تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر تاریخ اشاعت     01-06-2026

تقویٰ کی اہمیت اور ثمرات

قرآن مجید کے مطالعہ سے علم ہوتا ہے کہ انسان کی تخلیق کا بنیادی مقصد اللہ تبارک وتعالیٰ کی بندگی کو بجا لانا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الذاریات کی آیت: 56 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں‘‘۔ انسان کو عبادات میں دوام اور تسلسل اختیار کرنا چاہیے اور بلاناغہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بندگی کو بجا لانا چاہیے۔ اس حوالے سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے بعض ایسی عبادات مقرر کی ہیں جو انسان بلاناغہ ادا کرتا ہے‘ جن میں نماز پنجگانہ اور نوافل وغیرہ شامل ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے بعض ایسے ایام بھی مقرر کیے ہیں جن میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی عبادت اور بندگی کو پہلے سے بڑھ کر بجا لانے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ رمضان المبارک کے مہینے میں روزے رکھ کر‘ ایام ذی الحجہ میں کثرت کے ساتھ ذکر اذکار کر کے اور اسی طرح 10 ذو الحجہ کو قربانی کرکے اللہ کی قربت کو تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی عبادات کرنے کے جو مقاصد قرآن مجید نے بیان کیے ہیں ان میں سے ایک اہم مقصد تقویٰ کا حصول ہے۔
جب روزوں کی فرضیت کا ذکر ہوا تو اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 183 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو‘‘۔ جہاں حج کی فرضیت اور ادائیگی کا ذکر آیا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کیلئے زادِ راہ کو تیار کرنے کا حکم دیا اور پھر بہترین زادِراہ تقویٰ کو قرار دیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس حقیقت کو سورۃ البقرہ کی آیت:  197میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: ''حج کے مہینے مقرر ہیں اس لیے جو شخص ان میں حج کا عزم کر لے وہ اپنی بیوی سے میل ملاپ کرنے‘ گناہ کرنے اور لڑائی جھگڑے کرنے سے بچتا رہے‘ تم جو نیکی کرو گے اس سے اللہ باخبر ہے اور اپنے ساتھ سفر کا خرچ لے لیا کرو‘ سب سے بہتر توشہ اللہ کا ڈر ہے اور اے عقلمندو! مجھ سے ڈرتے رہا کرو‘‘۔ اس آیت مبارکہ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کو حج کے دوران اہلِ ایمان سے جو باتیں مطلوب ہیں‘ ان میں سے ایک اہم تقویٰ کا حصول ہے۔ اسی طرح جب قربانی جیسے عظیم عمل کو انجام دینے کا وقت آیا تو اس وقت بھی اللہ تبارک وتعالیٰ نے تقویٰ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الحج کی آیت: 37 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اللہ کو قربانیوں کے گوشت نہیں پہنچتے نہ اس کے خون بلکہ اسے تو تمہارے دل کی پرہیزگاری پہنچتی ہے۔ اسی طرح اللہ نے ان جانوروں کو تمہارے مطیع کر دیا ہے کہ تم اس کی رہنمائی کے شکریے میں اس کی بڑائیاں بیان کرو‘ اور نیک لوگوں کو خوشخبری سنا دیجیے‘‘۔
قرآن مجید میں دیگر بہت سے معاملات میں بھی تقویٰ کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ چنانچہ ہمیں اللہ تبارک وتعالیٰ کا تقویٰ حاصل کرنے کی بھرپور جدوجہد کرنی چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں کامیابی کے مختلف اسباب کا ذکر کیا جن میں سے ایک بڑا سبب تقویٰ کو قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 189 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''لوگ آپ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجیے کہ یہ لوگوں (کی عبادت) کے وقتوں اور حج کے موسم کے لیے ہے (احرام کی حالت میں) اور گھروں کے پیچھے سے تمہارا آنا کچھ نیکی نہیں‘ بلکہ نیکی والا وہ ہے جو متقی ہو۔ اور گھروں میں تو دروازوں میں سے آیا کرواور اللہ سے ڈرتے رہو‘ تاکہ تم کامیاب ہو جائو‘‘۔ اس آیت مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان جب متقی بن جاتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اسے کامیابیوں سے ہمکنار کر دیتے ہیں۔ جب ہم قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں بہت سی ایسی کامیابیوں کا ذکر ملتا ہے جو انسان کو تقویٰ کی وجہ سے حاصل ہوتی ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان کامیابیوں کو قرآن مجید کے مختلف مقامات پر بیان فرماتے ہیں‘ جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:
1۔ تنگیوں کا دور ہونا اور فراواں رزق کا مل جانا: جب انسان تقویٰ اختیار کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی تنگیوں کو دور فرما دیتے اور اس کو فراواں رزق عطا فرماتے ہیں۔ سورۃ الطلاق کی آیات: 2 تا 3 میں ارشاد ہوا ''اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے۔اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو‘‘۔
2۔ معاملات میں آسانیاں: جب انسان متقی بن جاتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے جملہ معاملات کو اس کے لیے آسان بنا دیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الطلاق کی آیت: 4 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے (ہر) کام میں آسانی کر دے گا‘‘۔
3۔ گناہوں کی معافی اور اجر کا بڑھ جانا: جب انسان تقویٰ کے حصول کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف کر دیتے اور اس کے اجر کو بڑھا دیتے ہیں۔ سورۃ الطلاق کی آیت: 5 میں ارشاد ہوا: ''اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے گناہ مٹا دے گا اور اسے بڑا بھاری اجر عطا کرے گا‘‘۔
4۔ اللہ کی نظروں میں معزز ہو جانا: جب انسان متقی بن جاتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے حسب‘ نسب‘ مال اور وسائل سے قطع نظر اس کو اپنی نظروں میں معزز اور مکرم بنا لیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الحجرات کی آیت: 13 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور اس لیے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو (تمہارے) کنبے اور قبیلے بنا دیے ہیں‘ اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔ یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے‘‘۔
5۔ فرق کی کسوٹی: جب انسان متقی بن جاتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کو حق وباطل میں فرق کرنے کی کسوٹی فراہم کر دیتے ہیں اور اس پر اپنا فضل عظیم فرما دیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الانفال کی آیت: 29 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تمہیں ایک فیصلہ کی چیز دے گا اور تم سے تمہارے گناہ دور کر دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے‘‘۔
6۔ بستیوں کیلئے برکات کا مل جانا: اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں ان بستیوں کا ذکر کیا جو اپنی سرکشی اور نافرمانی کی وجہ سے اللہ کے غضب کا نشانہ بنیں۔ ان بستیوں کی ہلاکت کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر ان بستیوں کے رہنے والے حقیقت میں ایمان اور تقویٰ کے راستے کو اختیار کر لیتے تو اللہ ان کے لیے زمین و آسمان سے برکات کو کھول دیتے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الاعراف کی آیت: 96 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا‘‘۔
مذکورہ بالا آیات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں تقویٰ کے حصول کے لیے ہر وقت کوشاں رہنا چاہیے۔ اگر وہ حقیقت میں متقی بن جائے گا تو اللہ تبارک وتعالیٰ اسے دنیا اور آخرت کی کامیابیاں عطا فرمائیں گے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو تقویٰ والی زندگی اختیار کرنے کی توفیق دے‘ آمین!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved