تحریر : مفتی منیب الرحمٰن تاریخ اشاعت     13-06-2026

فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی مثالی حکمرانی

امیر المومنین خلیفۃ المسلمین شہیدِ محراب ومنبر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اُمت کے بڑے فقیہ‘ مجتہد اور عالم تھے۔ رسول اللہﷺ نے بارہا آپؓ کے علم وفضل کی شہادت دی‘ احادیث مبارکہ میں ہے: ''نبی کریمﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حق بات کو عمر کی زبان اور دل میں رکھ دیا ہے‘‘ (مسند احمد: 9213)۔ (2) ''میں ایک مرتبہ سو رہا تھا کہ میرے سامنے دودھ کا پیالہ لایا گیا‘ میں نے اسے پی لیا یہاں تک کہ سیرابی میرے ناخنوں سے ظاہر ہونے لگی‘ پھر میں نے اپنا بچا ہوا دودھ عمر بن خطاب کو دے دیا‘ صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! اس کی تعبیر کیا ہے‘ آپﷺ نے فرمایا: اس کی تعبیر علم ہے‘‘ (بخاری: 82)۔ (3) ''اگر (بفرضِ مُحال) میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتے‘‘ (ترمذی: 3686)۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو متعدد اُمور میں اوَّلیت کا شرف حاصل ہے: (1) عَلانیہ ہجرت فرمائی‘ (2) امیر المومنین کے لقب سے مشہور ہوئے‘ (3) سنِ ہجری کا آغاز کیا‘(4) نمازِ تراویح باجماعت رائج کی‘ (5) قرآنِ مجید کو جمع کرنے کا مشورہ دیا‘ (6) بوڑھے اور نادار ذمیوں سے جزیہ (ٹیکس) ساقط کیا‘ (7) ہر شخص کیلئے اسلامی فوج میں بھرتی کو لازمی قرار دیا‘ (8) راتوں کو لوگوں کے احوال معلوم کرنے کیلئے گشت کا سلسلہ شروع کیا‘ (9) مجاہدین کے ناموں اور وظائف کیلئے رجسٹر مرتب کیا‘ (10) راستوں میں مسافرخانے اور شہروں میں مہمان خانے تعمیر کرائے‘ (11) جیل خانہ‘ پولیس کا محکمہ اور فوجی چھاؤنیاں قائم کیں‘ (12) نئے شہر بسائے تاکہ بڑے شہروں کی طرف آبادی کا بہائو کم ہو‘ (13) مردم شماری کی تاکہ آبادی کے تناسب سے منصوبہ بندی اور وسائل کی تقسیم ہو۔
اپنے عُمّال کے بارے میں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا: ''خدا کی قسم! میں نے اپنے عُمال کو تم پر اس لیے مقرر نہیں کیا کہ وہ تم پر ظلم کریں‘ تمہارے مال چھین لیں‘ میں نے اُنہیں اس غرض سے تم پر مقرر کیا ہے کہ وہ تمہیں دین کی تعلیم دیں اور نبی کریمﷺ کی سنتیں سکھائیں۔ لہٰذا جس شخص کے ساتھ اس کے برعکس سلوک کیا جائے تو وہ فوراً مجھے اطلاع دے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں عمر کی جان ہے! میں ضرور انصاف کروں گا اور ظالموں سے قصاص لوں گا۔ یہ سن کر حضرت عمروؓ بن عاص نے عرض کی: امیر المومنین آپ اپنی اس بات پر غور فرمائیں‘جسے آپ عامل بنائیں گے وہ مسلمانوں میں سے ہی ہو گا‘ اگر اس نے رعایا میں سے کسی کی تادیب کی تو کیا آپ اس سے قصاص لیں گے‘ فرمایا:ہاں! قسم بخدا میں اس سے ضرور قصاص لوں گا‘آگاہ ہو جاؤ! کسی مسلمان کو نہ مارنا‘ کسی مسلمان کی تذلیل نہ کرنا‘ اُنہیں فتنے میں مبتلا نہ کرنا‘ اُنہیں سرحدوں پر جمع کرکے نہ رکھنا کہ تم اُنہیں اُن کے بیوی بچوں کے پاس واپس لوٹنے سے روکو‘ اُنہیں اُن کے حقوق پیہم ادا کرتے رہنا‘‘ (مسند احمد: 286)۔ آپؓ کسی شخص کو عامل مقرر کرتے ہوئے اس سے چار باتوں پر حلف لیتے تھے: (1) گھوڑے پر سوار نہ ہونا‘ (2) لباسِ فاخرہ نہ پہننا‘ (3) عمدہ اور اعلیٰ کھانے نہ کھانا‘ (4) اپنے دروازوں کو بند نہ رکھنا اوردربان مقرر نہ کرنا کہ لوگ اپنی حاجتوں کیلئے نہ آسکیں ۔ایک دفعہ حضرت عمرؓ بازار میں جا رہے تھے‘ ایک طرف سے آواز آئی: عمر! کیا عُمّال کیلئے کچھ اصول وضوابط مقرر کرکے تم اپنے آپ کو عذابِ الٰہی سے بچا سکتے ہو‘ تمہیں خبر ہے کہ مصر کا عامل عیاض بن غنم باریک کپڑے پہنتا ہے‘ اس کے دروازے پر دربان مقرر ہے‘ حضرت عمرؓ نے محمد بن مسلمہ کو بلایا اور کہا: عیاض کو جہاں پائو‘ ساتھ لے آؤ۔ محمد بن مسلمہ نے وہاں پہنچ کر دیکھا تو واقعی دروازے پر دربان تھا اور عیاض باریک کپڑے کی قمیص پہنے بیٹھے تھے‘ اسی حالت میں انہیں ساتھ لے کر مدینہ طیبہ آئے۔ حضرت عمرؓ نے وہ قمیص اُتروا کر اون کی قمیص پہنائی اور بکریوں کا ایک ریوڑ منگوا کر حکم دیا: ''انہیں لے جاکر جنگل میں چراؤ‘‘۔ عیاض کو انکار کی مجال نہ تھی‘ لیکن بار بار یہ کہتے: اس سے مر جانا ہی بہتر ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: تجھے اس سے عار کیوں ہے‘ تیرے باپ کا نام غنم اسی وجہ سے پڑا تھا کہ وہ بکریاں چراتا تھا‘‘ (ازالۃ الخفاء‘ج: 2‘ص: 252)‘‘۔ حضرت عمرؓ نے حضرت ابوعبیدہؓ کولکھا: اپنے اوپر پانچ باتوں کو لازم کر لو تمہارا دین سلامت رہے گا: (1) جب تمہارے سامنے مقدمے کے فریقین حاضر ہوں تو معتبر لوگوں کی گواہیوں اورپختہ قسموں پرخاص توجہ دو۔ (2 ) کمزوروں کو اپنے قریب بٹھاؤ‘ یہاں تک کہ انہیں بولنے کا حوصلہ ملے اور ان کے دل میں جرأ ت پیدا ہو۔ (3) غریبوں کا خیال رکھو‘ انہیں دیر تک انتظار نہ کراؤ کہ وہ مایوس ہوکر واپس لوٹ جائیں۔ (4) حبِ مال اور نفسانی خواہشات سے اپنے نفس کو محفوظ رکھو۔ (5) حتی الامکان فریقینِ مقدمہ کے درمیان مصالحت کی کوشش کرو‘‘ (کِتَابُ الْخَرَاج لِلْاِمَام اَبیْ یُوسُف‘ ص: 130)۔ آپ کے عہد خلافت میں ایک شخص آپ کی خدمت میں اپنی فریاد لے کر حاضر ہوااورکہا:امیر المومنین ! مصرکے گورنر عمروبن العاص کے بیٹے محمد بن عمرونے میری پشت پر آٹھ کوڑے مارے ہیں‘ وہ کہتا ہے : میں گورنر کا بیٹا ہوں‘آپ نے حکم دیا : محمد بن عمرو کو گرفتار کرکے لائو اور عمروبن العاص کو بھی پیش ہونے کا حکم دیا۔ محمدبن عمرو گرفتار کرکے لائے گئے‘آپ نے اُس سے کہا : گورنر کے بیٹے محمد بن عمروکی پشت پر آٹھ کوڑے مارو‘ اُس شخص نے گورنرکے بیٹے کی پشت پرکوڑے مارے‘ اس کے بعد آ پ نے گورنرمصر عمرو بن عاص کو ایک تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: تم نے لوگوں کوکب سے اپنا غلام سمجھناشروع کردیا ہے‘ ان کی ماؤں نے توانہیں آزاد جنا تھا‘‘ (کنز العمال‘ج:12‘ص:660)۔
آپؓ ذمیوں کے ساتھ نیک برتاؤ کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے گشت کے دوران ایک دروازے پر ایک ضعیف العمر نابینا دیکھا‘ آپ نے اس کی پشت پر ہاتھ رکھ کر پوچھا: تم اہل کتاب کے کس گروہ سے تعلق رکھتے ہو‘ اس نے جواب دیا: میں یہودی ہوں۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا: گداگری کی نوبت کیسے آئی‘ یہودی نے کہا: اس کا سبب جزیہ‘ بڑھاپا اور روزی کی مجبوری ہے۔ یہ سن کر آپ اس کا ہاتھ پکڑ کر گھرلائے‘ اس کی ضرورت پوری کی اور بیت المال کے خازن کو لکھا: اس قسم کے دوسرے حاجت مندوں کی تفتیش کرو‘ یہ انصاف نہیں ہے کہ ہم جوانی میں ان سے جزیہ وصول کریں اور بڑھاپے میں انہیں بھیک مانگنے کیلئے چھوڑ دیں‘ اس کے بعد آپ نے ایسے تمام لوگوں کا جزیہ معاف کرکے وظیفہ بھی مقرر کر دیا‘‘ (کِتَابُ الْخَرَاج‘ ص: 139)۔
آپؓ نبی کریمﷺ کے قرابت داروں کا بے حد احترام کرتے اور وظائف میں انہیں ترجیح دیتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب مدائن فتح ہوا تو حضرت عمرؓ نے سارامالِ غنیمت مسجد نبوی میں فرش پر ڈال دیا‘ سب سے پہلے حضرت امام حسنؓ تشریف لائے۔ آپؓ نے انہیں ایک ہزار درہم دیے‘ پھرحضرت حسینؓ تشریف لائے‘ اُنہیں بھی ایک ہزار درہم دیے‘پھر آپ کے بیٹے عبداللہ آئے تو آپ نے اُنہیں پانچ سو درہم دیے‘ اُنہوں نے کہا: امیر المومنین! میں نبی کریمﷺکے عہدِ مبارک میں جوان تھا‘ میں آپ کے ہمراہ جہاد میں شریک ہوتا تھا‘ جبکہ حضرات حسن وحسین اس وقت چھوٹے بچے تھے‘ آپ نے انہیں ہزار درہم دیے اور مجھے صرف پانچ سو‘ میرا حق اُن سے زیادہ ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: بیٹے! پہلے وہ فضیلت تو حاصل کرو جو حسنین کریمین کو حاصل ہے‘ پھر مجھ سے ہزار درہم کا مطالبہ کرنا۔ ان کے والد علی المرتضیٰ‘ والدہ فاطمۃ الزہراء‘ نانا رسولِ خداﷺ‘ نانی خدیجۃ الکبریٰ‘ چچا جعفرِ طیار‘ پھوپھی اُم ہانی‘ ماموں ابراہیم بن رسول اللہ اور خالہ رقیہ واُم کلثوم (رضی اللہ عنہم) ہیں‘ یہ سن کر حضرت عبداللہ خاموش ہو گئے‘‘ (اَلرِّیَاضُ النَّضْرَۃ‘ ج: 2‘ ص: 340)‘‘۔
حضرت عمرؓ کی فتوحات پر ایک نظر ڈالی جائے تو عقل حیران رہ جاتی ہے۔ آپؓ کے دس سال چار ماہ کے عرصۂ خلافت میں 2251030 مربع میل علاقہ فتح ہوا‘ بڑے بڑے علاقے مثلاً: شام‘ مصر‘ عراق‘ جزیرہ‘ کرمان‘ خراسان‘ خوزستان‘ آرمینیا‘ آذربائیجان اور فارس آپ کے دورِ خلافت میں فتح ہوئے۔ کوفہ‘ بصرہ‘جیزہ‘ فسطاط اور موصل کے نام سے نئے شہر آباد ہوئے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved