تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     01-06-2026

لاہور اور تاریخی شناخت

اس مضمون کا عنوان تو ''عقل کے ناخن لو‘‘ سوچا تھا مگر محسوس کیا کہ یہ محاورہ عمومی ذہن پر گراں گزر سکتا ہے۔ بات دراصل عقل کے ناخن لینے والی ہی ہے۔ اگر گہرائی میں جاتے ہیں تو تھوڑی بہت کوشش کرکے خود معلوم کر لیں کہ بات تو عقل سے کام لینے کی ہے مگر جب عقل جواب دے جائے یا ہم یا اسے خود ہی جواب دے کر رخصت کر دیں تو احمقانہ فیصلے صادر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ذاتی زندگی میں انسان عقل‘ تدبیر اور دانش کو چھوڑ کر جذبات سے مغلوب ہو جائے تو کچھ لوگ اسے گمراہ کہتے ہیں۔ مطلب یہ کہ وہ اپنے معمول کے راستے سے ہٹ کر کہیں ادھر اُدھر گم ہو گیا ہے۔ دنیا میں تاریخ‘ تاریخی شناخت کی اہمیت اور قومی ثقافتی پہچان سے متعلق لوگ گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ اُن ممالک میں جہاں پرانی روایات کی پاسداری تاریخی حوالوں کی صداقت اور صدیوں سے قائم جگہوں‘ عمارتوں اور گلی کوچوں سے محبت کا رشتہ قائم ہوتا ہے وہاں کچھ بدلنے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ اپنے تضادات دیکھیں کہ ایک طرف ہم وادیٔ سندھ کی قدیمی تہذیب کے وارث بننے کی کوشش میں رہتے ہیں اور دوسری طرف اس خطے کے صدیوں پرانے نشانات اور تختیوں کو مٹا کر انہیں اپنے نام کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ دیگر مسلم ممالک جن میں مصر‘ شام‘ عراق اور ایران شامل ہیں‘ نے پرانی تہذیبوں کی رکھوالی کی ہے۔ قبل ازاسلام کی تاریخ‘ شناخت اور بڑے کرداروں‘ فلسفیوں‘ شاعروں‘ ادیبوں اور اُن کے کارناموں کو محفوظ رکھا ہے۔ مغرب میں برطانیہ کی مثال دیں تو رشک آتا ہے۔ میرے خیال میں کسی اور کے کارناموں کو سیاسی طاقت ہاتھ آنے کے بعد چھین کر اپنے ناموں سے منسوب کرنا دراصل اُن زعما کی شان کے خلاف ہے جن کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد اُن کے کارناموں کے کتبے ہم فیتے کاٹ کر لگاتے رہے ہیں۔
میں یقین اور بھرپور اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر لاہور کا کوئی حکمران لارنس گارڈنز کو قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی میں باغِ جناح کانام دیتا تو تہذیب‘ تمیز اور اخلاقیات کے محض چند جملوں سے قائد ہمیشہ کے لیے اس کا منہ بند کر دیتے۔ یہ باغ اُس انگریز گورنر کی یاد کے طور پر زندہ رہنا چاہیے اس لیے کہ یہ صرف اُسی کا حق ہے۔ صرف نام ہی تو ہے‘ اس کی یا برطانیہ کی ملکیت تو نہیں۔ وہ تو اپنے زمانے میں ہی اپنے آبائی ملک میں جا کر آسودۂ خاک ہوا۔ ذہنی انتشار اور جذباتیت کا اثر ہمارے سیاسی لوگوں ‘ نوکر شاہی اور رجعت پسندوں پر اتنا ہے کہ اکثر و بیشتر عقل کی بات سننے کے لیے ہی تیار نہیں ہوتے۔ کچھ دیگر نوآبادیاتی ممالک میں بھی قومیت پسندی منفی انداز میں زوروں پر ہے۔ یہ وبا بھارت میں شروع ہوئی یا ہمارے ہاں‘ اس کے بارے کچھ زیادہ جانکاری نہیں مگر یہ جذباتیت اور انتہا پسندی کی آگ پورے خطے کو جھلسا رہی ہے۔ وہاں بھی انگریزی اور مغلیہ دور کی تاریخی شناخت کو اب تھوک کے حساب سے ختم کیا جا رہا ہے۔ وہاں جب مغل اور ان سے پہلے کے مسلم بادشاہوں کے دور کے نشانات مٹتے ہیں تو ہم احتجاج کرتے ہیں۔ وہاں بھی مؤرخ اور معقول لوگ تاریخی نشانات مٹانے کی مخالفت میں آواز اٹھاتے ہیں۔ ہمارے ہاں تو مختلف ادوار میں سب کچھ الٹا کرنے میں ریکارڈ ہی قائم کر دیے گئے۔ بات لاہور کی کرنا چاہتا ہوں مگر تمہیداً کچھ اور جگہوں کا سرسری ذکر ضروری ہے۔ تھرپار کر سندھ میں واقع عمر کوٹ شہر کا نام تو سنا ہوگا۔ جب ہم نے تیسری چوتھی جماعت میں تاریخ اور جغرافیہ پڑھا تو اس قدیمی شہر کا نام ''امر کوٹ‘‘ تھا۔ میرا اپنا آبائی قصبہ بھی امر کوٹ سے عمر کوٹ بن چکا ہے۔ یہ ہندو آبادی کا ایک چھوٹا سا قصبہ تھا‘ انہوں نے ہی آباد کیا تو گمان یہی ہے کہ اس کا نام امر کوٹ ہوگا‘ جو بعد میں عمر کوٹ ہو گیا۔
اسی طرح بلوچستان میں ایک مشہور جگہ تھی جسے ہندو باغ کہا جاتا تھا۔ اب اُسے مسلم باغ کا نام دیا گیا ہے۔ اپنی نسلی‘ مذہبی اور سماجی شناختوں اور سیاسی قائدین سے آپ کو محبت ہے تو نئے شہر‘ نئے باغات‘ نئی عمارتیں اور نئے ادارے قائم کریں۔ میرا نہیں خیال کہ مذہبی روایت یا اخلاقیات ایسی چھینا جھپٹی کی اجازت دے سکتی ہیں۔ لاہور ہماری پہلی اور آخری محبت ہے۔ جہاں بھی ہم رہیں‘ بیشک اسلام آباد ''دی بیوٹی فل‘‘ میں! لیکن دل لاہور ہی میں اٹکا ہوا ہے۔ ذہنی‘ شخصی‘ عملی اور پیشہ ورانہ تشکیل وہاں ہوئی اور ہمارے اکثر پیارے‘ مخلص دوست وہیں رہتے ہیں۔ لاہور کی تعمیرات اور شناخت پر جب بھی وہاں کے اپنوں نے ضربیں لگائیں تو وہ ہمارے دل پر لگیں۔ سب لاہوری مایوسی میں آنسو بہاتے‘ افسردگی میں کھو جاتے اور بے بسی پر روتے رہتے۔ یہ سب کچھ اُس وقت دیکھا جب لاہور کے حکمران خاندان نے اورنج ٹرین چلانے کی غرض سے میلوں طویل بدنما پُل تعمیر کرنے کا منصوبہ شروع کیا۔ ہم روتے پیٹتے رہ گئے۔ ایک اور مثال آپ کو دیتا ہوں۔ اگر کسی شخص کو لاہور کو جدید بنانے کا کریڈٹ تاریخ دے گی تو وہ سر گنگا رام ہیں۔ آج اکثر لوگ گنگا رام ہسپتال کے حوالے سے انہیں جانتے ہوں گے‘ کسی اور وقت پر چھوڑتے ہیں کہ انہوں نے کیا کچھ نہ کیا اور لاہوری ان سے کس قدر محبت رکھتے ہیں۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ ہماری تاریخ کے اُس بڑے آدمی کے نام پر وفاقی دارالحکومت میں کوئی ایونیو تو دور کی بات کوئی سڑک تک نہیں۔ اپنا مطالعہ تو محدود ہے مگر جو کچھ سوانح حیات کے زمرے میں پڑھا ہے‘ سرگنگا رام کی سوانح سے زیادہ دلگداز نظر سے نہیں گزری۔
کچھ ہفتے پہلے جب یہ پڑھا کہ نواز شریف صاحب نے لاہور کے تاریخ دانوں‘ ثقافتی میدان کے شہسواروں‘ ماہرینِ تعمیرات اور دیگر احباب کو بلا کر متفقہ فیصلہ کیا کہ لاہور کی تاریخی شناخت اور ورثے کو بحال کیا جائے گا تو ہمارا دل باغ باغ ہو گیا۔ پندرہ کے قریب علاقوں اور سڑکوں کا نام بحال کرنے کا فیصلہ ہوا۔ ہماری آنکھیں‘ کان اور دل ابھی تک کرشن نگر‘ دھرم پورہ‘ سنت نگر‘ لکشمی چوک‘ جین مندر‘ رام گلی‘ کوئنز روڈ‘ لارنس روڈ‘ ایمرسن روڈ‘ ٹیمپل روڈ سے مانوس ہیں۔ نجانے کب سے ایمرسن روڈ شاہراہ عبدالحمید بن بدیس ٹھہری ہے۔ آپ کو شاید معلوم ہو‘ مجھے کچھ معلوم نہ تھا۔ ابھی گوگل کرکے دیکھا تو پتا چلا کہ یہ چودھویں صدی میں الجزائر کے کوئی مصلح تھے۔ اس متفقہ فیصلے کے بعد اگلا قدم صرف تختیاں بدلنا تھا‘ مگر وہی ہوا جو ایک طبقہ مذہب اور وطنیت کے نام پر تاریخ مسخ کرتا آیا ہے۔ یہ میرے الفاظ نہیں ایک انگریزی اخبار کی رپورٹ کا ترجمہ کر رہا ہوں ''کچھ عناصر کی مخالفت کے بعد حکومت پنجاب کی لاہور ورثہ بحالی اتھارٹی نے تاریخی ناموں کی بحالی کا فیصلہ مؤخر کردیا ہے‘‘۔ اس اتھارٹی کے سربراہ میاں نواز شریف خود ہیں۔ یہ بات دل کو لگی ہے کہ میاں صاحب آخرکار خود لاہور کے تاریخی ورثے اور شناخت کو بحال کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ سنا ہے کہ نیلا گنبد کا علاقہ اب تجاوزات سے پاک ہو گیا ہے۔ اسی طرح پرانے لاہور کے ارد گرد قدیمی باغوں کو بھی بحال ہونا چاہیے۔ اب بادامی باغ میں کوئی درخت نہیں‘ حدنگاہ تک بسیں‘ ورکشاپس اور گندگی کے ڈھیر ہیں۔ ہر شہر اور صوبے کے تاریخی ورثے کی بحالی کی ضرورت ہے کہ وہی اصل ہے‘ باقی سب نقلی اور جعلی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved