تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     02-12-2013

فتویٰ اور نظریاتی کونسل

اتحاد ِ امت کے لیے اہلِ مذہب ایک بار پھر جمع ہوئے۔مدت بعد مو لا نا فضل الرحمن اور سید منور حسن کا ملن ہوا۔میں اس 'عرس‘ کے مو قع پر ان بزرگوں کو مبارک باد پیش کر تا ہوں اور ان کی کامیابی کے لیے دعا گو ہوں۔کہا گیا کہ ملی یک جہتی کو نسل نے اس باب میں جو ضابطۂ اخلاق مرتب کیا ہے،اُسے اتحادِ امت کے لیے ایک متفقہ دستاویز مان لیا جائے۔ اس سے پہلے بھی ، گزشتہ کچھ دنوں سے،اس نیک مقصد کے لیے لوگ افرادی اور اجتماعی حیثیت میں تجاویز پیش کرتے رہے ہیں۔ایک تجویز یہ سامنے آئی ہے کہ مسائل کی جڑ‘ فتوے کا ناجائز استعمال ہے۔اس لیے فتویٰ کا حق افراد یا اداروں سے لے کر اسلامی نظریاتی کو نسل کو دے دیا جائے۔مجھے اس تجویز پر حیرت ہوئی۔ معلوم ہو تا کہ لوگ فتویٰ اور قضا کا فرق نہیں سمجھتے۔علما کے سماجی منصب کے بارے میںبھی شایدابہام ہے۔ اگر یہ فرق واضح ہو تو ہم فتوے کے سوئے استعمال سے بچ سکتے ہیں۔اسی طرح اس تجویز میں نظریاتی کو نسل کاآئینی دائرہ کار بھی پیش ِ نظر نہیں ہے۔
فتویٰ ایک عالم کی رائے ہے۔ اِس کی کوئی عدالتی حیثیت نہیں۔اس میں قوتِ نافذہ نہیں ہو تی۔ ایک فرد کسی عالم کے فتوے کا شرعاً پابند ہے نہ قانوناً۔لوگ ایک مسئلے کے دینی پہلو کوسمجھنے کے لیے اُن علما کی طرف رجوع کرتے ہیں، جن کے علم پر انہیں اعتماد ہو تا ہے۔با لعموم یہ انفرادی معاملات ہوتے ہیں۔ جیسے کسی حرکت سے نماز میں کوئی کوتاہی تونہیں ہوئی؟یا کسی عمل سے روزہ تو نہیں ٹوٹا؟اس نوعیت کے بہت سے مسائل ہیں جن سے ہر اُس آ دمی کو سابقہ رہتا ہے جو دین کے مطابق زندگی گزارنا چاہتا ہے۔مسلمان سماج میں ایک عالم اور فرد کے درمیان یہ تعلق ہمیشہ قائم رہا ہے اور تاابد رہے گا۔ایک عام مسلمان نہ تو دین کا علم رکھتا ہے اور نہ ہی اس کے پاس اتنا وقت ہوتا ہے کہ وہ غور وفکر کرے اور کوئی رائے قائم کرے۔اس لیے وہ دین کے بارے میں جاننے کے لیے علما کی طرف رجوع کرتا ہے۔اس پر یہ بھی کوئی پابندی نہیں کہ وہ ہمیشہ کسی ایک عالم کے پاس جائے۔وہ کسی عالم سے رائے لے سکتا ہے اور اس میں فقہ کی تخصیص ہے نہ مسلک کی۔ اصل اہمیت یہ ہے کہ وہ دیانت داری سے مسئلہ زیرِ نظر کا دینی حل جا ننا چا ہتا ہے۔اس باب میں لوگ بلا وجہ تشدد کرتے ہیں جس کی کوئی شرعی دلیل ہے نہ عقلی۔ جیسے کہہ دیا جا تا ہے کہ اگر حنفی ہے تو حنفی عالم ہی سے فتویٰ لے یا آسان حل کی طرف نہ جائے۔مسلمان دین کا پابند توہوتا ہے کسی خاص فقہ کا نہیں۔
مسلمانوں کی پوری تاریخ میں فتویٰ کا یہی مفہوم مستعمل رہا ہے کہ وہ ایک عالم کی رائے ہے۔ہمیں معلوم ہے کہ ایک وقت میں بہت سے فقہی مکاتب مو جود تھے۔مدینہ میں لوگ کچھ اور فتویٰ دے رہے تھے اور عراق میں کچھ اور۔اس اختلاف کے باوجود ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ لوگوں نے اس کی بنیاد پر فتنہ پھیلا یا ہو یا اس سے کوئی سماجی مسئلہ پیدا ہوا ہو۔ریاست بھی ان میں کوئی مداخلت نہیں کرتی تھی۔تاہم جب معا ملہ ایک سے زیادہ فریقوں کے مابین ہوتاتو وہ فتویٰ کا نہیں قضا کا مو ضوع ہوتا تھا۔قضا عالم کی نہیں، ریاست کی ذمہ داری ہے۔ریاست کی طرف سے قاضی مقرر تھے جو فیصلہ سنا تے اور وہ نافذ العمل ہو تا ۔ فتویٰ اور قضا میں وہی فرق ہے جو عالم اور قاضی میں ہے۔عالم کے پاس قوتِ نافذ ہ نہیں ہے لیکن قاضی کے پاس ہے۔قوتِ نافذہ دراصل ریاست کو حا صل ہے اور قاضی کا تقرر ریاست کرتی ہے۔ماضی میں چونکہ ریاست کا کوئی آئین نہیں ہوتا تھا اس لیے سارے ملک کے لیے کوئی ایک متعین قانون نہیں تھا۔قاضی اپنی صواب دیداور فہم کے مطابق فیصلہ دیتا تھا۔یہ معلوم ہے کہ عباسیوں کے دور میںہارون الرشیدنے اس بات کی اہمیت کو سمجھا کہ ریاست کی سطح پر،بطورِ خاص مالی امور کے لیے ایک قانون ہو اور پھر ان کی فرمائش پر امام ابو یوسف نے ''کتاب الخراج‘‘ لکھی جسے رائج کر دیا گیا۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم فتویٰ اور قضا میں فرق نہیں کرتے۔یہاں علما کسی فرد کے واجب القتل ہونے کا فتویٰ صادر کردیتے ہیں اور لوگ اس کے نفاذکے لیے نکل پڑتے ہیں۔یا کسی گروہ کو اپنے طور پر غیر مسلم قرار دے دیتے ہیں۔اس کی اجازت نہ شریعت دیتی ہے نہ سماجی اخلاقیات۔علما یہ تو بتائیں گے کہ ُان کے نزدیک فلاں جرم کا شرعی حکم یہ ہے یا یہ کہ فلاں بات کا تعلق ضروریاتِ دین میں سے ہے اور اگر کوئی اس کا انکار کرتا ہے تو دائرۂ دین سے باہر ہے۔جہاں تک کسی فرد یا گروہ پر اس کے اطلاق کا تعلق ہے یا کسی کو مجرم ٹھہرانا ہے تو یہ عدالت کا کام ہے،دوسرے لفظوں میں قاضی کی ذمہ داری ہے۔مثال کے طور پر علما یہ بتائیں گے کہ اگر کوئی فلاں فلاں حرکت کر تا ہے تو یہ چوری ہے اور اس کی شرعی سزا یہ ہے۔لیکن یہ کہ فلاں چور ہے اور اس پر سزا نافذکر دی جائے،اس کا فیصلہ عدالت کا کام ہے۔
آج ہمارے ہاں ایک قانون مو جود ہے۔جو کام ہارون الرشید کے کہنے پر قاضی ابویوسف نے کیا تھا، دورِ حاضر کی آئینی و جمہوری حکومتوں میں اسے ایک باضابطہ صورت دے دی گئی ہے۔ پاکستان میں اب ایک آئین مو جود ہے۔کم و بیش ہر جرم کی سزامتعین ہے۔تمام قاضی یا جج اپنی صواب دید کے مطابق نہیں، بلکہ ایک ہی قانون کے تحت فیصلہ دیتے ہیں۔قانون سازی کا حق ہمارے نظمِ اجتماعی نے پارلیمنٹ کو دے دیا ہے۔اگر معا ملہ جرم کا ہے یا دو افراد کے مابین تنازعے کا تو اس کا فیصلہ عدالت کرے گی ، علما نہیں۔اگرکوئی عالم یہ سمجھتا ہے کہ فلاں قانون دین کے خلاف ہے تو اسے یہ حق ہے کہ سماج کے سامنے اپنا نقطہ نظر رکھے۔اگر پارلیمنٹ کسی وقت اس رائے کی قائل ہو جاتی ہے تو وہ رائے ریاست کا قا نون بھی بن سکتی ہے۔ہم جو نافذ کرتے ہیں، یہ اسلامی قانون کا فہم ہے اور فہم تغیر پذیر ہوتا ہے۔ اس کا دروازہ بند نہیں کیا جا سکتا۔اگر یہ بات سمجھ لی جائے تو فتوے کا سوئے استعمال رک سکتا ہے اور سماج بھی ارتقائی مراحل طے کر تا رہتا ہے۔
جب ہم یہ تجویز کرتے ہیں کہ فتوے کا حق اسلامی نظریاتی کونسل کو دے دیا جائے تو یہ علما اور ریاست دونوں کے کردار کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔فتویٰ ایک رائے ہے اور علما کا یہ حق ہے کہ وہ کسی مسئلہ میں دین کا حکم بیان کریں۔ قوتِ نافذہ چونکہ ریاست کے پاس ہوتی ہے، اس لیے ایک فرد پر کسی قانو ن یا حکم کا اطلاق ریاست کا حق ہے جسے وہ عدالت کے ذریعے استعمال کر تی ہے۔اب علما کا حق نظریاتی کو نسل کو تفویض کیا جا سکتا ہے نہ ریاست کو۔نظریاتی کو نسل کا کام آئین نے متعین کر دیا ہے اور اس کے لیے وہی منا سب ہے۔آج ضرورت اس بات کہ ہے کہ ریاست اور علما، دونوں اپنی اپنی سماجی ذمہ داری کو سمجھیں۔دو نوں اپنی اپنی حدود کا خیال رکھیں۔ اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ ایک طرف علما نے قضا کا منصب سنبھال لیا ہے اوردوسری طرف ریاست نہیں جانتی کہ دینی امور کے قانونی پہلو کے باب میں اس کا کردار کیا ہے۔وہ اپنے کردار سے دست بردارہوتی اور اسے بھی علما کے سپرد کر دیتی ہے۔ سارا فساد اسی سے پھیل رہا ہے۔یہاں فتوے کی بنیاد پر لوگ قتل ہو جاتے ہیں اور لوگ علما کی قیادت میں قاتلوں کے دفاع کے لیے سڑکوں پہ نکل آتے ہیں۔اگر علما، ریاست اور عوام کے کردار کے بارے میں مو جود ابہام دور ہو جائے تو فتنہ و فساد کا دروازہ بن ہو سکتا ہے۔ضرورت فتویٰ اور قضا کے فرق کو سمجھنا ہے۔اخبارات اور ٹیلی وژن پرجو لوگ اسے مو ضوع بناتے ہیں، بدقسمتی سے، کم ہی ان نزاکتوں کو جانتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ سماج مزید ابہام میں مبتلا ہو جاتا ہے۔اس ابہام کو ختم کر نا ہی ،اس وقت اہم ہے۔ملی یک جہتی کونسل کے ضابطۂ اخلاق میںبھی یہ ابہام دور نہیں کیا گیا۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved