ہمیشہ سچ بولنے والا بہادر‘ بااُصول‘ نظریاتی‘ محنت کشوں کا ساتھی‘ مستقل مزاج‘ برد بار‘تمام زندگی کسانوں کے حقوق اور مفادات کی جدوجہد کرنے والا ایک آبلہ پا شخص وادیٔ پُر خار میں عمر بھر پھرتا رہا مگر کانٹوں کی سوکھی ہوئی زبان کی پیاس نہ بجھا سکا۔ ایوانِ اقتدار میں اعلیٰ ترین مقام حاصل کرنے کے باوجود عملی زندگی شروع کی تو کسانوں کا ہاتھ اس طرح تھاما کہ مرتے دم تک نہ چھوڑا۔ وہ جب اپنے خالقِ حقیقی کے حضور پیش ہوئے ہوں گے تو یقینا سرخرو ہوئے ہوں گے۔کچھ عجب نہیں کہ یہ سطور پڑھنے والوں میں سے بہت سے لوگوں کو پتا چل جائے گا کہ یہ مضمون شیخ محمد رشید پر لکھا گیا ہے۔ تاریخ تو یاد نہیں لیکن غالباً 1964ء یا 65ء میں میرے ایک دوست مختار رانا مرحوم نے شیخ صاحب سے تعارف کرایا۔اس دوران مجھے شیخ صاحب سے کئی بار ان کے دفتر میں ملنے اور تھوڑے وقت میں کام کم اور باتیں زیادہ کرنے کا موقع ملا۔ میں نے ان کے ساتھ مل کر ایک کام کیا اور وہ تھا 28 مئی 1966ء کو YMCA ہال لاہور میں پیپلز کنونشن کا انعقاد۔ قریباً ساری تنظیمی ذمہ داری مجھ پر تھی۔میرے لیے اس سے بڑی خوشی کی اور کیا بات ہو سکتی تھی کہ میں آمریت کی تاریکی سے نکل کر روشنی تک پہنچنے کے عمل کیلئے ایک ٹھوس قدم اُٹھانے میں اپنے حصے کا کردار ادا کروں ۔ یہ کنونشن بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوا اور میری توقع سے کہیں زیادہ کامیاب۔ میرا سردار ابراہیم خان (آزاد کشمیر کے رہنما) سے اتنا قریبی تعلق تھا کہ انہوں نے نہ صرف تقریر کرنے کا وعدہ کیا بلکہ ہر ممکن مالی مدد کی۔ دیگر تین مقررین کو شیخ صاحب نے بلایا۔ (میرا ان میں سے ایک کے سوا کسی سے تعارف نہ تھا)۔ شیخ صاحب کے مثبت‘ تعمیری‘ قابلِ صد تعریف‘ یادگار اور تاریخی کارنامے کا تفصیلاً ذکر ان کی لکھی ہوئی کتاب 'جہدِ مسلسل‘ میں کیا گیا ہے۔
24 مئی 1915ء کو موضع کلال والا (ضلع شیخوپورہ) میں ایک بچہ پیدا ہوا تو مہر علی نے اس کا نام محمد رشید رکھا۔ وہ کہتے تھے کہ میرا تعلق ککے زئی قبیلے سے ہے‘ جس کا آبائی پیشہ کاشتکاری ہے۔ لیکن انہوں نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے اپنے نام کے ساتھ شیخ کے لفظ کو کب اور کیوں لگایا؟ شیخ صاحب کے گائوں سے دو میل کے فاصلہ پر بُرج اٹاری میں ایک سکول تھا۔ ابتدائی تعلیم کا آغاز وہاں سے کیا۔ پانچویں جماعت میں اسلامیہ ہائی سکول بیرونِ بھاٹی گیٹ میں داخلہ لیا جہاں چودہ‘ پندرہ سال کی عمر میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ پھر تعلیم کا سلسلہ منقطع کر کے کاشتکاری شروع کردی۔ 1954ء میں فارسی کا امتحان (غالباً ادیب یا منشی فاضل) پاس کر کے بی اے تک تعلیم حاصل کی۔ پھر لاء کالج میں داخل ہوئے اور 1957ء میں ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور لاہور میں وکالت شروع کر دی۔ ان کے سیاسی سفر کے اہم سنگِ میل کچھ یوں تھے۔1937-40ء میں خاکساروں کی حمایت‘ 1940ء میں مسلم لیگ میں شامل ہوکر اچھرہ وارڈ کا سیکرٹری بنے‘ 1944-48ء میں مسلم لیگ پروگریسوورکرز کنوینر اور منتظم کی ذمہ داری سنبھالی‘ 1950ء میں مسلم لیگ سے راستے جدا ہونے کے بعد ترقی پسند جماعت (آزاد پاکستان پارٹی) میں شامل ہوئے اور 1952-54ء میں اس کے سیکرٹری جنرل کے عہدے تک پہنچے۔ 1954-67ء تک عوامی جمہوری پارٹی اور 1952-67ء پاکستان کسان کمیٹی کے صدر رہے۔ 1967ء میں پیپلز پارٹی کی تنظیمی کمیٹی کے رکن بنائے گئے۔ 1977-99ء میں پیپلز پارٹی کے سینئر نائب صدر رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں وہ پہلے وزیر صحت بعد ازاں زراعت وخوراک‘ امدادِ باہمی اور اوقاف کے وزیر اور آخر میں چیئرمین بھٹو کمیشن بنائے گئے۔ یہ بہت اہم اور کلیدی اہمیت کا عہدہ تھا۔ یہاں شیخ صاحب کے جوہر کھلے۔ آپ کو شاید یقین نہ آئے مگر سچ یہ ہے کہ شیخ صاحب نے بہادری‘ جرأت‘ فراست اور معاملہ فہمی سے کام لیتے ہوئے (MLR 115) کے تحت ساڑھے پانچ لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی ایسے بااثر زمینداروں سے ضبط کی جن کے کیس زرعی اصلاحات کے صوبائی افسران نے چیف لینڈ کمشنر تک ان کے حق میں کرائے تھے اور ان کے خلاف اپیل کرنے والا کوئی شخص نہ تھا کیونکہ غریب مزارعین کے پاس مقدمہ بازی کے وسائل نہ تھے اور پھر ظالم زمینداروں کا خوف بھی تھا۔ شیخ صاحب کا یہ بڑا کارنامہ اپنی جگہ مگر میرا فرض ہے کہ میں ان کی ایک بڑی کوتاہی کی نشاندہی کروں کہ انہوں نے انجمن مزارعین اوکاڑہ کی فریاد نہ سنی۔ پنجاب پر برطانوی قبضہ ہوا تو انگریزوں نے لاکھوں ایکڑ زمین عسکری مقاصد کے لیے قبضے میں لے لی۔ ایک صدی گزر جانے کے بعد ہزاروں مزارعین (جن کی بڑی تعداد مسیحی ہے) کو حقِ ملکیت نہیں ملا۔ جب شیخ صاحب نے ایک انقلابی دستاویزکسانوں کا اعلانیہ (Peasant Charter) مرتب کیا تو بھٹو صاحب نے 18 دسمبر 1976ء کو اس پر یہ حاشیہ آرائی کی: All Power to the Peasants۔
شیخ صاحب جب وزیر صحت بنے تو انہوں نے نہ صرف پیپلز ہیلتھ سکیم متعارف کرائی بلکہ عوام کو بیماریوں سے بچانے اور ان کے علاج کیلئے ادویات کو سستا کرنے اور اس کے اصلی ہونے کی گارنٹی کیلئے ادویات کےGeneric ماخذوں کے انکشاف کرنے کیلئے قانونی کارروائی شروع کی تو بھونچال آگیا۔ دوائی بنانے والی کمپنیاں دوائوں کی قیمت بڑھا کر اربوں روپے کماتی اور بڑے اثر و رسوخ کی مالک ہوتی ہیں۔ شیخ صاحب اپنی ثابت قدمی کے باوجود یہ جنگ نہ جیت سکے۔ سرمایہ دار مکرو فریب سے بازی لے گیا۔ وہ دن اور آج کا دن کسی بھی عوام دوست فرد یا جماعت نے اس گرِے ہوئے پرچم کو زمین سے نہیں اٹھایا جسے شیخ صاحب نے تھامااور لہرایا تھا۔ انہیں بجا طور پر بابائے سوشلزم کا خطاب دیا گیا۔ شیخ صاحب کی شہرت بطور کسان رہنما اور سوشلسٹ‘ چین اور بلغاریہ تک پہنچی تو حکومتِ چین اور کمیونسٹ پارٹی نے انہیں وہاں بلایا اور آنکھیں بچھا دیں۔ حکومت بلغاریہ نے بہترین علاج کیلئے وہاں جون 1973ء میں بلایا اور بہترین علاج کروایا۔ شیخ صاحب کی صحت بہتر ہونے لگی تو سیاسی معاملات بگڑ گئے۔
1977ء میں مارشل لاء لگنے کے بعد شیخ محمد رشید نے جنرل ضیاء الحق کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔ انہیں طویل عرصے تک جیل میں رکھا گیا‘ نظر بند کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا لیکن انہوں نے اپنے نظریات پر سمجھوتا نہیں کیا۔ اسی دوران پیپلز پارٹی کی قیادت (مرتضیٰ بھٹو کی الذوالفقار میں شرکت کی وجہ سے) بینظیر بھٹو کے ہاتھ آ گئی۔ انہوں نے 1985ء میں ڈاکٹر غلام حسین کو پارٹی کے سیکرٹری جنرل کے عہدے سے ہٹا دیا۔ ساتھ ہی وہ اپنی پارٹی کو‘ جسے ان کے والد نے اپنے خون سے سینچا تھا‘ بائیں بازو سے قدرے دائیں بازو کی طرف لے گئیں۔ شیخ صاحب اپنے شکستہ دل پر کتنا جبر کرتے‘ وہ اس کے ساتھ ایک قدم بھی نہ چل سکتے تھے مگر وہ محاذ سے بھاگ جانے والے سپاہیوں میں سے نہ تھے۔ 1988ء کا الیکشن انہوں نے اپنی پرانی‘ اگرچہ بالکل نیم مردہ پارٹی کی طرف سے لڑا مگر جماعت اسلامی کے اُمیدوار سے ہار گئے۔ بعد کے انتخابات میں انہیں پارٹی ٹکٹ تک نہیں دیا گیا۔ عمر بھر ایک مقدس مشن کی خاطر جدوجہدکرنے والا شخص آخر کار تھک گیا۔
شیخ صاحب کی پہلی شادی ایک زمیندار کی بیٹی حمیدہ بیگم سے 1934ء میں ہوئی‘ جو غیر سیاسی اور گھریلو خاتون تھیں۔ یہ ازدواجی رشتہ 30 برس تک قائم رہا۔ پھر دسمبر 1966ء میں اپوا کالج لاہورکی پرنسپل بیگم شکیلہ خانم سے شادی ہوئی۔ 12 دسمبر 2002ء کو 87 سال کی عمر پاکر شیخ صاحب اس دنیا کو داغِ مفارقت دے گئے اور لاکھوں محنت کش اپنے بہترین خیر خواہ سے محروم ہو گئے اور میں ایک پرانے اور پیارے دوست سے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved