انسان کا بنیادی مسئلہ کیا ہے؟ معیشت یا اخلاق؟
اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے‘ عام طور پر ہم نظریاتی بحثوں میں الجھ جاتے ہیں۔ پھر اشتراکیت‘ سرمایہ داری اور اسلام کے مجوزہ نظام ہائے معیشت پر گفتگو شروع ہو جاتی ہے۔ تجربہ یہ ہے کہ اس کا نتیجہ بھی وہی نکلتا ہے جو اس سوال کا نکلا تھا کہ مرغی پہلے یا انڈا؟ اخلاقی تطہیر کے بغیر معاشی مسئلہ حل نہیں ہوتا مگر اس کے لیے جس وجود کی اخلاقی تطہیر مطلوب ہے اس کا 'ہونا‘ لازم ہے۔ اس کے ہونے کا مطلب‘ ترجیحاً مادی وجود کا اثبات ہے جس کی سلامتی معیشت کا مسئلہ ہے۔ جس اخلاقی وجود کا تذکیہ مقصود ہے‘ اس کے لیے ایک مادی وجود لازم ہے۔ گویا پہلے اس کے لیے زندہ رہنے کا سامان میسر ہو۔ ہر آدمی کو یہ سامان تبھی فراہم کیا جا سکتا ہے جب انصاف پر مبنی ایک معاشی نظام موجود ہو۔ انصاف ایک اخلاقی قدر ہے۔ اس کے لیے اخلاقی طور پر زندہ معاشرہ لازم ہے۔ بات گویا وہیں آ کر ٹھیر گئی: مرغی پہلے یا انڈا؟
اس لیے کسی نظریاتی بحث میں الجھے بغیر‘ ہمیں بطور واقعہ اس مسئلے کو سمجھنا ہے۔ تناظر ظاہر ہے کہ پاکستان ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے اخراجات ہمارے وسائل سے زیادہ ہیں۔ یہ مسئلہ ریاست کا ہے اور عام پاکستانی کا بھی۔ چند آسودہ حال لوگوں کا استثنا ہے۔ اخراجات کی کوئی حتمی فہرست ہمیں میسر نہیں۔ یہ ایک موضوعی معاملہ ہے۔ ان کا تعلق ضروریات سے ہے جو مختلف ہوتی ہیں۔ ہم ضروریات کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں: بنیادی اور اضافی۔ بنیادی وہ ہیں جن کا تعلق فرد کی سلامتی اور بقا سے ہے۔ اضافی وہ ہیں جو میسر آ جائیں تو فرد اور سماج‘ دونوں کے لیے باعثِ خیر ہیں۔ تاہم اگر یہ موجود نہ ہوں تو بقا کو خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ بنیادی ضروریات میں خوراک‘ گھر‘ لباس‘ تعلیم اور صحت شامل ہیں۔ بعض ضروریات اور بھی ہیں جن کی تکمیل لازم ہے لیکن اس وقت میرے پیشِ نظر صرف مادی وجود کی بقا ہے۔
معاشی توازن اس وقت قائم ہو گا جب چوبیس کروڑ افراد کو بنیادی ضرویات پورا کرنے کے لیے وسائل میسر ہوں۔ ریاست کی سطح پر ہم یہ وسائل تین طرح سے جمع کرتے ہیں۔ ایک قرض لے کر‘ دوسرا محنت سے‘ تیسرا ٹیکسوں سے۔ وسائل کی فراہمی اصلاً اس کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے ہم اس بحث کو ریاست تک محدود رکھتے ہیں۔ ریاست ان تینوں شعبوں میں اپنی صلاحیت صرف کرتی ہے۔ اس کا زیادہ انحصار قرض پر ہے۔ دوسرا محنت پر۔ اس میں ملک کے اندر اور باہر پاکستانیوں کی محنت شامل ہے۔ تیسرا‘ ریاست زندگی کو سہل بنانے کے لیے جو نظام قائم کرتی ہے‘ اسے چلانے کے لیے عوام سے ٹیکس لیتی ہے۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ تینوں ذرائع سے ہونے والی آمدن اخراجات کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اس کا جو علاج ڈھونڈا گیا ہے‘ اس میں ایک طرف مزید قرض لیا جاتا ہے۔ دوسری طرف ٹیکس میں آئے دن اضافہ کیا جاتا ہے۔ تیسرا محنت سے زیادہ آمدن حاصل کرنے کوشش کی جاتی ہے۔ اس محنت میں صنعت وتجارت بھی شامل ہے۔
آج صورتِ حال یہ ہے کہ تیسرا طریقہ توقعات سے بہت کم آمدن دے رہا ہے۔ اس لیے حکومت کا انحصار پہلے دو ذرائع پر مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ معیشت پر قرض کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے اور عوام سے ان کی استعداد سے کہیں زیادہ ٹیکس لیا جا رہا ہے۔ یہ ٹیکس اتنا بڑھ چکا ہے کہ اب ان کی برادشت سے باہر ہو گیا ہے۔ ریاست نے جو معاشی نظام اپنا رکھا ہے وہ مکمل طور پر ناکام ہو چکا۔ یہ وہ معاشی ماڈل ہے جس میں زیادہ قرض لینے اور عوام پر ٹیکسوں میں اضافے کو کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ محصولات کا معاملہ یہ ہے کہ ریاست مال داروں سے‘ حسبِ قانون ٹیکس لینے میں بُری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ اس کا ازالہ وہ اس طرح کرتی ہے کہ تنخواہ دار طبقے اور عوام پر ٹیکسوں میں مزید اضافہ کرتی جاتی ہے۔ دوسرا یہ کہ عوام سے جن خدمات کے صلے میں ٹیکس لیا جاتا ہے‘ ان پر اخراجات مزید کم کر دیتی ہے۔ مثال کے طور پر وہ عوام سے اس وعدے پر ٹیکس لیتی ہے کہ وہ ان کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرے گی۔ وہ یہ وعدہ پورا نہیں کر رہی۔ کم وبیش دو کروڑ ساٹھ لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں۔ جب مجموعی قومی آمدن کا اعشاریہ آٹھ فیصد تعلیم پر خرچ ہو گا تو اس کا نتیجہ یہی ہو سکتا ہے۔
قرض ظاہر ہے کہ واپس بھی کرنا ہوتا ہے‘ سود کے ساتھ۔ اس طرح ہر سال اخراجات کا تیسرا حصہ قرض کی ادائیگی پر صرف ہوتا ہے۔ اس سے قرض کم نہیں ہوتا‘ بڑھ جاتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ حکومت جتنا قرض واپس کرتی ہے‘ اس سے زیادہ لے لیتی ہے۔ یہی نہیں سود اضافی ہے جو اسے دینا ہی ہوتا ہے۔ اسی طرح ہمارے بہت سے وسائل دفاع پر خرچ ہو جاتے ہیں جو ظاہر ہے کہ آمدن کے تین ذرائع ہی سے پورے کیے جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا ناگزیر خرچ ہے جس سے مفر نہیں۔ جب بھارت جیسا ہمسایہ ہو جو آپ کے حصے کا پانی بھی آپ کو نہ دے تو آپ کیا کریں گے؟ صرف محفوظ سرحدوں کی صورت میں دفاعی اخراجات کم ہو سکتے ہیں اور فی الحال اس کا کوئی امکان نہیں۔
میں ماہرِ معیشت نہیں ہوں‘ یہ ایک عامی کا مشاہدہ اور تجربہ ہے۔ معیشت ہر آدمی کا مسئلہ ہے۔ اس لیے اس کے وہ پہلو سمجھنا مشکل نہیں جن کا تعلق عقلِ عام کے ساتھ ہے۔ میرے نزدیک مذہب ہو یا سیاست و معیشت‘ عقلِ عام سے مسائل حل ہوتے ہیں۔ عقلِ خاص نے صرف مسائل کو پیچیدہ بنانے کی خدمت سرانجام دی ہے۔ اس لیے اس معاملے کو اگر عقلِ عام کی نظر سے دیکھا جائے تو شاید ہم اس کا کوئی حل تلاش کر سکیں۔ حل وہی ہے: اخراجات اور وسائل میں توازن۔ بڑھتے ناگزیر اخراجات کے لیے محنت کے عنصر پر زیادہ توجہ نہ کہ قرض اور ٹیکسوں پر اضافے پر۔
اس وقت اس قوم کا وہی امامِ برحق ہو گا جو اس توازن کے لیے کوئی فارمولا دے سکے گا۔ میں جانتا ہوں کہ یہ دو دن میں حل ہونے والا مسئلہ نہیں ہے۔ المیہ مگر یہ ہے کہ کسی طرف سے کوئی حل پیش کیا گیا ہے نہ حکومت اس عزم کا اظہار ہی کر سکی ہے کہ وہ اس نظام کی تشکیلِ نو میں سنجیدہ ہے۔ آج عملاً آمدن کے تین کے بجائے دو ذرائع ہیں: قرض اور عوام پر ٹیکسوں میں اضافہ۔ صنعت بانجھ ہو چکی۔ بجٹ آنے ولا ہے۔ اس میں ٹیکسوں میں مزید اضافہ کر دیا جائے گا۔ کہا جائے گا کہ عوام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ یہ اتنا بے اثر اور بے رحم جملہ ہے کہ اس کو دہراتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ معلوم نہیں کہنے والوں کو کیوں نہیں آتی۔
آج کسی سیاسی جماعت یا ماہرِ معیشت کے پاس کوئی متبادل موجود نہیں۔ باتیں ہیں یا وعظ ونصیحت۔ یہاں پہنچ کر بحث پھر اخلاقیات سے جڑ جاتی ہے۔ 'حکمران طبقہ اگر دیانتدار ہو تو مسائل حل ہو سکتے ہیں‘۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے مگر ٹیکس تو صاحبانِ وسائل نہیں دے رہے۔ بد دیانتی صرف حکومت کا نہیں عوام کا مسئلہ بھی ہے۔ اصلاح کی طرف پہلا قدم یہ ہے کہ حکومت کے پاس متبادل معاشی ماڈل موجود ہو اور وہ عزم بھی جو اسے کامیاب بنانے کے لیے لازم ہے۔ پہلے کام کے لیے اہلِ دانش کو حکومت کی مدد کرنی چاہیے۔ دوسرے کے لیے سماجی دباؤ بڑھنا چاہیے جو رائے ساز اداروں اور میڈیا کا کام ہے۔ موجودہ معاشی نظام عوام کے مادی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکا۔ اس پرا صرار معاشی بر بادی کو یقینی بنانا ہے۔ متبادل معاشی نظام ناگزیر ہو چکا۔
اک آبلہ پا وادیٔ پُرخار میں آوے
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved