تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     08-06-2026

معاشرہ سازی

معاشرے سے ہی ہماری پہچان‘ بہبود‘ خوشحالی اور روشن خیالی‘ غرض یہ کہ زندگی کا ہر پہلو مرتب ہوتا ہے۔ ہم جو کچھ ہیں‘ بن سکے یا نہ بن سکے‘ اپنے مخصوص ابتدائی ماحول کے مرہونِ منت ہیں۔ یہاں دو باتیں تو طے ہیں: معاشرہ ہمیں بگاڑتا یا نکھارتا ہے‘ اور ہم اپنی سیاست کے اُس پہلو سے جسے ہم سماجی پالیسی کہتے ہیں‘ اس کی سمت‘ راستہ کا تعین کرتے اور بہتری کی منزلیں طے کرتے ہیں یا کر سکتے ہیں۔ چونکہ ہماری محدود علمی صلاحیت کا تعین سیاست اور ریاست سے ہوتا ہے اس لیے ہم اول الذکر کو سدھار اور زوال کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ کئی ہزار سال پہلے یونان کے ایک فلسفی نے جو بات کہی اُس کی عظمت اور حقیقت جدید دور میں کہیں زیادہ نمایاں ہوئی ہے۔ اُس نے کہا تھا کہ تمام انسانی علوم میں سیاست سب سے بالا درجے پر ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ سیاست ہی معاشرے کے تمام پہلوئوں کا تعین کرتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ وہ ماحول فراہم کرتی ہے جس میں ہر انسان اپنی دو حتمی اور فطری ضروریات پوری کر سکے۔ ایک خوشی اور دوسری اچھی زندگی۔ یہ طویل بحث ہے کہ خوشی کیا ہے اور ہم کیسے خوش یا ذہنی طور پر صحت مند رہ سکتے ہیں اور یہ بھی کہ اچھی زندگی میں کون سے رویوں کو شمار کریں گے۔ ان کے درمیان بہت سی ایسی باتیں ہیں جو ہمارے محسوسات سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کا معروضی طور پر احاطہ کرنا ناممکن ہے۔ ایک اور بات بھی نہایت اہم ہے کہ ہر دور میں ہمارے مادی حالات تبدیل ہوتے رہے ہیں جن کا تعلق ہماری زندگیوں کے اُن گوشوں سے ہے جو ہمیں یا تو شہرت اور اطمینان کی نعمتوں سے نوازتے ہیں یا مایوسی اور اندھیروں کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ مادی حالات دنیا میں سیاست کی وجہ سے ہی تبدیل ہوئے اور ہوتے رہے ہیں۔ یہ سیاست جنگ‘ امن اور سلامتی اور معاشی ترقی کی ہو سکتی ہے‘ یا پھر اس کے متضاد۔ اگر نہ کوئی خواب ہوں‘ نہ منزل اور نہ کوئی راہبر تو پھر سیاست خود غرضی‘ ذاتی مفاد اور لوٹ کھسوٹ کے دائروں میں گھومتی ہے۔ پھر اہلِ سیاست مال سمیٹنے کے نت نئے حربے تلاش کر لیتے ہیں۔
ہمارے نزدیک سیاست کوئی خودمختار کھیل نہیں‘ یہ طاقتور انسانوں‘ افراد اور معاشرے کے ہاتھ کا آلہ کار ہے جس سے آپ اپنے لیے جنت کا سا معاشرہ ترتیب دے سکتے ہیں یا وہ حالات پیدا کرسکتے ہیں جہاں انسان کسمپرسی‘ بدحالی‘ بیروزگاری‘ غربت اور بدنظمی میں اپنی زندگیاں برباد کر لیں۔ سیاست کا حتمی مقصد اور مطمح نظر انسان اور اُس کی زندگی ہے کہ یہ وجودی نعمت صرف ایک محدود مدت کے لیے ہے۔ اس سے بڑی کوئی اور دولت‘ مقام اورمرتبہ نہیں۔ اگر یہ ہے تو سب کچھ ہے‘ یہ نہیں تو سب مٹی کا ڈھیر ہے‘ وہ مٹی جہاں کچھ بھی نہیں اُگ سکتا۔
معاشرہ سازی کے حوالے سے کسی بھی ریاست کی سماجی پالیسی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ یہ وہ طریقہ کار ہے جس سے انسانوں کے مقدر اور معاشروں کی ترتیب بدلی جا سکتی ہے۔ اس بات پر ہمیشہ یہ درویش زور دیتا ہے کہ سیاست شعوری عمل ہے۔ اچھا معاشرہ بنائیں یا حکمران طبقات اپنی بداعمالیوں اور کرپشن سے اسے برباد کردیں‘ دونوں شعوری ہیں۔ ان میں ان کا ارادہ اور طاقت شامل ہیں۔ مغرب کی ترقی کی بات چھوڑیں‘ اب تو ترقی کے کئی مشرقی حوالے بھی ہیں جن میں جاپان‘ چین‘ تائیوان اور جنوبی کوریا کے علاوہ مسلم ممالک میں ترکیہ اور ملائیشیا کی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ خلیجی ریاستوں کو اس زمرے میں اس لیے شامل نہیں کرسکتاکہ ان کے ریت‘ سریا اور سیمنٹ کے برجوں میں روح نہیں ہے۔ معیار یہ نہیں کہ تیل کی دولت اور کمزور ملکوں کی لوٹی ہوئی ناجائز دولت کے محافظ بن کر ایک صارف اور مصنوعی معاشرہ بنائیں۔ اگر آزادیٔ فکر اور اختلافِ رائے کی بادِ نسیم نہ چلے تو پھر فرد سماجی گھٹن کا شکار ہو جاتا ہے یا فکری بادِ سموم کے جھکڑ اُس کے در پے ہو جاتے ہیں۔ خیر ہم کس کس کی بات کریں کہ اب زمانہ ہی بدل گیا ہے کہ مادیت پرستی نے بہت سی ایسی فطری نعمتوں سے معاشروں کو محروم کر رکھا ہے۔ جہاں کی ہم مثالیں دیتے تھے اب تو وہاں بھی کوئی اور رسم چل نکلی ہے۔
خیر بات سماجی پالیسی کی ہو رہی تھی جو ہر نوع کی خوشحالی اور مادی ترقی کو مرتب اور متحرک کرتی ہے۔ جاپان روایتی‘ قدامت پسند معاشرہ تھا۔ اس کے انیسویں صدی کے بادشاہوں نے تعلیم اور سائنسی ترقی کو ملکی طاقت کا ذریعہ خیال کرکے انقلابی تبدیلیوں کی ایسی بنیاد رکھی کہ انقلاب در انقلاب کا سلسلہ چل نکلا۔ چین انقلاب کے نتیجے میں‘ جو ہماری آزادی کے دو سال بعد واقع ہوا‘ آج دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکا ہے۔ ایک عظیم ناقابلِ تسخیر عسکری طاقت بھی۔ یہ باتیں کسے معلوم نہیں۔ ہمارے کون سے حکمران ماضی اور حال کے ہیں جنہوں نے چین کو ابھرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ مغرب میں تو اُن کے اثاثے‘ ٹھکانے‘ اولادیں اور سرمایہ کاری ہے‘ کیا انہیں معلوم نہیں کہ سماجی ترقی کیسے انقلابی تبدیلیوں کے طاقتور انجن کے طور پر کام کرتی ہے۔ سماجی ترقی میں ہماری نسبت سے تین پہلو اہم ہیں اور یہ سب بدحال معاشروں کو اس صورتحال سے باہر نکالنے کا کرشماتی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ یہ پہلو سب کے لیے یکساں معیاری تعلیم‘ دوسرے نمبر پر صحت کا نظام اور تیسرے نمبر پر بہودِ آبادی ہیں۔ ہمارے مبصرین ان امور کی نشاندہی مختلف پیرایوں میں کرتے رہے ہیں۔
ہماری تو خیر کوئی اہمیت نہیں‘ اُن عالمی اداروں کی ہم بات کرتے ہیں جو ہر سال ہماری سماجی ترقی کے بارے میں رپورٹیں شائع کرتے ہیں۔ ہمارے اپنے ادارے بھی بجٹ سے ایک دن پہلے سالانہ جائزہ عوام اور حکمرانوں کے سامنے رکھتے ہیں۔ ہم دنیا میں تو نچلی سطح پر اس لحاظ سے ہیں ہی‘ مگر جنوبی ایشیا میں بھی افغانستان کے بعد پست ترین ہیں۔ ہمارے زوال کی ذمہ دار سیاست نہیں تو اور کیا ہے؟ مغربی لوگ کہتے تھے کہ چینی افیونی ہیں‘ یہ کیسے ترقی کر سکتے ہیں۔ پھر ترقی کے خواب تو مغرب کے معاشرہ سازوں کے تھے۔ لیکن چین نے انگڑائی لی۔ آج اس کی گاڑیوں اور ہر نوع کی برآمدات نے عالمی مارکیٹ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اپنی سماجی بدحالی کے ذمہ داروں کا تعین کریں تو نسل در نسل ایک ہی گروہ نظر آتا ہے۔ وسائل کی کبھی کمی تھی اور نہ اب ہے۔ اصل میں سیاسی ترجیحات اور سیاسی خاندان جنہیں آپ جو بھی سیاسی یا سماجی شناخت دیں‘ وہ اپنی شخصی تعمیر میں انتہا درجے کے رجعت پسند واقع ہوئے ہیں۔ ظاہری لبادوں‘ نعرہ بازی اور کھوکھلے منشوروں پر کبھی نہ جائیں۔ آخر کوئی تو جواب دے‘ کسی کو تو ذمہ دار ٹھہرائیں کہ آبادی کو روکنے‘ سب کے لیے یکساں اور معیاری لازمی عام تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ہم وہ نتائج کیوں نہیں حاصل کر سکے جو دیگر ممالک کے حصے میں آئے۔ ہماری معیشت کے کئی طبقے ہیں جو ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ انہوں نے اپنی انجمنیں بنائی ہوئی ہیں اور سب سڑکوں پر آ جاتے ہیں‘ دھمکیاں دیتے ہیں اور معاملات طے کر کے ٹیکس نیٹ سے صاف بچ نکلتے ہیں۔ وسائل پیدا کیے جاتے ہیں اور منصفانہ ٹیکس سے بہتر اور کون سا طریقہ ہو سکتا ہے؟ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اس وقت معاشی وسائل کا سب سے بڑا ضیاع ہے۔ گزشتہ سال 716 ارب روپے یعنی تقریباً ڈھائی ارب ڈالر بھکاری پن پر ضائع کر دیے گئے۔ یہ رقم غریبوں کو معیاری تعلیم‘ بہبود آبادی اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی پر خرچ کریں تو تقدیر بدل سکتی ہے۔ ووٹوں اور نوٹوں کی سیاست میں ہم بھکاری ہی بنیں گے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved