امریکہ بزعمِ خویش تہذیب کا مرکز ہے۔ صدر ٹرمپ اس کی نمائندگی کرتے ہیں۔ کیا کوئی شخص بقائمی ہوش وحواس انہیں ایک مہذب آدمی قرار دے سکتا ہے؟
کچھ دیر کے لیے ایڈورڈ سعید کی 'اورینٹل ازم‘ کو یاد کیجیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مغرب نے ہمیشہ برتری کے مقام پر کھڑے ہو کر مشرق کو دیکھا ہے۔ ایک طرف مہذب لوگ ہیں اور دوسری طرف غیر مہذب۔ یہ اندازِ نظر سامراجی قوتوں کا ہتھیار بنا جسے انہوں نے مشرقی اقوام پر غلبے کے لیے استعمال کیا۔ مشرقی اقوام ان کے نزدیک اس قابل نہیں تھیں کہ کوئی سیاسی نظام وضع کر سکتیں یا مغربی معیار پر مہذب کہلوانے کی مستحق قرار پاتیں۔ انہیں کیا خبر کہ بنیادی انسانی حقوق کیا ہوتے ہیں۔ جمہوریت کس چڑیا کا نام ہے۔ فنونِ لطیفہ کیا ہیں۔ اگر سعید کی 'کلچر اور سامراجیت‘ کو بھی ساتھ شامل کر لیں تو اس مقدمے کے دلائل مکمل ہو جاتے ہیں۔ ایڈورڈ سعید کے ساتھ ہنٹنگٹن اور فوکو یاما کو بھی یاد کر لیں۔ یہ کہا گیا کہ مغرب تہذیبی ارتقا کی انتہا کو چھو رہا ہے۔ انسان نے وہ مراحل طے کر لیے جو اسے کامل بناتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں یہ لکھا گیا: یہ معاشرے اس قابل کہاں کہ جمہوریت جیسے نازک تصورات کے متحمل ہو سکیں۔ تہذیب کے نازک آبگینے ان غیر مہذب ہاتھوں میں جا کر ٹوٹ سکتے ہیں۔ ایڈورڈ سعید کی یہ کتاب کم وبیش نصف صدی پہلے لکھی گئی تھی۔ آج کا امریکی صدر اس تہذیب کا نمائندہ ہے۔ کیا یہ شخصیت مہذب کہلوانے کی مستحق ہے؟
ایک بات کا اعتراف تو کرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ چند صدیوں میں تہذیبی عمل‘ اگر کہیں آگے بڑھا ہے تو وہ مغرب ہی ہے۔ یہ محض ٹیکنالوجی کا معاملہ نہیں۔ ادب اور فنونِ لطیفہ نے بھی ایسے ایسے نمونے تخلیق کیے ہیں کہ لوگ انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔ صرف عمارات کو دیکھ لیجیے۔ تعمیرات کی دنیا میں اتنے مکاتبِ فکر پائے جاتے ہیں کہ انسانی جمالیات کو مبہوت کر دیں۔ طب میں مغرب نے وہ کمالات دکھائے ہیں کہ آدمی حیرت میں ڈوب جائے۔ سماجی رویوں میں جو بہتری آئی ہے‘ اس کا اعتراف بھی ہم پر لازم ہے۔ صاف ستھرے شہر اور پُرامن معاشرہ۔ اس میں شبہ نہیں کہ انحرافات بھی بہت ہیں مگر حکم کُل پر لگایا جا تا ہے‘ جزئیات پر نہیں۔
سوال مگر یہ ہے کہ ڈونلد ٹرمپ اگر اس تہذیب کا نمائندہ ہے تو وہ سچ اور جھوٹ میں کیوں تمیز نہیں کرتا؟ مغرب نے اگر غلامی ختم کر دی تو ٹرمپ دوسری اقوام کو غلام کیوں بنانا چاہتا ہے؟ وہ فلسطینی اور ایرانی بچوں کی معصومیت کو اس بے رحمی سے کیسے کچل سکتا ہے؟ پھر یہ معاملہ کسی فردِ واحد کا نہیں ہے۔ عراق کے بچوں پر جب امریکہ نے دودھ بند کیا تھا تو اس وقت ٹرمپ کو کوئی نہیں جانتا تھا۔ وہ جارج بش کا دور تھا۔ امریکہ کے تمام صدر اتنے بے رحم کیوں ہوتے ہیں؟ وہ آخر کس تہذیب کے نمائندہ ہیں؟ ایک طرف رحمِ مادر میں بچے کی جان بچائی جا رہی ہے اور دوسری طرف قتلِ عام کی سر پرستی کی جا رہی ہے۔ ایک طرف جانوروں کے حقوق کی مہم اٹھائی جا رہی ہے اور دوسری طرف انسانوں کے تمام حقوق کی نفی ہو رہی ہے۔ یہ کیسی تہذیب ہے جو اتنے بڑے بڑے تضادات کے ساتھ زندہ ہے؟
اب ایک نظر مشرق پر ڈالیے۔ مذہب یا ما بعد الطبیعات اس کی ایک بڑی تہذیبی قوت ہے۔ مذہب کے علمبرداروں نے مگر دنیا کے ساتھ کیا کیا؟ یہ خودکش حملے کس کی ایجاد ہیں؟ انسانی سروں سے فٹ بال کون کھیلتا رہا ہے؟ بھوک اور افلاس کس کے صحن میں بسیرا کرتے ہیں؟ عورتوں کو کون انسان ماننے کے لیے تیار نہیں؟ مغرب نے اپنے سماجی دائرے میں ایک تہذیب کو مجسم کیا‘ مشرق تو یہ بھی نہیں کر سکا۔ اس کا اندروں بھی چنگیز سے تاریک تر ہے۔ مغرب کی طرح مشرق کا عموم یہی ہے۔ انسانی جان کی کوئی قیمت ہے نہ اس کی حرمت کی۔ بھوک برہنہ رقص کر رہی ہے اور حکمران اسلحہ جمع کر رہے ہیں۔ انسان سوچتا ہے: کیا ان میں عقل نہیں؟ کیا ان کے سینے میں دل نہیں؟
ایک استثنا مگر مشرق ومغرب میں ہے۔ مغرب میں سکینڈے نیوین ممالک ہیں۔ یہاں لوگ انسانوں کی قدر کرتے ہیں۔ ان کے بنیادی حقوق محفوظ ہیں۔ مذہبی تعصبات نہیں ہیں۔ انسان کی بحیثیت انسان قدر کی جاتی ہے۔ یہ صحیح معنوں میں فلاحی ریاستیں ہیں۔ ان کے ہمسایے بھی ان سے خوش ہیں اور عوام بھی۔ اسی طرح مشرق میں سنگاپور جیسے ممالک ہیں۔ نہ کسی پر قبضے کی خواہش ہے اور نہ کسی کو تنگ کرنے کا منصوبہ۔ ساری توجہ عوام کی بہبود اور اپنی ترقی پر ہے۔ کوئی نعرہ نہ کوئی جذباتی کھیل۔ نہ نظریاتی سرحدوں کا بکھیڑا نہ کسی مذہب کا تعصب۔ سوال یہ ہے کہ عموم کے برخلاف یہ تہذیب کے جزیرے کیسے وجود میں آئے؟ فساد کے ماحول میں امن کہاں سے آیا؟ کیا اس کا تعلق جغرافیے سے ہے؟ کیا یہ تصورِ حیات کا فرق ہے؟ کیا اس کا تعلق تاریخ سے ہے؟
ہم ان سوالات کے جوابات تلاش کر سکتے ہیں مگر میرا کہنا یہ ہے کہ سارا مسئلہ سوچ اور تصورِ حیات کا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ لوگ تاریخ کے شکنجے سے باہر نکلے۔ یورپی ممالک نے پرانی دشمنیوں کو دیس نکالا دے دیا۔ لوگ جہالت سے نکلے جیسے سنگاپور اور چین۔ لوگوں نے مستقبل کی طرف نگاہ کی اور ساری توانیاں تعمیر میں صرف کر دیں جیسے ملائیشیا۔ ہم جیسے لوگ مگر یہ نہیں کر سکے۔ قائداعظم کے بعد ہمیں کوئی ایسی قیادت میسر نہ آ سکی جو تاریخ وجغرافیے کی قید سے نکلتی اور ترقی کی اڑان بھرتی۔ نواز شریف صاحب نے کوشش کی مگر پر کاٹ دیے گئے۔ اب لگتا ہے وہ قید سے مانوس ہو گئے ہیں۔
تہذیب کا راستہ تو امن اور سلامتی کا راستہ ہے۔ امریکہ کی سیاسی قیادت کو سمجھنا ہو گا کہ یہ دو رخا پن اب نہیں چل سکے گا۔ ایران امریکہ جنگ کا جتنا نقصان مغربی تہذیب کو پہنچا ہے‘ اس کا اندازہ ان لوگوں کو ہو چکا جو سوچتے ہیں۔ یہ مغربی تہذیب مسیحیت کو اپنا جزو سمجھتی ہے۔ مسیحی قیادت مگر اس سیاسی قیادت کی ہم نوائی پر آمادہ نہیں۔ وہ جان چکی کہ اس کا ساتھ دینے کا مطلب مذہب کی ساکھ کو برباد کرنا ہے۔ ادب اور فنونِ لطیفہ کے لوگ بھی اس سیاسی قیادت کو اپنا نمائندہ قرار دینے پر آمادہ نہیں۔ اگر چہ اس نے دیر لگائی مگر اب یہ تہذیب اپنے ہی خنجر سے خودکشی پر آمادہ ہے۔ اس خنجر کا نام ٹرمپ ہے۔
مقدور ہو تو میں فوکو یاما سے پوچھوں کہ کیا یہی وہ آخری آدمی ہے جس کے ظہور کی خوشخبری آپ نے سنائی تھی؟ یہ اچھا ہے کہ انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ ورنہ علم کی دنیا میں ٹرمپ کے بعد ان کی کیا ساکھ رہ جاتی؟ واقعہ یہ ہے کہ تہذیبیں اپنوں ہی کے ہاتھوں دم توڑتی ہیں۔ مسلم تہذیب کو مسلم راہنماؤں نے برباد کیا اور اس کارِ خیر کو آج بھی ثواب سمجھ کر سر انجام دے رہے ہیں۔ آج مہذب کہلوانے کا حق اسی کو حاصل ہے جو زبانِ حال سے تہذیب کی نمائندگی کرے گا۔ جو اپنے عمل سے انسانی حقوق کی پاسداری کا ثبوت فراہم کرے گا۔ جو جنگ کے خلاف‘ اور امن کا نمائندہ ہو گا۔ جو اس کے برخلاف عمل کرے گا‘ وہ اپنی تہذیبی کامیابیوں کو گہنا دے گا۔ کیا مغرب صدر ٹرمپ کو اپنی تہذہب کا نمائندہ قرار دے سکتا ہے؟ کیا وہ اپنے طے کردہ معیارات پر انہیں مہذب کہہ سکتا ہے۔ یہی سوالات مسلمانوں کی مذہبی‘ سیاسی اور سماجی قیادت کے بارے میں بھی اٹھ رہے ہیں۔ کیا انہیں مسلم تہذیب کا نمائندہ کہا جا سکتا ہے؟
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved