تحریر : خالد مسعود خان تاریخ اشاعت     13-06-2026

سارا ملک ہی ای لائسنس پر چل رہا ہے

دو تین روز قبل ایڈیشل آئی جی ساؤتھ پنجاب نے ملتان ریجن میں بننے والے ڈرائیونگ لائسنسوں پر ٹریفک پولیس کی جانب سے عائد کردہ میڈیکل فیس کو پانچ سو سے کم کر کے تین سو روپے کرنے کا حکم دے کر اس رقم کو چالیس فیصد کم کرکے اس مد میں وصول ہونے والی رقم میں جو گھاٹا ڈالا ہے اس کے اثرات عام آدمی پر مثبت جبکہ لائسنس بنانے پر فائز سٹاف کیلئے نہایت منفی ثابت ہوئے ہیں۔ اب ان سے روزانہ کی بنیاد پر آمدنی میں کمی پر پوچھ تاچھ ہوسکتی ہے۔ قصہ یوں ہے کہ نئے ڈرائیونگ لائسنس کے حصول یا پرانے ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید کیلئے ڈرائیور کی جسمانی و ذہنی صحت کا جائزہ لینے کی غرض سے میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ اس سارے طریقۂ کار کا لازمہ ہے۔ جب میں نے پہلی بار 1978ء میں اپنا موٹرسائیکل کا ڈرائیونگ لائسنس بنوایا تو اس کیلئے میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ ایمرسن کالج کے ڈاکٹر قدرت اللہ سے بنوایا۔ ڈاکٹر صاحب نے اچھی جان پہچان‘ جو ظاہر ہے اسی کالج میں عرصہ دراز سے لائبریرین کے فرائض سرانجام دینے والے میرے والد مرحوم کی وجہ سے تھی‘ کے باوجود میری اچھی طرح چھان پھٹک کی۔ سامنے دیوار پر لگے ہوئے انگریزی حروفِ تہجی اور گنتی والے چارٹ کو پہلے دونوں آنکھوں سے اور پھر باری باری ایک آنکھ پر ہاتھ رکھ کر پڑھوایا اور ڈرائیونگ کیلئے درکار صحت کے معیار پر پورا اترنے کا یقین کرنے کے بعد میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کردیا۔ اس میڈیکل سرٹیفکیٹ کو ڈرائیونگ لائسنس فارم کے ساتھ منسلک کیا۔ فارم پُر کیا‘ اس پر ڈاکخانے سے لیکر ٹکٹیں لگائیں اور ٹریفک آفس میں جمع کروا دیا۔ چند روز بعد ایک سرخ رنگ کی چھوٹی سی پاکٹ سائز کاپی مل گئی۔ تب کمپیوٹر وغیرہ کا کسی نے یہاں نام بھی نہیں سنا تھا۔ کاپی میں لائسنس ہولڈر کے سارے کوائف ہاتھ سے لکھ کر درج کیے جاتے تھے۔ایک عدد تصویر ہوتی تھی جس پر لگی ہوئی مہر کا آدھا حصہ تصویر پر جبکہ باقی حصہ نیچے کاپی کے کاغذ پر ہوتا تھا۔ کاپی کے کافی سارے صفحات خالی ہوتے تھے جن پر آنے والے سالوں میں تجدید کی غرض سے ٹکٹیں لگائی جاتی تھیں۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے اس پر کُل خرچہ شاید ساٹھ روپے آیا تھا۔ سالانہ تجدید کی فیس تب دس روپے تھی۔ اس کاپی والے لائسنس پر بعد ازاں کار بھی درج ہو گئی۔ کمپیوٹرائزڈ ڈرائیونگ لائسنس بننے سے پہلے آخری بار اس کاپی والے لائسنس کی تجدید کروائی تو تین سال کی فیس ایک سو کچھ روپے تھی۔
اب گزشتہ دنوں لائسنس کی تجدید کرائی ہے تو تین سالہ فیس کی مد میں مبلغ 8595 روپے بذریعہ بینک ایپ پنجاب پولیس کو ادا کیے جبکہ میڈیکل سرٹیفکیٹ کی مد میں پانچ سو روپے نقد ادا کیے۔ سالانہ تقریباً اڑھائی ہزار روپے تجدیدی فیس کے علاوہ دیگر چھوٹے موٹے اخراجات کے ساتھ مجھے تین سالہ ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید کے سلسلے میں اوسطاً سالانہ 2865 روپے ادا کرنا پڑے۔ یہ پیسے سرکار کو‘ جبکہ مبلغ پانچ سو روپے بمد میڈیکل سرٹیفکیٹ کا بیشتر حصہ افسرانِ بالا کے صوابدیدی اختیارات کی مد میں چلا گیا۔ اب عمر کے جس حصے میں یہ عاجز ہے وہاں اس کا میڈیکل چیک اَپ ضروری ہو چکا ہے۔ مجھے صاف دکھائی دیتا ہے یا نہیں‘ اس کا فیصلہ ڈاکٹر نے کرنا ہے۔ میں رعشہ کا شکار ہوں یا ابھی تک اس سے محفوظ ہوں یہ بات بھی میڈیکل معائنے ہی سے سامنے آ سکتی ہے۔ مجھے کوئی اور جسمانی یا ذہنی عارضہ تو نہیں جس کے سبب میں محفوظ ڈرائیونگ کرنے کے قابل نہیں رہا اس کا فیصلہ بھی کوئی ڈاکٹر میرا معائنہ کرنے کے بعد ہی کر سکتا ہے۔ لیکن اب یہ سب کچھ محض پانچ سو روپے کے نوٹ کی مار ہے۔ کھڑکی پر بیٹھے اہلکار کو میری ذہنی اور جسمانی حالت سے قطعاً کوئی سروکار نہیں‘ اس کیلئے اہم چیز پانچ سو روپے کا حصول ہے جس کی نہ کوئی رسید تھی اور نہ ہی کوئی ثبوت کہ مجھ سے یہ پیسے وصول کئے گئے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ آج کے بیشتر ڈاکٹر حضرات بھی اسی قسم کا میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ چند سو روپے کے عوض جاری کر دیتے ہیں لیکن قانون اور جعلسازی کے درمیان جو شرم کا پردہ حائل تھا کم از کم وہ ضرور برقرار رہتا تھا۔ اب پانچ سو روپے نقد وصولی سے یہ مہین سا پردہ بھی رخصت ہو گیا ہے۔ قانون کی عملداری کے دعویدار اور محافظ ادارے کے کار پردازان نے از خود قانون کا مذاق بنایا ہوا ہے اور یہ محض پانچ سو روپے کے عوض کیا جا رہا تھا۔ اب اس پانچ سو روپے فیس کودو سوروپے کم کرکے مبلغ تین سو روپے کر دیا گیا ہے۔ قانون سے مذاق تو بہرحال جاری ہے تاہم اب یہ مذاق سستا ہو گیا ہے۔ چلیں مجھ جیسے سینئر سٹیزن سے میڈیکل سرٹیفکیٹ کا مطالبہ یا اس کے عوض میڈیکل سرٹیفکیٹ کی مد میں پانچ سو یا تین سو روپے کی وصولی خواہ وہ سرکاری کھاتے میں جا رہی ہے یا نہیں جا رہی‘ سے قطع نظر یہ بات زیادہ اہمیت کی حامل ہے کہ نوجوانوں سے میڈیکل سرٹیفکیٹ کی مد میں اس رقم کی زبردستی وصولی کا کیا جواز ہے؟ مورخہ 24 اکتوبر 2025ء کو جاری کردہ ایک سرکاری ایس او پی کے مطابق میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ فراہم کرنا پچاس سال سے زیادہ عمر کے افراد اور کمرشل ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے والوں کیلئے لازمی ہے جبکہ پچاس سال سے کم عمر کے نان کمرشل ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے والوں کیلئے میڈیکل سرٹیفکیٹ کی شرط سرے سے موجود ہی نہیں۔ یعنی پچاس برس سے کم عمر کے حامل افراد میڈیکل چیک اَپ اور سرٹیفکیٹ فراہم کرنے سے مستثنیٰ ہیں لیکن چند اضلاع چھوڑ کر پورے پنجاب میں عمر سے قطع نظر ہر شخص سے میڈیکل سرٹیفکیٹ کی مد میں یہ رقم وصول کی جا رہی ہے اور اس رقم کی مقدار بھی صوابدیدی معاملہ ہے یعنی ہر ضلع میں اس کا مختلف ریٹ ہے۔
ضلع ملتان میں ماہانہ اوسطاً دس ہزار لائسنس بنتے ہیں۔ ان میں نئے‘ مثنیٰ اور تجدید والے تمام اقسام کے لائسنس شامل ہیں۔ ملتان کو ہم درمیانے درجے کے شہر میں رکھ لیتے ہیں۔ لاہور‘ راولپنڈی، فیصل آباد اور گوجرانوالہ وغیرہ میں اس سے زیادہ لائسنس بنتے ہیں۔ اگر ہم چھوٹے بڑے شہروں کا اوسط آٹھ ہزار لائسنس ماہانہ بھی لگائیں تو پنجاب کے انتالیس اضلاع میں ہر ماہ اوسطاً تین لاکھ سے زیادہ لائسنس بنتے ہیں۔ میڈیکل سرٹیفکیٹ کی مد میں تین سو روپے وصولی کا اوسط لگائیں تو ماہانہ نو کروڑ روپے صرف اسی ایک مد میں اِدھر اُدھر ہو رہے ہیں۔ اس ملک میں جہاں کرپشن کا سفر کروڑوں کی حدود کو پار کرتا ہوا اربوں میں داخل ہو چکا ہے‘ میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ والا تین سو یا پانچ سو روپے کا کھانچہ بظاہر معمولی لگتا ہے لیکن جب آپ اجتماعی طور پر اس کا حجم (Volume) دیکھیں تو یہ ماہانہ کروڑوں اور سال کے اختتام تک ایک ارب روپے کے قریب جا پہنچتا ہے۔
میں ایک اصولی مؤقف کی بات کر رہا ہوں کہ ڈرائیونگ لائسنس کیلئے خواہ بھلا ہو یا برا‘ بہرحال ایک طے شدہ طریقۂ کار ہے جسے پورا کیا جانا چاہیے لیکن عملاً یہ ہو رہا ہے کہ بندہ چاہے جسمانی یا ذہنی طور پر معذور ہو‘ اسے دکھائی دیتا ہو یا نہ دیتا ہو‘ وہ پانچ سو روپے متعلقہ اہلکار کو دیتا ہے اور اسے لائسنس جاری ہو جاتا ہے۔ مجھے بالکل علم نہیں کہ میڈیکل سرٹیفکیٹ کے نام پر جو رقم لی جا رہی ہے‘ اس کے بدلے میں واقعی کوئی میڈیکل سرٹیفکیٹ لگایا بھی جا رہا ہے یا نہیں لیکن اگر کوئی چیز سرے سے لگائی ہی نہیں جا رہی تو اس کے پیسے‘ خواہ وہ دو روپے ہی کیوں نہ ہوں‘ سرکاری حیثیت میں اینٹھنا جرم ہے۔
صورتحال یہ ہے کہ فی الوقت صرف ملتان میں جنوری میں بننے والے لائسنس اپنے منتظروں تک نہیں پہنچے جبکہ پنجاب بھر میں یہ تعداد دس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ ٹریفک پولیس نے لیٹر جاری کیا ہے کہ اصلی ڈرائیونگ لائسنس کی غیر موجودگی میں ای لائسنس کو ہی اصلی لائسنس تصور کیا جائے۔ جہاں ملک کا باقی سارا نظام بھی ای لائسنس پر چل رہا ہے تو ڈرائیونگ لائسنس نے بھلا کیا قصور کیا تھا کہ اسے یہ درجۂ قبولیت نہ دیا جاتا؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved