تحریر : اسد طاہر جپہ تاریخ اشاعت     12-06-2026

کسان کا مقدمہ

ماضی قریب میں ملک کے چند معروف نجی ٹیلی ویژن چینلز پر نشر ہونے والے کچھ ٹاک شوز کے دوران خود کو ممتاز تجزیہ کار سمجھنے والے اینکرز ملکی معیشت کی زبوں حالی کا راگ الاپنے پر مامور تھے اور اتنی بھیانک تصویر کشی کرتے کہ خاکم بدہن یہ لگتا کہ جیسے وطن عزیز پاکستان کا وجود ہی خطرے میں پڑ چکا ہو۔ مگر خاکسار نے ہمیشہ رجائیت پسندی کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا اور معاشی نظام کے اندر موجود کئی بنیادی خرابیوں اور ناہمواریوں کے باوجود ملک کے روشن مستقبل سے متعلق امید و آرزو کا نگر آباد رکھا ہے جس کی بڑی وجہ ملک کا زرعی شعبہ ہے۔ یہ امر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب تک ہمارے ملک میں لاکھوں ایکڑ اراضی پر پھیلے ہرے بھرے کھیت کھلیان نظر آتے رہیں گے ہماری معیشت کا پہیہ جام نہیں ہو سکتا اور ہماری آبادی کی اکثریت کو دو وقت کا کھانا میسر ہوتا رہے گا۔ آج بھی ملکی آبادی کا کم و بیش ساٹھ فیصد دیہی علاقوں میں آباد ہے اور زراعت ہی ان کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ زرعی اجناس صرف دیہی آبادی کا پیٹ ہی نہیں پالتیں بلکہ شہری علاقوں میں بنیادی اشیائے خورونوش کی فراہمی بھی یقینی بناتی ہیں۔ ہمارے کسان شبانہ روز اَنتھک محنت کرکے نہ صرف گرم وسرد موسم کی سختیوں اور قدرتی آفات کا مقابلہ کرتے ہیں بلکہ اپنے انتہائی محدود مالی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ہمارے لیے اناج کا بندوست کرتے ہیں۔ ہماری صنعت وتجارت کی ترقی و خوشحالی کا راز بھی زرعی شعبہ کی مضبوطی میں مضمر ہے مگر المیہ یہ کہ کسان کو اپنی محنت اور قربانی کا صلہ نہیں ملتا بلکہ شوگر ملز مالکان‘ فلور ملز مالکان اور کھاد مافیا کے ساتھ ساتھ آڑھتی کے ہاتھوں استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ یہ تمام مافیاز مل کر الٹی گنگا بہا رہے اور کسان کو ہی مافیا ثابت کرنے پر مُصر نظر آتے ہیں۔
پاکستان کا زرعی شعبہ معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا تھا مگر اب اس ڈھانچے کی ہڈیاں کمزور پڑ گئی ہیں اور یہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ سال بھر کسانوں کی زرعی اجناس کی منڈی میں رسوائی ہوتی ہے اور انہیں آڑھتی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ مہنگے ترین بیج‘ کھاد اور بجلی کی بلوں کی ہوشربا قیمتوں کے نتیجے میں کسان کی فصلوں پر لاگت گزشتہ چند برسوں میں لگ بھگ تین گنا بڑھ چکی ہے جبکہ اسے سپورٹ پرائس ملتی ہے اور نہ سبسڈی۔ فصل پک کر جونہی منڈی کا رخ کرتی ہے تو اس کی قیمت اچانک گرا دی جاتی ہے جو اس کی لاگت سے بھی کم ہوتی ہے جس کے باعث کسان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر اپنے تیار فصلوں کو منڈی میں بھجوانے کے بجائے خود اپنے ہاتھوں سے تلف کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر کبھی وہ اپنی آلو کی تیار کردہ فصل پر ٹریکٹر چلاتے ہوئے سینہ کوبی کرتے دکھائی دیتے ہیں تو کہیں ٹماٹروں کو ندی نالوں میں بہانے پر نوحہ کناں ہیں۔ جونہی فصل کی کٹائی کا وقت قریب آتا ہے تو آڑھتی اپنی مرضی کی قیمت لگا کر خرید لیتا ہے اور کسان کے پاس بیچنے کے علاوہ کوئی اور راستہ ہی نہیں ہوتا کیونکہ اس کے پاس نہ اگلی فصل کاشت کرنے کیلئے درکار سرمایہ ہوتا ہے اور نہ ہی تیار فصل کے سٹوریج کا مناسب انتظام‘ جس کے باعث وہ چار و ناچار کم قیمت پر بیچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف گنے کی فصل بارہ سے چودہ ماہ کے دوران کم و بیش دولاکھ روپے فی ایکڑ کی لاگت سے تیار ہو کر جب شوگر ملز پر پہنچ جاتی ہے تو سب سے پہلے شوگر ملز ہر ٹرالی میں مبینہ طور پر چالیس سے ساٹھ من تک کٹوتی کر لیتی ہیں جبکہ گنے کی قیمت کی ادائیگی بھی روک لی جاتی ہے اور مہینوں کی تاخیر کے بعد قسطوں میں ادا کی جاتی ہے جس کیلئے بسا اوقات اسے اپنی جیب سے ملز انتظامیہ کو کمیشن کی مد میں نقد ادائیگی الگ کرنا پڑتی ہے۔ شوگر مافیا نے گزشتہ چند سالوں میں چینی کی قیمت میں ہوشربا اضافہ کیا ہے مگر دوسری طرف گنے کی قیمت میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا گیا۔ اس طرح ہردو صورتوں میں وہ آڑھتی‘ مڈل مین‘ کھاد مافیا‘ شوگر ملز اور فلور ملز مافیا کے چنگل میں پھنس کر رہ گیا ہے۔
2000ء کی دہائی میں پاکستانی معیشت کی مجموعی پیداوار میں زراعت کا حصہ کم و بیش 32 فیصد تھا جو 2025-26ء میں 22 فیصد کے آس پاس رہ گیا ہے۔ دوسری طرف زرعی شرح نمو دوسے تین فیصد پر اٹک گئی ہے جبکہ آبادی ڈھائی فیصد سالانہ سے زیادہ شرح سے بڑھ رہی ہے جس کے نتیجے میں فی کس زرعی پیداوار بتدریج کم ہو رہی ہے۔ نمایاں فصلوں کی پیداوار ہر سال 15 سے 25 فیصد گر جاتی ہے اور صرف 2024-25ء میں کپاس کی پیداوار 40 لاکھ بیلز تک گر گئی جو 2014 میں 1.4 کروڑ بیلز تھی۔ کسان کھاد‘ ڈیزل اور بیج مہنگے ترین نرخوں پر خریدنے کیلئے مجبور ہو جاتا ہے لیکن فصل کا ریٹ منڈی کنٹرول کرتی ہے جس کے بعد کسان فصل سستے داموں بیچ کر مزید قرض میں ڈوب جاتا ہے۔ کمزور پیداواری صلاحیت کے باعث پاکستان زرعی اجناس کی برآمدات کرتا تھا اور کبھی دنیا میں کپاس کے برآمد کنندہ ٹاپ تھری ممالک میں شمار ہوتا تھا جبکہ اب ہر سال کپاس درآمد کرنا پڑتی ہے۔ اسی طرح گندم بھی ہر دوسرے سال امپورٹ ہوتی ہے۔ آج بھی پاکستان کی تقریباً 60فیصد آبادی دیہات میں رہتی ہے اور دیہی علاقوں میں غربت کی شرح 35 فیصد ہے۔ پاکستان کی کمزور زرعی پیداوار کی کئی بنیادی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلی اور بڑی وجہ پانی کی عدم دستیابی اور غیر مناسب استعمال ہے۔ اب پاکستان ایک واٹر سٹریس ملک بن چکا ہے اور فی کس پانی 850کیوبک میٹر سے کم رہ گیا۔ زراعت میں استعمال ہونے والا 60فیصد پانی نہروں اور کھیتوں میں ضائع ہو جاتا ہے کیونکہ ڈرپ اریگیشن اور لیزر لیو لنگ بہت کم ہے۔ مزید برآں موسمیاتی تبدیلیوں سے گلیشیرز پگھل رہے ہیں جس کے نتیجے میں زرعی شعبہ کو ایک سال سیلاب کی تباہ کاری کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اگلے سال خشک سالی گھیر لیتی ہے۔ دوسری بڑی وجہ پالیسی کا عدم استحکام اور پالیسی سازی پر اشرافیہ کا کنٹرول ہے۔ ہر سال گندم‘ چینی اور کھاد کا ریٹ اور درآمد و برآمد کی پالیسی تبدیل کر دی جاتی ہے اور کسان کو یہ اندازہ نہیں ہو پاتا کہ اگلے سال اس کے ساتھ کیا ہوگا۔ شوگر ملز‘ فلور ملز مالکان اور کھاد مافیا پالیسی بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ زرعی اجناس کسان سے سستے داموں خریدتے ہیں جبکہ بیج‘ کھاد‘ بجلی‘ زرعی ادویات اور ڈیزل انہیں مہنگے داموں بیچتے ہیں۔ علاوہ ازیں جعلی کھاد اور غیر معیاری ادویات پر بھی کسان کا پیسہ اور اس کی فصل برباد ہو جاتی ہے۔ زراعت کی زبوں حالی کی تیسری بڑی وجہ نسل درنسل زمین کی مسلسل تقسیم ہے جس کے نتیجے میں اب اوسط کسان کے پاس تین سے پانچ ایکڑ رقبہ رہ گیا اور چھوٹے قطعہ زمین پر ٹریکٹر اور ٹیکنالوجی کا استعمال مہنگا پڑتا ہے۔ چوتھی نمایاں وجہ کسان کی منڈی تک رسائی ہے جس کے باعث کسان کی فصل منڈی تک پہنچتے پہنچتے آڑھتی‘ بیوپاری‘ ٹرانسپورٹر 40 فیصد منافع کھا جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسان کو بینک سے سستا قرض نہیں ملتا اور مجبوراً دو سے تین گنا سود پر آڑھتی سے قرض لیتا ہے۔ لہٰذا فصل بکنے سے پہلے ہی بک چکی ہوتی ہے۔ یوں زراعت کا مسئلہ صرف موسمیاتی تغیر کا نہیں بلکہ یہ گورننس اور کسان کے مفادات کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔ جب تک زراعت کے شعبہ کو حکومتی سطح پر سرپرستی حاصل نہیں ہوتی اور ترجیحی بنیادوں پر اسے دوبارہ استوار نہیں کیا جاتا تب تک زراعت پاکستانی معیشت میں انجن کے بجائے بوجھ بنی رہے گی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved