تحریر : عمران یعقوب خان تاریخ اشاعت     14-06-2026

وفاقی بجٹ: ایک طائرانہ جائزہ

قومی بجٹ کسی بھی ملک کی معاشی سمت اور حکومتی ترجیحات کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ بجٹ معاشی استحکام‘ مالیاتی نظم و ضبط‘ ترقیاتی منصوبوں کے فروغ اور عوامی فلاح و بہبود کے مقاصد کے تحت ترتیب دیا جاتا ہے۔ وفاقی بجٹ پیش کر دیا گیا۔ سب جان چکے کہ کیا چیز مہنگی ہوئی اور کس کی قیمت میں کمی کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ مالی سال 2026-27ء کا وفاقی بجٹ ایک ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب پاکستان کی معیشت کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ 18771ارب روپے کے اس بجٹ میں مختلف شعبوں کیلئے فنڈز مختص کیے گئے ہیں‘ لیکن ظاہر ہے کہ مزید کی گنجائش ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ بجٹ میں آئندہ مالی سال کیلئے معاشی ترقی کی شرح چار فیصد مقرر کی گئی ہے جبکہ افراطِ زر کو تقریباً 8.2فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ یہ اہداف اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ اور مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش میں ہے‘ لیکن یہ طے ہے کہ حکومت کی جانب سے ان دونوں عوامل کی مسلسل مانیٹرنگ کے بغیر یہ اہداف حاصل نہیں کیے جا سکیں گے۔ بجٹ میں ٹیکس وصولیوں کیلئے بڑے اہداف مقرر کیے گئے ہیں لیکن یہ سوچنا ہو گا کہ موجودہ مالی‘ معاشی‘ اقتصادی‘ تجارتی‘ کاروباری اور عالمی حالات میں یہ ہدف پورا ہو سکے گا؟ اگر حکومت کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرے اور توانائی کے ذرائع کی قیمتوں کا گراف نیچے لائے تو یہ ہدف خود بخود پورا ہو سکتا ہے۔ اس مقصد کیلئے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے‘ ٹیکس چوری کی روک تھام اور ڈیجیٹل نظام کے فروغ پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی۔ اس کیلئے ٹیکس نظام میں شفافیت پیدا کر کے قومی خزانے کو مستحکم بنانا بھی ناگزیر ہے۔ ان اقدامات کے بغیر بھی ٹیکس وصولی کا ہدف پورا ہونا ممکن نہ ہو گا۔
بجٹ سے ایک دن پہلے پیش کی گئی اقتصادی سروے رپورٹ تو سب کچھ ٹھیک ہونے کا اشارہ دیتی ہے۔ لگتا ہے ہر شعبہ ہی ترقی کر رہا ہے۔ بجٹ کو دیکھنے سے پہلے ایک اُچٹتی نظر اقتصادی سروے رپورٹ پر کہ اقتصادی سروے گزرے مالی سال کی کارکردگی بیان کرتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مون سون کی شدید بارشوں‘ امریکہ کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک پر ٹیرف کے نفاذ کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی پھر بھی حکومت بحرانوں سے نبرد آزما ہونے میں کامیاب رہی اور معاشی ترقی کی شرح نمو 3.7فیصد رہی‘ توقع تھی جو چار فیصد سے زائد رہے گی۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پیدا نہ ہوتی تو جی ڈی پی گروتھ چار فیصد سے اوپر جاتی۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستانی معیشت کا حجم 452ارب ڈالر سے اوپر چلا گیا ہے جبکہ فی کس اوسط سالانہ آمدن 1751ڈالر سے بڑھ کر 1901ڈالر ہو گئی ہے۔ غربت تو پہلے کی نسبت بڑھتی جا رہی ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق پٹرولیم سیکٹر میں پانچ فیصد گروتھ ہوئی۔ جولائی تا مارچ کرنٹ اکاؤنٹ 72ملین ڈالر مثبت رہا۔ زرعی شعبے کی شرح نمو 2.89فیصد رہی۔ سپورٹس کی برآمدات تین ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔ آئی ٹی برآمدات چار ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گدھوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے‘ لائیو سٹاک یعنی مال مویشی کے شعبے کی شرح نمو 3.75فیصد رہی ہے جبکہ اس کا ہدف 4.2 فیصد تھا۔ حیرت اس بات کی ہے کہ ان ساری معاشی پیش رفتوں کے باوجود ملک میں غربت بڑھتی جا رہی ہے اور لوگوں کے مالی حالات ویسے نظر نہیں آتے جیسے چند سال پہلے تھے۔
اب بات کرتے ہیں آئندہ مالی سال کے بجٹ کی۔ اس کی تفصیلات اور اعداد و شمار آپ کے سامنے آ چکے ہیں‘ اس لیے ان پر بات کرنے کے بجائے ہم طے کیے گئے اہداف کے زمینی حقائق سے تال میل کھانے یا نہ کھانے پر بات کریں گے۔ آئندہ مالی سال میں تنخواہ دار طبقے کیلئے تین ریلیف دیے جا رہے ہیں: ایک تو ان کی تنخواہوں میں سات فیصد اضافہ کیا گیا ہے جو اگرچہ تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے مطابق تو نہیں لیکن اس سے ان کا مالی سانس کچھ نہ کچھ ضرور بحال ہو گا۔ دوسرا وفاقی حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج ختم کر دیا ہے اور تیسرا‘ ٹیکس میں ریلیف دینے کیلئے چار سلیبز کی تجویز پیش کی ہے جس کے تحت آئندہ مالی سال سے تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس شرح میں کمی کر دی گئی ہے۔ بجٹ میں دوسرا بڑا اقدام فائلرز کیلئے جائیداد کی خرید و فروخت پر وِد ہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کا ہے۔ بجٹ تجاویز کے مطابق فائلرز کیلئے جائیداد خریداری پر وِدہولڈنگ ٹیکس 2.5فیصد سے کم کر کے 1.25فیصد جبکہ نان فائلرز کیلئے جائیداد کی فروخت پر وِد ہولڈنگ ٹیکس 5.5سے کم کر کے 2.75فیصد کردیا گیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے ریئل اسٹیٹ کے بزنس کو ایک بار پھر بوم ملے گا اور اس شعبے میں کاروباری سرگرمیاں تیز ہو جائیں گی۔ بجٹ میں کسانوں کیلئے 300ارب کے قرضے‘ صنعت اور تجارت کیلئے 6.6ارب روپے‘ صحت کیلئے 25.1ارب روپے‘ اعلیٰ تعلیم کیلئے 46ارب روپے اور سائنس اور ٹیکنالوجی کیلئے الگ سے 3.6ارب روپے رکھے ہیں جبکہ دانش سکولوں کیلئے 26.3ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان تجاویز کو دستیاب وسائل میں بہترین کاوش قرار دیا جا سکتا ہے۔
قومی بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کیلئے ایک ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان فنڈز کو بنیادی ڈھانچے‘ سڑکوں‘ توانائی‘ پانی کے ذخائر‘ تعلیم‘ صحت اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے‘ اسی لیے بجٹ میں جدید تعلیمی سہولیات‘ ڈیجیٹل لرننگ‘ تکنیکی تعلیم اور نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافے کے منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔ یہ مہارتیں ایسی ہیں کہ ملک بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور نوجوان یہ مہارتیں حاصل کر کے بیرونِ ملک جا کر پیسہ کمانے کا اپنا خواب بھی پورا کر سکتے ہیں۔ بجٹ میں زرعی پیداوار میں اضافے‘ جدید زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال‘ آبپاشی کے نظام کی بہتری اور زرعی قرضوں کی فراہمی پر توجہ دی گئی ہے۔ اس کوشش کا مقصد زرعی شعبے میں مزید مضبوطی لانا اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانا ہے لیکن گزشتہ روز ہی کسانوں کے ایک نمائندے سے بات ہوئی تو وہ کہہ رہا تھا کہ کسانوں کو سستے قرضے نہیں چاہئیں بلکہ سستے زرعی لوازمات اور پیدا کی گئی فصلوں کی اچھی قیمت چاہیے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ بھارت میں کھادیں کیوں سستی ہیں اور یہاں کیوں مہنگی ہیں؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت میں کسانوں کو سستی بجلی فراہم کی جاتی ہے لیکن یہاں زرعی شعبے کیلئے بجلی مہنگی ترین ہے۔ میری درخواست ہے کہ جب پارلیمنٹ میں بجٹ پر بحث شروع ہو تو زرعی شعبے کے حوالے سے اٹھائے گئے ان سوالات کے جواب تلاش کرنے کی بھی کوشش کی جائے۔
آخر میں مَیں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کیلئے کوششیں ضرور ہونی چاہئیں کہ یہ قومی بقا کا سوال ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ حالات آخر اس حد تک کیسے اور کیوں پہنچ گئے کہ ہمیں بار بار آئی ایم ایف سے رجوع کرنا اور اس کی کڑی شرائط پر عمل کرنا پڑتا ہے۔ جب تک اس بارے میں سنجیدہ سوچ بچار نہیں ہو گی معاشی بحران کی گرداب سے نجات ناممکن ہو گی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved