عیدِ قربان گزر چکی اور اب کھالیں اکٹھی کرنے والے ادارے بیٹھے کھالیں گن رہے ہیں اور اندازہ لگا رہے ہیں کہ ان سے کتنا ریونیو جنریٹ ہو سکے گا۔ پاکستان میں امسال قربانی کے جانوروں کی 75لاکھ کھالیں جمع ہوئیں جن سے 8.7ارب روپے کی معاشی سرگرمی متوقع ہے۔ اس سال 28لاکھ گائے بیلوں‘ 43لاکھ بکروں‘ پانچ لاکھ بھیڑوں اور 30ہزار اونٹوں کی کھالیں حاصل ہوئی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ کھالوں کے کاروبار میں فروغ سے چمڑے کی صنعت منافع بخش تیار مصنوعات کی طرف منتقل ہوئی ہے اور پاکستانی برآمدات میں چمڑے سے تیار مصنوعات کا حجم 694.20ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ پاکستان میں ایک دہائی کے دوران قربانی کے جانوروں کی تعداد 17فیصد بڑھی ہے۔ کچھ رپورٹیں یہ بھی بتاتی ہیں کہ مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کی قوتِ خرید میں کمی واقع ہوئی اور اس کے اثرات قربانی کے جانوروں پر بھی مرتب ہوئے۔ جانور مہنگے ہو گئے اور لوگوں کی قوتِ خرید میں نہ آنے کی وجہ سے قربان کیے جانے والے جانوروں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ واللہ اعلم!
قوتِ خرید کی بات ہوئی ہے تو ایک نامور ماہرِ معاشیات کا کہنا ہے کہ پاکستان میں افراطِ زر یعنی مہنگائی اور خراب معاشی حالات کی وجہ سے عام آدمی کی قوتِ خرید میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔ ان کے مطابق مارچ 2022ء کے بعد سے عوام کی قوتِ خرید میں تقریباً 58 فیصد تک کمی آ چکی ہے جبکہ آمدنیوں میں اضافہ اس تناسب سے بالکل بھی نہیں ہوا۔ مثال یہ پیش کی گئی کہ اگر کسی شخص کی ماہانہ آمدنی مارچ 2022ء میں 50ہزار روپے تھی تو مہنگائی کی موجودہ لہر کے بعد اس کی قوتِ خرید گھٹ کر صرف 20ہزار روپے تک رہ گئی ہے یعنی اس کے 50ہزار اب 50ہزار نہیں بلکہ 20 ہزار روپے ہیں۔
کھالوں سے یاد آیا‘ گزشتہ روز ایک اور کھال کا بھی ذکر ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹیں بتاتی ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں میں اضافے پر پیر کے روز ہونے والی اپنی ٹیلی فونک گفتگو میں اسرائیلی وزیراعظم یتن یاہو پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور اسے پاگل اور ناشکرا قرار دے دیتے ہوئے کہا کہ میں تمہاری کھال بچا رہا ہوں‘ میں نہ ہوتا تو تم اب تک جیل میں ہوتے۔ پتا چلا ہے کہ ٹرمپ کے ان سخت ترین جملوں کے جواب میں نیتن یاہو صرف او کے‘ او کے کہتا رہا۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے نیتن یاہو کو جیل جانے سے بچانے میں مدد دی۔ ان کا اشارہ نیتن یاہو کے خلاف بد عنوانی کے مقدمے میں اس کی حمایت کی جانب تھا۔ اس پیش رفت کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ پیر کے روز ہی ایران نے لبنان میں اسرائیلی اقدامات کے باعث امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات ترک کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اس سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ ٹرمپ معاہدہ نہ ہونے کے نتائج سے کتنے خوف زدہ ہیں۔
اس وقت نیتن یاہو کے خلاف تین مقدمات چل رہے ہیں۔ دو مقدمات میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اسرائیلی میڈیا اداروں سے مثبت کوریج حاصل کرنے کے لیے مبینہ طور پر سودے بازی کی جبکہ تیسرے مقدمے میں الزام ہے کہ انہوں نے ارب پتی شخصیات سے سیاسی فوائد کے بدلے دو لاکھ 60 ہزار ڈالر سے زائد مالیت کے قیمتی تحائف قبول کیے۔ چوتھا بدعنوانی کا ایک الزام خارج کیا جا چکا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک میں یہ تاثر عام ہے کہ نیتن یاہو نے غزہ کی جنگ اس لیے بھڑکائی کہ اپنے مقدمات سے کچھ ریلیف لے سکے اور اب امریکہ کو ایران کے ساتھ جنگ کی دلالی پر تیار کرنے والا بھی نیتن یاہو ہی ہے۔لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔ کبھی نہ کبھی تو اسے اپنی کھال اتروانی ہی پڑے گی۔
سابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے انکشاف کیا ہے کہ نیتن یاہو نے ایران پر حملے کا منصوبہ متعدد امریکی صدور کے سامنے پیش کیا تھا تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے سوا سب نے اس منصوبے کو مسترد کر دیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق جان کیری نے ایک انٹرویو میں کہا کہ سابق صدور جارج بش ‘ براک اوبامااور جو بائیڈن نے ایران کے خلاف جنگ کی تجویز کو مسترد کر دیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ پہلے سفارتی اور پُرامن راستے مکمل طور پر آزمانا ضروری ہے‘ ان میں اگر کامیابی نہ ہو تو پھر جنگ کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ جان کیری‘ جن کا دعویٰ ہے کہ وہ خود ان مشاورتوں کا حصہ رہے‘ کے مطابق اوباما نے انکار کیا‘ بش نے انکار کیا‘ بائیڈن نے بھی انکار کیا لیکن ٹرمپ نے ہاں کر دی۔ وہ کہنا یہ چاہتے تھے کہ اس وقت مشرق وسطیٰ‘ امریکہ اور باقی دنیا کی جو صورتحال ہے اور جن مسائل کا سامنا ہے اس کی وجہ ٹرمپ کی وہ ایک ہاں ہے۔
نیتن یاہو کی کھال تو ٹرمپ نے بچا لی (یہ الگ بات ہے کہ وہ ان کی کھال پوری طرح بچا پائے یا نہیں) لیکن بہت سے ان لوگوں کی کھالیں بچتی نظر نہیں آتیں جو ایران امریکہ جنگ میں اور اس سے پہلے غزہ کی جنگ میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں اور ان سے بھی زیادہ شدید جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے۔ جان کیری کے انکشافات سے یہ واضح ہو چکا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کی دلالی میں صرف اور صرف امریکہ اور اپنی شہرت کا منہ کالا کیا ہے اور کچھ نہیں ہوا۔
ایسا نہیں کہ امریکہ اور اس کے حامی ممالک نے یہ پہلی بار کیا ہے۔ اس سے پہلے مارچ 2003ء میں اسی ایران کے پڑوس میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری کا بہانہ بنا کر عراق کو تاخت و تاراج کر دیا گیا تھا۔ تیل کے ذخائر سے مالا مال اس ترقی پذیر ملک کو ایسی ضرب لگائی گئی جس کے کرب سے وہ اب تک باہر نہیں نکل سکا ہے۔ 2015ء میں امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹونی بلیئر نے تسلیم کیا تھا کہ عراق پر امریکی قیادت میں ہونے والے حملے نے شدت پسند تنظیم داعش کے قیام سمیت ان بیشتر بحرانوں کو جنم دیا جن میں مشرقِ وسطیٰ اس وقت گھرا ہوا ہے۔ (تب امریکہ ایران جنگ شروع نہیں ہوئی تھی اور مشرقِ وسطیٰ عرب بہار نامی انقلابی سلسلے کے اختتام پر حکومتوں کی تبدیلیوں کے اس سلسلے کے نتائج کا اندازہ لگانے میں مصروف تھا) انہوں نے تسلیم کیا کہ حملے کی وجہ بننے والی وہ انٹیلی جنس اطلاعات خامیوں سے پر مبنی تھیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عراق بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تیار کر رہا ہے۔
کیا یہ کہہ دینا کافی ہے کہ غلط معلومات کی وجہ سے فلاں جنگ لڑی گئی۔ غلط معلومات فراہم کرنے والے کہاں ہیں۔ انہیں ابھی تک کیفر کردار تک کیوں نہیں پہنچایا گیا؟ حال ہی میں امریکی سینیٹ میں وزیر خارجہ مارکو روبیو سے سخت سوالات کیے گئے جبکہ ایران جنگ پر ٹرمپ پالیسی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں کہیں یہ سوالات مزید سخت تو نہیں ہونے والے۔ کیا ایران کی جنگ میں ملوث افراد کے لیے اپنی اپنی کھالیں بچانے کا موسم قریب تو نہیں آ رہا؟
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved