تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     12-06-2026

عام تاثر اور حقیقت

دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ جو حالتِ موجود کی حقیقت ہے ہمارا تصور اور تاثر اس کے عین عکس کی صورت ہمارے ذہنوں میں ابھرے۔ حقیقت کے قریب وہی لوگ اور فیصلے ہوتے ہیں جو آنکھوں اور دل کے مناظر میں ویسے ہی دکھائی دیں جو وہ اصل میں ہوتے ہیں۔ خواہشوں کے باوجود ایسا خال خال ہی ہوتا ہے۔ دل کے خوابوں کی دنیا اور زمینی حالات میں زیادہ فرق ہم وہاں محسوس کرتے ہیں جہاں بحران در بحران پیدا ہوتے رہے ہوں‘ جھوٹ بولنے کی روایت شخصی اور قومی زندگی میں جڑ پکڑ چکی ہو اور مایوسی کے بادلوں کی گرج چمک اکثر دکھائی دیتی ہو۔ سیانے سچ کہتے ہیں کہ کسی کا جھوٹ اگر ایک بار ثابت ہو جائے اس کے آئندہ کے سچ پر بھی اعتبار اٹھ جاتا ہے۔ تجارتی کمپنیوں‘ اہم شخصیات جس شعبے میں بھی ہوں اور سیاسی جماعتوں اور ملکوں کیلئے مسابقت اور سرمایہ کاری کے دور میں امیج انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ ہمارے اندر بھی کچھ مواقع پر ایک سوال آگ کے گولے کی طرح پھٹ اٹھتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ وہ گانا یاد آرہا ہے ''کچھ تو لوگ کہیں گے‘ لوگوں کا کام ہے کہنا‘‘ مگر یہ فلمی دنیا کی بات ہے جس کا عملی زندگی سے کچھ لینا دینا نہیں۔ سماجی اخلاقیات کبھی کمزور نہیں پڑتیں۔ بعض صورتوں میں دب سکتی ہیں۔ اس طرح رائے عامہ اور آوازِ خلق تازیانے برسنے کے خوف کے باوجود اپنا اثر ضرور رکھتی ہے۔ ہمارا ایک انتہائی اہم اجتماعی مسئلہ ہے جو یکسر ہماری سیاسی اور دیگر نوع کی اشرافیہ کی طرزِ حکمرانی‘ ذاتی رویوں اور سیاست بازی کی پیداوار ہے۔ وہ ہے ہمارا قومی امیج‘ وہ عمومی تاثر جو باہر کے لوگ ہمارے ملک اور معاشرے کے بارے میں رکھتے ہیں۔
اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں بے شمار جگہوں پر اپنے قومی مفاد‘ نظام‘ سیاسی تاریخ اور شناخت کا دفاع کرنے کی جسارت کرتے رہے مگر وہ پاکستان شناس جنہوں نے یہاں وقت گزارا اور لوگوں کے ساتھ گھل مل کر حقائق جمع کیے اور بعد میں مقالات اور کتابیں لکھتے رہے‘ معنی خیز انداز میں مسکراتے۔ ہم بھی سمجھ جاتے کہ کبھی کبھار اگر ہماری حب الوطنی تڑپ کر دل سے باہر آجاتی ہو تو وہ اسے سماجی علوم کی معروضیت کے دائرے سے خارج سمجھتے۔ سب کو معلوم ہے کہ علم اگر معاشرتی حقائق کا آئینہ دار نہ ہو تو وہ کسی کی رائے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ اور اگر کچھ بڑھ چڑھ کر لکھا اور کہا جائے تو وہ پھر کسی طبقے اور حکمران گروہوں کیلئے پروپیگنڈا سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ باہر کے ملکوں کے عالم و فاضل ہمارے اپنے ہی لوگوں کی آرا کا حوالہ دیتے ہیں۔ فرق کبھی کبھار یہ ضرور دیکھا ہے کہ خواص سے گفتگو کے زیادہ اور عوام سے کم مواقع شاید انہیں میسر رہے ہیں۔ ہمارے نزدیک تو سب کی رائے اہم‘ خاص کر گلیوں‘ بازاروں‘ محلوں اور دیہات میں بستے لوگوں کی۔ یہ ساری باتیں کرنے کے بعد معذرت کے ساتھ اپنے قومی امیج کے بارے میں ایک بنیادی بات کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے عام لوگ ملک کی صورتحال سے مایوس ہیں‘ مطمئن ہونا تو دور کی بات ہے۔ ہماری بری یا اچھی جو بھی کہیں‘ عادت ہے کہ لوگوں میں مایوسی کا دفتر کھول کر سیاسی تقریر کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ وہ جو بھی کہیں سن لیتے ہیں‘ روکتے ٹوکتے نہیں اور نہ ہی خواہ مخواہ کی بحث میں الجھتے ہیں۔ مذہب اور سیاست تو ایسے میدان ہیں جہاں بحث کرکے لوگ اپنا وقت‘ ذہنی سکون اور دن رات کا چین کھوتے ہیں۔ لوگوں کی سننا اگر وہ مُصر ہیں‘ کوئی خوش کن بات کرتے ہیں یا پھر دانش مندانہ انداز میں گفتگو کا رخ موڑ دیتے ہیں۔ ہمارا تلخ تجربہ یہ ہے کہ عام لوگوں اور یہاں تک کہ متوسط طبقے کے نام نہاد پڑھے لکھے لوگوں کیلئے بھی علمی گفتگو کے موضوعات نہایت ہی عامیانہ‘ خود پرستانہ اور کئی طرح سے غیبت کی کوئی نہ کوئی شکل محسوس ہوتے ہیں۔ عام لوگ اکثر جہاں بھی ملاقات ہو‘ حالات کا رونا روتے ہیں۔
پرسوں بچت مرکز کا چکر لگانا پڑا جہاں ہماری عمر کے بزرگ اور خواتین کئی دہائیوں سے آتے جاتے دیکھتا ہوں تو کچھ ترس‘ کچھ امید اور کچھ اطمینان کے جذبات ذہن میں ابھرتے ہیں۔ کبھی کبھار کوئی پہچان بھی لیتا ہے اور کسی اجنبی سے نظریں مل جائیں تو سلام کرکے خیرو عافیت دریافت کرنا بھی اپنی روایت میں سے ہے۔ اطمینان اس لیے کہ کم از کم معاشی لحاظ سے ہم کسی کے محتاج نہیں۔ کچھ تو ہے کہ لوگوں کا گزارہ چل رہا ہے۔ ترس اس لیے کہ بہت سے بزرگوں کے چہروں پر اداسی‘ خموشی اور انجانے خو ف کی علامات نمایاں ہوتی ہیں۔ کبھی کسی کو ہنستے‘ مسکراتے بھی نہیں دیکھا قہقہہ تو خارج از امکان سمجھیں۔ جو جانتے ہیں پوچھتے ہیں کہ حالات کب بہتر ہوں گے۔ ہمارا مدتوں سے ایک ہی جواب رہا ہے جس میں کبھی تبدیلی کی ہے اور نہ ہو گی کہ اچھے دن آنے والے ہیں۔ کیشیئر نے رجسٹر سے آنکھ اٹھا کر مجھے دیکھا تو پوچھا کہ بجٹ آرہا ہے‘ عوام کو ریلیف ملے گا یا نہیں؟ اور ساتھ ہی چند اور سوالات کہ معیشت بہتر ہو گی‘ مہنگائی کا زور ٹوٹے گا اور چیزیں سستی ہوں گی؟ ان سوالوں کا جواب سب کے پاس ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ہم کن حالات سے گزر رہے ہیں‘ ہمارے حکمران کون ہیں‘ ان کے کارنامے کیا ہیں جو آئندہ کا تاریخ دان سنہرے حروف سے لکھے گا‘ تو پھر ہم جیسے درویشوں سے پوچھنے کا کیا مطلب۔ بات دراصل یہ ہے کہ ہر کوئی ہمارے ملک میں اچھی خبر کے انتظار میں ہے۔ اس لیے ہم کہہ دیتے ہیں کہ اب زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ ہمارے حالات بھی ضرور‘ بہت جلدی پلٹا کھائیں گے۔ کچھ ہماری خوش خبریوں پر اعتماد بھی کر لیتے ہیں لیکن وہ بھی ہیں جو دوسروں کی نسبت بہت کچھ دیکھتے اور صبر سے برداشت کرتے آئے ہیں۔ جونہی اچھے دن آنے کی نوید سنائی ایک ہلکی سی آواز دو چار قدم کے فاصلے سے آئی کہ یہی کچھ ہم ساری زندگی سنتے آئے ہیں۔ اس کے بعد ہمیں کہنے کی کیا ہمت ہو سکتی تھی۔ معاملات ختم کرکے ہم خاموشی سے نکل آئے مگر ایسی آوازیں پوری زندگی ہمارا پیچھا کرتی رہی ہیں۔ وسائل کے لحاظ سے ہم امیر ملک ہیں‘ غریب نہیں مگر غربت ہماری آبادی کی اکثریت کا مقدر بن چکی ہے۔ ہماری تہذیبی روایت علم ہے لیکن ہم نے عام لوگوں کو اس سے محروم رکھا ہوا ہے۔ آبادی کا نصف کے قریب جوان ہے‘ جسے ہم ہنر اور جدید تعلیم سے سنوارتے تو ہماری معیشت کہاں سے کہاں پہنچ جاتی۔ وہ صرف سڑکوں کے کنارے‘ کھیتوں‘ بازاروں اور گلیوں میں صرف اپنی جسمانی توانائی اور صحت کا سودا کرسکتا ہے۔ دیہاڑی لگ گئی تو ٹھیک ورنہ فاقہ‘ اور بیکاری میں ہاتھ پھیلانے پر مجبور۔ وسائل کی کمی کی جو بات کرتے ہیں انہیں ہمارا مشورہ ہے کہ وہ سیاسی اشرافیہ‘ تجارتی طبقہ‘ نوکر شاہی‘ زمیندار اور دیگر شعبے جن کے بارے میں کوئی بات کہنا یا لکھنا خطرے سے خالی نہیں‘ ان کی تنخواہوں اور مراعات کو دیکھ لیں۔ کبھی کبھار محسوس یہ ہوتا ہے کہ مادیت پرستی اور خود غرضی کے معاشروں میں انسانیت کی روح پرواز کر جاتی ہے۔ جدید‘ ترقی یافتہ اور صنعتی معاشروں میں دائیں بازو کے سیاست باز اپنی اٹھان کی لہروں کے ادوار میں ضربیں تو لگاتے ہیں مگر اسے باہر نہیں نکال سکتے۔ وہ مایوسی جو بزرگوں کے چہروں پر دیکھتا ہوں‘ وہ سوال جو کیشیئر اٹھاتا ہے اور جو کچھ عام سماجی رابطوں میں لوگ ہم سے پوچھتے ہیں‘ اور پھر غریبوں کی کسمپرسی جو بے زبانی میں بھی ایک گرج دار آواز کی طرح ضمیر کو جھنجھوڑتی ہے‘ جذباتی تاثر نہیں تلخ حقائق کا مظہر ہیں۔ ہم 'سب ٹھیک ہے‘ کہتے بھی رہیں تو لوگ اسے اہمیت نہیں دیں گے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved