پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان کو قائداعظم محمد علی جناح نے آزادی کے فوراً بعد اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں زیرِ بحث مسئلہ فلسطین پر عربوں کے مؤقف کی حمایت کیلئے خصوصی طور پر بھیجا تھا۔ یہ پاکستان کا مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے موقف کا واضح اظہار اور ایک اٹوٹ فیصلہ تھا۔ پاکستان کا مؤقف آج بھی اس حوالے سے واضح اور غیر متزلزل ہے کہ جب تک فلسطینی ریاست کا قیام‘ جس میں القدس کا علاقہ بھی شامل ہو‘ عمل میں نہیں آتا‘ خطے میں حقیقی اور پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ آج بھی یہ حقیقت ملاحظہ کی جا سکتی ہے کہ تین ماہ سے زائد عرصہ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے متعدد بار جنگ کے خاتمے کے دعوؤں کے باوجود خلیج میں جنگ کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔ اگرچہ آٹھ اپریل سے ایران‘ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی قائم ہے مگر لبنان اور غزہ میں اسرائیلی حملے بدستور جاری ہیں اور اب امریکہ اور ایران میں بھی جھڑپیں دوبارہ شروع ہو چکی ہیں۔غزہ میں اکتوبر 2023ء سے اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی باشندے‘ جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے‘ اسرائیلی حملوں میں شہید ہو چکے ہیں جبکہ ایک لاکھ سے زیادہ زخمی ہیں۔ تین برس کی مسلسل بمباری اور گولا باری کے نتیجے میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دفن ہزاروں فلسطینیوں کی لاشیں اس کے علاوہ ہیں۔ لبنان میں بھی دو مارچ کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا اعلان ہوا تھا مگر ملک کے جنوبی حصے کے علاوہ دارالحکومت بیروت پر بھی اسرائیلی حملے جاری ہیں‘ بلکہ اسرائیل کی زمینی فوج لبنان کے جنوبی حصے میں داخل ہو کر دریائے لیطانی عبور کرتے ہوئے بیروت کے قریب پہنچ چکی ہے۔ دو مارچ سے دو جون تک کے عرصے میں اسرائیل اپنے فضائی اور زمینی حملوں میں لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق 3468 لبنانی باشندوں کو شہید اور 10577 کو زخمی کر چکا ہے۔صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ انہوں نے ٹیلی فون پر سخت زبان استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم کی جنگ بندی کی متواتر خلاف ورزیوں پر سرزنش کی ہے جس کے نتیجے میں‘ ان کے مطابق‘ اسرائیل نے بیروت کی طرف اپنی فوجوں کی پیش قدمی روک دی ہے‘ مگر جنوبی لبنان میں اسرائیل کے فضائی حملے جاری ہیں۔ ان کے جواب میں حزب اللہ کی طرف سے اسرائیل کے شمالی علاقوں پر حملے کیے جارہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین جنگ بندی کی کوشش کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں ان کا دعویٰ ہے کہ حزب اللہ نے اس پر اپنی آمادگی کا اظہار کر دیا ہے تاہم لبنان میں مکمل جنگ بندی کا امکان کم ہے کیونکہ حزب اللہ نے پورے لبنان میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے‘ اس پر اسرائیل راضی ہوتا نظر نہیں آتا۔لبنان پر اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کی دنیا بھر بشمول یورپ میں بھی سخت مذمت کی جا رہی ہے۔ ایران نے سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر بات چیت اور امریکیوں کے ساتھ پیغامات کے تبادلے کو معطل کر نے کا اعلان کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ایران امریکہ ڈیل میں لبنان میں جنگ بندی بھی شامل ہے‘ لہٰذا پہلے اسے نافذ کیا جائے۔ صدر ٹرمپ نے ایران کے اس ردِعمل کے باوجود دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت ''تسلی بخش طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے‘ بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے اور آئندہ چند روز میں ڈیل کے فریم ورک (ایم او یوز) پر دستخط ہونے والے ہیں‘‘۔ قبل ازیں 27 مئی بروز جمعہ کو صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ایران کے ساتھ ڈیل ہو چکی ہے جس کے تحت امریکہ ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ آبنائے ہرمز اور ایران کی ناکہ بندی پر مامور امریکی بحری جہاز اب واپس اپنے اڈوں کو جانے کی تیاری شروع کر دیں کیونکہ وہ ''سچوایشن روم‘‘ میں حتمی اعلان کرنے والے ہیں۔اگلے دن سچوایشن روم میں ٹرمپ کا اپنے مشیروں کے ساتھ اجلاس تو ہوا مگر انہوں نے ایران کی ناکہ بندی کے خاتمے کا اعلان مؤخر کر دیا۔
گزشتہ چند روز میں امریکی سینٹرل کمانڈ کی طرف سے خلیج فارس میں ایرانی بحریہ کے ٹھکانوں پر جو بمباری کی گئی ہے اور اس کے جواب میں ایران کی طرف سے کویت‘ بحرین اور متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر جو حملے کیے گئے ہیں‘ انہوں نے ایران اور امریکہ کے مابین مکمل جنگ کے خدشات کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔ اگرچہ سینٹرل کمانڈ کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں آٹھ اپریل سے جاری جنگ بندی خطرے میں نہیں پڑے گی لیکن ایران کی جانب سے مجوزہ ڈیل کے مسودے کو قابلِ قبول قرار دینے کے بعد ٹرمپ کی جانب سے ایک مرتبہ پھر اسے غیر تسلی بخش کہہ کر واپس ایران بھیجنے پر دنیا میں دوبارہ تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے‘ اور ایک ایسی جنگ جس کے خاتمے کا خود صدر ٹرمپ اور ان کے وزیر خارجہ مارکو روبیو اعلان کر چکے تھے‘ کے خطرات دوبارہ منڈلانے لگے ہیں۔ایران کے ساتھ تنازع پر امریکی صدر ٹرمپ کی تازہ ترین پوزیشن یہ ہے کہ بات چیت جاری ہے اور تسلی بخش طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے مگر یہ کس سمت جائے گی‘ اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔دوسری طرف سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو نے ایوان کی فارن افیئرز کمیٹی کے سامنے دوٹوک بیان دیا ہے کہ امریکہ نے ایران کیخلاف ''ایپک فیوری‘‘ کے نام سے جس جنگ کا آغاز کیا تھا‘ وہ امریکہ کی فتح کیساتھ ختم ہو چکی ہے۔ اس پر کانگریس ممبر سارہ جیکبز نے سوال کیا کہ ہم آپ کی اس بات کا کیسے یقین کر لیں کہ ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ ختم ہو گئی ہے جبکہ امریکہ کے بحری جنگی جہاز ایرانی ساحل کے قریب پوزیشن سنبھالے کھڑے ہیں اور علاقے میں امریکی اڈوں پر امریکی بمبار طیارے ایران پر بمباری کیلئے تیار بیٹھے ہیں؟ سیکرٹری روبیو کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ البتہ صدر ٹرمپ نے یہ کہہ کر کہ ڈیل پر دستخط ہونے تک ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی‘ مؤقف اختیار کیا کہ اس سے ایران کو روزانہ کئی ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے اور ٹرمپ کے بقول بحری ناکہ بندی بمباری سے زیادہ مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔اگر امریکہ کی طرف سے ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رہتی ہے تو ایران کی طرف سے بھی مخالف ممالک کے بحری جہازوں اور ٹینکروں کے آبنائے ہرمز سے گزرنے پر پابندی برقرار رہے گی۔نتیجتاً کشیدگی صرف امریکہ اور ایران تک نہیں رہے گی بلکہ اسکا دائرہ خلیج فارس کے دیگر ممالک مثلاً یو اے ای‘ قطر اور بحرین تک بھی پھیل جائے گا۔
بعض تجزیہ کاروں کی رائے میں امریکہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈال کر اس کی معیشت کو تباہ کرنا چاہتا ہے تاکہ تہران واشنگٹن کی ان تمام شرائط کو مان لے جو امریکہ اور اسرائیل کھلی جنگ کے ذریعے منوانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف نئی جنگ کا آغاز نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اقتصادی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کے ذریعے مطلوبہ مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ صدر ٹرمپ پر امریکی کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف جنگ کی ممانعت کے حق میں قرارداد کی منظوری کے بعد ایران کے خلاف بھرپور جنگ مزید مشکل ہو گئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران کے خلاف جنگ کسی مختلف شکل میں جاری رکھیں گے کیونکہ دونوں کو معلوم ہے کہ جن مقاصد کیلئے انہوں نے جنگ شروع کی تھی وہ حاصل نہیں ہو سکے۔کچھ تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی پر سمجھوتا ہو جائے تب بھی خطے میں امن قائم نہیں ہو گا اور اس کی بنیادی وجہ مسئلہ فلسطین ہے‘ جسے ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے ایران کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کر کے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved