پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹیاں بہت اہم بھی ہیں اور دلچسپ بھی‘ بلکہ یوں کہیے کہ میرے جیسے صحافیوں کیلئے یہ خبروں سے بھرپور فورم ہیں۔ اپنی صحافتی زندگی میں مَیں نے پارلیمنٹ اور اسکی درجنوں کمیٹیوں کو ہمیشہ بہت اہم سمجھا ہے۔ درحقیقت انہی کی بدولت مجھے پاکستان‘ پاکستانی گورننس‘ سیاستدانوں اور بیوروکریسی کو سمجھنے کا موقع ملا اور پھر ایسی سمجھ آئی کہ سب سے دل ہی بھر گیا۔وہاں سے ایسی ایسی خبریں اور سکینڈل ڈھونڈ کر نکالے کہ آہستہ آہستہ سب دوستیاں اور تعلقات ختم ہوتے چلے گئے۔ اب تو یہ حالت ہے کہ آدھا اسلام آباد مجھ سے نہیں ملنا چاہتا اور آدھے سے میں نہیں ملنا چاہتا۔ وجہ وہی رپورٹنگ ہے جس کیلئے پارلیمنٹ اور اسکی کمیٹیوں نے 2002ء کے بعد میری بہت مدد کی۔ اگرچہ ہم صحافی جتنا سنجیدہ کمیٹی اجلاسوں کو لیتے ہیں اتنا سنجیدہ تو شاید کبھی حکمرانوں نے بھی نہیں لیا۔ مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی کہ کوئی سیاستدان یا رکنِ اسمبلی پارلیمنٹ میں باقاعدگی سے بیٹھے بغیر‘ وقفۂ سوالات کے دوران کارروائی میں حصہ لیے بغیر یا اس سے بھی بڑھ کر اہم کمیٹیوں کا رکن بنے بغیر کیسے ملک کا وزیر یا وزیراعظم بن کر مؤثر کارکردگی دکھا سکتا ہے؟
میں کئی مرتبہ لکھ چکا ہوں کہ وزیراعظم یا وزیر بننے کے خواہشمند پارلیمنٹرینز کو پارلیمنٹ میں وقفہ سوالات اور چند اہم کمیٹیوں کی رکنیت ضرور حاصل کرنی چاہیے۔ اگر وہ وزیراعظم بننے کے خواہشمند ہیں تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ بیوروکریسی اور گورننس کس بلا کا نام ہے‘ رُولز اور ریگولیشنز کیا ہوتے ہیں‘ فیصلے کیسے کیے جاتے ہیں اور اس ملک میں فراڈ اور سکینڈلز کیسے جنم لیتے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر ان اجلاسوں میں آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ کون سا بیوروکریٹ قابل اور مضبوط ہے اور کون کلرک سے ترقی کرتے کرتے کسی نہ کسی طرح گریڈ 22تک پہنچ گیا ہے مگر عملی طور پر نااہل ہے۔ وہ چند کمیٹیاں جن کا مستقبل کے وزیراعظم کو ضرور رکن ہونا چاہیے ان میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ‘ خارجہ امور‘ فنانس‘ منصوبہ بندی اور داخلہ کی کمیٹیاں شامل ہیں۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں تقریباً 40 وفاقی سیکرٹری پیش ہوتے ہیں اور وہاں افسران کی اصل صلاحیت کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ کون کتنے پانی میں ہے۔ میں پرویز مشرف کے دور سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کور کر رہا ہوں۔ پچیس برس ہونے کو آئے ہیں۔ وہاں میں نے افسران کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ 2006ء تک افسران کی ایک بہترین کلاس نظر آتی تھی؛ پڑھے لکھے‘ عمدہ انگریزی بولنے والے‘ کتابوں کے شوقین‘ اپنی وزارت کے معاملات پر مکمل گرفت رکھنے والے اور سب سے بڑھ کر پچاس سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ‘ آڈٹ افسران‘ فنانس کے نمائندوں اور میڈیا کی موجودگی میں سخت ترین سوالات کا سامنا کرنے اور ان کا جواب دینے کی صلاحیت رکھنے والے۔ پھر آہستہ آہستہ وہ نسل ریٹائر ہونا شروع ہوئی تو بیوروکریسی میں وہ معیار نہ رہا۔ اب اکثر سیکرٹری بغیر تیاری کے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں آتے اور منت سماجت شروع کر دیتے ہیں کہ مہربانی کرکے آڈٹ پیرا سیٹل کر دیں‘ غلطی ہوگئی‘ معاف کر دیں۔ وہ آڈٹ پیروں کو میرٹ پر نہیں بلکہ سفارش اور منت سماجت کے ذریعے نمٹانا چاہتے۔ اراکین بھی آہستہ آہستہ مہربان ہونا شروع ہو گئے کہ ہمیں بھی سیکرٹری صاحبان سے کام پڑتے ہیں۔ یوں احتساب پس منظر میں چلا گیا اور ذاتی مفادات و ضروریات نے ترجیح حاصل کر لی۔تاہم اس دوران بھی کچھ افسران ایسے تھے جو اپنی سروس کا جھنڈا بلند کیے ہوئے تھے۔ ایک وفاقی سیکرٹری احمد نواز سکھیرا اور دوسرے ظفر محمود تھے۔
ایک دن دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ اجلاس جاری تھا اور کچھ آڈٹ پیروں پر بحث ہو رہی تھی جن کے بارے میں سیکرٹری ظفر محمود وضاحتیں پیش کر رہے تھے۔ ان میں ایک ایسا فیصلہ بھی شامل تھا جس کی وجہ سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ اس وقت آڈیٹر جنرل آف پاکستان ایک سابق سیکرٹری فنانس تھے۔ وہ ظفر محمود سے سخت سوالات کر رہے تھے اور کمیٹی کے اراکین سے کہہ رہے تھے کہ اس آڈٹ پیرا کے حوالے سے انکوائری ہونی چاہیے اور یہ طے ہونا چاہیے کہ یہ فیصلہ کس افسر نے کیا۔ ظفر محمود جو اَب تک مختلف انداز میں جوابات دے رہے تھے آخرکار مسکرائے اور آڈیٹر جنرل سے بولے: ''سر! آپ میرے سینئر ہیں‘ اس لیے میں سروس کی روایات کے تحت اپنا دفاع کر رہا تھا لیکن شاید آپ نے غور نہیں کیا کہ یہ آڈٹ پیرا آپ کے اپنے دور کا ہے اور یہ فیصلہ بھی آپ ہی نے کیا تھا‘ جب آپ اس کرسی پر موجود تھے۔ یہ سُن کر پہلے تو اجلاس کے شرکا کو جیسے سانپ سونگھ گیا‘ پھر ایک زور دار قہقہہ بلند ہوا اور آڈیٹر جنرل شرمندہ ہو کر رہ گئے۔ اسی طرح ایک اور دبنگ افسر جنہیں میں نے قریب سے دیکھا وہ احمد نواز سکھیرا تھے۔ شاید اُس وقت وہ نجکاری کمیشن میں سیکرٹری تھے۔ سینیٹ کی کمیٹی کا اجلاس تھا۔ ایک سینیٹر نے اونچی آواز میں ان پر چڑھائی کرنے کی کوشش کی۔ سکھیرا صاحب کچھ دیر مسکرا کر یہ سنتے رہے لیکن جب انہیں محسوس ہوا کہ سینیٹر صاحب کچھ زیادہ ہی آگے بڑھ رہے ہیں تو اُس راجپوت افسر نے بڑے سکون سے جواب دیا: ''سر! ہم عزت کیلئے نوکری کرتے ہیں‘ ہم آپ کی عزت کرتے ہیں کیونکہ آپ اس قوم کے نمائندے ہیں۔ ہم آپ کو جوابدہ ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ یہاں سب کے سامنے ہم سے اس لہجے میں بات کریں۔ اونچی آواز میں بات کرنا کونسا مشکل کام ہے۔ ہم سب کر سکتے ہیں۔ ہم آپ کی عزت کرتے ہیں اور جواباً آپ سے بھی عزت کی توقع رکھتے ہیں۔ آپ سوال کریں ہم جواب دیں گے لیکن ہمیں ذلیل کرنے کا حق آپ کو نہیں ہے‘‘۔ اس جواب کے بعد اجلاس میں سناٹا چھا گیا۔میرے رپورٹنگ کیریئر میں وہ پہلے افسر تھے جنہوں نے اپنی عزتِ نفس پر سمجھوتا نہیں کیا‘ ورنہ کسی کو اپنے افسر کو اس انداز میں جواب دیتے کم ہی دیکھا ہے۔ اگر آڈیٹر جنرلز کی بات کی جائے تو مشرف دور کے آڈیٹر جنرل منظور صاحب اور بعد ازاں اختر بلند رانا کو میں نے اصولی مؤقف اپناتے دیکھا۔ منظور صاحب پی اے سی کے اراکین کو سفارش یا غلط بنیادوں پر آڈٹ پیرا سیٹل نہیں کرنے دیتے تھے۔ وہ خبردار کرتے تھے کہ اگر آپ نے ان پیروں کے ساتھ انصاف نہ کیا تو میرا آڈیٹر دوبارہ اتنی محنت نہیں کرے گا اور کوئی سکینڈل آپ تک نہیں پہنچ پائے گا۔ اسی طرح اختر بلند رانا نے چیئرمین پی اے سی خورشید شاہ کو ان کے منہ پر کہہ دیا تھا: ''میں نے پچھلی پیپلز پارٹی حکومت اور آپ کی وزارت کے خلاف سو سے زائد رپورٹس کمیٹی میں پیش کرنی ہیں‘ اور آپ ہی آگے کرسی پر بیٹھ کر ان رپورٹس پر جج‘ جیوری اور جلاد کا کردار ادا کریں گے۔ ایسا نہیں ہوگا‘‘۔ وہ پھر خورشید شاہ کی کمیٹی میں نہیں آئے؛ اگرچہ بعد میں مسلم لیگ (ن)‘ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے مل کر سپریم جوڈیشل کونسل کی مدد سے انہیں عہدے سے ہٹوا دیا لیکن داد دینی چاہیے اس افسر کو کہ اس نے آڈیٹر جنرل کا عہدہ کھو دیا مگر اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا۔
آج پی اے سی میں جائیں تو پرانے دن یاد آتے ہیں۔ اگرچہ غیرمتوقع طور پر پی ٹی آئی کے جنید اکبر نے پی اے سی کو بہت متحرک کر دیا تھا۔ اللہ بھلا کرے پی ٹی آئی کے بانی کا جنہوں نے جنید اکبر سمیت دیگر پی ٹی آئی اراکین سے استعفے دلوا کر حکومت کا بھلا کر دیا‘ جو جنید اکبر کی وجہ سے خاصی دباؤ میں تھی۔ اب اس کرسی پر وفاقی وزیر طارق فضل چودھری بیٹھ کر انصاف فرماتے ہیں۔ ذرا اندازہ کیجیے آڈٹ رپورٹس بھی حکومت کے خلاف ہیں اور اجلاس کی صدارت بھی حکومت کا ایک وزیر کرتا ہے اور سامنے حکومت ہی کا سیکرٹری بیٹھا ہوتا ہے جس کی وزارت کے خلاف آڈٹ پیروں کی بھرمار ہوتی ہے۔ اب آپ خود اندازہ کر لیجیے کہ وہاں کیسا انصاف ہو رہا ہوگا۔ یہ سب دیکھ کر مجھے پرانے چہرے یاد آتے ہیں جنہوں نے پی اے سی کو ایک مضبوط اور باوقار فورم بنایا تھا‘ ایسا فورم جس سے اوپر سے نیچے تک سب خوفزدہ رہتے تھے مگر موجودہ حکومت کے دور میں یہ اپنی موت آپ مر گیا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved