تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     05-06-2026

ایک تھا ڈپٹی کمشنر

پچھلے کالم میں بات ہو رہی تھی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی‘ جہاں میں گزشتہ 25برسوں سے مسلسل جاتا رہا ہوں۔ وہاں میں نے کتنے ہی بڑے بڑے سکینڈلز دیکھے اور کتنے ہی شریف سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے چہروں سے نقاب اترتے دیکھے۔ ایک بات جو میں نے وہاں سے سیکھی وہ یہ کہ جب تک ملک کا کوئی چھوٹا یا بڑا بیوروکریٹ منظوری نہ دے‘ وزیراعظم بھی ایک دھیلے کی کرپشن نہیں کر سکتا۔ اگر میں یہ کہوں کہ وزیراعظم ہوں یا کابینہ کے ارکان اور وزرا‘ وہ سرکاری خزانے سے ایک کپ چائے تک نہیں پی سکتے اگر گریڈ 17کا ایک سیکشن آفیسر اس الاؤنس کی منظوری نہ دے۔ شاید آپ میں سے بہت سے لوگوں کو میری یہ بات مبالغہ یا گپ لگے لیکن یہ گپ نہیں‘ بلکہ ملک کا قانون ہے۔ کسی بھی وزارت میں خواہ مالی معاملہ ہو یا انتظامی‘ تمام حساب کتاب کا جوابدہ وزیراعظم یا وزیر نہیں بلکہ اس وزارت کا سیکرٹری ہوتا ہے جسے پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر کا عہدہ حاصل ہوتا ہے۔ اچھا کرے یا برا‘ تمام ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے۔ آپ نوٹ کریں کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں کوئی وزیر اپنے دورِ اقتدار کا حساب کتاب دینے نہیں جاتا بلکہ وہاں وفاقی سیکرٹری کو طلب کیا جاتا ہے اور اسی سے سوال و جواب ہوتے ہیں۔ اسی لیے اگر کمیٹی یہ فیصلہ کرے کہ کسی وزارت میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات ہونی چاہئیں تو ایف آئی اے یا نیب کو بھیجے جانے والے کیسز وزارت کے افسران کیخلاف ہوتے ہیں کیونکہ فائلوں پر تمام اختیارات اور فیصلوں کے نیچے انہی افسران کے دستخط ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ کہا جا سکتا ہے‘ اور اکثر افسران کہتے بھی ہیں کہ یہ وزیر یا وزیراعظم کا فیصلہ تھا جس پر وہ عملدرآمد کر رہے تھے‘ اس لیے وہ بے قصور ہیں لیکن قانون اس معاملے میں واضح ہے۔ وزیر یا حکومت پالیسی بنا سکتی اور فیصلے کر سکتی ہے مگر یہ طے کرنا کہ وہ پالیسی اور فیصلے قانونی ہیں یا غیر قانونی‘ یہ وزارت کے افسران کی ذمہ داری ہے۔ اگر وزیر کا فیصلہ قانون کے مطابق نہیں تو افسر اسے نافذ نہیں کرے گا۔ وہ پہلے قانون سے رہنمائی لے گا اور پھر فائل پر اپنی رائے دے گا۔ وزیر تو کچھ عرصے کیلئے آتے ہیں۔ انہیں اپنی وزارت کے قانونی پہلوؤں کا مکمل علم نہیں ہوتا۔ اسی لیے بیوروکریسی کا ادارہ تشکیل دیا گیا تھا کہ وہ نہ صرف قانون جانتی ہو بلکہ ریاست کی مستقل ملازم بھی ہو۔ اسے باقاعدہ تنخواہ ملتی ہے‘ پنشن ملتی ہے چنانچہ یہ ذمہ داری ان بیوروکریٹس پر ڈالی گئی۔ اب بہت سے لوگ کہیں گے کہ اگر کوئی وفاقی سیکرٹری یا دوسرا افسر وزیر یا وزیراعظم کا حکم نہیں مانے گا تو اسے گھر بٹھا دیا جائے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ہر افسر ہی غلط کام کرنے سے انکار کر دے تو کتنے افسران کو گھر بٹھایا جائے گا ؟
ایک سابق سرکاری افسر دوست نے مجھے ایک پرانا واقعہ سنایا۔ اُس کی ملاقات بھٹو دور کے ایک ڈپٹی کمشنر ملتان سے ہوئی۔ اُن دنوں نواب صادق قریشی پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے۔ انہیں اپنی زمین سے متعلق ایک معاملے میں اُس ڈی سی سے کام تھا۔ انہوں نے کہا کہ ذرا اس معاملے کو دیکھ لیجیے۔ ڈی سی نے فائل دیکھی اور جواب دیا کہ یہ کام نہیں ہو سکتا؛ چنانچہ فیصلہ ان کے خلاف دے دیا۔ اس پر نواب صاحب نے مختلف انداز میں اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔ ملتان ایئرپورٹ پر جب وزیراعلیٰ آتے تو تمام ضلعی افسران استقبال کیلئے موجود ہوتے۔ نواب صاحب سب سے ہاتھ ملاتے اور حال احوال پوچھتے مگر اس واقعے کے بعد وہ ڈپٹی کمشنر سے ہاتھ تو ملاتے لیکن ایک لفظ بھی نہ بولتے۔ ڈی سی صاحب کو دیگر افسران کے سامنے یہ رویہ اپنی سبکی محسوس ہوتا۔ انہیں اندازہ ہو گیا کہ وزیراعلیٰ ان سے ناراض ہیں۔ ایک ویک اینڈ پر جب نواب صادق قریشی ملتان آئے تو ایئرپورٹ پر پھر وہی صورتحال تھی۔ اس پر ڈی سی صاحب نے ان کے سٹاف آفیسر کے ذریعے شام کو ملاقات کا وقت لیا۔ ملاقات میں انہوں نے کہا: سر مجھے معلوم ہے کہ آپ مجھ سے ناراض ہیں۔ آپ چاہیں تو مجھے یہاں سے ٹرانسفر کر دیں اور کسی اور کو تعینات کر دیں۔ نواب صاحب نے پوچھا: کیا ہوا؟ ڈی سی صاحب نے جواب دیا: پہلے آپ دعا سلام کے بعد میرا حال احوال بھی پوچھتے تھے لیکن اب نہیں پوچھتے۔ اس پر نواب صادق قریشی نے کہا: وہ آپ کا اختیار تھا جس کے تحت آپ نے فیصلہ دیا۔ میں نے اس میں مداخلت نہیں کی یا یوں کہیے کہ آپ نے مجھے مداخلت نہیں کرنے دی۔ اب اگر میں آپ سے حال احوال نہیں پوچھتا اور دوسروں سے پوچھتا ہوں تو یہ میری مرضی ہے۔ جہاں تک آپ کے ٹرانسفر کا تعلق ہے تو میں وہ نہیں کروں گا۔ آپ نے وہی کیا جو آپ کو درست لگا اور میں وہ کر رہا ہوں جو مجھے درست لگ رہا ہے۔ لہٰذا آپ اپنا کام کریں‘ میں اپنا کام کر رہا ہوں۔
میرے اس دوست نے اس سابق ڈپٹی کمشنر ملتان سے پوچھا کہ آخر وزیراعلیٰ نے آپ کو ہٹایا کیوں نہیں حالانکہ معاملہ ان کے ذاتی مفاد کا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ نواب صاحب کے ظرف کو ایک طرف رکھ دیا جائے تب بھی اس زمانے کی بیوروکریسی ایسی تھی کہ افسران کی سوچ اور اندازِ کار میں انیس بیس کا فرق تو ہو سکتا تھا لیکن دس بیس کا نہیں‘ جیسا کہ آج کل ہے۔ اگر انہیں ہٹا دیا جاتا تو ان کی جگہ آنے والا نیا ڈی سی بھی وہ غلط کام نہ کرتا۔ اگر کرتا تو پوری سول سروس میں اس کی بدنامی ہوتی‘ اس لیے افسران ایسا رسک نہیں لیتے تھے۔ اگر دوسرا ڈی سی آ جاتا اور وہ بھی انکار کر دیتا تو اس سے نواب صاحب کی اپنی سبکی ہوتی۔
آج صورتحال اسکے بالکل برعکس ہے۔ اگر آپ کسی اچھے افسر کو انکار کی وجہ سے ہٹائیں تو ایک لائن لگی ہوتی ہے جو کہتی ہے کہ سر ہمیں حکم کریں۔ اب افسران سول سروس اکیڈمی سے نکلتے ہی ایک دن بھی ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ وقت گزرنے کے ساتھ بیورو کریسی کا معیار مسلسل گڑتا چلا گیا ہے۔ پھر ضیا مارشل لاء کے بعد آنے والے سیاستدانوں نے بیورو کریٹس کو مختلف 'پیکیجز‘ دے کر اپنا ذاتی وفادار بنا لیا۔ تنخواہیں تو وہ عوام کے ٹیکسوں سے لیتے مگر سیاسی حکمرانوں کے مفادات کا خیال رکھتے جنہوں نے ان کی ٹرانسفر اور پوسٹنگ کرنا ہوتی۔ ہر سیاستدان کو ایسے ذاتی وفادار درکار تھے جو انہیں قانون اور قواعد کی بھول بھلیوں میں نہ الجھائیں اور ان کے کام کر کے دیں۔ منہ سے جو لفظ نکلے اس پر فوراً عمل ہو جائے۔ انہیں یہ نہ بتائیں کہ فلاں کام کی قانون میں اجازت نہ ہونے کے باعث و ہ نہیں ہو سکتا۔ سیاستدانوں کو ایسے افسران چاہیے ہوتے جو قانون کو ان کی خواہشات کے مطابق ڈھالیں نہ کہ رکاوٹیں کھڑی کریں۔
2013ء میں وزیراعظم نواز شریف چین کے دورے پر گئے تو دنیا نیوز نے مجھے ادارے کی جانب سے اس دورے کی کوریج کیلئے بھیجا۔ نواز شریف نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انہیں ایسے سینئر افسران نہیں چاہئیں جو ہر بات پر قانون سمجھانے بیٹھ جائیں بلکہ انہیں ایسے نوجوان افسران درکار ہیں جو Go Getters ہوں۔ میں نے پہلی بار یہ اصطلاح سنی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ جو ان کے منہ سے نکلے بس اسے ہی قانون سمجھا جائے اور بغیر کسی اگر مگر کے فوراً نافذ کر دیا جائے۔ ایسے افسران نے بعد میں بہت ترقی کی۔ ایک پنجاب میں شہباز شریف کے لاڈلے بنے تو دوسرے نواز شریف کے۔ دونوں کو Go Getter ہونے کا بھرپور انعام ملا۔ پچھلے نگران دور میں دونوں کو نگران وزیر بھی بنوایا گیا۔ اب چونکہ نواز شریف وزیراعظم نہ بن سکے اس لیے ان کا وفادار نئے سیٹ اَپ کا حصہ نہ بن سکا جبکہ شہباز شریف کے وزیراعظم بنتے ہی ان کے معتمدِ خاص نہ صرف سینیٹر بنے بلکہ گریڈ بیس سے ریٹائر ہونے کے باوجود آج بائیسویں گریڈ تک کے اپنے سینئر افسران کے بھی باس بنے ہوئے ہیں۔ اس وقت پاکستان کی نوجوان بیورو کریسی کے رول ماڈل یہی افسران ہیں۔ پیغام واضح ہے: کچھ بھی کرنا پڑے کر گزرو مگر صاحب کو ''ناں‘‘ نہیں کہنا۔ بس یہی کہانی ہے ہماری بیوروکریسی کی... ڈپٹی کمشنر ملتان سے لے کر ان Go Getter افسران تک۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved