لاہور تا اسلام آباد موٹر وے کے دونوں طرف سبزہ زاروں‘ کھیتوں کھلیانوں‘ مٹیالی پگڈنڈیوں اور قدیم و جدید فارمنگ کے نظاروں نے اس کے حسن کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ لاہور‘ اسلام آباد موٹروے کے وسط میں بھیرہ کا دوطرفہ ریسٹ ایریا نہایت آرام دہ اور جدید سہولتوں سے آراستہ ہے۔ اسے موٹروے کا اعجاز ہی کہنا چاہیے کہ آج پنجاب اور خیبر پختونخوا کا شاید ہی کوئی فرد ہو جو بھیرہ کے نام سے ناواقف ہو‘مگر کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ 'بھیرہ، پُھلاں دا سہرا‘ کی تہذیب اتنی ہی قدیم ہے جتنی وادیٔ سندھ کی۔ دریائے جہلم کے شمالی کنارے پر قدیم بھیرہ کے کھنڈرات و آثار اہلِ نظر کو دعوتِ نظارہ دیتے ہیں۔ حال ہی میں قدیم و جدید بھیرہ کے بارے میں مستند معلومات پر مبنی ایک کتاب 'بھیرہ تاریخ و تمدن‘ کے عنوان سے منظر عام پر آئی ہے جو بھیرہ کے حوالے سے معلومات کا خزینہ ہے۔
بھیرہ اپنے محل وقوع کے اعتبار سے ہندوستان پر حملہ کرنے والوں کیلئے شمال مغربی دروازہ یا باب الہند کہلاتا تھا۔ تقسیم ہند سے پہلے بھیرہ کی نیک نامی اور شہرت میں اس شہر کی منفرد تہذیب و تعمیرات‘ مذہبی و عام تعلیمی دراسات‘ صنعت و حرفت اور دستکاریاں اور کاروبار شامل تھے۔ قدیم ترین بھیرہ دریائے جہلم کے شمالی کنارے پر آباد ایک خوشحال شہر تھا جو آرٹ‘ کلچر اور تجارت میں مشہور تھا۔ شمال مغربی افغانوں کے مسلسل حملوں اور دریائے جہلم کے بڑے سیلابوں کے بعد یہ قدیم شہر کھنڈرات میں بدل گیا اور لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ موجودہ بھیرہ کے بالمقابل دریائے جہلم کے دوسرے کنارے پر ٹیلوں کی شکل میں اب پرانا بھیرہ موجود ہے جسے بھراڑیاں کہا جاتا ہے۔ موجودہ بھیرہ شیر شاہ سوری کے مختصر عہد میں دریائے جہلم کے مشرقی کنارے پر 1540ء کے بعد آباد ہوا۔ ڈسٹرکٹ جہلم کے گزٹیئر کے مطابق 1540ء میں شیر شاہ سوری نے موجودہ بھیرہ کی تعمیر کی تھی۔ یہ قدیم شہر بھی فصیل کے اندر تعمیر کیا گیا تھا تاہم فصیل کے باہر ایک جامع مسجد تعمیر ہوئی۔ قارئین کیلئے یہ معلومات یقینا حیران کن ہو گی کہ بھیرہ کی تین گنبدی مسجد بادشاہی مسجد لاہور‘ دہلی اور آگرہ سے پہلے تعمیر ہوئی تھی۔ جامع مسجد بھیرہ کو مقامی سرداروں کی خانہ جنگیوں خصوصاً سکھوں کے دور میں بہت نقصان پہنچا۔ بالآخر 1849ء میں انگریزوں کے ہاتھوں شکست کے بعد پنجاب میں سکھوں کی حکومت کاخاتمہ ہو ا اور اُس دور میں علامہ قاضی احمد الدین بگوی نے ایک روحانی بشارت کے تحت لاہور سے آ کر مسجد کے شکستہ اور بے آباد کھنڈرات کی تعمیرِ نو کا عزم کیا۔ مسجد کی مرمت کا کام پرانی طرز کے مسالے سے کیا گیا۔ تقریباً آٹھ سال میں مسجد کے گنبدوں کی تعمیر مکمل ہوئی‘ آب رسانی کا نظام بحال ہوا اور غالباً ڈیڑھ صدی کے بعد مسجد سے اذان کی آواز دوبارہ بلند ہوئی۔ مٹی‘ چونے کے آمیزے اور پختہ اینٹوں کی سب سے قدیم اور پرانے نقشے پر تعمیر شدہ تقریباً 500سالہ پرانی مسجد کی عمارت علیٰ حالہٖ قائم ہے۔
کتاب کے مطالعے سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ آٹھویں صدی عیسوی میں مسلم حکمرانوں کی آمد سے پہلے ہندوستان کے ہندو اور بدھ راجاؤں میں تاریخ کا شعور نہیں تھا؛ چنانچہ قبل ازمسیح اور بعد ازمسیح کی کئی صدیوں کی تاریخ گیتوں‘ شعروں‘ قصہ کہانیوں اور مفروضوں پر منحصر ہے۔ کوئی مستند ثقہ مواد دستیاب نہیں۔ شاندار قلعہ روہتاس 16ویں صدی عیسوی میں ضلع جہلم کے دینہ شہر کے قریب شیر شاہ سوری نے ہی تعمیر کرایا تھا۔ سکندر یونانی 327قبل از مسیح میں ہندوستان پر حملہ آور ہوا تھا۔ وہ جب قدیم بھیرہ پہنچا تو شہر کے حاکم نے اطاعت قبول کر لی۔ سکندر نے چند روز بھیرہ میں قیام کیا اور پھر بھیرہ سے کچھ آگے مونگ رسول کے پار اُس کا راجہ پورس سے مقابلہ ہوا تھا۔
تذکرہ ہو رہا تھا قدیم بھیرہ کے حکمرانوں کا۔ مغل حکمران اکبر اعظم ایک مہم سے لوٹا تو اس نے دہلی واپس جاتے ہوئے راستے میں بھیرہ قیام کیا اور جن لوگوں نے اس مہم کے دوران مغل بادشاہ کی مدد کی تھی انہیں اپنے پاس بلا کر شرفِ باریابی بخشا اور مال و زر سے نوازا۔ بابر کو بھیرہ میں دریائے جہلم اور اس کے نواح میں کلر کہار کا علاقہ بہت پسند آیا۔ تزک بابری میں بابر لکھتا ہے ''ایک روز دریا میں کشتی رانی اور مے نوشی کے بعد اُس پار گیا (جہاں موجودہ بھیرہ آباد ہے) وہاں باغوں‘ پھلواری اور گنے کے کھیتوں کی سیر کی اور رہٹ کے ذریعے کنویں سے نکلتے ہوئے پانی سے بہت محظوظ ہوا‘‘۔
شمال کی طرف سے آنے والے مسلم حکمرانوں اور حملہ آوروں نے بھیرہ میں قیام کیا ہو یا نہ کیا ہو مگر تقریباً وہ سبھی بھیرہ سے گزرے تھے۔ زمانۂ قدیم کے تمام ممتاز سیاح بھیرہ آئے‘ یہاں قیام کیا اور یہاں کی تہذیب و تمدن کے بارے میں خوب لکھا اور شہر کے اہلِ علم اور اہلِ ہنر کی اپنے سفر ناموں میں بہت تعریف کی۔ایک زمانے میں بھیرہ کی تہذیبی کشتی بڑے سیاحوں اور زعما کو کشاں کشاں بھیرہ لاتی تھی۔ آج کا تیز رفتار راستہ روزانہ ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں کو بھیرہ کے دروازے تک لاتا ہے مگر انہیں شیر شاہ سوری کے بھیرہ میں قدم قدم پر موجود عجائبات اور ہزاروں سال کی تہذیبی کہانی دکھانے اور سنانے کا حکومت کوئی پُرکشش انتظام کر سکی اور نہ ہی اہلِ بھیرہ۔ بھیرہ کے لوگ بڑی بڑی بلندیوں تک پہنچے مگر وہ حکومتِ وقت کے ساتھ مل کر بھیرہ کو حقیقی معنوں میں ایک ٹورسٹ سٹی بنوا سکے نہ منوا سکے۔ حکومت پنجاب نے والڈ سٹی کے تاریخی پروگرام میں بھیرہ کو سب سے اوپر رکھا ہے مگر عملاً اب تک اس تاریخی شہر کی فصیل بحال ہو سکی ہے اور نہ ہی پرانی یادگاروں کو دیکھنے کیلئے گائیڈڈ ٹورز کا بندوبست ہوا ہے۔ البتہ لیفٹیننٹ کرنل (ر) زاہد ممتاز جیسے چند لوگوں نے اپنے ذاتی ذوق شوق سے ماضی کی یادگاروں سے بھیرہ کو بازیاب کیا ہے۔ اسی طرح صاحبزاہ ابرار احمد بگوی نے اس شہر کی قدیم تہذیب و ثقافت کو اجاگر کرنے کیلئے ایک میوزیم قائم کیا ہے۔ بھیرہ میں ٹورسٹ انڈسٹری کے فوری فروغ کی ضرورت ہے۔ یہاں کے تمام ہندو‘ مسلم‘ سکھ اور دیگر آثار کی بحالی اسی شکل میں ہو جیسے وہ صدیوں پہلے تعمیر ہوئے تھے۔ تقسیم برصغیر سے پہلے یہاں 22فیصد ہندو‘ ایک فیصد سکھ اور 77فیصد مسلمان تھے۔ شہر کے باسیوں میں باہمی یگانگت اتنی تھی کہ 1947ء میں سبھی ہندو اور سکھ بحفاظت بھارت روانہ ہوئے کسی کو خراش تک نہ آئی۔ جامع مسجد بھیرہ‘ ریلوے سٹیشن‘ گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ‘ شیش محل‘ مسیت دریائی‘ باؤلی والامندر‘ گوردوارہ‘ آریہ سکول‘ تیری پاٹھ شالا‘ گرلز پرائمری سکول سب مقاماتِ دید ہیں۔
میرے بچپن کی یادوں میں چھک چھک کرتے انجن کے ساتھ سر سبز کھیتوں کے بیچوں بیچ آنے والی دیو مالائی گاڑی پریوں کی کہانی کی طرح موجود ہے۔ بھیرہ پہنچنے والی ریل کی سیٹی بجتی تو دل کا جلترنگ بجنے لگتا اور پیاروں کو دور دیسوں کی طرف لے جانے والی ٹرین کی سیٹی بجتی تو دل اداس و غمگین ہو جاتا۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ یہ قدیم و جدید تہذیبوں کو ملانے والی ریل گاڑی کا نہ صرف روٹ ختم کر دیا گیا ہے بلکہ اس کی پٹڑیاں تک اکھاڑ دی گئی ہیں۔ ہماری رائے میں اسی چھک چھک کرتے انجن والی گاڑی کو ایک ٹورسٹ کشش کے طور پر بحال کیا جائے تو اندرون ملک سے ہی نہیں بیرونِ ملک سے بھی لوگ بھیرہ کی سیاحت کیلئے آئیں گے۔ بہرحال ہم مصنف کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اپنی کتاب کے ذریعے قدیم بھیرہ کی نقاب کشائی کی ہے اور اس تہذیبی اثاثے تک رسائی کا جامع پروگرام بھی بیان کیا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved