تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     07-06-2026

قائد اعظم سے دولتانہ تک

میرے پچھلے دو تین کالم جو سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے گورننس میں کردار کے بارے میں تھے انہوں نے قارئین میں کچھ دلچسپی پیدا کی ہے۔ اس طرح جو کچھ بیروزگاروں کے نوکری ملتے ہی اچانک بدلتے رویوں کے بارے میں لکھا اس پر بھی بحث ہو رہی تھی۔ بہت سے لوگوں کو میرا وہ کمنٹ بے رحمانہ لگا یا کچھ نے اسے میری بے حسی سے تعبیر کیا کہ اب میرے اندر تعلیم یافتہ بیروزگاروں کے لیے ہمدردی کم ہوگئی ہے۔ میرے خیال میں تعلیم یافتہ بیروزگار کو سب افسران‘ سسٹم یا اوپر بیٹھے سب اس وقت تک ہی بُرے لگتے ہیں جب تک وہ ان کے ساتھ جا کر نہیں بیٹھ جاتا۔ مجھے ایک لفظ سے بہت چڑ ہے جس کا نام سسٹم ہے۔ یہ وہ ٹرک کی بتی ہے جس کے پیچھے اس قوم کو لگا دیا گیا ہے کہ سسٹم ٹھیک ہو گا تو ملک ٹھیک ہو جائے گا۔ آج تک کسی نے سسٹم کو آنکھوں سے دیکھا ہو تو مجھے بتائے۔ ہاں اگر سرکاری دفاتر میں بیٹھے افسران اور اہلکاروں کو آپ سسٹم سمجھتے ہیں تو پھر اپنی غلط فہمی دور کر لیں کہ سسٹم ٹھیک ہو گا تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ وہ سب افراد یا افسران یا اہلکار آپ خود ہیں جو اس اَن دیکھے سسٹم کے ٹھیک ہونے کا انتظار کر رہے ہیں جو کبھی ٹھیک نہیں ہو گا کیونکہ وہ سسٹم آپ خود ہیں۔ جس دن آپ سرکاری دفاتر میں افسر یا اہلکار لگ کر لوگوں سے کام کرنے کے پیسے نہیں لیں گے‘ انہیں تنگ یا ذلیل نہیں کریں گے‘ پوری محبت اور احترام کے ساتھ قانونی کام میں رکاوٹ کے بجائے سہولت دیں گے‘ اُس دن سسٹم بدل جائے گا۔ لیکن یہ سسٹم نہیں بدلتا کیونکہ ہم سب کو یہ سسٹم بہت پسند ہے اس لیے تو ہم اس سسٹم کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ ہر پڑھا لکھا بیروزگار اس لیے سرکاری نوکری چاہتا ہے۔ وہ دوسروں کے ساتھ وہی کچھ کرنا چاہتا ہے جو اُس کے ساتھ ہو رہا تھا۔ جب یہ سب وہی غلط کام کر رہے ہوتے ہیں جس کے خلاف یہ دھواں دھار بحث کرتے تھے تو ان سے پوچھیں تو جواب دیں گے کہ کیا کریں‘ سسٹم ہی ایسا ہے۔ سب نے اپنی کھال بچانے کے لیے ایک ٹرک ڈھونڈ کر اس کے پیچھے سرخ بتی پر لفظ سسٹم لکھ دیا ہے جو چلتا جا رہا ہے اور پوری قوم اس کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ خیر ''ایک تھا ڈپٹی کمشنر‘‘ والے کالم پر سابق وفاقی سیکرٹری طارق محمود نے ایک اہم کمنٹ میری فیس بک پر کیا۔ طارق صاحب خود ڈپٹی کمشنر اور کمشنر رہے ہیں۔ ان کی خودنوشت ''دامِ خیال‘‘ ان کے سروس کے طویل تجربات کے بارے میں ہے۔ شاندار آٹو بائیو گرافی ہے جس میں مشرقی پاکستان سے پاکستان تک کی بے شمار کہانیاں ہیں جو اس ملک کے حالات سمجھنے میں بہت مدد دیتی ہیں۔ طارق محمود ایک بڑے لکھاری ہیں اور ان کے ناول ''اللہ میگھ دے‘‘ نے بڑی شہرت پائی تھی۔ ڈاکٹر انوار احمد ان کی ملتان اور بہاولپور میں ڈپٹی کمشنر اور کمشنر کے عہدے پر رہتے ہوئے مشکل میں پھنسے انسانوں کی مدد کی کہانیاں ہمارے ساتھ شیئر کرتے رہے ہیں۔ طارق محمود کے اس پس منظر کو بیان کرنا اس لیے ضروری ہے کہ ان کا لکھا ہوا کمنٹ ہمیں سمجھنے میں آسانی رہے گی۔ وہ خود اس بیوروکریٹ کلاس سے تعلق رکھتے ہیں جو دھیرے دھیرے غائب ہو گئی ہے۔ خیر طارق صاحب لکھتے ہیں ''سیاستدانوں اور بیوروکریسی کے کل پرزوں کی اس کیفیت کے بارے اپنے ہم عصر کے والد کا قصہ سنانا چاہوں گا‘ 1950ء کے عشرے میں وہ بطور انڈر سیکرٹری تعینات تھے جو سیکشن آفیسر گریڈ سولہ؍ سترہ کا افسر ہوتا تھا۔ ممتاز دولتانہ وزیراعلیٰ تھے۔ کیبنٹ میٹنگ کی طوالت کی وجہ سے خلافِ روایت لنچ سرو کرنا پڑ گیا۔ پچاس روپے بارہ آنے کا کابینہ کے لنچ کا بل ان کے پاس آیا تو انہوں نے لمبا نوٹ تحریر کر کے سینئرز کے توسط سے دولتانہ صاحب کو بھیج دیا اور باور کرایا کہ قواعد میں اس کی گنجائش نہ تھی۔ نوٹ پر آبزرویشن لکھی کہ اب کیا کیا جائے۔ معاملہ دولتانہ صاحب کے پاس آیا کہ وزیراعلیٰ قواعد کو Relax کر سکتے ہیں۔ دولتانہ سوچ میں پڑ گئے اور پھر مہین سی مسکراہٹ کے ساتھ اپنی جیب میں سے رقم نکال کر ادائیگی کر دی‘‘۔ اب ایک اور شاندار سابق بیوروکریٹ اقبال دیوان کا کمنٹ پڑھیں۔ جب وہ سروس میں تھے تو کراچی کی ایک پارٹی نے ایک صوبائی وزیر کے ماتحت ڈائریکٹرز کو بلا کر رقم طلب کی اور ایک شاندار افطار پارٹی کا اہتمام ہوا۔ اس بات پر دیوان صاحب‘ جو بطور سیکرٹری اس افطار پارٹی میں شریک نہ ہوئے‘ کی جواب طلبی ہوئی کہ ان کی تنظیم اورکابینہ کے کئی اہم افراد شامل تھے تو وہ کیوں نہیں آئے۔ اقبال دیوان نے وزیر کو جواب دیا ''ہم چوری کے مال سے افطار کرکے اپنا روزہ خراب نہیں کرنا چاہتے۔ افطاراور ڈنرز بجٹ میں مذکور نہیں ہوتے‘‘۔ اس جواب کے کچھ دن بعد اقبال دیوان کا تبادلہ ہو گیا۔ اس طرح ڈاکٹر ظفر الطاف نے جب چیف سیکرٹری مسعود نبی نور کاحکم یہ کہہ کر ٹالا کہ جنرل ضیا کے کسی عزیز کو ہر ماہ دس ہزار روپے پہنچانے کا کام ڈپٹی کمشنر ساہیوال کا نہیں۔ وہ بھی پنجاب بدر کر دیے گئے مگر چونکہ کیبنٹ سیکرٹری اعجاز نائیک ڈاکٹر صاحب کے دوست عبدالحفیظ کاردار کے دوست تھے لہٰذا انہیں 1978ء کے وسط میں اسلام آباد میں ڈپٹی سیکرٹری کیبنٹ لگا دیا۔
طارق محمود صاحب کے دولتانہ صاحب کے واقعہ سے ایک واقعہ مجھے بھی یاد آیا جو سابق سیکرٹری فنانس مرحوم غفور مرزا صاحب نے سنایا تھا۔ مرزا صاحب کا ڈاکٹر ظفر الطاف سے گہرا تعلق تھا لہٰذا وہ بھی تقریباً روز ہمارے ساتھ لنچ پر اکٹھے ہوتے تھے۔ مرزا صاحب کے پاس بھی کئی خوبصورت کہانیاں تھیں اور اس سے بڑھ کر ان کا وہ قصے‘ کہانیاں سنانے کا انداز بہت دلچسپ اور خوبصورت تھا۔ مرزا صاحب ایک دن کہنے لگے کہ وہ کچھ عرصہ کیبنٹ ڈویژن میں آرکائیو ڈپارٹمنٹ میں تعینات رہے۔ ان کے پاس کافی وقت ہوتا تھا تو انہوں نے وہاں پرانی فائلیں پڑھنی شروع کیں۔ ایک دن قائداعظم کے بارے فائل پڑھی۔ جب قائداعظم زیارت میں آخری دن گزار رہے تھے تو وہ کھانا پینا چھوڑ گئے جس کی وجہ سے بہت کمزور ہوئے تو ان کی Immunity کم ہوئی۔ ڈاکٹر الٰہی بخش پریشان ہوئے۔ فاطمہ جناح صاحبہ نے بھی کوشش کر کے دیکھ لیا۔ آخر فاطمہ جناح کو خیال آیا‘ انہوں نے کہا: شاید (موجودہ) فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے دو بھائی کُک تھے جن کا پکا ہوا کھانا انہیں بہت پسند تھا۔ اگر انہیں ڈھونڈیں تو ان کا پکا ہوا کھانا کھائیں گے۔ فوری طور پر ان کو تلاش کیا گیا۔ زیارت لے گئے۔ انہوں نے کھانا پکایا اور قائد کو سرو کیا گیا تو انہیں ذائقہ مانوس لگا تو کھانے لگے۔ اچانک رک گئے اور پوچھا یہ تو ان دو بھائیوں کا پکایا ہوا لگتا ہے۔ وہ کہاں سے ادھر آئے ہیں؟ اس پر فاطمہ جناح کو کہا گیا کہ اب آپ سنبھالیں۔ قائد کو بتایا گیا کہ وہ باورچی ڈھونڈ کر لائے گئے ہیں۔ اس پر قائداعظم ناراض ہوئے اور کہا: ریاستی وسائل پر آپ نے انہیں بلایا اور عوام کے پیسوں سے خرچہ کیا۔ فوری طور پر اپنی چیک بک منگوائی اور پوچھ کر کتنا خرچ ہوا‘ وہ رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی۔ غفور مرزا کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس فائل کے ساتھ قائد کا وہ چیک لگا ہوا دیکھا تھا۔ کہاں گئے قائد جیسے لوگ یا ممتاز دولتانہ جیسے کردار جو رولز رلیکس کرنے کے بجائے جیب سے ادائیگی کرتے تھے۔ اب تو بقول خواجہ آصف‘ پاکستانی بیوروکریٹس پرتگال میں جائیدادیں خرید رہے‘ پولیس افسران کینیڈا میں شہریتیں لے رہے ہیں جبکہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ ارکانِ اسمبلی ہر ترقیاتی فنڈ میں 30فیصد کمیشن کھاتے ہیں ( یقینا سب نہیں کھاتے ہوں گے)۔ جو پرتگال جائیدادیں‘ کینیڈا شہریت یا 30فیصد کمیشن کھا رہے ہیں‘ آپ کا کیا خیال ہے کہ وہ اپنے دفاتر میں کھانے کا بل جیب سے دیتے ہوں گے؟ قائداعظم اور ممتاز دولتانہ سے ان سب نے ایک سبق سیکھا اور ہر وزیر یا بیوروکریٹ نے اپنے لیے لاکھوں کا ''انٹرٹینمنٹ الاؤنس‘‘ منظور کرا رکھا ہے۔ اب عوامی پیسے پر کھانا پینا‘ کھابے شابے غیرقانونی نہیں رہے۔ اب سب معاملہ لیگل ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved