تحریر : مفتی منیب الرحمٰن تاریخ اشاعت     04-06-2026

پیکرِ حیا وسخا

یوں تو تمام صحابہ کِرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عظیم المرتبت ہیں اور پوری امت کے لیے ان کی سیرت مَشعلِ راہ ہے‘ پھر ان میں سے خلفائے راشدین اور عشرۂ مبشّرہ کا ایک ممتاز مقام ہے۔ ہر صحابی اپنی ذات میں اوصاف وکمالات کا جامع ہے‘ لیکن اُن کی شخصیات کے بعض پہلو نہایت نمایاں اور ممتاز ہیں۔ تیسرے خلیفۂ راشد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شخصیت کے نمایاں پہلو حیا‘ سخا (فیاضی)‘ غِنٰی اور حلم ہیں‘ یہ ان کی اَخلاقی ساخت‘ جِبِلّت اور فطری نہاد کے لازمی اجزا ہیں۔
علامہ زمخشری لکھتے ہیں: ''حیا ایسے تغیّر وانکسار کو کہتے ہیں جو انسان کو ہر اُس چیز کے ارتکاب کے سبب لاحق ہوتا ہے جو معیوب ہو اور جس کی مذمت کی جائے‘‘ (تفسیر کشاف‘ ج: 1‘ ص: 110)۔ یعنی یہ ایسا نفسانی ملکہ ہے جو انسان کو برائی کے ارتکاب سے روکتا ہے۔ لیکن دنیا کی کسی زبان میں ایسا کوئی متبادل لفظ نہیں ہے جو حیا کی پوری معنویت کا جامع ہو۔ حیا سے مراد مومن کے اندر ایسے فطری‘ جبلّی اور اخلاقی وصف کا ہونا جو انسان کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مکرمﷺ کی معصیت سے روک دے۔ حدیث پاک میں ہے: ''جب تم میں حیا نہ رہے تو پھر جو چاہے کرتے پھرو‘‘ (بخاری: 3484)۔ اس حدیث سے واضح ہے کہ حیا برائی کے لیے طبعی اور فطری رُکاوٹ ہے اور جب حیا نہ رہے تو سارے اَخلاقی بندھن ٹو ٹ جاتے ہیں۔ رسولﷺ نے فرمایا: ''بے شک اللہ تعالیٰ بہت حیا فرمانے والا ہے‘ نہایت کرم فرمانے والا ہے‘ جب بندہ اس کے سامنے دستِ سوال دراز کرے تو اُسے حیا آتی ہے کہ اس کے ہاتھوں کو خالی لوٹا دے‘‘ (ترمذی: 3627)۔ آپﷺ کی ذات سے حضرت عثمانؓ کی محبت اور حیا کا عالم یہ تھا کہ انہوں نے فرمایا: جب سے میں نے بیعت کے لیے رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں ہاتھ دیا ہے‘ میں نے نہ کبھی گانا گایا‘ نہ جھوٹ بولا اور نہ اپنے دائیں ہاتھ سے اپنی شرم گاہ (یا کسی نا مناسب) چیز کو چھوا ہے‘‘ (ابن ماجہ: 311)۔ یعنی اُن کے دل میں رسول اللہﷺ کے دستِ مبارک کے شرفِ لَمس کا اتنا تقدّس واحترام تھا۔ اسی طرح رسول اللہﷺ بھی آپؓ کی حیا داری کا پاس فرماتے: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہﷺ میرے گھر میں پہلو کے بل اس طرح (بے تکلفی کے ساتھ) لیٹے ہوئے تھے کہ آپﷺ کی دونوں پنڈلیاں کھلی ہوئی تھیں‘ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے اجازت طلب کی‘ آپﷺ نے ان کو اجازت دے دی اور آپ اسی کیفیت میں باتیں کرتے رہے‘ پھر حضرت عمرؓ نے اجازت طلب کی‘ آپﷺ نے ان کو بھی اُسی کیفیت میں اجازت دے دی اور باتیں کرتے رہے‘ پھر حضرت عثمانؓ نے اجازت طلب کی تو آپﷺ اُٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست کر لیے‘ پھر وہ داخل ہوئے اور باتیں کرتے رہے‘ جب وہ چلے گئے تو حضرت عائشہؓ نے پوچھا: (یا رسول اللہﷺ!) حضرت ابو بکروعمر رضی اللہ عنہما آئے تو آپ نے ایسا کوئی اہتمام نہیں کیا جب عثمانؓ آئے تو آپ بیٹھ گئے اور اپنے کپڑوں کو درست فرما لیا (یعنی اس خصوصی اہتمام کا سبب کیا ہے؟) آپﷺ نے فرمایا: میں اس شخص سے کیوں حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں‘‘ (مسلم: 2401)۔ ایک اور روایت میں ہے: ''آپﷺ نے فرمایا: عثمان بہت حیادار ہیں اگر میں انہیں اسی حالت میں اجازت دے دیتا تو مجھے اندیشہ تھا کہ وہ اپنے طبعی حیا کی وجہ سے اپنی آمد کا مقصد بھی بیان نہ کرتے‘‘ (مسلم:2402)۔
دین کی راہ میں حضرت عثمانؓ کی سخاوت اور فیاضی بھی بے مثال تھی‘ چند احادیث پیشِ خدمت ہیں:
حضرت عبدالرحمنؓ بن خباب بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہﷺ کے پاس ایسے وقت میں حاضر ہوا کہ آپﷺ صحابہ کرام کو جیشِ عُسرت (غزوۂ تبوک) کی مالی اعانت کے لیے ترغیب دے رہے تھے۔ حضرت عثمانؓ کھڑے ہوئے اور عرض کی: (یا رسول اللہﷺ!) میں اللہ کی راہ میں سازو سامان سے لدے ہوئے سو اونٹ پیش کرتا ہوں‘ رسول اللہﷺ نے صحابہ کرام کو پھر ترغیب دی توحضرت عثمانؓ نے پھرکہا: میں سازو سامان سے لدے ہوئے دو سو اونٹ پیش کرتا ہوں‘ آپﷺ نے پھر ترغیب دی تو حضرت عثمانؓ نے کہا: میں سازو سامان سے لدے ہوئے تین سو اونٹ پیش کرتا ہوں۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے دیکھا: رسول اللہﷺ منبر سے اُترتے ہوئے بار بار یہ ارشاد فرما رہے تھے: آج کے بعد اگر بالفرض عثمان کوئی بھی نیک کام نہ کریں تو اُن پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہو گا‘‘ (ترمذی : 3700)۔ (2) حضرت عبدالرحمنؓ بن سَمرہ بیان کرتے ہیں: حضرت عثمانؓ ایک ہزار دینار لے کر حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کی گود میں ڈال دیے‘ (راوی کہتے ہیں) میں نے دیکھا: آپﷺ نے اُن اشرفیوں کو اپنی گود میں پلٹتے ہوئے فرمایا: آج کے بعد عثمان کوئی بھی نیکی نہ کرے تو اُن کے لیے کچھ نقصان دہ نہیں ہے‘ یعنی یہی ایک عظیم نیکی ان کی نجات کے لیے کافی ہے‘‘ (ترمذی: 3701)۔ رسول اللہﷺ جس کی حُسنِ عاقبت اور آخرت میں نجات کی بشارت دے دیں تو یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں مکرِ شیطان‘ فریبِ نفس اور عملِ بد سے محفوظ رکھتا ہے اور نیکی کی توفیق عطا فرماتا ہے۔ رسول اللہﷺ کی یہ بشارت اُن کے بارے میں آپ کا حُسنِ ظن بھی ہے اور اُن کی صالحیت پر آپ کے یقین کی بھی مظہر ہے۔ جیشِ عُسرت نہایت تنگ دستی کے زمانے میں تھا اور ایسے مشکل وقت میں معمولی سی مالی اعانت بھی اچھے وقتوں کی بڑی سے بڑی عطا سے زیادہ قابلِ قدر ہوتی ہے۔
جب باغیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی رہائشگاہ کا محاصرہ کر لیا اور آپؓ پر پانی بند کر لیا اور مسجدِ نبوی میں نماز پڑھنے کی بھی اجازت نہ دی تو آپؓ اُن کے سامنے نمودار ہوئے اور فرمایا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر اور حُرمتِ اسلام کا واسطہ دے کر کہتا ہوں: تم لوگوں کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ جب رسول اللہﷺ مدینہ طیبہ تشریف لائے اور یہاں (ایک یہودی کی ملکیت) بِئرِ رومہ کے سوا پینے کے لیے میٹھا پانی دستیاب نہ تھا‘ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کون ہے جو جنت کی نعمتوں کے بدلے میں اس کنوئیں کو خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دے‘ پھر میں نے اپنے ذاتی مال سے اسے خرید کر وقف کر دیا تھا‘ تو کیا آج تم مجھ ہی کو اس کا پانی پینے سے روک رہے ہو اور میں نمکین پانی پینے پر مجبور ہوں‘ انہوں نے کہا: ہاں‘ تو حضرت عثمانؓ نے کہا: میں تمہیں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں: مسجدِ نبوی نمازیوں کے لیے تنگ ہو گئی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: کون ہے جو جنت کی نعمتوں کے عوض فلاں جگہ کو خرید کر مسجد کے لیے وقف کر دے‘ پس میں نے اپنے ذاتی مال سے وہ جگہ خرید کر مسجد کے لیے وقف کر دی تھی تو کیا آج مجھ کو ہی اس مسجد میں دو رکعت نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے‘ اُن (سنگ دل) لوگوں نے کہا: ہاں‘ (ترمذی: 3703)۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے سیرتِ عثمانؓ کا ایک ایمان افروز واقعہ لکھا ہے: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں مدینے میں قحط پڑا اور غلے کی قلت ہو گئی۔ حضرت عثمانؓ کا ایک ہزار اونٹوں پر مشتمل تجارتی قافلہ اشیائے ضرورت سے لدا ہوا مدینے پہنچا۔ تاجر دوڑ پڑے اور پچاس فیصد منافع کی پیشکش کی‘ حضرت عثمانؓ نے فرمایا: میرے پاس چودہ سو گنا منافع کی یقینی پیشکش موجود ہے اور انہوں نے وہ سارا مال رضائے الٰہی کے لیے فقرائے مدینہ پر صدقہ کر دیا۔ (ازالۃ الخفا‘ ج: 2‘ ص: 224‘ خلاصہ)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved