تحریر : کنور دلشاد تاریخ اشاعت     08-06-2026

28ویں ترمیم اور قیاس آرائیاں

کچھ عرصہ سے یہ قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ حکومت 28ویں آئینی ترمیم سے پیچھے نہ ہٹی توحکومتی اتحاد میں شگاف پڑ سکتا ہے کیونکہ 28ویں ترمیم کے تحت 18ویں ترمیم میں تبدیلی کی جو بات کی جاتی ہے وہ پیپلز پارٹی کو منظور نہیں۔تاہم صدر آصف علی زرداری نے عیدالاضحی کے موقع پر اپنی پارٹی کے اہم ذمہ داران سے جو گفتگو کی اس سے ہر گز یہ تاثر نہیں ملتا کہ ان کے دل میں کوئی ناراضی ہے۔ عوامی اجتماع سے خطاب میں صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ہمیں ملک اور مقتدرہ کو مضبوط کرنا ہے۔ صدر زرداری نے اپنے پارٹی رہنماؤں کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ عوام سے رابطے مضبوط رکھیں۔پیپلز پارٹی اس وقت اقتدار میں ہے اور اسے عوام اور مقتدرہ دونوں کی ضرورت ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کا اتحاد جو ماضی میں سیاسی ناممکنات میں سے تھا بظاہر اتنی جلدی ٹوٹنے والا نہیں البتہ بعض مفادات اور فیصلوں پر اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں جیسا کہ 28ویں ترمیم کے ذریعے 18ویں ترمیم کی روح کو تبدیل کرنے کا معاملہ۔ زرداری صاحب ایک عوامی سیاسی جماعت کی قیادت کر رہے ہیں مگر وہ کارپوریٹ سیکٹر کی سوچ کے بھی حامل ہیں۔ وہ سیاست میں مفاہمت کی پالیسی پر گامزن ہیں اور اپنے مخالفین سے بھی گرم جوشی سے مصافحہ کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے دورِ اقتدار میں انہوں نے دیگر سیاسی جماعتوں کو اپوزیشن میں شامل ہوکر حزبِ مخالف کو مضبوط کرنے کا موقع دینے کے بجائے اقتدار میں شریک کر لیا تھا۔ تاہم اس وقت یہ کہنا کہ زرداری صاحب یا ان کی جماعت مقتدرہ کی ضرورت بن چکے ہیں‘ شایددرست نہیں کیونکہ عالمی سطح پر بدلتے حالات نے مقتدر حلقوں کی اہمیت میں بہت اضافہ کیا ہے اور اس وقت ان کی پوزیشن خاصی مضبوط ہے۔ اب پیپلز پارٹی کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ معاملات کو آگے بڑھانے میں کس طرح اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔زرداری صاحب لنگڑے گھوڑوں پر دائو لگانے کے عادی نہیں‘ وہ کامیاب گھوڑوں پر داؤ لگانے کے ماہر ہیں۔ اب یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ان کی ہدایت پر کون سے سیاسی گھوڑے عوام میں زیادہ مقبولیت حاصل کرنے کے لیے دوڑتے ہیں‘ خدمت اور رابطوں میں تیزی لاتے ہیں‘ اپنی ناراضیاں ختم کرتے ہیں اور پارٹی قیادت و عوام کے مفادات پر پورا اترتے ہیں۔ یہ وقت تبدیلی کا ہے‘ جس میں سوچ اور طریقے دونوں کو بدلنے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب یہ بھی مد نظر رہنا چاہیے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین دو الگ سیاسی جماعتیں ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹ کا حصہ نہیں۔ صوبائی سطح پر پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین نمایاں ہے جس کے سربراہ آصف علی زرداری ہیں جبکہ بلاول بھٹو زرداری پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین ہیں‘ لہٰذا آصف علی زرداری کو سیاسی باگ ڈور مکمل طور پر پیپلز پارٹی کے سپرد کر کے بلاول بھٹو زرداری کو آگے لانا چاہیے۔ بلاول بھٹو کی پارٹی حیثیت الیکشن ایکٹ 2017ء کی دفعہ 203 کے تناظر میں پہلے ہی زیر بحث ہے۔ وہ بیک وقت دو سیاسی جماعتوں کے عہدیدار نہیں رہ سکتے۔ الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق بلاول بھٹو زرداری پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے وائس چیئرمین ہیں‘ جو قانونی طور پر نااہلیت کے زمرے میں آ سکتا ہے۔شنید ہے کہ ان کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں ایک مقدمہ بھی زیر سماعت ہے ۔
صدر زرداری نے اپنی حالیہ تقریر میں کراچی کے عوام کے پانی کے مسئلے کا ذکر نہیں کیا۔ کراچی میں پانی صرف نلکوں سے نہیں بلکہ اربوں روپے کی ایک متوازی معیشت کے ذریعے بھی بہتا ہے۔ کراچی میں سالانہ اربوں روپے کا پانی کا کاروبار ہوتا ہے جس میں بڑا حصہ بااثر اشرافیہ تک پہنچتا ہے جبکہ باقی رقم مختلف سطحوں پر بندر بانٹ کی نذر ہو جاتی ہے۔ شہر کے لاکھوں شہری پانی کی ایک ایک بوند کو ترستے ہیں مگر پانی مافیا اور اس کے سرپرستوں کیلئے یہ بحران سونے کی کان بن چکا ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ اب کراچی کے عوام کھلے عام مطالبہ کر رہے ہیں کہ کراچی کو وفاق کے زیر انتظام دے دیا جائے۔ اس کی آئینی بنیاد بھی ہے کہ اگر کسی صوبے کو معاشی ابتری کا سامنا ہو تو آئین کے آرٹیکل 147کے تحت وفاق مداخلت کر سکتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق مقتدر حلقوں کی خواہش ہے کہ 28ویں ترمیم منظور کرا کے 18ویں ترمیم کی بعض اہم شقیں حذف کر دی جائیں۔ یہ بھی شنید ہے کہ زرداری صاحب نے ایک وزیر کے توسط سے 28ویں ترمیم پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری اس کے بارے میں شدید تحفظات رکھتے ہیں۔ مقتدر حلقوں نے ایک وفاقی وزیر کے ذریعے آصف علی زرداری کو قائل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ابھی تک ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ اسی لیے وفاقی بجٹ کو 10 جون تک مؤخر کیا گیا۔ شنید ہے کہ ایم کیو ایم نے بھی وفاقی بجٹ کی منظوری میں اعتماد کا ووٹ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا مطالبہ مقامی حکومتوں کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 140-A میں بنیادی تبدیلیاں لانے کا ہے جسے پیپلز پارٹی نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس لیے 28ویں ترمیم کی منظوری تک ملک میں بے یقینی کی کیفیت برقرار رہ سکتی ہے۔ مجموعی طور پر یوں لگتا ہے کہ چاروں صوبائی حکومتیں اور وفاق بہتر کارکردگی دکھانے میں ناکام ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ بھی وفاق کی کارکردگی کو مؤثر ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر ایسے موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں معمولی غلط اندازہ بھی پورے خطے کو ایک بڑے بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ایران امریکہ جنگ میں خلیجی ممالک اپنی دفاعی صلاحیتوں کا بھرم پہلے ہی کھو چکے ہیں کیونکہ اُن کا انحصار اُن امریکی فوجی اڈوں پر تھا جنہیں ایران حملوں کی پہلی ہی لہر میں تباہ کر چکا ہے۔ اب امریکہ خلیجی ممالک کا اعتماد بھی کھو رہا ہے۔تاہم امریکہ ایران کشیدگی میں کمی اور خطے میں ثالثی کے کردار سے پاکستان کے عالمی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ سول اور عسکری قیادت متعدد مواقع پر اس بات کا اعادہ کر چکی ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام صرف مذاکرات‘ سفارت کاری اور باہمی احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔امریکہ اور ایران میں کشیدگی کے حالیہ واقعات کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا اہم پیغام لے کر تہران گئے۔ پاکستان کو اس وقت نہ صرف ایران اور امریکہ کا اعتماد حاصل ہے بلکہ چین‘ ترکیہ‘ قطر اور سعودی عرب بھی ثالثی کی کوششوں میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں‘ لہٰذا اس اعتماد کی روشنی میں پاکستان کے معاشی ماہرین یہ رائے رکھتے ہیں کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد جس طرح بعض یورپی ممالک نے سوئٹزرلینڈ کے بینکاری نظام کے ذریعے مالیاتی لین دین کے معاہدے کیے جس سے سوئٹزر لینڈ کی معیشت بہت مضبوط ہوئی‘ اسی طرز پر اگر ایران کے ساتھ پاکستان کے بینکوں کے ذریعے عالمی ترسیلات کا کوئی مؤثر معاہدہ ہو جائے تو ملک کی معیشت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved