تحریر : کنور دلشاد تاریخ اشاعت     01-06-2026

28ویں ترمیم کی بازگشت

ملک کے سیاسی منظرنامے پر اس وقت 28ویں ترمیم کی بازگشت حاوی ہے۔ سیاسی حلقوں میں آج کل یہی موضوعِ گفتگو ہے۔ شنید ہے کہ آصف علی زرداری‘ نواز شریف اور محمود خان اچکزئی‘ سبھی کی سوچ یہی ہے کہ 18ویں ترمیم کو برقرار رکھا جائے کیونکہ موجودہ آئینی ڈھانچے میں صوبائی خودمختاری کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔ ذاتی اطلاعات کی حد تک میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان کی بڑی تینوں سیاسی جماعتوں میں یک نکاتی ایجنڈے پر مفاہمت ہو گئی ہے کہ 28ویں ترمیم کو فی الحال مؤخر کر دیا جائے۔ اس مفاہمت کو آگے بڑھانے کے لیے دو بڑی سیاسی جماعتوں نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اور صوبے کے گورنر کو بھی ایک پیج پر کھڑا کر دیا ہے۔ دوسری جانب بعض حلقوں میں یہ سوچ غالب دکھائی دیتی ہے کہ مزید تاخیر سے 28ویں ترمیم کی روح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ 28ویں ترمیم کے خدوخال کو متنازع بنانے کے لیے سیاسی اشرافیہ نے باقاعدہ مہم شروع کر رکھی ہے۔
اگر 28ویں آئینی ترمیم کے اہم نکات کی بات کی جائے تو مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کے ذریعے صدارتی یا نیم صدارتی نظام کا نفاذ عمل میں لایا جاسکتا ہے۔ پورے ملک کو ایک مربوط قوم میں تبدیل کیا جائے گا۔ صحت‘ تعلیم اور آبادی کو مشترکہ وفاقی وصوبائی امور قرار دینا‘ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کی ازسر نو تشکیل اور بلدیاتی نظام کو وفاق کے زیر انتظام لا کر ملک میں ایک مربوط بلدیاتی سسٹم نافذ کرنا اس ترمیم کے اہم نکات ہیں۔ اس آئینی ترمیم کے ذریعے کراچی اور گوادر کو وفاقی علاقے قرار دیا جاسکتا ہے اور آئین کے آرٹیکل 239 میں ترمیم کر کے نئے صوبے بنانے کے لیے صوبائی اسمبلیوں کے اختیارات وفاق کو سونپ دیے جائیں گے اور وفاقی آئینی عدالت کو کسی بھی صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کا اختیار دینے اور تمام صوبائی سول سروسز کو ضم کر کے ایک متحدہ سول سروس قائم کر کے 1973ء کی طرز پر اُن انتظامی اصلاحات کو بروئے کار لایا جائے گا جو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے نافذ کی تھیں۔ پرانے بیورو کریٹس کو ریٹائر کر کے ماہر افسران کی خدمات حاصل کرنا اور ووٹ ڈالنے کی کم از کم عمر 25 سال کرنا بھی اس ترمیم کے اہم نکات ہوں گے۔
بعض ایسے افراد جنہوں نے اعلیٰ اشرافیہ کی معاونت سے قوم کے ذہنوں کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے‘ وہ 28ویں ترمیم کے حوالے سے ابہام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے لیے بلاجواز اور من گھڑت قسم کی باتیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ مثلاً یہ کہ صدر آصف علی زرداری 28ویں ترمیم کی شدید مزاحمت کریں گے۔ ایسی باتیں تواتر سے دہرائی جا رہی ہیں اور انہیں مرچ مسالا لگا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اگر صدر زرداری کے سیاسی پس منظر کو دیکھا جائے تو انہوں نے کبھی بھی مزاحمت کی پالیسی نہیں اپنائی۔ وہ ہمیشہ سے مفاہمت پسند سیاسی شخصیت رہے ہیں‘ لہٰذا ان کی طرف سے کچھ رعایت حاصل کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے مگر مزاحمت کے کوئی آثار نہیں۔ البتہ یہ حقیقت ہے کہ کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے سے سندھ میں پیپلز پارٹی کا سیاسی اثر ورسوخ متاثر ہو سکتا ہے اور اس سے میرپور خاص‘ حیدرآباد اور اندرون سندھ کے کئی اضلاع اپنی سیاسی قوت کو بڑھائیں گے۔ تاہم دیکھا جائے تو کراچی اور گوادر کو مالدیپ کی طرز پر خوبصورت سیاحتی مقام کی حیثیت حاصل ہو سکتی ہے۔ گوادر کے اردگرد نہایت خوبصورت سمندر موجود ہے جو انڈونیشیا کے جزیرے بالی کی مانند بڑا سیاحتی‘ صنعتی اور ثقافتی مقام بن جائے گا۔ گوادر بین الاقوامی شہر بننے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔پرنس رحیم آغا خان بھی گوادر میں نئے ترقیاتی منصوبوں میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
عالمی منظر نامے پر نظر دوڑائی جائے تو پاکستان کی ثالثی کوششوں سے امریکہ اور ایران کافی قریب آگئے ہیں اور ان کے مابین نئی تجاویز پر اتفاق ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔امکان ہے کہ دونوں ملک عنقریب امن معاہدے کا اعلان کریں گے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکہ اور ایران کے اختلافات دور کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مصالحت کار کے طور پر حتمی ڈرافٹ تیار کرنے میں بھی مدد کی۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمزکے مطابق معاہدے کا مسودہ حتمی منظوری کے لیے دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کو بھجوا دیا گیا ہے۔ ایران سے بات چیت کے دوران ثالثوں کے امریکہ سے بھی رابطے ہوئے۔ ایران جوہری معاملات پر رعایت دینے کے لیے تیار ہو گیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس ڈیل سے تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ایران اور امریکہ میں مفاہمت کے بعد فیلڈ مارشل ملک کے اندرونی معاملات بالخصوص گورننس اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں کرپشن اور اقربا پروری جیسے معاملات پر توجہ دیں۔ 28ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں سے چند اہم شعبہ جات واپس وفاق کو دینے کا مقصد گورننس کو بہتر بنانا اور کرپشن کی روک تھام ہی ہے۔ اسی طرح نئے این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاق کو مالی طور پر مضبوط بنایا جائے گا۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں نوجوانوں کی آواز‘ مسائل اور خیالات کو مؤثر انداز میں سامنے لانے کے لیے ڈیجیٹل بیداری یا ایک مضبوط ڈیجیٹل موومنٹ وقت کی اہم ضرورت بنتی جا رہی ہے۔ دنیا بھر میں سوشل میڈیا اب محض تفریح کے لیے نہیں استعمال ہو رہا بلکہ یہ عوامی رائے‘ احتساب‘ شعور اور تبدیلی کا طاقتور ذریعہ بن چکا ہے۔ نوجوان وڈیوز اور ڈیجیٹل مہمات کے ذریعے اپنے جذبات اور مسائل پوری دنیا تک پہنچا سکتے ہیں۔ پاکستان میں مہنگائی‘ بیروزگاری‘ تعلیم‘ انصاف‘ ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کے لیے مواقع جیسے موضوعات پر مثبت‘ ذمہ دار اور شعور پر مبنی ڈیجیٹل آواز معاشرے میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔ دنیا بھر کے میڈیا نے بھارت کی ''کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کو سیاسی مذاق کے طور نہیں بلکہ نوجوانوں کے غصے‘ بیروزگاری اور سیاسی مایوسی کی علامت کے طور پر دیکھا ہے۔ رائٹرز‘ دی گارڈین‘ اے بی سی نیوز اور فنانشل ٹائمز سمیت تقریباً سبھی عالمی اداروں نے اس پر لکھا ہے کہ یہ مہم جنوبی ایشیا کے جین زی نوجوانوں کی آواز بنتی جا رہی ہے‘ جو مہنگائی‘ ملازمتوں کی کمی اور سیاسی ماحول سے ناراض ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا نے اس بات کو خاص طور پر نمایاں کیا ہے کہ ایک طنزیہ تحریک چند دنوں میں کروڑوں فالوورز تک پہنچ گئی اور اس نے روایتی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا۔ کئی رپورٹس میں اسے ڈیجیٹل بغاوت اور نوجوانوں کا خاموش احتجاج بھی قرار دیا گیا ہے۔ بعض حلقوں نے اسے حکومت مخالف آن لائن مزاحمتی تحریک کہا ہے۔ جین زی دماغ صرف رونا دھونا یا سوال کرنا نہیں جانتا بلکہ وہ مسائل کا حل نکالنا بھی جانتا ہے۔ یہ وہ نسل ہے جو اگر خون کے آنسو روتی ہے تو نظام کو آئینہ بھی دکھاتی ہے۔ اگر یہ اپنی اصل طاقت پر آ جائے تو فرسودہ سوچ اور پرانے نظام ہلا کر رکھ سکتی ہے۔ جین زی صرف سوشل میڈیا پر ہی مصروف نہیں رہتی بلکہ وقت آنے پر پورا منظر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ لہٰذا تیزی سے بدلتے ڈیجیٹل دور میں نوجوانوں کی آواز‘ مسائل اور خیالات کو مؤثر انداز میں سامنے لانے کے لیے پاکستان میں ڈیجیٹل بیداری اور مضبوط ڈیجیٹل تحریک وقت کی اہم ضرورت ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved