تحریر : رشید صافی تاریخ اشاعت     31-05-2026

ابراہیمی معاہدہ، افواہیں اور حقائق

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ دیرینہ اور شدید خواہش ہے کہ مسلم اکثریتی ممالک اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی اور تجارتی تعلقات کو استوار کر کے ابراہیمی معاہدے پر دستخط کریں۔ عالمی منظرنامے پر اسرائیل کو تسلیم کرانے اور خطے میں ایک نئے سکیورٹی آرکیٹیکچر کی تشکیل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ خود کو سفارتی ثالث کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں مشرقِ وسطیٰ کی دہائیوں پرانی خارجہ پالیسی کو تبدیل کرنے کے لیے ابراہیمی معاہدہ متعارف کرایا تھا جس میں انہیں کسی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی۔ اس جانب پہلا قدم امریکہ نے خود ہی اٹھایا جب دسمبر 2017ء میں ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو پر اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کیا۔ صدر ٹرمپ پُرامید تھے کہ ان کی دیکھا دیکھی دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہوں گے۔ اسی سٹریٹجک نقطہ نظر سے ستمبر 2020ء میں وائٹ ہاؤس کے لان میں متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ رسمی تعلقات قائم کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے۔ بعد ازاں سوڈان اور مراکش بھی اس معاہدے کا حصہ بن گئے‘ تاہم مسلم اُمہ اور عرب دنیا اس حساس معاملے پر اب بھی واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم نظر آتی ہے۔ جہاں کچھ ممالک نے معاشی اور دفاعی ترجیحات کے تحت اسرائیل کو تسلیم کیا وہاں دوسری جانب سعودی عرب‘ قطر اور کویت جیسے بااثر ممالک اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات کا قیام فلسطین اسرائیل تنازع کے مستقل‘ منصفانہ اور دو ریاستی حل سے مشروط ہے۔
28فروری 2026ء کو جب امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو ایک بار پھر یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ ایران تو محض بہانہ ہے‘ اصل کام اسرائیل کو مسلم ممالک سے تسلیم کرانا ہے۔ اس تاثر کو تقویت اس وقت ملی جب صدر ٹرمپ نے گزشتہ دنوں اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ اس نہایت پیچیدہ گتھی کو سلجھانے کے لیے امریکہ کی جانب سے کی گئی تمام کوششوں کے بعد یہ ضروری ہونا چاہیے کہ کم از کم یہ تمام ممالک بیک وقت ابراہیمی معاہدے پر دستخط کر دیں۔ ٹرمپ نے پاکستان اور سعودی عرب کا بالخصوص نام لیا کیونکہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ عالم اسلام میں سعودی عرب اور پاکستان کی حیثیت کیا ہے۔ صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ جنگ کے تناظر میں برملا کہہ رہے ہیں کہ یا تو سب کے لیے ایک عظیم معاہدہ ہو گا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہو گا۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کے ''عظیم معاہدے‘‘ سے مراد ابراہیمی معاہدہ ہے۔ امریکی صدرکی طرف سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ ایسے وقت پر آیا ہے جب پاکستان ایران امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور ایران اور امریکہ کے درمیان حتمی معاہدے کے لیے پاکستان کی کوششیں فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ عالمی میڈیا تو یہاں تک کہہ رہا ہے کہ فریقین کے درمیان اتفاق ہو چکا ہے۔ صدر ٹرمپ کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان اس کا بڑا ثبوت ہے جس میں ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پھنسے جہازوں اور ان کے عملے کو اب اپنے گھروں کو واپسی کی تیاری کرنی چاہیے۔ امریکی صدر نے مزید لکھا کہ ایران بھی بدلے میں اس بات کو یقینی بنائے کہ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی بلا تعطل روانی یقینی بنائی جائے اور وہاں کسی بھی قسم کا ٹول یا اضافی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ ایران اور امریکہ کے درمیان سب سے اہم ایشو افزودہ یورینیم کا ہے‘ اس ضمن میں مبینہ طور پر طے ہوا ہے کہ امریکہ‘ چین‘ ایران اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے تعاون سے اس نیوکلیئر ڈسٹ کو زمین سے نکال کر تلف کیا جائے گا‘ مگر ایرانی حکام اس بات کی تردید کرتے ہیں۔ توقع تھی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جو پوسٹ کی ہے اس کا باقاعدہ طور پر اعلان بھی کریں گے کیونکہ سوشل میڈیا پر ان کی اگلی پوسٹ پہلی سے مختلف ہوتی ہے مگر تشویشناک امر یہ ہے کہ اس حوالے سے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اہم میٹنگ بغیر نتیجے کے ختم ہو گئی ہے اور صدر ٹرمپ نے ایران معاہدے پر حتمی فیصلہ مؤخر کر دیا ہے۔ اس سے قبل امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے سنگاپور میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ہمارے پاس ایران کے خلاف کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے اس طرح کے بیانات خدشات کو جنم دیتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ایران امریکہ مذاکرات ایک قدم آگے بڑھتے ہیں تو فریقین کے تلخ بیانات کے باعث دو قدم پیچھے چلے جاتے ہیں۔
مذاکرات میں جب کسی قسم کا تعطل آتا ہے تو پاکستان پھر سے حالات کو معمول پر لانے کیلئے کوششیں تیز کر دیتا ہے تاکہ خطے میں امن قائم ہو اور دنیا کو معاشی ناہمواری سے چھٹکارا حاصل ہو سکے لیکن جب امن عمل کے درمیان سے ابراہیمی معاہدہ برآمد ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں پاکستان پر بھی دباؤ بڑھتا ہے تو سوالات پیدا ہونا فطری عمل ہے۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کے لیے غیرمعمولی توجہ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکہ پاکستان کو ابراہیمی معاہدے میں شامل کرنا چاہتا ہے جبکہ بعض حلقے تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کے عوض پاکستان کو بڑی پیشکش کی گئی ہے جس کے تحت پاکستان کو عالمی قوتوں سے بہت کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔ ان گردش کرتی افواہوں کے ضمن میں ضروری تھا کہ ابراہیمی معاہدے سے متعلق حکومتی سطح پر وضاحت کی جاتی سو نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان کے ابراہمی معاہدے میں شمولیت سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ اس حوالے سے پاکستان کی پالیسی بالکل واضح اور غیر مبہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم کرنے یا ایسے کسی معاہدے کا حصہ بننے پر غور نہیں کر سکتا جب تک فلسطینی مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور 1967ء سے قبل کی سرحدوں کے مطابق نہیں نکلتا اور القدس الشریف فلسطینی ریاست کا دارالحکومت نہیں بن جاتا۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار اس وقت امریکہ کے دورے پر ہیں۔ بالعموم ایسے اعلیٰ سطح دورے کے موقع پر اس طرح کے بیانات سے گریز کیا جاتا ہے اور پالیسی بیان اپنی سرزمین سے ہی دیا جاتا ہے مگر اندازہ کیجئے اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کا دو ٹوک مؤقف کس قدر واضح اور غیر مبہم ہے کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسرائیل سے متعلق پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم بیان امریکہ میں دیا حالانکہ اسحاق ڈار کی اپنے امریکی ہم منصب مارکو روبیو سمیت امریکی حکام سے اعلیٰ سطح ملاقاتیں ہونی ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کی طرف سے ابراہیمی معاہدے سے متعلق دو ٹوک مؤقف سامنے آنا بہت اہمیت کا حامل ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved