تحریر : شاہد کاردار تاریخ اشاعت     02-06-2026

آئی ایم ایف سے نکلنے کا حقیقی راستہ

پاکستان بار بار پیدا ہونے والے معاشی بحرانوں کی وجہ سے اب تک 24 بار آئی ایم ایف سے قرض لے چکا ہے‘ جسے تکنیکی زبان میں فنڈ پروگرام میں شامل ہونا کہا جاتا ہے۔ کئی مرتبہ یہ اعلان کیا گیا کہ یہ ہمارا آخری پروگرام ہوگا اور اس کے بعد ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج تک ایسے اقدامات نہیں کیے گئے جن سے ان وجوہات کا خاتمہ ہو سکے جو ملک کو بار بار مالی بحران کی طرف دھکیلتی ہیں اور ہمیں سخت شرائط پر قرض لینے پر مجبور کر دیتی ہیں۔
ہمارے مسلسل مالی بحران کی ایک بڑی وجہ ٹیکس کا ناقص نظام ہے۔ اس میں نہ صرف نظام کا کمزور ڈھانچہ بلکہ ٹیکس کی شرحیں بھی شامل ہیں۔ پاکستان کا ٹیکس نظام مختلف اداروں اور ایجنسیوں میں تقسیم ہے۔ ہر صوبے میں ٹیکس کی شرحیں مختلف ہیں جبکہ وفاق اور صوبے کئی ایک جیسے ٹیکس الگ الگ شرحوں پر وصول کرتے ہیں۔ عوام کو اس نظام پر اعتماد نہیں رہا۔ یہ ایک ایسا نظام بن چکا ہے جس میں بے شمار رعایتیں‘ من مانیاں اور سخت گیر نفاذ شامل ہیں۔ حکام کی توجہ زیادہ تر انہی لوگوں پر رہتی ہے جو پہلے ہی ٹیکس نیٹ میں شامل ہیں جبکہ ٹیکس چوری کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی جاتی۔ ٹیکس کی شرحیں بڑھانے اور سختی کرنے سے لوگ ٹیکس نظام کا حصہ نہیں بنیں گے۔ سزا اور دباؤ پر مبنی‘ـ غیر یقینی اور غیر متوقع ٹیکس نظام رسمی معیشت کو سکڑنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس کے برعکس غیر رسمی اور غیر دستاویزی معیشت کو فروغ ملتا ہے‘ نتیجتاً ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کمزور ہوجاتا ہے اور سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ معاشی ترقی کیلئے ایسا ٹیکس نظام ضروری ہے جو سادہ‘ قابلِ فہم اور پیشگی اندازہ لگانے کے قابل ہو۔ اس میں ٹیکس کی شرحیں کم ہوں مگراس کا دائرہ وسیع تاکہ آمدنی کے تمام ذرائع کے ساتھ یکساں سلوک کیا جا سکے۔ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کیلئے ٹیکس چھوٹ کی روایت ختم کرنا ہوگی۔ ٹیکس وصولی اور نفاذ کے پورے نظام کو ڈیجیٹل بنایا جائے اور ان شعبوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جائے جو اَب تک اس سے باہر ہیں۔
ایک اور بڑا مسئلہ بے قابو سرکاری اخراجات ہیں۔ ہر سال حکومت کے اخراجات اس کی آمدن سے زیادہ ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ ریاست بہت زیادہ ترقیاتی سرمایہ کاری کرتی ہے بلکہ اس لیے کہ اخراجات کو آمدن کے مطابق محدود نہیں کیا جاتا۔ وفاق اور صوبوں میں بیوروکریسی کی تنخواہوں میں مسلسل اضافے سے اخراجات بہت بڑھ چکے ہیں۔ یہ اضافہ افراطِ زر کی شرح سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری گاڑیوں کے بیڑے‘ پُرتعیش رہائشگاہیں‘ شاندار دفاتر‘ بیرونِ ملک دورے اور صوابدیدی بجٹ بھی اخراجات میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد بھی وفاق کے پاس 40 سے زائد ڈویژنز اور 400 منسلک ادارے ہیں جن میں تقریباً 12 لاکھ ملازمین کام کرتے ہیں۔ بیوروکریسی کا موجودہ حجم تقریباً دو تہائی تک کم کرنا ہوگا اور نئی بھرتیوں پر پابندی عائد کرنا ہوگی۔
ایک اور سنگین مسئلہ سرکاری ملکیتی کاروباری ادارے ہیں۔ ان کے مجموعی نقصانات چھ ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔ حکومت بار بار انہیں مالی سہارا دیتی رہی ہے لیکن اس کے باوجود ان کے نقصانات میں ہر سال تقریباً ایک ہزار ارب روپے کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر اداروں کی نجکاری بھی ممکن نہیں کیونکہ یا تو ان کا بنیادی مقصد ختم ہو چکا ہے یا وہ کاروباری لحاظ سے قابلِ عمل نہیں رہے۔ ایسے اداروں کو بند کرنا ہوگا۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام (PSDP) بھی مالی مسائل میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اس کے تحت اکثر ترقیاتی منصوبے سیاسی تشہیر اور نمائش کیلئے جلد بازی میں شروع کر دیے جاتے ہیں۔ ان کی لاگت‘ افادیت اور مستقبل کے اخراجات کا مناسب جائزہ نہیں لیا جاتا۔ نئے منصوبوں پر سخت پابندی ہونی چاہیے اور صرف وہی منصوبے مکمل کیے جائیں جن سے زیادہ معاشی فائدہ متوقع ہو۔ کم ترجیحی منصوبوں پر ہونے والے اخراجات کو مزید بڑھانے کے بجائے ان وسائل کا رخ تعلیم‘ صحت‘ عدالتی نظام‘ ریگولیٹری اصلاحات اور تجارت میں آسانی پیدا کرنے کی طرف موڑنا چاہیے۔
تجارتی پالیسی بھی معاشی بحران کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ پاکستان کا عالمی ویلیو چین سے تعلق بہت کمزور ہے۔ ملک کے بیشتر صنعتی ادارے غیر مؤثر انداز میں کام کر رہے ہیں۔ انہیں ٹیرف اور غیر ٹیرف رکاوٹوں کے ذریعے تحفظ فراہم کیا جاتا ہے‘ جن میں ایس آر اوز‘ رعایتی خام مال‘ یقینی منافع اور صوابدیدی پابندیاں شامل ہیں۔ اس کا بوجھ برآمد کنندگان پر پڑتا ہے کیونکہ انہیں مہنگا خام مال‘ غیر موزوں ایکسچینج ریٹ‘ ری فنڈز میں تاخیر اور غیر یقینی پالیسیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کیلئے سادہ ٹیرف نظام‘ صوابدیدی اختیارات کا خاتمہ‘ مسابقتی ایکسچینج ریٹ اور خودکار ریفنڈ سسٹم ضروری ہے۔ لابنگ کے بجائے مقابلے اور مسابقت کے ماحول کو فروغ دینا ہوگا۔ آئی ایم ایف پر انحصار ختم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ آزاد‘ کھلی اور مسابقتی منڈیوں کو فروغ دیا جائے۔ تحفظ اور کنٹرول پر مبنی نظام نے کوئی مثبت نتائج نہیں دیے بلکہ اس نے نااہلی کو بڑھایا ہے۔ سب سے مؤثر ہتھیار مسابقت ہے نہ کہ مصنوعی تحفظ۔ جب حکومت انتظامی بنیادوں پر بجلی‘ گیس‘ پٹرول‘ زرِ مبادلہ کی شرح‘ شرح سود یا اجناس کی قیمتیں مقرر کرتی ہے تو مارکیٹ کی معلومات کی جگہ صوابدید اور من مانی لے لیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں قلت‘ وسائل کی غلط تقسیم اور ناجائز منافع خوری جنم لیتی ہے۔ قیمتیں دراصل معیشت کو سمت دینے والے اشارے ہوتے ہیں۔ انہیں مصنوعی طور پر دبانے سے مسئلہ وقتی طور پر چھپ جاتا ہے لیکن اس کا نتیجہ بعد میں مہنگائی‘ قرضوں یا آئی ایم ایف پروگراموں کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔
درج بالا اصلاحات کامیاب نہیں ہوں گی اگر کاروبار میں نئے لوگوں کے داخلے کی راہ میں رکاوٹیں برقرار رہیں۔ حکومتی پالیسیاں اکثر معاشی ترقی کی سب سے بڑی دشمن ثابت ہوتی ہیں۔ نئے کاروبار کیلئے لائسنس‘ این او سیز‘ سرکاری معائنے اور مختلف اجازت نامے ایک سو سے زائد ریگولیٹری اداروں کے کنٹرول میں ہیں۔ اس ماحول میں سرکاری اداروں تک رسائی پیداوار اور کاروبار سے زیادہ اہم بن جاتی ہے۔ پاکستان میں باصلاحیت کاروباری افراد کی کمی نہیں۔ اصل مسئلہ ایسے اداروں اور نظام کا ہے جو انہیں ترقی کرنے‘ پیداوار بڑھانے اور برآمدات میں اضافہ کرنے سے روکتے ہیں۔ معاشی پالیسی کا بنیادی مقصد سرمایہ کاری میں تیزی لانا اور کاروباری اداروں کو اس قابل بنانا ہونا چاہیے کہ وہ ترقی کریں‘ سٹاک مارکیٹ میں لسٹڈ ہوں اور عالمی منڈیوں سے جڑ سکیں۔ سٹاک مارکیٹ میں شامل کمپنیاں شفافیت‘ بہتر نظم و نسق‘ طویل مدتی سرمایہ کاری اور زیادہ پیداوار کو فروغ دیتی ہیں۔ یہ خصوصیات غیر رسمی یا مصنوعی تحفظ پر چلنے والے اداروں میں پیدا نہیں ہوتیں۔ معاشی استحکام کا پائیدار راستہ وسیع پیمانے پر پیداوار‘ رسمی معیشت کے فروغ اور معاہدوں کے قابلِ اعتماد نفاذ سے گزرتا ہے۔ اسی لیے عدالتی اصلاحات بھی معاشی اصلاحات کا لازمی حصہ ہیں۔ ایسے معاہدے جن پر عملدرآمد میں دہائیاں لگ جائیں سرمایہ کاروں کو دور بھگا دیتے ہیں۔ سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے ضروری ہے کہ تجارتی تنازعات کے حل کیلئے ایک قابلِ اعتماد اور مقررہ مدت میں فیصلہ دینے والا عدالتی نظام موجود ہو۔
مختصراً یہ کہ آئی ایم ایف پاکستان کے مسائل کی وجہ نہیں بلکہ وہ ایک آڈیٹر کی طرح ہے جو نقصان ہونے کے بعد آتا ہے۔ آئی ایم ایف سے نجات حاصل کرنا کوئی جذباتی نعرہ یا قوم پرستی کا مظاہرہ نہیں بلکہ صلاحیت اور اہلیت کا امتحان ہے۔ جب تک پاکستان خواہشات کو پالیسی‘ منصوبوں کو ترغیبات اور تقریروں کو اصلاحات سمجھنے کی غلطی کرتا رہے گا‘ تب تک وہ آئی ایم ایف سے نجات کے اعلانات بھی کرتا رہے گا اور اگلے پروگرام پر دستخط بھی کرتا رہے گا۔ (اس آرٹیکل میں ڈاکٹر ندیم الحق کی معاونت شامل رہی)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved