تحریر : محمد عبداللہ حمید گل تاریخ اشاعت     14-06-2026

بھارت ایشیا کا اسرائیل

بھارت اور اسرائیل کے درمیان ایک قدرِ مشترک مسلم دشمنی ہے۔ دونوں ہی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف فاشسٹ پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔ آر ایس ایس کے پرچارک نریندر مودی کے ادوارِ اقتدار میں دونوں ممالک کی دوستی بھی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ مسلمانوں کے قاتل نریندر مودی نے نیتن یاہو کی متنازع پالیسیوں پر مبارک باد دیتے ہوئے تل ابیب کی پارلیمنٹ ''کنیسٹ‘‘ میں کھڑے ہو کر اسرائیل کو فادر لینڈ قرار دیا۔ اسرائیل نے اگر گریٹر اسرائیل کے خواب کی تکمیل کیلئے غزہ کو کھنڈر بنا دیا ہے‘ پورے فلسطین پر قبضے کیلئے مظلوم فلسطینیوں کا لہو بہایا ہے اور ایران و لبنان میں اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کیلئے بدترین جارحیت کا مظاہرہ کر رہا ہے تو دوسری جانب مودی نے بھی مقبوضہ کشمیر کو ایک زندان میں تبدیل کر دیا ہے۔ کشمیریوں کے جذبۂ حریت کو دبانے کیلئے چپے چپے پر فوج تعینات ہے۔ کشمیریوں کے انسانی حقوق سلب کرتے ہوئے ان پر متعدد قدغنیں عائد کر دی گئی ہیں۔ جس طرح فلسطین کی سرزمین سے مسلمانوں کے علیحدہ تشخص کے خاتمے کیلئے یہودی بستیاں آباد کی جا رہی ہیں بالکل اسی طرح مقبوضہ کشمیر کے خصوصی درجے کے ضامن آرٹیکلز 35-A اور 370 کو ختم کر کے اسے بھی ہڑپ لیا گیا اور اب یہاں کی مسلم آبادی کا اکثریتی تناسب تبدیل کرنے کیلئے غیر کشمیری ہندوؤں کو بسانے کی خاطر دھڑا دھڑ رجسٹریشن کی جا رہی ہے۔
اسرائیل ایک ناجائز اور جبر پر قائم ریاست ہے جس کا قیام فلسطینیوں کی اراضی ہتھیا کر ایک سازش کے تحت عمل میں لایا گیا تھا۔برطانیہ‘ امریکہ اور بھارت اسرائیل کی سرپرستی کر رہے ہیں جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت صہیونی فوجی طاقت کے بل بوتے پر جابرانہ قبضے اور جارحانہ تسلط کو مستحکم کرنے کیلئے مظلوم اور نہتے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔ اگر ہنود و یہود کا یہ گٹھ جوڑ کشمیر اور فلسطین میں اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو گیا‘ جو کہ کسی حد تک ہو بھی چکا ہے‘تو کشمیر و فلسطین کے مسلمانوں کیلئے یہ خطرے کی گھنٹی ہے کہ برمی مسلمانوں کی طرح دربدری اور ٹھوکریں ان کا مقدر بن جائیں گی۔
بھارت اور غاصب اسرائیل کے تعلقات بہت دیرینہ ہیں۔ 1947ء میں اگرچہ بھارت نے فلسطین کی تقسیم کے خلاف ووٹ دیا تھا‘ جو بعد میں اس کی منافقت کے طور پر سامنے آیا کیونکہ 1949ء میں بھارت نے خود اپنے ہی فیصلے کے خلاف اسرائیل کی حمایت میں ووٹ دے دیا۔ سنگھ پریوار شروع سے ہی اسرائیل کا حامی تھا اور آخرکار 1950ء میں بھارت نے اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کر لیا۔اسرائیل پورے مشرقِ وسطیٰ پر تسلط قائم کرنے کے ناپاک منصوبے کی تکمیل کیلئے مسلسل سرگرمِ عمل ہے اور اس مقصد میں اسے امریکہ کی آشیر باد حاصل ہے جس کا بدترین نمونہ دنیا غزہ میں دیکھ چکی ہے۔ اسی طرح مودی اور آر ایس ایس کے اَکھنڈ بھارت کے نقشے میں پاکستان سمیت نیپال‘ بھوٹان‘ بنگلہ دیش اور سری لنکاکے علاقے بھی شامل ہیں‘ اسی لیے ان ممالک میں ہندو بنیے کی مداخلت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس پس منظر میں بھارت کو ''ایشیا کا اسرائیل‘‘ قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ بالی وڈ اور بھارتی میڈیا عالمی سطح پر ایک طاقتور اور مستحکم بھارت کی تصویر پیش کرتے ہیں مگر یہ زمینی حقائق کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔
بھارت کا اپنے قیام سے ہی تقریباً ہر ہمسایہ ملک کے ساتھ کسی نہ کسی نوعیت کا تنازع موجود رہا ہے جس نے پورے خطے کو عدم استحکام کی کیفیت میں مبتلا رکھا ہوا ہے۔ پاکستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات اس کی سب سے واضح مثال ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان چار بڑی جنگیں ہو چکی ہیں اور سرحدی تنازعات آج بھی برقرار ہیں۔ فالس فلیگ آپریشن پہلگام سے مئی 2025ء میں آپریشن سیندور تک کے واقعات‘ جن میں بھارت کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا‘ سندھ طاس معاہدے کی معطلی‘ پاکستانی دریاؤں پر ڈیموں کی تعمیر اور عسکری کارروائیوں نے نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو متاثر کیا بلکہ پورے خطے کے امن کو بھی خطرے میں ڈال رکھا ہے۔ گلگت سے لے کر آزاد کشمیر تک بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ بے نقاب ہو چکا ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردی سمیت آزاد کشمیر میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے حالیہ دنگا فساد نے بھارتی پراکسی وار کو عیاں کر دیا ہے۔ چین کے ساتھ بھی بھارت کے تعلقات کسی حد تک اسی نوعیت کے ہیں۔ 1962ء کی جنگ‘ 2020ء کا گلوان تصادم اور لداخ میں جاری تنازع اس کی مثالیں ہیں۔ نیپال‘ بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک کے اندر بھی بھارتی بدنامِ زمانہ ایجنسی ''را‘‘ کے مذموم سلسلے جاری ہیں۔ نیپال کے ساتھ سرحدی تنازعات اور آئینی اختلافات کی وجہ سے 2015ء کی ناکہ بندی کے دوران ملک کو سپلائی میں شدید خلل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بھوٹان کے ساتھ دفاعی معاہدہ‘ جو وہاں ہندوستانی فوجی موجودگی کی اجازت دیتا ہے‘ جیسا کہ 2017ء کے ڈوکلام تعطل کے دوران دیکھا گیا۔ بنگلہ دیش کے ساتھ پانی کی تقسیم کے مسائل‘ حسینہ واجد کو پناہ دینا اور سری لنکا میں ماضی کی فوجی مداخلت‘ یہ سب عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم سے علاقائی امن کو مسلسل خطرات لاحق ہیں۔ اس تمام صورتحال میں ایک اہم پہلو بھارت کا بیانیہ ہے جس میں وہ خود کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کرتا ہے جو مسلسل بیرونی خطرات کا شکار ہے۔ یہ بیانیہ اسے نہ صرف داخلی سطح پر عوامی حمایت فراہم کرتا بلکہ عالمی سطح پر بھی ہمدردی حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ طرزِ عمل Cry-Wolf Diplomacy کہلاتا ہے‘ جہاں جھوٹے اور من گھڑت واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ پالیسی اقدامات کو جواز فراہم کیا جا سکے اور پھر بین الاقوامی فورمز سے رجوع کرتے ہوئے‘ خصوصاً پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانے کی پوری کوشش کی جاتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں بھارت اور اسرائیل کے درمیان مماثلت کی بات کی جاتی ہے۔ دونوں ممالک اپنے نام نہاد سکیورٹی خدشات کو بنیاد بنا کر سخت پالیسیوں کو اپناتے ہیں اور اس کی آڑ میں متنازع علاقوں بالخصوص مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی انتہا کر دیتے ہیں۔ دونوں عالمی طاقتوں خصوصاً امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک اپنے بیانیے میں ''وجودی خطرے‘‘ کو نمایاں رکھتے ہیں‘ جو اُن کی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں کا اہم ستون ہے۔موجودہ حالات کے تناظر میں بھارت کی سفارتی تنہائی بڑھتی جا رہی ہے جو اس کے اس دعوے کو کمزور کرتی ہے کہ وہ جنوبی ایشیا کی بڑی قوت ہے۔ اگر بھارت اپنی علاقائی پالیسیوں پر نظرِ ثانی نہیں کرتا‘ دوطرفہ مذاکرات کو ترجیح نہیں دیتا اور طاقت و دھونس کے استعمال کے بجائے اعتماد سازی کی جانب نہیں بڑھتا تو خطے میں امن و استحکام کی راہیں مسدود ہو جائیں گی۔ تاہم ہندوستان کی موجودہ علاقائی حکمتِ عملی کا چکر تنازعات‘ الزام تراشی‘ سفارتی شور اور جھوٹے بیانیے پر مشتمل ہے۔
مودی کا ہندوستان اب چمکدار نہیں رہا۔ آپریشن بنیانٌ مرصوص نے ہندوتوا حکومت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔ بھارت اقلیتوں کیلئے جہنم بن چکا ہے اور وہاں بسنے والے مسلمان ہندو راشٹریہ کے نقشے سے باہر ہیں۔ گرو گوالکر کے ہندو راشٹر منصوبے میں واضح طور پر درج ہے کہ ہندو سماج (سمپورن سماج) میں مسلمانوں کو جگہ دینا ممکن ہی نہیں۔ 1947ء سے لے کر آج تک ہندوستان کے نام نہاد سیکولر ازم نے بھارت کی اصل تصویر پر جو پردہ ڈال رکھا تھا وہ اب اٹھ چکا ہے اور حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو رہی ہے۔ مسلمانوں سے کہا جاتا ہے کہ اگر بھارت میں رہنا ہے تو ''جے ماتا‘‘ کے نعرے لگاؤ۔ یہ تمام باتیں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ہندوستان استبدادی قوم پرستی اور مذہبی فاشزم کی سمت بڑھ رہا ہے۔ بھارت ثقافتی جبر‘ سیاسی استحصال‘ معاشی ناانصافی اور سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیوں کے باعث ایک خوفناک جمہوریہ میں تبدیل ہو چکا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved