عمر کے لگ بھگ ساڑھے چھ عشرے گزار چکنے کے بعد اچانک ایک غیر متوقع سوال سامنے آ کھڑاہوا ہے۔ گزاری ہوئی عمر ایک پوری عمر ہے۔ بہت سے لوگوں کو اتنی عمر نہیں ملتی۔ بڑا کرم اس رب کا جس نے یہ عمر عطا کی اور سہولتوں کے ساتھ گزارا۔ اصولاً اس مرحلے پر یہ سوال پیدا ہونا ہی نہیں چاہیے کہ زندگی کیسے گزاری جائے کیونکہ اکثر گزر چکی! لیکن یقین کریں یہی سوال سامنے کھڑا ہے کہ کیسے جیا جائے؟ کون سا ڈھنگ؟ کون سا طریقہ؟ کون سا راستہ؟
مجھے لگتا ہے کہ میں ایک پہاڑی موڑ پر کھڑا ہوں جہاں سے ایک راستہ نیچے اترتا ہے۔ یہ سہولت والا راستہ ہے۔ بس ذرا سنبھل کر اترنا ہے۔ دوسرا بل کھاتا راستہ اوپر کی طرف جاتا ہے۔ چڑھائی والا‘ پُرمشقت اور تھکا دینے والا۔ اس اَن دیکھے راستے کی کشش بھی کھینچتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کون سا راستہ اختیار کیا جائے؟ فیصلہ مجھے جلد‘ بہت جلد کرنا ہے۔ جیا کیسے جائے؟ میرے والد‘ دادا‘ پردادا اور سارے بزرگوں کو یہ سوال کبھی پیش نہیں آیا تھا لیکن یہ سوال میری طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہا ہے۔
یہ مسئلہ صرف میرا نہیں‘ ہماری اور ہم سے اوپر کی نسل میں سب کا ہے بلکہ کم عمروں کا بھی۔ میری طرح کے لوگوں نے ایک خاص رفتار سے زندگی گزاری ہے۔ نہ بہت سست نہ بہت تیز۔ ہم سے پہلے لوگ ہم سے کم رفتار زندگی جیے تھے۔ ہم نے شعور کی دہلیز پر قدم رکھا تو بتدریج زندگی کی رفتار تیز ہونے لگی تھی۔ ہمارے بچپن نے لکڑی کی تختیوں پر گاچنی ملی‘ مسطر کھینچے اور قلم کے قط بنائے تھے۔ لڑکپن نے آنہ لائبریری سے ناول لے کر پڑھے اور ٹی وی کے سامنے رابن ہڈ‘ الف نون اور لاکھوں میں تین کی نئی قسطوں کا بے صبری سے انتظار کیا تھا۔ ہم نے کرائے پر لے کر سائیکل چلانا سیکھا جو بڑی عیاشی تھی۔ اس سے بڑی عیاشی موٹر سائیکل تھی۔ گاڑی کی بس دعا کی جا سکتی تھی لیکن خریدنا بس سے باہر تھا۔ ہمارے کالج نے تختہ سیاہ اور چاک سے ہمیں علم سکھایا تھا۔ ہماری یونیورسٹی نے پرانے ٹائپ رائٹرز پر لکھنا سکھایا تھا۔ پوری یونیورسٹی میں کہیں کمپیوٹر نہیں تھا۔ انٹرنیٹ اور موبائل کا تصور ہی ناپید تھا۔ ہماری شادیاں اس لاہور میں ہوئیں جو میرج ہالز کے تصور سے ابھی کافی دور تھا۔ اور یہ تو میں اپنی بات کر رہا ہوں‘ جس نے لاہور جیسے بڑے شہر میں زندگی گزاری۔ چھوٹے شہروں اور دیہات کا تصور آپ خود کر لیجیے۔
زندگی تیز رفتار ہوتی گئی۔ بالآخر ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر میز پر آکر بیٹھ گیا اور آنکھوں سے آنکھیں لڑانے لگا۔ انٹرنیٹ پہلے زندگی میں داخل ہوا اور پھر پوری زندگی بن کر رہ گیا۔ چِٹھیاں متروک ہوئیں‘ ای میل اور میسجز زقند بھر کر مکتوب الیہ تک ایک لمحے میں پہنچنے لگے۔ موبائل کی پہلی نسل نے پہلے صرف آواز پہنچائی‘ پھر دوسری نسل نمبر بھی پہچاننے لگی۔ پھرلیپ ٹاپ نے ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز کو ردی بنایا‘ پھر اینڈرائڈ کی نئی رنگا رنگ نسل پیدا ہوئی اور پھر چل سو چل۔ سوشل میڈیا نے جنم لیا اور ایک نئی طلسماتی دنیا میں داخل ہو گئے۔ ہم نے یہ سب تبدیلیاں دیکھیں اور انہی کے ساتھ ساتھ خود کو تبدیل کرتے رہے۔ ہم توانائیوں بھرے تھے‘ کامیابی کی شدید خواہش تھی اور نئے تقاضوں سے قدم ملا کر چلنا چاہتے تھے کہ یہی زندگی کے لیے ضروری تھا۔ جنگ میں شامل رہنے کے لیے ضروری تھا کہ ہم سب ہتھیاروں سے لیس ہوں۔ سو ہم نئے نئے ہتھیار خریدتے گئے۔
لیکن آپ کا کیا خیال ہے‘ یہ سب بہت آسان رہا ہوگا؟ خود کو تبدیل کرنا اور وہ بھی زمانے کے حکم پر‘ بہت مشکل کام ہے۔یہاں مجبوری میں خریدا گیا ہر نیا موبائل ایک نیا مسئلہ تھا۔ اسے سمجھنے اور استعمال کی عادت بنانے میں مہینوں لگ جاتے تھے۔ ہر نیا لیپ ٹاپ مہینوں تک پہلے ہمارا امتحان لیتا تھا‘ تب کہیں دوستی کا ہاتھ بڑھاتا تھا۔ ایک ایپلی کیشن سمجھ نہیں پاتے تھے کہ اس سے بہتر دوسری کا شور اٹھ کھڑا ہوتا تھا۔ بہت سے دوست اس دوڑ سے باہر نکل گئے کہ یہ تیز رفتار زندگی ان کے بس سے باہر ہونے لگی تھی۔ انہوں نے وہی دائرہ اختیار کر لیا جس میں وہ خوش تھے‘ خواہ زمانہ ان سے آگے نظر آتا ہو۔ لیکن ہم نے یہی سمجھا کہ قدیم اور جدید کی سنگم یہ دنیا ہمیشہ ہماری کامیابیوں کی ضامن رہے گی۔ لیکن ہم بھول گئے کہ دنیا کسی کی ضمانت نہیں دیا کرتی۔ شاید ہم سے پہلی نسلوں نے بھی یہ سوچا ہو گا کہ دنیا ہمیشہ ایسی ہی رہے گی لیکن دنیا کا ارادہ مختلف تھا۔
اب ہم عمر کے ساڑھے چھ عشرے گزار کر تذبذب میں ایک دوراہے پر کھڑے ہیں۔ ایک مسلسل تبدیل ہوتے رہنے کا راستہ ہے اور زمانے کی زبان میں یہی کامیابی کا رستہ ہے۔ دل کا ایک حصہ مسلسل اس پر اکساتا رہتا ہے۔ اب مصنوعی ذہانت کے اوزار خرید کر سیکھنے ہیں۔ کاروبار میں انسانوں کو رخصت دے کر مشینوں کو ان کی کرسیوں پر بٹھانا ہے۔ کم سے کم خرچ میں زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے گُر معلوم کرنے ہیں۔ دنیا اب کیسے کما رہی ہے اور اس نئی کاروباری دنیا میں کون سے نئے کاروبار وجود میں آ چکے ہیں‘ ان سے کیسے فائدے اٹھائے جا سکتے ہیں‘ الگورتھم کے اصول کیا ہیں زیادہ سے زیادہ لائکس اور کمنٹس سمیٹنے کے ہتھکنڈے کون سے ہیں۔ اب خود کو سمجھانا ہے کہ بدنامی اور شہرت دراصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ تم جو ساری عمر انہیں کھوٹے اور کھرے سمجھتے رہے ہو‘ وہ غلط تھا۔ اب سوال یہ نہیں کہ یہ تھیلی حاصل کرنی ہے یا نہیں‘ سوال اب یہ ہے کہ کیسے حاصل کرنی ہے؟ یہ سب باتیں میں سنتا رہتا ہوں۔ یہ سب چیلنج میرے سامنے ہیں۔ یہ چڑھائی کا‘ مشقت کا‘ محنت کا راستہ ہے۔ اور مجھے معلوم ہے کہ جب میں اپنے بدن کو تحلیل کرکے یہ ریاضتیں کر چکوں گا تو سامنے ایک اور چوٹی‘ ایک اور بلندی کی طرف جاتا راستہ میرا منتظر ہوگا۔ یہ آخری مشقت نہیں ہوگی۔ دوسرا راستہ سہل اور ہموار ہے۔ دل کے دوسرے حصے میں کوئی سرگوشی کرتا ہے کہ جو کچھ سیکھ لیا‘ جو کچھ اختیار کر لیا اس پر قناعت کرو اور زندگی کے باقی حصے کو مزے سے گزارو‘ خواہ یہ خیال دل کو ڈستا رہے کہ زمانہ آگے نکل گیا اور تم پچھڑ گئے۔ جو کچھ مل گیا وہ بھی کم نہیں۔ ایک گرم جلیبی تمہارے ہاتھ میں ہے تو اسے کھاکر اس کا لطف اٹھائو نہ کہ اسے ہاتھ میں پکڑے پکڑے ایک اور کی کوشش میں جت جائو اور یہ جلیبی بھی اپنا مزہ کھو بیٹھے۔ میاں! جو کچھ ہنرجو کچھ اظہار مل چکا ہے اور دنیا میں بہت سے لوگ اس کے معترف بھی ہیں‘ انہی کے ذریعے آخری سانس تک اپنا بیان جاری رکھو۔ مزید ہنر‘ مزید فنون کے حصول اور انہیں بارور کرنے کے لیے مزید وقت بھی چاہیے اور اس عمر میں وقت باقی ہی کتنا رہ جاتا ہے۔
تو یہ ناگزیر‘ فوری فیصلہ سامنے دوراہے پر کھڑا ہاتھ باندھے مجھے ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا ہے۔ دل کے کئی گوشوں میں کئی مشیر بیٹھے ہیں۔ میں ان میں ایک سے پوچھتا ہوں کہ کیا کروں اور وہ مجھ سے پوچھتا ہے کہ یہ بتائو تم خوش کس میں رہو گے؟ میں نے مشورہ مانگا تھا‘ ایک اور سوال پلے پڑ گیا۔ میں خوش کس میں رہوں گا؟ کیسے بھولے بادشاہ ہیں میرے مشیر بھی۔ انہیں یہ بھی نہیں پتا کہ انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا اور اسی میں خوش ہے۔ جسے جو مل گیا اس پرکوئی خوش نہیں‘ جو ابھی دسترس میں نہیں وہی اصل خوشی لگتی ہے۔ تو سنو میاں! میں دوپہر میں دور دور تک ہرے کھیتوں کے بیچ مینڈھ پر بکائن کی گھنی چھائوں میں بان کی چارپائی ڈالے بیٹھا ہوں‘ جس میں ہوا سرسراتی ہو اور فصلوں کی مہک میرے نتھنوں تک پہنچتی ہو۔ دیسی گھی کے تڑکے والی دال اور تنوری روٹی میرے سامنے ہو جس پر مکھن کا ڈلا تیرتا ہو۔ چاٹی کی نمکین لسی کی مٹکی ساتھ دھری ہو اور تانبے کے گلاس میں لسی پر نقرئی برف تیرتی ہو۔ لیپ ٹاپ‘ سوشل میڈیا‘ مصنوعی ذہانت اور الگورتھم کے اصول صدیوں پیچھے ہوں۔ میری خوشی تو وقت کا یہ ٹکڑا ہے۔ دل کاکیا ہے‘ دل تو بچہ ہے جی!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved