وطنِ عزیز میں مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی‘ بیروزگاری اور غربت کے باعث لوگوں کی قوتِ خرید سکڑتی چلی جا رہی ہے۔ دوسری طرف رواں سال قربانی کے جانوروں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی تھیں لہٰذا ان حالات میں ملک میں اکثریت کیلئے سنتِ ابراہیمی کی انجام دہی ممکن نہیں ہو پائی۔ کئی ایسے افراد جو ہر سال خود قربانی کرتے تھے‘ اس سال وہ بھی اپنی علیحدہ قربانی کے بجائے بڑی قربانی میں حصہ ڈالنے پر مجبور ہو گئے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے کیلئے صاحبانِ جاہ وحشمت کے درمیان عیدِ قربان کیلئے خریدے گئے جانوروں کی نمود ونمائش کا سلسلہ ایک غیر اعلانیہ مقابلے کی صورت جاری رہا۔ اس نے اشرافیہ اور عوام کے مابین پائی جانے والی سماجی ومعاشی خلیج کو مزید گہرا کرکے غریبوں کی بے بسی کیلئے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سنت ابراہیمی کی ادائیگی ایک مخصوص طبقے کیلئے مذہبی فریضے سے زیادہ معاشرتی رسم بن کر رہ گئی ہے جس میں تصنع‘ ریا کاری اور دکھاوے کے عناصر واضح نظر آتے ہیں۔ قرآن کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ''اللہ تک نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ خون‘ بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے‘‘۔ جانوروں کی گردن پر چھری چلاکر قربانی کا فریضہ تو ادا ہو جاتا ہے لیکن اگر اس فریضے کو نمود و نمائش کا ذریعہ بنا دیا جائے تو خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والی لگ بھگ ملک کی نصف آبادی پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں‘ اس پر غور کرنا بھی ضروری ہے۔ اشرافیہ تو اپنے رنگ برنگے بیل‘ دنبے‘ چھترے‘ بکرے اور اونٹ وغیرہ کی وڈیوز اور تصویریں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر کے اپنی ثروت ودولت کی دھاک بٹھا لیتی ہے مگر ان کا یہ عمل ملک کی نصف سے زائد آبادی کی محرومی اور بے بسی کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ اگر اشرافیہ اور عوام کے باہم متضاد طرزِ زندگی کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ملکی سطح پر کیے جانے والے ہر کٹھن فیصلے کے مضمرات کا سارا بوجھ عوام ہی اٹھاتے ہیں۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے لے کر بجلی کے کمر توڑ بلوں تک‘ بڑھتے ہوئے اندرونی وبیرونی قرضوں سے لے کر اشیائے خور و نوش کی قیمتوں تک اور منڈیوں میں کسانوں کی رسوائی سے لے کر غریبوں کی جگ ہنسائی تک‘ اس سب کا بوجھ بے بس عوام ہی اٹھانے پر مجبور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے آئے روز دل چیرنے والے اندوہناک واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کہیں غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر باپ اپنی بچوں کو موت کی نیند سلا کر خود سوزی کر لیتا ہے تو کہیں ماں اپنی اولاد سمیت نہر میں کود کر زندگی کا خاتمہ کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ آئے روز پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بے سبب چالانوں کے نتیجے میں اپنے موٹر سائیکل اور رکشوں کو آگ لگا کر دہائیاں دیتے‘ سینہ کوبی کرتے افراد میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے آ جاتے ہیں۔ یوں بے بس اور بے کس عوام ہی دراصل قربانی کے اصل بکرے ہیں جن کی گردنوں پر سال بھر مہنگائی‘ غربت اور بھوک و افلاس کے ٹوکے چلائے جاتے ہیں جبکہ دوسری طرف اشرافیہ اور ان کی اولادوں کا لائف سٹائل غریبوں کا منہ چڑاتا رہتا ہے۔
عید قربان کے گزر جانے کے بعد بھی پاکستان میں قربانی کا سیزن جاری ہے کہ بجٹ کی آمد آمد ہے۔ اشرافیہ کیلئے یہ کبھی بھی دشوار نہیں رہا کیونکہ ان کیلئے تو ہر جانب سہولتیں اور مراعات ہیں جبکہ بجٹ قربانی کا بوجھ بھی نچلے طبقے پر ہی پڑتا ہے اور مراعات کا پورا فائدہ محض اوپر کے طبقے کو پہنچتا ہے۔ پاکستان میں اشرافیہ وہ طبقہ ہے جو ریاست کے وسائل تک براہِ راست رسائی رکھتا ہے مگر قومی خزانے میں ٹیکسوں کی مد میں ان کا حصہ ان کے طرزِ زندگی سے ہرگز مطابقت نہیں رکھتا۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق ہماری اشرافیہ کئی قسم کی ٹیکس مراعات حاصل کرتی ہے جس میں رئیل اسٹیٹ‘ سٹاک مارکیٹ میں کیپٹل گین پر رعایتوں کے نتیجے میں ٹیکس گیپ کا حجم تقریباً تین ہزار ارب روپے کے لگ بھگ ہے۔ علاوہ ازیں دیگر مراعات میں مفت یا رعایتی پلاٹ‘ پٹرول‘ بجلی‘گیس‘ طبی اور سفری سہولتیں شامل ہیں اور ان تمام کا بوجھ براہِ راست غریب عوام پر پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چینی‘ گندم‘ کھاد‘ انرجی سیکٹر میں سبسڈی اور لائسنسنگ وغیرہ کا فائدہ بھی مخصوص طبقے کو پہنچتا ہے۔ اس کی ایک بڑی مثال نجی پاور پلانٹس ہیں جن کو کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں سالانہ اربوں روپے ادا کیے جاتے ہیں مگر ان کی قیمت عام آدمی برداشت کرتا ہے۔ بھاری بھرکم قرضوں کی معافیاں بھی قومی خزانے پر بوجھ میں اضافے کا باعث بنتی ہیں اور قرضے معاف کرانا اشرافیہ کا روایتی طریقہ رہا ہے۔ جب تک یہ مراعات جاری رہیں گی‘ ریاست کے پاس تعلیم‘ صحت‘ انفراسٹرکچر کیلئے پیسہ نہیں ہوگا جس کے نتیجے میں عام لوگوں کی زندگی اجیرن بنتی رہے گی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صرف عوام ہی قربانی کیوں دیں؟ اشرافیہ کو قربانی کے استھان پر کب لایا جائے گا؟ اشرافیہ کی قربانی کا مطلب یہ ہے کہ ٹیکس سسٹم میں برابری لائی جائے۔ زرعی آمدن‘ جائیداد اور سرمایہ کاری سب پر یکساں ٹیکس کا نفاذ یقینی بنایا جائے۔ ٹیکس دینا ریاست کیلئے قربانی ہے کیونکہ یہ ذاتی دولت کو اجتماعی فلاح کیلئے دینا ہے۔ اس کے علاوہ مفت پٹرول‘ بجلی‘ طبی اور سفری مراعات کے کلچر کو ختم کرنا ضروری ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ان مراعات سے سالانہ 400 سے 500 ارب روپے بچایا جا سکتا ہے‘ جو تعلیم سے محروم بچوں کی تعلیم پر لگ سکتا ہے۔ علاوہ ازیں چینی‘ گندم اور انرجی سیکٹر میں ایسی تمام پالیسیاں ختم کرنا ضروری ہیں جو محض ایک مخصوص طبقے کو فائدہ دیتی اور مہنگائی کا سارا بوجھ عام آدمی پر ڈالتی ہیں۔ آئی ایم ایف کی پاکستان میں طرزِ حکمرانی اور بدعنوانی پر مبنی تشخیصی رپورٹ کے مطابق پاکستان ہر سال اپنی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا چھ فیصد اشرافیہ کی مراعات‘ ٹیکس چھوٹ اور سبسڈیز پر خرچ (ضائع) کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے مشترکہ تخمینوں کے مطابق یہ رقم سالانہ تقریباً 17.4ارب ڈالر بنتی ہے۔ ان حالات میں ریاست کا عوام سے قربانی مانگنے کا کیا جواز رہ جاتا ہے؟ ریاست تبھی عوام سے قربانی مانگ سکتی ہے جب اشرافیہ خود قربانی دیتی نظر آئے۔ پاکستان کی اشرافیہ پہلے اپنی خواہشات کی قربانی دے کر پاکستان میں صحیح معنوں میں معاشی و سماجی انصاف پر مبنی ایک مربوط اور مضبوط نظام وضع کرے جس میں غریب کا استحصال نہ ہو اور نصف سے زیادہ آبادی کیلئے زندگی وبال نہ ہو۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب تک اوپر والا طبقہ اپنی مراعات کی قربانی پیش کرکے ملکی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ نہیں ڈالے گا تب تک آئی ایم ایف پروگرام‘ مہنگائی اور گردشی قرضوں کا چکر نہیں ٹوٹے گا۔
آج پاکستان کو معاشی عدل وانصاف کی ضرورت ہے۔ اگر اشرافیہ اپنی مراعات کی قربانی پیش کرے تو ریاست کے پاس وسائل آئیں گے‘ عوام کا اعتماد بحال ہو گا اور سماجی ربط ضبط مضبوط ہو گا۔ یہ عمل ایک مثبت سماجی تبدیلی کا پیغام بن جائے گا۔ لہٰذا وقت آن پہنچا ہے کہ ہر بجٹ میں عوام کو قربانی کا بکرا بنانے کے بجائے اس سال اشرافیہ اپنی مراعات‘ حرص اور لالچ کو ذبح کر کے دوسروں کیلئے قابلِ تقلید مثال بن جائے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved