یقین نہیں رہا۔ لہٰذا اندیشہ ہائے دور دراز کے پیشِ نظر انہوں نے دوبارہ حملہ نہ کر کے دانشمندی کا ثبوت دیا ہے۔نوٹ: یہ کالم منگل کی صبح لکھا گیا ۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved