وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب آج مالی سال 2026-27ء کا بجٹ پیش کرنے جا رہے ہیں‘ لیکن اس سے قبل ہی بجٹ کی سمت اور ترجیحات کافی حد تک واضح ہو چکی ہیں۔ یہ بجٹ محض آمدن اور اخراجات کی دستاویز نہیں بلکہ پاکستان کی سیاسی‘ معاشی اور سکیورٹی ترجیحات کا آئینہ دار بھی ہے۔ اس سال بجٹ سازی کا عمل غیر معمولی طور پر پیچیدہ دکھائی دیتا ہے۔ این ایف سی کا اجلاس تین مرتبہ ملتوی ہوا‘ وفاق اور صوبوں کے درمیان طویل مذاکرات ہوئے اور حکمران اتحاد کے دو بڑے شراکت داروں نے کئی روز کی مشاورت کے بعد بالآخر بجٹ کے بنیادی خدوخال پر اتفاق کیا۔ یہ تمام پیشرفت اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک اس وقت شدید مالی دباؤ سے گزر رہا ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ وفاقی حکومت کو رواں مالی سال میں تقریباً 800ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے۔ دوسری جانب آئندہ مالی سال میں دفاعی ضروریات‘ آبی منصوبوں اور دیگر سٹرٹیجک ترجیحات کیلئے ایک ہزار سے پندرہ سو ارب روپے اضافی وسائل درکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وفاق اور صوبوں نے ترقیاتی اخراجات محدود کرکے مالی گنجائش پیدا کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ترقیاتی پروگرام کتنا بڑا ہے بلکہ یہ ہے کہ دستیاب وسائل کس ترجیح کے تحت خرچ کیے جا رہے ہیں۔
حکومت قومی شاہراہوں کے منصوبوں‘ اتحادی جماعتوں کیلئے 87 ارب روپے اور حکومتی اراکینِ اسمبلی کی ترقیاتی سکیموں کیلئے 70 ارب روپے مختص کرنے پر غور کر رہی ہے۔ ایسے میں یہ سوال فطری ہے کہ محدود وسائل کے دور میں ترجیح عوامی فلاح ہونی چاہیے یا سیاسی ضروریات؟ این ایف سی نے مالی سال 2026-27ء کیلئے 3.2 ٹریلین روپے کا ترقیاتی پروگرام منظور کیا ہے جو ابتدائی تجویز کے مقابلے میں 25 فیصد کم ہے۔ ترقیاتی بجٹ کسی بھی ملک کی معاشی نمو‘ روزگار کے مواقع اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا بنیادی ذریعہ ہوتا ہے۔ موجودہ مالی سال میں بھی ترقیاتی بجٹ کو 1100 ارب روپے سے کم کرکے 820 ارب روپے کر دیا گیا تھا جبکہ مالی سال کے اختتام تک صرف 590 ارب روپے خرچ ہو سکے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت مالیاتی دباؤ کے باعث مسلسل ترقیاتی اخراجات محدود کر رہی ہے۔صوبوں کو بھی اپنے ترقیاتی منصوبے محدود کرنے کا کہا گیا ہے۔ این ایف سی کے تحت صوبوں نے اپنے ترقیاتی اخراجات کم کرکے وفاق کو 920ارب روپے بطور گرانٹ دینے پر اتفاق کیا ہے تاکہ دفاعی ضروریات اور اہم آبی منصوبوں کیلئے وسائل فراہم کیے جا سکیں۔پنجاب نے سب سے بڑی قربانی دی ہے اور اس کا ترقیاتی بجٹ 1450 ارب روپے سے کم ہو کر 749 ارب روپے رہ گیا ہے۔ سندھ کا ترقیاتی بجٹ 706 ارب‘ خیبر پختونخوا کا 455 ارب جبکہ بلوچستان کا 308 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ وفاقی پی ایس ڈی پی کو بھی کم کرکے ایک ٹریلین روپے کر دیا گیا ہے جبکہ دفاعی اخراجات اس سے تین گنا زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب ایف بی آر کو آئندہ مالی سال کیلئے 15264 ارب روپے کا ٹیکس ہدف دیا گیا ہے جبکہ گزشتہ دو برسوں میں ادارہ مجموعی طور پر 2200 ارب روپے کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ حکومت آبی منصوبوں کو ترجیح دیتی دکھائی دے رہی ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم‘ مہمند ڈیم اور داسو ڈیم جیسے اہم منصوبوں کیلئے تقریباً 335 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ پاکستان پانی کی شدید قلت کا شکار ہے اور فی کس پانی کی دستیابی 1951ء کے 5260 مکعب میٹر سے کم ہو کر ایک ہزار مکعب میٹرسے بھی کم ہو چکی ہے۔ اس لیے آبی ذخائر پر سرمایہ کاری کو مستقبل کی معاشی سلامتی میں سرمایہ کاری قرار دیا جا سکتا ہے۔
بجٹ کا ایک مثبت پہلو تنخواہ دار طبقے کیلئے تقریباً 50 ارب روپے کے ریلیف کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں تنخواہ دار طبقے کی ٹیکس ادائیگی 600 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ نئے اقدامات کے تحت دو لاکھ67ہزار روپے ماہانہ آمدنی والوں کیلئے ٹیکس کی شرح 20 فیصد‘ تین لاکھ41ہزار روپے ماہانہ آمدنی والوں کیلئے 25 فیصد اور چارلاکھ 67ہزار روپے ماہانہ آمدنی والوں کیلئے 29 فیصد تک لانے کی تجویز ہے۔ اگرچہ یہ اقدام خوش آئند ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ریلیف مہنگائی‘ بجلی‘ گیس اور پٹرولیم لیوی کے بوجھ کا ازالہ کر سکے گا؟ بجٹ کا ایک اور اہم پہلو ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی کوشش ہے۔ حکومت نے فکسڈ ٹیکس آسان سکیم متعارف کرائی ہے جس کے تحت 20 کروڑ روپے سالانہ کاروبار تک کے تاجروں اور دکانداروں کو ٹیکس نظام میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر حکومت واقعی غیر دستاویزی معیشت کو دستاویزی شکل دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ ملک کے مالیاتی نظام کیلئے ایک بڑی پیشرفت ثابت ہو سکتی ہے۔اسی طرح سمندر پار پاکستانیوں کیلئے ترسیلاتِ زر اور بیرونِ ملک سرمایہ کاری سے متعلق بعض پابندیوں میں نرمی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ مالی سال میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے 38 ارب ڈالر سے زائد زرِ مبادلہ وطن بھیجا‘ جو ملکی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مئی 2026ء میں ترسیلاتِ زر 4.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں جو اپریل کے مقابلے میں 20.2 فیصد اور مئی 2025ء کے مقابلے میں 15.4 فیصد زیادہ ہیں۔ مالی سال 2025-26ء کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 38.1 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے 34.9ارب ڈالر کے مقابلے میں 9.2فیصد زیادہ ہیں۔ ایسے میں ان پاکستانیوں کی سرمایہ کاری اور مالی معاملات میں سہولت فراہم کرنا معاشی نقطۂ نظر سے ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
بجٹ میں حکومت گاڑیوں پر مزید ٹیکس عائد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا مارچ 2025-26ء کے دوران ملک میں ایک لاکھ نو ہزار655 گاڑیاں فروخت ہوئیں‘ جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد 75ہزار397 تھی۔ یوں گاڑیوں کی فروخت میں 45.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی عرصے میں پیداوار 76ہزار339 سے بڑھ کر ایک لاکھ15ہزار495 یونٹس تک پہنچ گئی‘ جو 51.3 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ اعدادوشمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ بلند شرحِ سود اور معاشی مشکلات کے باوجود آٹو سیکٹر دوبارہ متحرک ہو رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اس بحالی کو مزید مضبوط بنائے گی یا نئے ٹیکسوں کے ذریعے اس کی رفتار سست کر دے گی؟ ہائبرڈ گاڑیوں پر اس وقت 8.5 فیصد جی ایس ٹی لاگو ہے جسے بڑھا کر 18 فیصد تک کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو مختلف ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں 4 لاکھ سے 17 لاکھ روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
نیا بجٹ تین بنیادی ستونوں کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے: دفاع‘ مالی استحکام اور سیاسی انتظام۔ تاہم معیشت کا چوتھا اور سب سے اہم ستون یعنی پیداواری ترقی‘ روزگار اور انسانی سرمایہ کاری کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ ملک کو آج محض بجٹ خسارہ کم کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ ایسی معاشی حکمتِ عملی درکار ہے جو ترقی کی رفتار تیز کرے‘ روزگار کے مواقع پیدا کرے‘ برآمدات میں اضافہ کرے اور ٹیکس کا بوجھ چند شعبوں اور تنخواہ دار طبقے تک محدود رکھنے کے بجائے منصفانہ طور پر تقسیم کرے۔ بجٹ کی اصل کامیابی اس بات سے نہیں ناپی جا سکتی کہ حکومت نے کتنے کھرب روپے خرچ کیے بلکہ اس بات سے ناپی جا سکتی ہے کہ ان وسائل نے عام پاکستانی کی زندگی میں کتنا فرق پیدا کیا۔ اگر ترقیاتی اخراجات‘ تعلیم‘ صحت‘ پانی اور روزگار کے مواقع میں بہتری نہ آئی تو بجٹ محض بڑے اعدادوشمار سے مزین ایک دستاویزبن کر رہ جائے گا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved