سینیٹ یا قومی اسمبلی کی کمیٹیوں میں بہت کچھ سننے کو ملتا ہے‘ یا یوں کہہ لیجیے کہ ہمارے جیسے رپورٹرز کی خبروں کی بھوک یہیں آ کر مٹتی ہے۔ جس دن کوئی خبر نہ ملے عجیب سی بے چینی رہتی ہے‘ اور پھر ان لوگوں کا خیال آتا ہے جو سگریٹ نہ پینے کی وجہ سے بے قرار ہو جاتے ہیں۔ خبر تلاش کرنا اور پھر اسے بریک کرنا ایک الگ ہی نشہ ہے‘ جو آپ کو روزانہ درکار ہوتا ہے۔ اسی لیے مجھے پارلیمانی کمیٹیاں پسند ہیں جہاں یہ نشہ پورا ہوتا ہے۔ویسے بھی یہ انسان کا مزاج ہے کہ وہ روز کوئی نئی خبر‘ نئی کہانی یا نیا قصہ سننا یا سنانا چاہتا ہے۔ اس لیے اکثر جو بھی ملے گا سلام دعا کے بعد یہ ضرور پوچھے گا: ''کیا خبر ہے؟‘‘ یا ''آج کی کیا نئی تازی ہے؟‘‘ یا پھر کہے گا: ''یار کوئی گپ ہی سنا دو‘‘۔ ان کمیٹیوں کے اجلاسوں میں یہ تینوں چیزیں آپ کو ملتی ہیں۔ آپ کو خبر بھی ملتی ہے‘ نئی تازی بھی اور سب سے بڑھ کر گپ شپ بھی۔
آج کی سن لیجیے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس تھا۔ ایم این اے راجہ خرم نواز اس کے چیئرمین ہیں۔ یہ ان چند کمیٹیوں میں سے ایک ہے جہاں پورے ممبران موجود ہوتے ہیں اور کبھی کورم کا مسئلہ نہیں ہوا‘ جیسے دوسری کمیٹیوں کے اجلاسوں میں ہوتا ہے‘ جہاں بعض اوقات چیئرمین اکیلا بیٹھا دس پندرہ ممبران میں سے دو ممبران کا انتظار کر رہا ہوتا ہے تاکہ کورم پورا ہو اور اجلاس شروع ہو سکے۔ دو ممبران بھی نہیں آتے جبکہ متعلقہ وزیر‘ سیکرٹری اور درجنوں افسران موجود ہوتے ہیں اور سب کورم کے لیے دو ارکان کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ فون پر بڑی منت سماجت کے بعد دو ممبران آتے ہیں‘ باقی پھر بھی نہیں آتے۔ خیر داخلہ کمیٹی میں کبھی کورم کا مسئلہ نہیں ہوا کیونکہ اس میں بڑے بڑے افسران نے آنا ہوتا ہے جن سے ممبران نے سوالات کرنے ہوتے ہیں۔ اس سے آگے کچھ نہیں لکھوں گا ورنہ مجھے ان اجلاسوں سے بین بھی کیا جا سکتا ہے‘ لہٰذا سمجھداری کا تقاضا یہی ہے کہ کمیٹی کے دروازے خود پر بند نہ کراؤں تاکہ آپ کو کبھی کبھار نئی تازی‘ نئی خبر اور گپ شپ کی لذت سے آشنا کرتا رہوں۔
یہ شاید واحد اجلاس ہے جس میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ‘ سیکرٹری داخلہ‘ ڈی جی ایف آئی اے‘ آئی جی اسلام آباد‘ ڈی جی نارکوٹکس‘ چیئرمین سی ڈی اے‘ کمشنر اسلام آباد‘ سکیورٹی اداروں کے افسران اور چاروں صوبوں کے آئی جیز یا چیف سیکریٹریز تک شریک ہوتے ہیں‘ اگر ان کا ایجنڈا ہو۔ اس سے اندازہ لگا لیجیے کہ بھلا کون سا ایم این اے ایسے اجلاس سے دور رہنا پسند کرے گا۔ خیر آج اس اجلاس میں جو اہم ایجنڈا تھا اس کیلئے ڈی جی ایف آئی اے عثمان انور سمیت سیکرٹری داخلہ خرم آغا اور وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چودھری موجود تھے۔ اس اجلاس میں جو اہم ایشو زیرِ بحث تھا وہ آپ روز پڑھتے رہتے ہیں کہ ایئرپورٹس سے ایف آئی اے شہریوں کو آف لوڈ کر رہی ہے حالانکہ ان کے پاس لیگل ویزے موجود ہوتے ہیں۔ اس پر ارکانِ اسمبلی خصوصاً نصیر صاحب نے نکتہ اٹھایا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے جب ہر ایک کے پاس ویزا بھی موجود ہے اور ٹکٹ بھی۔ آپ کو کیا مسئلہ ہے؟ اسی طرح پیپلز پارٹی کے آغا رفیع اللہ اور قادر پٹیل نے بھی یہ اہم معاملات ڈی جی ایف آئی اے کے سامنے اٹھائے کہ بعض مشرقِ وسطیٰ کے ممالک ارکانِ اسمبلی اور سینیٹرز تک کو سفارتی پاسپورٹ ہونے کے باوجود یا تو اپنے ملک میں داخل نہیں ہونے دے رہے یا پھر آف لوڈ کر رہے۔ ان دونوں ممبران نے بڑے زور و شور سے صومالیہ میں قزاقوں کے ہاتھوں تاوان کیلئے اغوا کیے گئے پاکستانیوں کی حالتِ زار پر بھی آواز اٹھائی جنہیں چھڑانے کیلئے اب تک حکومت نے کوئی مؤثر کوشش نہیں کی۔ طلال چودھری نے جو باتیں کمیٹی کے سامنے رکھیں وہ ہوشربا تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں انسانی سمگلنگ میں ملوث مافیا نئے نئے راستے تلاش کر کے لوگوں کو یورپی ممالک بھیج رہا ہے‘ جس کے باعث یورپ نے پاکستانیوں پر بہت سختیاں کر دی ہیں اور اب جو لوگ قانونی طریقے سے ویزا حاصل کرنا چاہتے ہیں انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔ اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کیلئے طلال چودھری نے انکشاف کیا کہ چند دن قبل ایک ایم این اے کا رات کو فون آیا کہ ان کے جاننے والے ایک نوجوان کو ایئر پورٹ پر ایف آئی اے نے روک لیا ہے۔ ایم این اے کا کہنا تھا کہ اس کے پاس سری لنکا کا اصلی ویزا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے لیٹر پیڈ پر لکھ کر ذاتی ضمانت دینے کو تیار ہیں کہ وہ واپس لوٹ آئے گا۔ اس پر طلال چودھری نے ایف آئی اے سے پوچھا تو انہوں نے اس لڑکے کو بلا کر تفصیلات معلوم کیں کہ تم سری لنکا کیا کرنے جا رہے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ وہاں حضرت آدمؑ کے قدموں کے نشانات ہیں اور وہ ان کی زیارت کا خواہاں ہے۔ اس سے پوچھا گیا کہ کیا وہ کبھی حج یا عمرے پر گیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں وہ کبھی نہیں گیا۔ سری لنکا بھی پہلی بار جا رہا تھا۔ اس نوجوان کا باپ رکشہ ڈرائیور ہے۔ پتا چلا کہ انسانی سمگلروں نے اب نیا راستہ ڈھونڈ لیا ہے۔ وہ پہلے کسی عام سے ملک کا سیاحتی ویزا لگوا کر دیتے ہیں پھر وہاں سے لوگوں کو ڈنکی کے ذریعے نکال کر یورپ تک پہنچاتے ہیں۔ اب سری لنکا بھی اس فہرست میں شامل ہو رہا ہے جہاں سے ایسے افراد کو پہلے شرم الشیخ (مصر) تک لے جایا جاتا ہے اور پھر سرحدی ممالک سے گزارتے ہوئے یورپ کے ساحلوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ کچھ بچ جاتے ہیں اور باقی ڈوب جاتے ہیں۔ اس پر ڈی جی ایف آئی اے عثمان انور نے بھی ایک واقعہ سنایا کہ اب یہاں سے یہ سب ڈنکی لگانے والے کسی نہ کسی ملک کا درست ویزا لے کر نکلتے ہیں اور آگے جا کر ان ممالک سے غائب ہو جاتے ہیں جس سے پاکستانی پاسپورٹ کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ وہ بتانے لگے کہ کچھ عرصہ پہلے ایک ماں اور بیٹا عمرہ کرنے کیلئے سعودی عرب گئے۔ عمرہ ادا کرنے کے بعد ماں تو پاکستان واپس آ گئی جبکہ نوجوان سعودی عرب سے غائب ہو گیا اور وہاں سے انسانی سمگلروں کے ذریعے سرحدی ممالک سے ہوتا ہوا یورپ جانے والی کشتی پر سوار ہو گیا۔ ڈی جی نے انکشاف کیا کہ حال ہی میں جو کشتی ڈوبی ہے جس میں بہت سے پاکستانی جاں بحق ہوئے‘ ان میں اس خاتون کا بیٹا بھی شامل تھا۔ اس کے علاوہ ڈوبنے والے درجنوں پاکستانیوں کی لاشوں کی شناخت بھی نہیں ہو پا رہی۔
اسی طرح بہت سے ممالک کے ایئرپورٹس پر پاکستانی سفارتی پاسپورٹس کے غلط استعمال کا بھی انکشاف ہوا۔ ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ پاکستانی ایئرپورٹس پر تو سفارتی پاسپورٹ کے اصلی یا نقلی ہونے کا پتا چل جاتا ہے لیکن دبئی‘ ابوظہبی‘ دوحہ وغیرہ میں ایسا نہیں ہو پاتا اور وہاں ان کا غلط استعمال ہو رہا ہے جس کی وجہ سے پاکستانی پارلیمنٹیرینز کیلئے بھی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ایک اور انکشاف بھی کیا گیا کہ ایسی مشکوک امیگریشن کے سب سے زیادہ کیسز سیالکوٹ ایئرپورٹ سے رپورٹ ہو رہے ہیں۔ اکثر لوگ اپنی پروازیں سیالکوٹ ایئر پورٹ سے بک کرواتے ہیں اور وہاں بعض امیگریشن اہلکاروں کے ساتھ ملی بھگت کر کے نکل جاتے ہیں۔ ڈی جی نے ایف آئی اے کے ایک افسر کا بتایا جو اس کام میں ملوث تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ہزار افراد نے ایک ملک کیلئے اسی افسر کے ذریعے کلیئرنس حاصل کی۔ اب اسے معطل کر دیا گیا ہے۔ بات وہی کہ معطل ہونے سے پہلے وہ سات نسلوں کیلئے پیسہ اکٹھا کر گیا ہے جبکہ بدنامی پورا ملک بھگتے گا‘ یا پھر وہ نوجوان جو آگ کا دریا عبور کر کے یورپ پہنچنا چاہتے ہیں۔
میں اس اجلاس سے بوجھل دل کے ساتھ اٹھ تو آیا لیکن مسلسل اُس ماں کے بارے میں سوچ رہا ہوں جسے ڈھال بنا کر بیٹا عمرے پر سعودی عرب لے گیا‘ ماں کو اکیلے جہاز پر پاکستان واپسی کیلئے بٹھا دیا اور خود وہاں سے غائب ہو کر چند دن بعد یورپ کے سمندروں میں ڈوب گیا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved