وفاقی بجٹ 2026-27ء سے پہلے حکومت کی جانب سے برآمد کنندگان پر عائد ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کی تجویز سامنے آ رہی ہے۔ بظاہر یہ فیصلہ برآمدی شعبے کے لیے مثبت قدم دکھائی دیتا ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا صرف ایک فیصد ٹیکس کا خاتمہ برآمدات کو حقیقی معنوں میں سہارا دے سکتا ہے؟ مالی سال 2024-25ء کے دوران پاکستان کی برآمدات تقریباً 33 ارب ڈالر تک پہنچیں جن میں ٹیکسٹائل سیکٹر کا حصہ 16 سے 17 ارب ڈالر کے درمیان تھا۔ حکومت برآمدی شعبے کو کچھ نہ کچھ ریلیف دینے پر غور کر رہی ہے لیکن ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس ان کے ورکنگ کیپٹل کو متاثر کرتا ہے کیونکہ یہ ٹیکس منافع ہونے یا نہ ہونے سے قطع نظر ایکسپورٹ آمدن پر وصول کیا جاتا ہے۔ گزشتہ دو مالی سالوں کے دوران برآمد کنندگان نے تقریباً 200 ارب روپے اضافی ایڈوانس ٹیکس کی مد میں ادا کیے ہیں۔ اگر حکومت یہ ٹیکس ختم کرتی ہے تو برآمدی شعبے کو تقریباً 100 ارب روپے کا ریلیف مل سکتا ہے۔ تاہم یہ ریلیف اس وقت محدود محسوس ہو سکتا ہے جب زیر التوا ٹیکس ریفنڈز کی مالیت 327 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہو۔ تاہم اصل مسئلہ صرف ٹیکس نہیں بلکہ پیداواری لاگت ہے۔ پاکستان میں صنعتی بجلی کی قیمت تقریباً 11.5 سینٹ فی یونٹ ہے جبکہ بھارت میں 6.3 سینٹ‘ ویتنام میں 8 سینٹ اور ازبکستان میں صرف 5 سینٹ کے قریب ہے۔ اسی طرح پاکستان میں صنعتی گیس کی قیمت تقریباً 13.5 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہے جبکہ بھارت اور ویتنام میں یہ 6 سے 7 ڈالر کے درمیان ہے۔ جب توانائی کی لاگت ہی مدمقابل ممالک سے دُگنی ہو گی تو صرف ایک فیصد ٹیکس ختم کرنے سے مسئلے کا مکمل حل کیسے ممکن ہے؟ برآمد کنندگان کے مطابق پاکستان میں برآمد کنندگان پر کارپوریٹ ٹیکس‘ سپر ٹیکس‘ ایڈوانس ٹیکس‘ ود ہولڈنگ ٹیکس‘ ورکرز ویلفیئر فنڈ‘ ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ اور دیگر قانونی واجبات کو ملا کر مؤثر ٹیکس بوجھ تقریباً 68 فیصد سے تجاوز کر جاتا ہے جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ ویتنام میں کارپوریٹ ٹیکس تقریباً 20 فیصد‘ بنگلہ دیش میں 22.5 سے 27.5 فیصد جبکہ بھارت میں 26 سے 34 فیصد کے درمیان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ممالک اپنی برآمدات میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں جبکہ پاکستان عالمی منڈی میں اپنی مسابقت برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ برآمد کنندگان کی جانب سے فائنل ٹیکس رجیم کی بحالی‘ سپر ٹیکس کے خاتمے‘ کم از کم ٹرن اوور ٹیکس میں کمی اور توانائی نرخوں میں نمایاں کمی جیسے مطالبات سامنے آئے ہیں۔ لیکن موجودہ مالی حالات اور آئی ایم ایف پروگرام کی پابندیوں کے باعث حکومت کے لیے ان تمام مطالبات کو تسلیم کرنا آسان دکھائی نہیں دیتا۔ پاکستان کی برآمدات کو محض ریلیف پیکیجز کی نہیں بلکہ ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے کیونکہ عالمی منڈی میں مقابلہ ٹیکسوں سے نہیں بلکہ لاگت‘ رفتار‘ معیار اور پالیسی کے تسلسل سے جیتا جاتا ہے۔ اگر حکومت نے یہ بنیادی اصلاحات نہ کیں تو ایک فیصد ٹیکس کا خاتمہ خبروں کی سرخی تو بن جائے لیکن شاید برآمدات میں وہ اصطلاحات نہ لا سکے جس کی ملکی معیشت کو ضرورت ہے۔
اسی طرح بجٹ سے پہلے حکومت ایک ایسے فیصلے پر غور کر رہی ہے جس کے اثرات نہ صرف تیل کے شعبے بلکہ پوری معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ حکومت امریکہ ایران جنگ کے دوران تیل کی قیمتوں میں اضافے سے حاصل ہونے والے غیر معمولی منافع‘ جسے ونڈ فال گین کہا جاتا ہے‘ پر ٹیکس عائد کرنے یا یہ رقم واپس صارفین تک پہنچانے کے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریوں نے حالیہ جنگی صورتحال کے دوران تقریباً 130 ارب روپے کا اضافی منافع حاصل کیا ہے جس میں سے 72 ارب روپے صرف آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے حصے میں آئے ہیں۔ ایک اہم تجویز 20 فیصد ونڈ فال گین ٹیکس کی ہے۔ اگر یہ ٹیکس نافذ ہوتا ہے تو حکومت کو تقریباً 26 ارب روپے اضافی آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔ حکومت اس رقم کو براہ راست صارفین کو ریلیف دینے یا دیگر ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ 26 ارب روپے سے حکومت تقریباً دو لاکھ طلبہ کو چار سالہ اعلیٰ تعلیم کے وظائف فراہم کر سکتی ہے یا کئی سو بنیادی طبی مراکز قائم کر سکتی ہے۔ ترقیاتی منصوبوں میں لگانے سے زیادہ بہتر فیصلہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں براہ راست کمی بھی ہو سکتا ہے۔ عوامی سطح پر یہ بہتر فیصلہ ہو سکتا ہے لیکن سرمایہ کاری کا شعبہ شاید اسے سپورٹ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ برطانیہ‘ اٹلی اور یورپی یونین کے بعض دیگر ممالک بھی توانائی کمپنیوں پر ونڈ فال ٹیکس عائد کر چکے ہیں۔ برطانیہ نے 2022ء میں توانائی کمپنیوں پر 25 فیصد اضافی ٹیکس لگایا تھا جسے بعد میں بڑھا کر 35 فیصد کر دیا گیا۔ اس سے حکومت کو اربوں پاؤنڈ حاصل ہوئے اور عوام کو توانائی بلوں میں ریلیف فراہم کیا گیا۔ موجودہ حالات میں پاکستان کے عوام کو بھی ریلیف فراہم کرنا ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔
پاکستان کی معیشت کو درپیش چیلنجز کے درمیان فری لانسنگ ایسا شعبہ ہے جو خاموشی سے نہ صرف روزگار پیدا کر رہا ہے بلکہ انتہائی کم لاگت سے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ بھی کما رہا ہے۔ مالی سال 2025-26ء کے پہلے دس ماہ میں پاکستانی فری لانسرز 95 کروڑ ڈالر سے زائد زرمبادلہ ملک میں لائے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 49 فیصد زیادہ ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ رجسٹرڈ آئی ٹی اور فری لانسرز پر صرف 0.25 فیصد ٹیکس ہے۔ نئے بجٹ میں اس شرح اور ٹیکس پالیسی کو تبدیل کرنے کے امکانات ہیں۔ پاکستان سافٹ ویئر ہائوسز ایسوسی ایشن نے بجٹ تجاویز دی ہیں کہ ایسے افراد جو حقیقت میں بیرونِ ملک کمپنیوں کے مستقل ملازم ہیں لیکن خود کو فری لانسر ظاہر کرکے 0.25 فیصد ٹیکس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ان کے لیے الگ ٹیکس نظام متعارف کرایا جائے۔ امکان ہے کہ اس حوالے سے بجٹ میں کوئی فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اطلاعات ہیں کہ وفاقی حکومت نے بجٹ 2026-27ء میں پانچ سالہ ٹیرف اصلاحاتی منصوبے کے دوسرے مرحلے کا اعلان کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت 3149 ٹیرف لائنز پر اضافی کسٹمز ڈیوٹی میں کمی اور تقریباً 1950 ٹیرف لائنز پر ریگولیٹری ڈیوٹی کی زیادہ سے زیادہ شرح 50 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کرسکتی ہے۔ اس اقدام سے صنعتی شعبے کو تقریباً 200 ارب روپے کا ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
پاکستان میں کئی صنعتیں برسوں سے بلند درآمدی ڈیوٹیوں کے سہارے چل رہی ہیں۔ آٹو موبل‘ سٹیل‘ کیمیکلز‘ پلاسٹک اور بعض ٹیکسٹائل شعبوں پر مؤثر ٹیرف بعض اوقات 100 سے 150 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مقامی صنعتوں کو تو تحفظ ملا لیکن صارفین کو مہنگی اشیا خریدنا پڑیں اور برآمدات عالمی سطح پر مسابقت حاصل نہ کر سکیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ 25 کروڑ آبادی والے پاکستان کی سالانہ برآمدات اب بھی تقریباً 35 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہیں جبکہ ویتنام 400 ارب ڈالر سے زیادہ اور بنگلہ دیش 60 ارب ڈالر سے زائد کی برآمدات کر رہا ہے۔ پاکستان میں درآمدی گاڑیوں پر 100 فیصد کسٹمز ڈیوٹی اور 50 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہونے کے باعث مجموعی ڈیوٹی 150 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ نئی تجاویز کے تحت یہ شرح کم ہو کر تقریباً 70 فیصد رہ سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی‘ صارفین کے لیے زیادہ آپشنز اور مقامی کمپنیوں کے لیے معیار بہتر بنانے اور برآمدات بڑھانے کا دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ چین‘ ویتنام‘ ملائیشیا اور بنگلہ دیش نے عالمی منڈی میں کامیابی اس وقت حاصل کی جب انہوں نے خام مال سستا کیا۔ پاکستانی حکومت کو بھی اسی راستے کا انتخاب کرنا ہو گا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved