تحریر : محمد اظہارالحق تاریخ اشاعت     04-06-2026

ہم اپنے آپ کو کھا رہے ہیں

تو کیا آپ نے اُس ظالم شخص کے بارے میں نہیں سنا جو اپنے جسم کے اعضا کھاتا تھا؟ اس نے ایک ایک کر کے اپنے بازو‘ ٹانگیں‘ پسلیاں‘ گردے اور دیگر حصے کھا لیے یہاں تک کہ صرف منہ اور معدہ رہ گیا اور آخر میں بھوک سے مر گیا۔
ہم بھی اُس ظالم شخص سے کم ظالم نہیں۔ وہ فرد تھا جبکہ ہم بطور قوم ظالم ہیں۔ اب تو ہم یہ بھی بھولتے جا رہے ہیں کہ پچپن سال پہلے ہم ملک کا ایک بازو ہی کھا گئے تھے۔ بازو ہڑپ کر کے ہم نے ڈکار تک نہ لیا اور ''با شرمی‘‘ کی حد یہ ہے کہ ہڑپ کرنے کا الزام آج تک دوسروں پر لگا رہے ہیں۔ اب ہم اپنی زمینیں‘ اپنے کھیت‘ اپنے جنگل‘ اپنی چراگاہیں‘ اپنے درخت اور اپنے باغات کھا رہے ہیں۔ یہ بھی جسم کے اعضا کھانے ہی کا مکروہ عمل ہے۔ مستقبل بینی کی صفت سے ہم مکمل طور پر عاری ہیں۔ لاہور کے پرانے باشندے بتاتے ہیں کہ شہر کی وہ فصیل جو گارے اور پتھروں سے بنی تھی بہت پہلے ٹوٹ گئی تھی۔ مگر اس کے بعد‘ ماضی قریب تک آموں کے باغات کی فصیل شہر کی حفاظت کرتی رہی۔ ایک باخبر شخص نے بتایا کہ شالامار باغ کا علاقہ آموں کے باغات سے اَٹا رہتا تھا اور باغات کے ٹھیکے انہی خاندانوں کے پاس تھے جو مغل عہد سے یہ ٹھیکے لیتے آ رہے تھے۔ ٹھوکر سے لے کر رائیونڈ روڈ پر‘ اہم‘ کھرب پتی‘ شخصیات کے محلات تک آموں کے باغات ہی باغات تھے۔ سب جوع الارض (Land hunger) کی نذر ہو گئے۔ سیالکوٹ کے نواح میں چاول اگانے والی بہترین زرعی زمین پر طاقتوروں نے ہاؤسنگ سوسائٹی بنا لی ہے۔ جہلم میں پہاڑ کاٹ کر جدید ہاؤسنگ سوسائٹی بنائی گئی ہے۔ یوں ماحولیات کو سنگین نقصان پہنچایا گیا۔ جنوبی پنجاب اور ساہیوال کے قرب و جوار میں بہترین زرعی زمینیں فیکٹریوں میں تبدیل ہو گئیں۔ پنڈی سے گوجر خان تک‘ بلکہ اس سے آگے بھی جی ٹی روڈ کے دونوں طرف زرعی زمینیں بک چکی ہیں۔ ترنول سے فتح جنگ تک کا علاقہ جو بہترین گندم اگانے کیلئے مشہور تھا‘ کئی قسم کی تعمیرات سے بھر چکا ہے۔ اس علاقے کو مقامی آبادیاں وزیرستان کہتی ہیں۔ واہ جو کسی زمانے میں صرف اسلحہ ساز فیکٹریوں کیلئے مشہور تھا اب آبادیوں کے ہجوم میں اس طرح گم ہوا ہے کہ فیکٹریاں آٹے میں نمک کی طرح ہو گئی ہیں۔ ہر چہار طرف مکان ہی مکان ہیں۔ واہ کے جنوب میں بھی زرخیز زمینیں ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں بدل چکی ہیں۔ ایبٹ آباد کا تو ذکر ہی نہ کیجیے۔ جہاں کبھی جون جولائی میں بھی پنکھوں کا وجود نہ تھا اور جیکٹیں‘ سویٹر اور کوٹ لے کر جانا ہوتا تھا‘ وہاں اب پنکھوں کے ساتھ ساتھ اے سی بھی چل رہے ہیں۔ ایبٹ آباد تقریباً مانسہرہ تک پہنچ ہی چکا ہے۔ درخت کٹ گئے ہیں۔ ہزاروں لاکھوں گاڑیوں کے دھوئیں اور بے تحاشا بڑھتی آبادی نے اس انتہائی خوبصورت پہاڑی شہر کی شہرت کو داغدار کر کے رکھ دیا ہے!! ایبٹ آباد کے مشرق میں‘ کاکول کے جنوب کی طرف‘ بے شمار پہاڑوں کا مکمل صفایا کر دیا گیا ہے۔ راولپنڈی میں اگر آپ کچہری چوک سے جی ٹی روڈ پر روات کی طرف جائیں تو سڑک کے دونوں طرف عفریت نما پلازے کھڑے ہیں۔ یہ ہمارے سامنے کی بات ہے۔ یہاں دونوں طرف پہاڑیاں تھیں۔ ایک ایک پہاڑی کو قتل کیا گیا۔ کوئی والی وارث سامنے نہ آیا۔ شہر کی کارپوریشن‘ ضلعی انتظامیہ‘کسی کے کان پر جوں نہ رینگی۔نہ مدعی نہ شہادت‘ حساب پاک ہوا۔ یہ خونِ خاک نشیناں تھا ‘ رزقِ خاک ہوا۔ حال ہی میں درختوں کے ساتھ جو کچھ وفاقی دارالحکومت میں ہوا‘ سب کو معلوم ہے۔ہزاروں درخت کاٹ دیے گئے۔ جنگل کے جنگل صاف ہو گئے۔ابھی تو مقتولوں کا خون بھی خشک نہیں ہوا۔ میڈیا نے بہت آہ و زاری کی۔ سینے پر دو ہتڑ مارے۔مگرکون سنتا ہے فغانِ درویش!
اور ملتان !! آہ ملتان!! آموں کے اس شہر میں آم کے درختوں کا وہ قتلِ عام ہوا جو چنگیز خان کے لشکریوں نے ایران اور ماورا النہر میں کیا کیا ہو گا!! عباسیوں نے اُمویوں کی لاشوں پر قالین بچھائے تھے اور قالینوں پر بیٹھ کر دعوتیں اڑائی تھیں۔ ثروت مندوں نے اور بے پناہ طاقت رکھنے والوں نے آم کے ہزاروں ( کیا عجب لاکھوں ) درختوں کو قتل کیا‘ اوپر لوہے ‘ اینٹوں ‘ سنگ مر مر اور در آمد شدہ ٹائلوں کا فرش بچھایا ‘ اس پر لاکھوں کروڑوں کا فرنیچر رکھا اور پھر دنیا کے بہترین کھانے کھائے۔ درخت جاندار مخلوق ہیں۔نبیِ رحمتﷺ نے جنگ کے دوران بھی درخت کاٹنے سے منع کیا۔ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے لیے ملک میں ایسے بے شمار مقامات ہیں جہاں درخت اور فصلیں نہیں۔ اگر اس کاروبار کا اتنا ہی شوق ہے تو نئے شہر بساؤ۔ پرانے شہروں کے نواح میں ثمر دار باغات کا اور زیر کاشت کھیتوں کا قتلِ عام کیوں کرتے ہو ۔ شاید عابدہ حسین نے لکھا ہے کہ ایک اہم شخصیت کو وہ اپنی زمینیں دکھانے لے گئیں۔ ہری بھری فصلوں کو دیکھ کر ان کے منہ سے بے اختیار آرزو ٹپک پڑی کہ یہاں شوگر مل لگ سکتی ہے یا لگانی چاہیے۔ اس نا بینا اور چلنے سے معذور مائنڈ سیٹ کی موجودگی میں زراعت اور ماحولیات کی فکر کون کرے گا ؟ (ن) لیگ کی حکومت یوں بھی ہمیشہ تاجروں اور کارخانہ داروں کا مفاد دیکھتی ہے۔ ان حضرات کو کسانوں اور سرکاری ملازمین کی کبھی فکر نہیں رہی۔پیپلز پارٹی کی حکومتیں کم از کم سرکاری ملازموں کی خیر خواہی ضرور کرتی رہی ہیں۔ تا دمِ تحریر خبر یہی ہے کہ آنے والے بجٹ میں تنخواہیں اور پنشنیں نہیں بڑھیں گی!
کیا اس ملک میں کھیتوں‘ جنگلوں‘ چراگاہوں ‘ باغوں اور پہاڑوں کی زندگیاں اسی طرح داؤ پر لگتی رہیں گی؟ کیا اس حوالے سے قانون سازی نہیں کی جا سکتی ؟ کیا انہیں‘ جو بہت زیادہ طاقتور ہیں‘ روکا نہیں جا سکتا؟؟کیا ٹائیکونوں کو ہمیشہ کھلی چھٹی دی جاتی رہے گی؟ ایک موصوف نے تو مارگلہ کی پہاڑیاں مانگ لی تھیں کہ سرنگیں بنا کر پار نکل جائیں گے۔ پہاڑیوں کی قسمت اچھی تھی۔ بچ گئیں۔ خدا کے بندو! اناج کہاں اگاؤ گے؟ پھل کہاں سے لو گے؟ کپاس کی پیداوار پندرہ ملین گانٹھوں سے کم ہو کر پانچ ملین گانٹھ تک آگئی ہے۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری کا حصہ پاکستان کی برآمدات میں پچپن فیصد ہے جو اَب خطرے کی زد میں ہے۔کپاس اگانے والی زمینوں پر مسلسل چینی کے کارخانے لگائے جا رہے ہیں۔ شوگر مافیا ایک ایسا منہ زور بیل ہے جسے قابو کرنا ممکن نہیں اس لیے کہ شوگر فیکٹریوں کے مالکان فیصلہ ساز مسندوں پر براجمان ہیں۔دور کی نظر ہماری حکومتوں کی ہمیشہ کمزور رہی ہے۔بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے چھوٹے ممالک کے ملبوسات اور کپاس کی مصنوعات پوری دنیا پر چھائی ہوئی ہیں۔ مگر ہمارا حال بقول شیخ سعدی اُس احمق کی طرح تھا جو اُسی شاخ کو کاٹ رہا تھا جس پر بیٹھا تھا۔ یکی بر سرِ شاخ و بُن می برید۔ لگتا ہے ملک میں کوئی قانون ہے نہ حکومت نہ کوئی روک ٹوک نہ پوچھ گچھ۔ یہی لیل نہار رہے تو نئی نسل کو کپاس‘ گندم اور دیگر پودے دکھانے لیے عجائب گھروں میں لے جانا پڑے گا۔ ہر طرف تعمیرات ہی تعمیرات ہوں گی۔ ہر طرف ہاؤسنگ سوسائٹیاں ‘ فیکٹریاں‘ امرا کے محلات ہوں گے۔ کسان‘ باغبان ‘ چرواہے ‘ بھوک سے مر کھپ چکے ہوں گے۔ جانور ملک سے یوں غائب ہو جائیں گے جیسے دنیا سے ڈائنو سار غائب ہوئے ہیں۔ گندم اور چاول کا ایک ایک دانہ باہر سے منگایا جائے گا۔ ملکی قرضے آسمان تک جا پہنچیں گے۔ گندم پیسنے کی ملیں شوگر فیکٹریوں میں تبدیل ہو جائیں گی۔ گنے کے علاوہ کچھ اور اگانے کی کسی نے کوشش بھی کی تو اسے عمر قید کی سزا ملے گی۔
ہم اپنے آپ کو کھا رہے ہیں۔ رات دن کھا رہے ہیں۔ وہ دیکھیے! سامنے دیوار پر ہمارا انجام لکھا ہے!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved