آج قومی بجٹ ایوان میں پیش کیا جانا تھا لیکن نہیں کیا گیا۔ جب یہ کالم چھپ کر آپ کے ہاتھوں میں ہو گا تو ممکن ہے بجٹ کے پیش کیے جانے کی حتمی تاریخ کا اعلان کیا جا چکا ہو۔ بجٹ پر تحفظات دور کرنے کے لیے آج سربراہ مملکت اور سربراہ حکومت کی ملاقات بھی ہونے والی ہے۔ جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے تو تحفظات دور ہونے یا نہ ہونے کی خبر بھی آپ تک پہنچ چکی ہو گی۔ حکومت میں شامل ملک کی دو بڑی پارٹیوں کے تحفظات تو کسی نہ کسی طرح دور ہو ہی جائیں گے‘ عوام کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی کہ ان کے تحفظات کب دور ہوں گے اور کون دور کرے گا۔
ماضی میں جب بجٹ پیش کیا جاتا تھا تو لوگ خوش ہوتے تھے کہ سال بھر کے اعداد وشمار پیش کیے جا رہے ہیں تو ان کے ریلیف کے لیے بھی حکومت کچھ نہ کچھ ضرور کرے گی۔ عوام کو ریلیف مل بھی جاتا تھا۔ کسی ایک چیز کی قیمت اگر بڑھائی جاتی تو کسی دوسری چیز کے نرخ کم بھی کر دیے جاتے تھے۔ یوں ایک بیلنس رہتا تھا اور لوگوں کا گزارہ ہو جاتا تھا۔ یہ تب کی بات ہے جب آئی پی پیز موجود نہیں تھیں‘ اس کے باوجود پورا سال بلاتعطل بجلی ملتی تھی۔ تب بجلی کے بلوں میں متعدد ٹیکسز شامل نہیں کیے گئے تھے اس لیے لوگ اسی بجلی کی بل ادا کرتے تھے جو وہ استعمال کرتے‘ لائن لاسز اور صرف کی جا چکی بجلی کی قیمت موصول نہ ہونے کا بوجھ عوام پر ڈالنے کا رواج بھی ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔ تب پٹرول کی قیمت کا اگر بجٹ میں اعلان کر دیا جاتا تھا تو سارا سال پھر وہی قیمت رہتی تھی۔ پتا نہیں وہ کون سا جغادری تھا جس نے پٹرول کی قیمتیں ہر ماہ تبدیل کرنے کا مشورہ دے کر عوام کو ایک نہ ختم ہونے والے عذاب میں مبتلا کر دیا۔ (اب تو ہر ہفتے نئی قیمت کا تعین کیا جاتا ہے) تب پٹرولیم پر لیوی بھی سینکڑوں کے حساب سے نہیں لی جاتی تھی‘ عوام کی قوتِ خرید کا خیال رکھا جاتا تھا۔ تب پیسے کی اتنی تیز دوڑ شروع نہیں ہوئی تھی‘ متوسط طبقہ بہت بڑا تھا؛ چنانچہ سارے ایک ہی رو میں چلتے چلے جا رہے تھے۔ سٹیٹس میں فرق کی وجہ سے سماج میں اتنی زیادہ بے چینی نہیں پھیلی تھی جتنی اب پھیل چکی ہے۔ مالی مسائل اور سماجی بے چینی کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ معاشی دباؤ براہ راست ذہنی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے‘ جس سے بے چینی‘ چڑچڑا پن اور ڈپریشن جیسی کیفیات جنم لیتی ہیں۔ یہ مجموعی صورتحال معاشرے میں عدم تحفظ اور تناؤ کو بڑھاتی ہے۔ اگر صرف اسلام آباد میں روزانہ تین سو تک خلع اور طلاق کے کیسز درج ہو رہے ہیں تو یہ Phenomenon بلاسبب نہیں ہے۔
کہا جاتا ہے کہ بجٹ اعداد وشمار کا گورکھ دھندا ہوتا ہے جس کو سمجھنا عام آدمی کے لیے مشکل ہی ناممکن بھی ہے۔ اور عام آدمی شاید اس سارے عمل کو سمجھنے میں کوئی خاص دلچسپی بھی نہیں رکھتا کہ اس کے سوچنے کے معیارات اور محور کچھ اور ہیں۔ عام آدمی یہ نہیں دیکھتا کہ حکومت نے بجٹ میں اہداف کیا مقرر کیے ہیں‘ وہ یہ دیکھتا ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں کتنی کمی کی گئی‘ اس کی تنخواہ میں کتنا اضافہ ہوا اور اس اضافے سے وہ سال بھر بڑھنے والی مہنگائی کے اثرات کا سامنا کر سکے گا یا نہیں؟ اس کے بچوں کی سکول اور کالج کی فیسیں پوری ہو سکیں گی یا نہیں‘ اسے مالی لحاظ سے مسائل کا سامنا تو نہیں کرنا پڑے گا؟ بجٹ میں عام آدمی کی اولین ترجیح مہنگائی میں کمی‘ بنیادی اشیائے ضروریہ (آٹا‘ دالیں‘چینی‘ گھی‘ سبزیاں‘ پھل) پر سبسڈی‘ اور تنخواہوں میں قابلِ قدر اضافے کا حصول ہوتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ آٹا‘ دالیں‘ چاول اور سبزیوں جیسی روزمرہ کی خوراک کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے‘ بجلی‘ گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں استحکام لایا جائے تاکہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور کارخانوں اور فیکٹریوں نیز زرعی شعبے میں پیداواری لاگت کم ہو۔ عام آدمی کی خواہش ہوتی ہے کہ بجٹ میں سرکاری اور نجی ملازمین کی تنخواہوں کو موجودہ مہنگائی کی شرح سے ہم آہنگ کیا جائے‘ کم آمدنی والے طبقے کو انکم ٹیکس کی حد سے استثنا دیا جائے اور بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جائے‘ نوجوانوں کے لیے روزگار کی فراہمی‘ غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے اور کاروبار کے فروغ کے لیے آسان قرضوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے‘ سرکاری ہسپتالوں اور سکولوں کے لیے بجٹ مختص کیا جائے تاکہ عام آدمی کو مہنگے علاج اور نجی تعلیمی اداروں کی بھاری فیسوں سے چھٹکارا مل سکے۔
عام طور پر عام آدمی کی انہی بنیادی ضروریات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ایک صرف مہنگائی کنٹرول کر کے عام آدمی کا دل اور دماغ‘ دونوں جیتے جا سکتے ہیں۔ رمضان المبارک میں دکانوں پر جا کر‘ فروخت کے لیے رکھی گئی چیزوں کے نرخ خفیہ طور پر معلوم کر کے فوری کارروائیاں کی جاتی رہیں۔ ناجائز منافع خوری میں ملوث افراد کے خلاف ترنت اسی وقت اقدامات کیے گئے۔ ہمارے جیسے معاشرے کو راہ راست پر رکھنے کے لیے اسی طرح کی کڑی نگرانی کی پورا سال ضرورت ہے۔ حکومت اگر یہ اقدامات کر لے تو عوام کو خوش کرنا چنداں مشکل نہیں رہے گا۔ پنجاب حکومت کی جانب سے پھل فروشوں کے پھل مہنگا بیچنے کے قلع قمع کے لیے جو پورٹل متعارف کرایا گیا ہے اس کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے سخت کارروائی کے خو ف سے وہ اب طے کردہ ریٹ سے زیادہ مانگنے سے احتراز برتتے ہیں۔ اب جبکہ بجٹ پیش کیے جانے کے لیے تیارہے تو سارے عوام دم سادھے بیٹھے ہیں کہ پتا نہیں ان کی بجٹ سے وابستہ توقعات پوری ہوتی ہیں یا نہیں۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم نے قرضے اتنے اٹھا لیے ہیں کہ اب ہمارے بس میں کچھ رہا نہیں۔ اتنی بے بسی ہے کہ ہمیں بار بار مالی معاونت کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ آج ہی کی خبر ہے کہ وفاقی حکومت کے قرضوں کے سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں اور ایک سال میں وفاقی حکومت کے قرضوں میں 6 ہزار 994 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی حکومت کے قرضے اب 81 ہزار 930 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ جب آئی ایم ایف سے رجوع کیا جاتا ہے تو ادھر سے ہدایات ملتی ہیں کہ فلاں فلاں ٹیکس بڑھاؤ اور فلاں نیا ٹیکس لگاؤ۔ ان ساری ہدایات کا بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے کہ آ جا کے بات انہی پر ختم ہوتی ہے۔ بجلی کی قیمت آج سے چار سال پہلے کتنی تھی اور اب کتنی زیادہ ہے۔ باقی اشیا کے نرخ بھی اتنی ہی تیزی سے بڑھے ہیں۔ نہیں بڑھے تو عام آدمی کے حالات اور مالی وسائل۔ خبروں میں ایک خبر یہ بھی ہے کہ امسال جولائی سے شروع ہونے والے اگلے مالی سال کے دوران ان ڈائریکٹ ٹیکسوں پر انحصار مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ نئے مالی سال کے لیے ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کا ہدف9837 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے‘ جو 30 جون کو ختم ہونے والے رواں مالی سال کے تخمینے کے مقابلے میں 957 ارب روپے زیادہ ہے۔ ایک بدحال معیشت میں یہ اہداف پورے کرنا ممکن ہو سکتا ہے؟ یہی آج کا سب سے بڑا سوال ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved