70ء کی دہائی کا آغاز ہی پُر آشوب تھا۔ 1971ء کی جنگ کے نتیجے میں ملک دو لخت ہو گیا۔ تب میں سی بی ٹیکنیکل سکول لال کُرتی میں پڑھ رہا تھا۔ یہ ہر پاکستانی کیلئے ایک دلخراش واقعہ تھا۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کے نتیجے میں یحییٰ خان کو اقتدار سے دستبردار ہونا پڑا اور اس کی جگہ مغربی پاکستان میں سب سے زیادہ نشستیں لینے والی پیپلز پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار سونپ دیا گیا۔ بھٹو نے حکومت سنبھالتے ہی چند اہم اقدامات کیے جن میں شملہ معاہدے کے تحت بھارت میں قید جنگی قیدیوں کی رہائی‘ 1973ء میں متفقہ آئین سازی اور اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد شامل ہیں۔ بظاہر ملکی حالات وزیراعظم بھٹو کے قابو میں تھے۔ 1974ء میں مَیں میٹرک کر کے سرسید کالج میں آ گیا جو راولپنڈی کی مال روڈ پر واقع تھا۔ اُنہی دنوں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ملکی سیاست میں بھونچال پیدا کر دیا اور مذہبی جماعتوں کی طرف سے پیپلز پارٹی حکومت پر دباؤ بڑھ گیا۔ یہ واقعہ ربوہ میں قادیانیوں اور طلبہ کے مابین تصادم تھا۔ بھٹو نے اس مسئلے پر غورو خوض کیلئے ایک پارلیمانی کمیٹی قائم کر دی۔ اسمبلی میں طویل بحث کے بعد آخر آئین میں ترمیم کی گئی جس کے بعد آرٹیکل 260(3) کے مطابق ختمِ نبوت پر ایمان نہ رکھنے والے آئینی اور مذہبی لحاظ سے مسلمان نہیں کہلا سکتے۔ یہ ایک دور رس نتائج کا حامل فیصلہ تھا۔ اپوزیشن کے دباؤ کے تحت بھٹو نے ملک بھر میں جمعہ کی چھٹی اور شراب پر پابندی کا بھی اعلان کر دیا۔ان اقدامات کی بدولت بھٹو کو یقین تھا کہ عوام میں ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی خیال کے تحت بھٹو نے اپوزیشن کو سرپرائز دینے کا فیصلہ کیا اور مقررہ وقت سے پیشتر انتخابات کرانے کا اعلان کردیا۔ بظاہر یہ ایک دانشمندانہ فیصلہ تھا لیکن بھٹو کو اندازہ نہیں تھا کہ ان کا یہ فیصلہ ملکی سیاست میں ایک ایسا موڑ ثابت ہو گا جس کے نتیجے میں سب کچھ بدل جائے گا۔ انتخابات میں اپوزیشن نے بھٹو پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے اور ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کر دیا۔ اپوزیشن کی جماعتیں پاکستان نیشنل الائنس (PNA) کے نام سے اکٹھی ہو چکی تھیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ غیرجانبدار عارضی حکومت کے زیرِ انتظام صاف اور شفاف الیکشن کرائے جائیں۔ اس تحریک میں روز بروز شدت آتی گئی اور ملک کے طول و عرض میں مظاہروں اور ہڑتالوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہ سب کچھ بھٹو کیلئے غیر متوقع تھا۔ یہ احتجاج جو انتخابات میں دھاندلی سے شروع ہوا تھا جلد ہی مذہبی رنگ اختیار کر گیا اور یہ تحریک‘ تحریکِ نظام مصطفی بن گئی۔ بتدریج مظاہرے پُرتشدد ہونے لگے۔ مظاہروں پر قابو پانے کیلئے فوج کو طلب کر لیا گیا لیکن ایک واقعے میں فوج نے مظاہرین پر گولی چلانے سے انکار کر دیا۔ آخر پانچ جولائی کو حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور ملک میں مارشل لاء نافذ ہو گیا۔
مجھے یاد ہے کہ ضیاء الحق کی تقریر میں نے راولپنڈی کے صدر بازار میں واقع انک ہوٹل میں سنی جس میں جنرل ضیا الحق نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے وسیع تر قومی مفاد کی خاطر بھٹو حکومت کا تختہ الٹ دیا ہے اور وہ 90 دن میں انتخابات کرا کے حکومت عوامی نمائندوں کے سپرد کر دیں گے۔ کسے معلوم یہ ایک طویل آمرانہ دور کا آغاز تھا۔ اسی دور میں 1979ء کی تعلیمی پالیسی پیش کی گئی جس میں اسلامک ایجوکیشن کے نام سے ایک نیا باب متعارف کرایا گیا اور پالیسی کے ہمراہ ایک تفصیلی Implementation پلان بھی دیا گیا۔ یہ پالیسی جنرل ضیا کے اسلامائزیشن عمل کا حصہ تھی۔
ایف ایس سی کا رزلٹ آیا تو میں اچھے نمبروں سے پاس ہو گیا لیکن میڈیکل کالج جانے کیلئے چند نمبروں کی کسر رہ گئی تھی۔ میرے کچھ دوستوں نے ایف ایس سی رپیٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ اُس زمانے میں ایک عام سی بات تھی۔ میں نے سوچا یہ بہتر ہی ہوا کہ میرا داخلہ میڈیکل کالج میں نہ ہوا ورنہ میں کبھی اچھا ڈاکٹر ثابت نہ ہوتا کیونکہ میرا دل سائنس کے بجائے آرٹس کے مضامین میں اٹکا ہوا تھا۔ اب میرے سامنے ایک ہی راستہ تھا کہ میں ایک سال انتظار کرتا اور پھر کسی کالج میں بی اے میں داخلہ لیتا۔ میں اسی سوچ بچار میں تھا کہ کسی نے بتایا کہ بی اے کے امتحانات کی تاریخوں میں تبدیلی کی گئی ہے اور اب یہ امتحانات مقررہ تاریخ سے پہلے ہوں گے اور میں چاہوں تو بی اے کا پرائیویٹ امتحان بھی دے سکتا ہوں۔ امتحان شروع ہونے میں ابھی چھ سات مہینے باقی تھے۔ میں نے سوچا کسی سرکاری کالج میں داخلہ لینے کیلئے ایک سال انتظار کرنے کے بجائے پرائیویٹ بی اے کا امتحان دوں گا۔ ہائی سکول میں میرا ایک ہم جماعت شاہ دین رفیق تھا‘ اس کے والد شیخ اشرف تھے جن کا کالج روڈ پر کیپٹل کالج تھا۔ میں نے اُس کالج میں شام کی کلاسز میں داخلہ لے لیا۔ میرے راولپنڈی کے گھرسے کالج تک کا سفر قریباً 10کلومیٹر تھا۔ میں ہر روز یہ فاصلہ سائیکل پر طے کرتا۔ اتفاق سے ایک ہی علاقے سے ہم تین دوست شام کی کلاسز کیلئے کالج روڈ جاتے تھے۔ واجد شیرازی صحافت سے وابستہ ہوا‘ بعد میں کینیڈا منتقل ہوا اور وہیں سے اس کے انتقال کی خبر آئی۔ شکیل راولپنڈی میں ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہا ہے۔ بی اے میں میرے انگریزی کے استاد شیخ اشرف صاحب تھے۔ شیخ صاحب کا طریقۂ تدریس بہت دلچسپ اورمؤثر ہوتا‘ وہ کوئی نظم پڑھاتے تو شاعر کی زندگی کے دلچسپ پہلوؤں سے بھی آگاہ کرتے۔ ان کی کلاس میں مجھے یوں لگتا تھا کہ مجھ پر سحر طاری ہو گیا ہے۔
تدریس کے پیشے کا انتخاب میرا شعوری فیصلہ تھا‘ جو میرے اُن اساتذہ کا مرہونِ منت تھا جنہوں نے مجھے تدریس کی لذت سے آشنا کیا۔ ان میں سرفہرست نام میرے بی اے کے استاد شیخ اشرف صاحب کا ہے۔ تدریس کی ساحری کیا ہوتی ہے‘ اس کا اندازہ پہلی بار مجھے شیخ صاحب کی کلاس میں ہوا۔ وہ نفسِ مضمون اور طالب علموں کی دلچسپی کے مابین توازن قائم رکھنے کا ہنر جانتے تھے۔ ان کی شخصیت میں ایک خاص طرح کی دلآویزی تھی اور وہ ابلاغ کے فن سے پوری طرح سے آشنا تھے۔ انگریزی ادب میں میری دلچسپی ان کی مرہونِ منت ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ استاد کسی مضمون کو بور بھی بنا سکتا ہے اور دلچسپ بھی۔ انگریزی سے مجھے کوئی خاص لگاؤ نہ تھا لیکن شیخ صاحب نے ہمیں اس کا گرویدہ بنا دیا۔ شیخ صاحب کی کلاس میں مَیں نے زندگی کے دو اہم فیصلے کیے۔ پہلا یہ کہ بی اے کے بعد ایم اے انگلش کروں گا اور اور دوسرا یہ کہ شیخ صاحب کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے استاد بنوں گا۔ بی اے کا رزلٹ آیا تو میری فرسٹ کلاس تھی۔ میں نتیجہ سُن کر گھر آیا اور والدہ کو یہ خبر سنائی۔ انہوں نے مجھے گلے سے لگا لیا اور رونے لگیں۔ یہ خوشی کے آنسو تھے جن میں ان کے خوابوں کی تعبیر جھلک رہی تھی۔
بی اے کے رزلٹ اور ایم اے کے داخلوں کے درمیان تین چار مہینوں کا وقفہ تھا۔ اُس زمانے میں گورڈن کالج کے انگریزی کے معروف پروفیسر وکٹر مل کالج سے ریٹائر ہو چکے تھے لیکن کالج کے کمپاؤنڈ میں اپنی وسیع رہائش گاہ میں ایم اے انگلش لٹریچر کی کلاس لیتے تھے۔ میں نے وکٹر مل صاحب کی کلاسز اٹینڈکرنا شروع کر دیں۔ ان کی کلاس میں شروع سے آخر تک دلچسپی برقرار رہتی۔ لیکچرکے دوران خوبصورت انگلش بولتے بولتے اچانک وہ کوئی جملہ پنجابی میں ادا کرتے تو ہمیں حیرت ہوتی کہ انہیں پنجابی بھی آتی ہے۔ لیکچرکے دوران کبھی کبھار کوئی قصہ کوئی لطیفہ سنا دیتے‘ جس سے کلاس کا ماحول خوشگوار رہتا۔ میری اگلی منزل گورڈن کالج تھی جہاں سے ایم اے انگلش کرنا میرا خواب تھا۔ (جاری)
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved