مذہب کے جدید نمائندوں کے درمیان سوشل میڈیا پر مکالمہ جاری ہے۔ آپ جانتے ہیں اس کا انجام کیا ہوا؟
ہمارے ہاں روایت پرست مذہبی حلقہ اکثر زیرِ بحث رہتا ہے۔ بالعموم وہی مذہب کا حقیقی نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے اخلاقیات پر بات ہوتی ہے اور کم و بیش اس پر اتفاق ہے کہ مذہب اور اخلاق میں طلاق ہو چکی‘ اِلا ماشاء اللہ۔ یہ مقدمہ قائم کرنے والوں میں سیکولر طبقے کے ساتھ وہ بھی شریک ہیں جو مذہب کے 'جدید نمائندے‘ ہیں یا 'جدید مذہب‘ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس میں وہ لوگ شامل ہیں جو جدید علوم سے واقف ہیں۔ غزالی و فارابی ہی نہیں‘ کانٹ اور ہیگل کے حوالے بھی دیتے ہیں۔ عربی ہی نہیں انگریزی بھی جانتے ہیں۔ جدید مفہوم میں پڑھے لکھے ہیں۔ مراد یہ کہ ان کے پاس یونیورسٹی کی ڈگریاں بھی ہیں۔ کوئی کسی جامعہ میں استاد بھی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ روایتی دین کے وکیل ہوں مگر جدیدیت کو سمجھتے ہیں۔
اس طبقے کے نمائندہ لوگوں میں بھی اختلاف پیدا ہو گیا۔ یہ اختلاف عرفِ عام میں علمی ہے۔ علمِ حدیث کا کوئی نکتہ زیِر بحث ہے یا علمِ کلام کی کوئی جہت۔ اس بحث کا انجام تلخی پر ہوا۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ بحث میں تلخی در آئی۔ ایسی تلخی کہ روایتی اور غیر روایتی مذہبی نمائندوں میں فرق تلاش کرنا محال ہو گیا۔ اس میں سب اطراف سے کمک فراہم ہوتی رہی۔ بہت سے مجاہدین شمشیر بدست میدان میں نکل پڑے۔ ایسا گھمسان کا رن پڑا کہ الامان و الحفیظ۔ تکفیر‘ جہالت سمیت ہر الزام کو روا رکھا گیا۔ استہزا اور تذلیل تو خیر اب معمولی باتیں ہیں جن کا تذکرہ بے معنی ہے۔
اب کچھ اہلِ ادب کی سنیے۔ یہاں علم یا ادب موضوع ہی نہیں۔ تمام تر گفتگوشخصیات پر ہو رہی ہے۔ فلاں چھوٹا شاعر ہے اور فلاں بڑا۔ مضامین کے سرقے کی بات ہو رہی ہے اور ادبی چوروں کی فہرست مرتب کی جا رہی ہے۔ فلاں نے اقبال کے بارے میں یہ کہہ دیا۔ اب سب فلاں کے پیچھے ہیں۔ اس نے کیا کہا اور اس کی بات کی علمی و ادبی قدرو منزلت کیا ہے‘ یہ کہیں زیرِ بحث نہیں۔ اقبال کے مداح ہیں جن کا لب و لہجہ یہ ہے کہ 'تم ہوتے کون ہو بات کرنے والے؟ تمہاری اوقات کیا ہے؟‘۔ دوسری طرف ناقدینِ اقبال ہیں جو اس پر ادھار کھائے بیٹھے ہیں کہ کب موقع ملے اور اقبال کو کٹہرے میں لا کھڑا کریں۔ شاعری کو نثر اور عقلیات کے پیمانے پر ناپتے ہیں۔ ان دونوں صفوں میں اقبال شناس کتنے ہیں؟ اس راز سے پردہ نہ ہی ا ٹھے تو اچھا ہے۔
کچھ لوگ اس بھیڑ چال سے ہٹ کر چھوٹے چھوٹے جزیرے آباد کیے ہوئے ہیں۔ جیسے مذہب میں جاوید احمد صاحب غامدی۔ ادب میں جناب احمد جاوید۔ اکادمی ادبیات میں نجیبہ عارف صاحبہ ایسی مجالس برپا کرتی رہتی ہیں جن میں سنجیدہ مباحث اٹھائے جاتے ہیں۔ حال ہی میں اکادمی نے پوسٹ ماڈرن عہد میں قومی ادب کے سوال پر آن لائن لیکچر کا اہتمام کیا۔ مبین مرزا صاحب نے اس موضوع پر عالمانہ گفتگو کی۔ ملک کے ممتاز اہلِ ادب بحیثیت سامع موجود رہے۔ اسی طرح الحمد یونیورسٹی اسلام آباد کا شعبۂ اردو بھی ڈاکٹر شیر علی صاحب کی راہنمائی میں متحرک ہے اور زندہ مسائل کو علمی سطح پر سمجھنے کے لیے آن لائن مباحث کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے باوصف‘ سوشل میڈیا پر مذہب و ادب کی غالب بحثیں‘ اخلاقیات سے ماورا اپنی ڈگر پر چلی جا رہی ہیں جس پر کہیں اخلاق اور خوش ذوقی کا پڑاؤ نہیں۔
مذہب اور ادب انسان کی اخلاقی حس اور جمالیاتی ذوق کی آبیاری کے لیے ہیں۔ ان دونوں کا کام معاشرے کو بہتر انسان فراہم کرنا ہے۔ ایسے انسان جو اخلاق اور فہم میں دوسروں سے ممتاز ہوں۔ اگر مذہبی مباحث میں بھی بغیر تحقیق الزامات لگائے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مذہب آپ کو چھو کر نہیں گزرا۔ اگر ادب سے تعلق کے باوجود آپ اختلاف کے آداب سے واقف نہیں تو معلوم ہوا کہ گدھے پر کتابیں لاد دی گئی ہیں۔ مذہب اور ادب کی روایت میں بڑے بڑے معرکے ہوئے ہیں۔ ادبی جرائد نے اس موضوع پر ایک سے زیادہ خصوصی نمبر شائع کیے ہیں۔ اس میں وہ بھی ہیں جو اختلاف کرتے تھے مگر مجال ہے کہیں سوقیانہ پن ہو۔ ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ اختلاف نے ہر حد کو پار کر دیا۔
میں ہمیشہ یہ خیال کرتا رہا اور آج بھی اس پر قائم ہوں کہ مذہب کی تعلیم اس لیے لازم ہے کہ اخلاق بہتر ہوں۔ ادب اور فنونِ لطیفہ اس لیے سکھائے جائیں کہ جمالیاتی ذوق کی تربیت ہو اور سماج میں خوبصورتی کی قدر کی جائے۔ فلسفہ اس لیے نصاب کا حصہ ہو کہ اس سے معاملات کو عقلی طور پر سمجھنے کا سلیقہ پیدا ہو۔ اگر سب کچھ پڑھ کر بھی آپ اَن پڑھوں سے مختلف دکھائی نہ دیں تو ان کا پڑھانا نہ پڑھانا یکساں ہیں۔ اگر ہمارے فیصلے غیرعقلی ہیں‘ ہمارا رویہ غیر اخلاقی ہے اور ہم لطفِ جذبات کا لحاظ نہیں رکھ سکتے تو پھر فلسفہ‘ مذہب اور ادب کا مطالعہ بے معنی ہے۔
اگر مذہب‘ فلسفہ اور ادب وہ نتائج نہیں دے سکے جن کے لیے ہم ان کو سماجی علم کا حصہ بناتے ہیں تو مسئلہ کہاں ہے۔ مذہب اور فلسفے میں یا انسان اور سماج میں؟ میں نے مغربی تہذیب کے پس منظر میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ جو آدمی انسانی جان کی حرمت کا قائل نہیں اسے انسانی حقوق کا نمائندہ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ اسی نوعیت کا سوال میں اپنے معاشرے کے بارے میں بھی اٹھا رہا ہوں کہ ہم مذہب و ادب کے نتائج سے محروم کیوں ہیں؟ ہمارا معاملہ تو معکوس ہے۔ ہم خود کو ان سانچوں میں ڈھالنے کے بجائے یہ چاہتے ہیں کہ یہ سانچے ہمارے خیالات کا روپ اپنا لیں۔ مذہب ہمارے جذبات کا ترجمان بن جائے۔ ادب ہم سے آداب سیکھے۔ فلسفہ ہمارے خیالات کا نام ہو جو لازم نہیں کہ عقلی ہو۔
سیانے یہ کہتے ہیں کہ یہ سو پچاس سال کا عمل ہے جو ایک سماج کو کسی نظامِ اقدار کا نمائندہ بناتا ہے۔ یہ بھی اس صورت میں کہ اس کا ارتقا جاری رہے۔ مذہب اخلاق کا حقیقی نمائندہ بنے۔ اس کا مطلب ہے کہ مذہبی شخصیات اور ادارے علم اور اخلاق میں ایک مضبوط بندھن کو قائم رکھیں۔ فلسفے پر صرف عقل کی حکمرانی رہے۔ وہ کسی نظریے کا وکیل نہ ہو۔ ادب صرف حسن کا نمائندہ بنا رہے۔ لوگ حسن کو حسنِ بیان تک دیکھیں۔ اس کے لیے سو پچاس برس کا تسلسل ضروری ہے جو کم از کم دو نسلوں کی تربیت کرے۔ تب کہیں نتائج نکلیں گے۔ یہ ایجابی پہلو ہے۔ سلبی حوالے سے دیکھیں تو مذہب سیاسی مفادات اور مسلکی و فرقہ وارانہ تعصبات سے آزاد ہو۔ ادب پہلے ادب ہو بے ادبی نہ ہو۔ لوگ شاعروں اور ادیبوں سے بات کرنا سیکھیں۔ فلسفہ کسی نظریے کا دربان نہ ہو۔
اگر یہ نہیں ہو تو مذہب کا جدید نمائندہ ہو یا قدیم‘ شاعر بڑا ہو یا چھوٹا‘ فلسفی کتابوں کے انبار لگا دے‘ سماج میں کسی تبدیلی کا باعث نہیں بنیں گے۔ اگرمیری بات کسی مزید وضاحت کی متقاضی ہے تو آپ سوشل میڈیا پر علمِ کلام اور تحریکِ مجاہدین کے حوالے سے جاری بحث پر ایک نظر ڈال لیں۔ علامہ اقبال پر لوگوں کے تبصرے پڑھ لیں۔ امید ہے کوئی تشنگی باقی نہیں رہے گی۔ بعض دوستوں کا خیال ہے اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ اس تلخی کو گوارا کرنا چاہیے۔ وقت کے ساتھ ٹھیراؤ آ جائے گا۔ اس بات میں وزن ہے۔ میرا خدشہ یہ ہے کہ یہ ٹھیراؤ جس رفتار سے آتا ہے اس کے خلاف متحرک قوتیں اس کے مقابلے میں زیادہ سرعت کے ساتھ روبعمل ہوتی ہیں۔
زخم کے بھرنے تلک‘ ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved