تحریر : سعود عثمانی تاریخ اشاعت     04-06-2026

تُو ساتھ ہو اور دور کا درپیش سفر ہو

بھٹیاری جھیل پر موٹر بوٹ کی سیر مکمل ہو چکی تھی اور ہم ایک بار پھر جھیل کنارے سڑک پر کھڑے تھے۔ یہاں سے کسی اور طرف جانا تھا لیکن جھیل ہمیں رخصت کی اجازت ہی نہیں دیتی تھی۔ ذرا رخ بدلتے تو اسی کا کوئی منظر پیروں میں زنجیر ڈال دیتا تھا۔ دل مسلتی کیفیت تھی جیسے کسی محبوبہ سے ہمیشہ کے لیے بچھڑنا ہو۔ سعود میاں! یہ ہجر تم پر پہلے بھی گزر چکا ہے نا! اور وہ کسی جھیل سے جدائی نہیں تھی۔ یاد ہے اس وقت تم نے فی البدیہہ غزل کہی تھی جس میں یہ شعر بھی تھا:
رخ بدلتا ہوں تو سینے سے لپٹ جاتی ہے
سسکیاں لیتی ہوئی شامِ جدائی‘ کہ نہیں
دو محبت کرنے والے انسانوں کی جدائی کس کس طرح بیان ہوتی چلی آئی ہے۔ کوئی سے بھی دو انسان! باپ بیٹا‘ ماں‘اولاد‘ بھائی بہن‘ جدائی ہمیشہ سینہ خراش ہوتی ہے۔ مجھے یاد آیا کہ میرے عظیم دادا مفتی اعظم پاکستان‘ مفتی محمد شفیع صاحب نے شاید اپنی تفسیر معارف القرآن میں لکھا ہے کہ جب یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے حضرت یعقوب علیہ السلام سے بہت اصرار کیا کہ وہ یوسف علیہ السلام کو ساتھ لے جانا چاہتے ہیں تو باپ نے کہا کہ مجھے یہ بات غمگین کرتی ہے کہ تم اسے میرے پاس سے لے جاؤ اور مجھے خوف ہے کہ اسے کوئی بھیڑیا نہ کھا جائے۔ (سورہ یوسف)۔ مفتی صاحب نے کہا کہ یہاں حزن اور خوف دو الگ الگ باتیں ذکر کی گئی ہیں۔ یعنی صرف یہ بات کہ تم اسے میری آنکھوں کے سامنے سے لے جاؤ‘ مجھے یہی بات غمگین کر دے گی ‘خواہ اسے کوئی خطرہ بھی نہ ہو۔ اس کے علاوہ یہ خوف الگ ہے کہ اسے کوئی بھیڑیا نہ کھا جائے۔
نیلی سبز جھیل ہمارے سینے سے لپٹی ہوئی تھی۔ ہم خود بھی کب اس سے جدا ہونا چاہتے تھے لیکن جدائی کی گھڑی بالآخر آن پہنچی۔ گاڑی نے رخ موڑا اور پہاڑی راستے پر ادھر روانہ ہو گئی جدھر سے آئی تھی۔ اب ہم پہاڑی سے اُتر رہے تھے۔ آتے ہوئے ہم راستے کے دائیں طرف ایک مقام چھوڑ آئے تھے جہاں پکنک پوائنٹ اور کچھ ریسٹورنٹس بنے ہوئے تھے۔ یہ بھٹیاری پہاڑی سے غروبِ آفتاب کے نظارے کی جگہ تھی۔ ابھی سہ پہر کا آغاز تھا اس لیے غروب میں دیر تھی لیکن اس سن سیٹ پوائنٹ کی بلندی پر کھڑے ہو کر اندازہ ہو گیا کہ جب سامنے کھلے منظر میں سورج عمارتوں اور درختوں کے عقب میں غروب ہوتا ہو گا اور ترچھی نارنجی کرنیں پوری پہاڑی کو شفق رنگ بناتی ہوں گی تو کیا ٹھہر جانے والا وقت تخلیق ہوتا ہو گا۔ سورج ہر روز یہ منظر پیش کرتا تھا لیکن مسافر جو ہمیشہ تیزی کے عادی ہوتے ہیں‘ اس سے محروم رہ جاتے ہیں۔ جب یہاں سورج غروب ہو رہا ہو گا تو ہمارا جہاز اڑنے کے لیے پَر تولتا ہو گا۔
ہم گاڑی میں بیٹھے اور ایک بار پھر پہاڑی راستوں پر رواں ہوئے۔ دائیں بائیں کئی سڑکیں مرکزی سڑک سے پھوٹتی تھیں۔ ہم دائیں طرف گھنے درختوں سے ڈھکی ایک خاموش سڑک پر ہو لیے۔ یہ سڑک لہراتی بل کھاتی لیے چلتی گئی۔ ہمارے سوا کوئی گاڑی نہیں تھی اور چھاؤں سے ڈھکے اس راستے پر کبھی کبھار دھوپ کی ٹکڑیاں بھی آ جاتی تھیں۔ ایسے راستے پر چلتے رہنا ہی منزل ہوتی ہے۔ شاعر کا وجدان کیسا عجیب ہوتا ہے۔ ایسے کتنے ہی ان دیکھے راستوں کے خواب دکھاتا ہے۔
اکیلی جاتی ہوئی رہ گزر میں ساتھ چلیں
کہیں پہنچنا نہ ہو اور سفر میں ساتھ چلیں
ایک موڑ کاٹ کر سڑک سیدھی ہوئی تو ذرا آگے دائیں طرف ایک چھوٹی سی خوب صورت عمارت دکھائی دی۔ اس کے سامنے پھولوں کے رنگا رنگ تختے کھلے ہوئے تھے۔ اور ایک ڈرائیو وے عمارت کے دروازے تک جاتا تھا۔ یہ بھٹیاری گالف کلب تھا اور اسی کے لیے ادھر آئے تھے۔ میں اترا تو پہلی نظر عمارت کی دائیں طرف سامنے پھلدار درختوں پر پڑی۔ بڑے بڑے سبز پپیتے لٹکتے تھے۔ ان کے پکنے میں دیر تھی لیکن وہ اس منظر کی ہریالی میں اضافہ کرتے تھے۔ قریب ہی درختوں پر سبز امرود تھے۔ ناریل کے پیڑ بے ثمر تھے لیکن شاید ان کے موسم میں ابھی دیر تھی۔ عمارت کے سامنے سڑک کی دوسری طرف پہاڑی سے کافی نیچے گالف کلب کا میدان دکھائی دے رہا تھا۔ گہرے سبز درختوں کے بیچ دھوپ بھرے اس میدان کا ہلکا سبز رنگ خوابناک لگتا تھا۔ ہم جس سڑک پر آئے تھے یہی سڑک آگے اترتی ہوئی گالف کلب تک جاتی تھی۔
بھٹیاری گالف کلب بھی بنگلہ دیشی فوج کے زیر انتظام تھا۔ یہ دو منزلہ چھوٹی سی خوب صورت عمارت اس وقت خاموش تھی اور عملے اور ہم دو افراد کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔ ہم نے اوپر کی منزل پر کونے کی میز منتخب کی کہ وہاں سے شیشوں کے پار منظر زیادہ خوبصورت تھا۔ مجھے اپنے اخبار کے لیے کالم بھیجنا تھا اور کالم ابھی لکھا بھی نہیں گیا تھا‘ اس لیے میں تو لیپ ٹاپ کھول کر اپنے کام میں لگ گیا۔ اس خاموشی میں کوئی آواز مجھ تک پہنچتی تھی تو صرف پرندوں کی چہکاریں۔ ذہن کام میں لگ جائے تو گردو پیش اور اطراف گم ہونے لگتے تھے۔ آپ کہاں بیٹھے ہیں‘ کون آپ کے قریب ہے۔ کون دور سے بولتا ہے۔ کانچ کے کن گلاسوں کے ٹکرانے سے جلترنگ سا بجتا ہے۔ سب پس منظر میں رہ جاتے ہیں‘ صرف آپ اس دنیا میں ہوتے ہیں‘ اور کوئی نہیں۔ بس اتنا احساس کہ ایک دھند کی دیوار کہیں دور کھڑی ہے اور وہیں کہیں سے سب چہرے سب آوازیں آتی ہیں۔ آپ سب کی نظروں سے غائب ہو جاتے ہیں۔ جب تک چاہیں یہ سلیمانی ٹوپی پہنے رکھیں۔ جب چاہیں اتار کر یہ دھند کی دیوار کھینچ کر قریب کر لیں‘ پردہ ہٹائیں اور ان سب چہروں سے ہم کلام ہو جائیں۔
کالم ای میل کر چکا تو ذہنی بوجھ کم ہوا۔ اب تازہ پھلوں کے اس ٹھنڈے مشروب سے پورا انصاف کیا جا سکتا تھا جو کب سے میرا منتظر تھا۔ ایک گھونٹ سے ٹھنڈک اور طراوت سینے تک اترتی چلی گئی۔ پیاس میں یہ تسکین ایک نشے کی طرح خون میں گھومتی پھرتی تھی۔ کلب میں ایئر کنڈیشنرز چلتے تھے اور باہر کا منظر بھی ٹھنڈا لگتا تھا لیکن باہر اچھی خاصی گرمی تھی۔ ہم نے وہیں بیٹھے بیٹھے حساب لگایا کہ رات 8 بجے کی فلائٹ سے پہلے ہمارے پاس کتنا وقت باقی ہے۔ کئی گھنٹے مزید گھومنے کے لیے مل سکتے تھے۔ یہ اس کی برکت تھی کہ ہم علی الصبح ہوٹل سے نکل آئے تھے اور دن کا کافی حصہ برت لیا تھا۔ کچھ گرمی‘ کچھ کاہلی۔ یہاں سے اٹھنے کا جی نہیں تھا۔ مگر پلٹنا تو ہوتا ہے گھر کو شام ہوئے ۔
کچھ دیر گالف کلب میں گھومنے کے بعد بالآخر بھٹیاری کو الوداع کہنے کا وقت آ گیا۔ سوچا کہ گالف کلب کی طرف اتریں لیکن پھر ارادہ بدل دیا۔ معلوم نہیں وہاں جانے دیں یا نہیں۔ ویسے بھی اصل بھٹیاری دیکھ لیا تھا۔ مجھے چٹاگانگ میں بھٹیاری اپنے سکون‘ قدرے خوشگوار موسم اور سبزے کی وجہ سے سب سے زیادہ پسند آیا تھا۔ اب ہم میدانی سڑک سے پہلے آخری پہاڑی ڈھلوانوں پر تھے۔ پتا نہیں اس کی خوشبودار سانسیں پھر کبھی نصیب ہوں یا نہ ہوں۔ میں نے کئی گہرے سانس لے کر ان کی مہک اپنے اندر بھر لی۔ دائیں طرف ایک اونچے درخت کو دیکھا جس کی شاخیں ہم پر سایہ کرتی تھیں۔ ''پیارے! زندگی نے اگر مہلت دی تو دوبارہ تم سے ملنے آؤں گا۔ پکا وعدہ رہا‘‘۔ بل کھاتی سڑک نے ہمیں الوداع کہا اور مجھے میرا شعر یاد دلایا:
اُس خواب کی تقدیر میں تعبیر اگر ہو
تو ساتھ ہو اور دور کا درپیش سفر ہو

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved