تحریر : محمد عبداللہ حمید گل تاریخ اشاعت     31-05-2026

بلوچستان اگلا ہدف ہو گا؟

24مئی کو بلوچستان کو ایک بار پھر خون میں نہلا دیا گیا۔ عید الاضحی سے قبل معصوم لوگ اپنے پیاروں کو ملنے اپنے گھروں کو جا رہے تھے کہ فتنہ الہندوستان نے کوئٹہ میں شٹل ٹرین پر خود کش حملہ کر دیا جس میں خواتین‘ بچوں اور بزرگوں کی ایک بڑی تعداد شہید ہوئی۔ ان شہدا میں فرنٹیئر کور کے پانچ جوان بھی شامل تھے جنہوں نے فرض کی ادائیگی کے دوران وطن پر اپنی جان نچھاور کر دی۔ یہ جو دہشت گرد بے گناہ خواتین‘ بچوں‘ بزرگوں کو بم دھماکوں کا نشانہ بنا رہے ہیں ان کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان سے کوئی پوچھے کہ کیا آزادی کی جنگ خواتین اور بچوں کو قتل کر کے لڑی جاتی ہے؟ یہ فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد نہ انسان ہیں‘ نہ ہی سچے بلوچ اور نہ ہی ان کا اسلام سے کوئی تعلق ہے۔ جن لوگوں کو یہ مار رہے ہیں وہ نہتے مسافر بزرگ‘ بچے اور خواتین ہیں۔ ان کا جرم کیا تھا؟ یہ بلوچستان کے وسائل لوٹ رہے تھے نہ ہی بی ایل اے کے خلاف لڑ رہے تھے پھر انہیں کیوں قتل کیا گیا؟ سوال یہ ہے کہ اس حملے کا ماسٹر مائنڈ کون ہے؟ خودکش حملے میں ملوث ایک دہشت گرد کا تعلق مسنگ پرسنز سے ہے جس کی تصویر کو بلوچ یکجہتی کمیٹی نے لاپتہ افراد میں شامل کر رکھا تھا تا کہ ریاست کے جبر کے بیانیے کو تشکیل دیا جا سکے۔ بی ایل اے خود ساختہ مظلومیت کے بیانیے کا استعمال کرتے ہوئے بلوچستان کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی اور عام لوگوں کا خون بہاتی ہے۔
دنیا بھر میں دہشت گرد تنظیمیں اپنے وجود‘ فنڈنگ اور جرائم کو جائز ثابت کرنے کے لیے خود کو کسی قوم یا نسل کا نمائندہ ظاہر کرتی ہیں۔ بی ایل اے بھی خود کو بلوچ قوم کا نمائندہ قرار دیتی ہے کیونکہ اس کے کچھ ارکان بلوچ خاندانوں میں پیدا ہوئے۔ لیکن کسی خاص نسل سے تعلق رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی مسلح یا دہشت گرد پوری قوم کا نمائندہ ہے۔ بی ایل اے کے دہشت گرد نسلی طور پر بلوچ ہو سکتے ہیں مگر ان کا ایجنڈا اور طریقہ کار بلوچ عوام کی اکثریت نے منتخب نہیں کیا کیونکہ نمائندگی عوامی تائید اور شعوری رضا مندی سے ملتی ہے‘ کیا بلوچ عوام نے کبھی ریفرنڈم یا جرگے کے ذریعے بی ایل اے کو اختیار دیا ہے کہ وہ چند ہزار مسلح افراد کو دو کروڑ بلوچ عوام پر مسلط کر دیں؟ کیا بلوچ عوام نے انہیں مزدوروں‘ تاجروں اور مسافروں کو قتل کرنے کا کہا ہے؟ ہرگز نہیں! بلوچ عوام ملک کے آئین کے تحت انتخابات میں حصہ لیتے ہیں‘ ووٹ کاسٹ کرتے ہیں اور پارلیمنٹ کا حصہ بنتے ہیں۔ انہیں بی ایل اے غدار قرار دے کر قتل کرتی ہے۔ اسی طرح بی ایل اے تشدد کے ذریعے بلوچ عوام کی اکثریتی سیاسی رائے کو مسترد کرتی ہے۔ بی ایل اے ان محب وطن بلوچ رہنماؤں‘ قبائلی عمائدین اور سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بناتی ہے جو آئینی دائرے میں رہتے ہوئے بلوچ حقوق کی بات کرتے ہیں۔ ماضی میں بھی بی ایل اے نے کوئٹہ‘ مستونگ اور تربت جیسے علاقوں میں عوامی مقامات‘ بسوں اور ریلوے سٹیشنوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی‘ جن سے بے شمار بلوچ خاندان متاثر ہوئے اور تباہ ہو گئے۔ بلوچستان پولیس لیویز اور فرنٹیئر کور میں بڑی تعداد بلوچ نوجوانوں کی ہے۔ بی ایل اے نے سینکڑوں بلوچ اہلکاروں کو ڈیوٹی کے دوران یا چھٹی پر گھر جاتے ہوئے نشانہ بنایا۔ جو تنظیم اپنے لوگوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرتی ہے وہ اپنی حکمت عملی بیرونی ممالک اور خفیہ ایجنسیوں کی فنڈنگ اور ہدایات پر نہیں بناتی۔
گوادر پورٹ اور سی پیک جیسے منصوبوں پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ بی ایل اے کا مقصد بلوچ عوام کی خوشحالی نہیں بلکہ بلوچستان کی معیشت اور ترقی کو نقصان پہنچانا ہے۔ بی ایل اے کی دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار غریب لوگ بنتے ہیں‘ مزدور اور چھوٹے تاجر جو پنجاب‘ سندھ اور دیگر علاقوں سے آ کر بلوچستان کی معیشت میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ بی ایل اے جان بوجھ کر بلوچستان کے ترقیاتی ڈھانچے کو نیست و نابود کر رہی ہے‘ گیس پائپ لائنیں اڑانا‘ بجلی کے ٹاور تباہ کرنا اور سول انفراسٹرکچر کی تباہی اسی مذموم سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ کیونکہ جب شہری تعمیر و ترقی کا ڈھانچہ تباہ کر دیا جائے اور صنعتیں بھی نہ لگیں تو بلوچ نوجوان بے روزگار رہیں گے۔ بی ایل اے چاہتی ہے کہ بلوچ محرومی اور غربت میں مبتلا رہیں تاکہ مایوسی انہیں شدت پسندی کی طرف دھکیلتی رہے۔ اگر بلوچستان میں دہشت گردی ختم ہو جائے تو سرمایہ کار آئیں گے‘ جدید تعمیرات ہوں گی‘ ہسپتال اور سکول بنیں گے۔ گوادر ایک نیا دبئی بن سکتا ہے اور مقامی آبادی خوشحال ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر بلوچستان کی تعمیر کے لیے آنے والوں کو ہی قتل کر دیا جائے‘ خودکش حملوں میں مار دیا جائے تو پھر کون سکول‘ ہسپتال اور کالج بنائے گا؟
حال ہی میں خودکش حملہ آور بلال شاہوانی کا نام بی وائی سی کے لاپتہ افراد کی فرست میں درج تھا۔ یہی دہشت گرد لاپتہ فرد بعد میں کوئٹہ دھماکے میں معصوم شہریوں کا قاتل نکلا۔ ایک رپورٹ کے مطابق چند ماہ قبل دہشت گرد بلال کے والد نے اس سے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا۔ اس کے باوجود کچھ بلوچ دہشت گردوں کی ہمدردی میں آوازیں اٹھاتے ہیں اور ان سے مذاکرات کی بات کرتے ہیں۔ انہیں بتایا جائے کہ یہ حقوق کی آزادی کی جدو جہد نہیں بلکہ کھلی دہشت گردی ہے۔ یہ دہشت گرد تھے‘ ہیں اور رہیں گے۔
اس میں بھی کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ وطنِ عزیز میں ہونے والی دہشت گردی میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔ 2000ء میں ایک خلیجی عرب ریاست نے بی ایل اے کی مالی معاونت کی۔ بی ایل اے کا سٹار لنک اور ٹیلی کمیونی کیشن کا سامان بھی اسی ملک سے سمگل کیا جاتا ہے۔ چا بہار بندرگاہ کو پاکستان مخالف دہشت گرد گروہوں تک اسلحہ پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا اور یہی جگہ بھارتی خفیہ ایجنٹ کلبھوشن یادو کی سرگرمیوں کا مرکز بھی رہی۔ حالیہ سفارتی و عسکری کامیابیوں کے تناظر میں خودکش حملوں میں بھارت‘ افغانستان اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہو چکا ہے اور مقامی حلقے اب بھی ان دہشت گردوں سے ہمدردی رکھتے اور انہیں پناہ دیتے ہیں۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایسی وڈیوز گردش کر رہی ہیں جن میں بلوچ خواتین کو بلوچستان کے ایک پہاڑی علاقے میں‘ جو افغان سرحد کے قریب واقع ہے‘ اسلحہ کی تربیت لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وہ اسرائیلی طرز کی وردیاں پہنے جدید ہتھیار استعمال کر رہی ہیں۔ ان خواتین‘ جن میں ماہ رنگ بلوچ‘ سمی بلوچ اور بیبو بلوچ شامل ہیں‘ کو بلوچستان میں حقوق اور محرومی کے بیانیے کے پسِ پردہ موجود اصل چہرے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس دہشت گردی کا سد باب کیسے ہو گا؟ ضروری ہے کہ ایسا قانون بنایا جائے جس کے تحت دہشت گردی یا اس کی معاونت میں ملوث افراد کے اثاثے اور بینک اکاؤنٹس ضبط کر لیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر دہشت گردی کی حمایت یا تشہیر کرنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ فتنہ الخوارج ایک منظم دہشت گرد نیٹ ورک ہے جو مذہب کا استعمال کر کے تشدد‘ خوف اور انتشار پھیلا رہا ہے۔ ان گروہوں نے سکولوں‘ ہسپتالوں‘ سڑکوں اور سول انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا تاکہ ریاست کو غیرمستحکم کیا جا سکے۔ پیغام پاکستان کے تحت 1800 سے زائد علما نے ان دہشت گرد گروہوں کے نظریات اور کارروائیوں کو غیر اسلامی قرار دیا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ بلوچستان کو بیرونی طاقتوں اور جغرافیائی سیاسی کھیلوں کا میدان نہ بننے دیا جائے۔ یہ قومی اتحاد اور پاکستا نیوں کی بیداری کا وقت ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved