چین نے مذہبی دہشت گردی کے خلاف ایک کامیاب جنگ کیسے لڑی؟ سنکیانگ کے مسلمان ان دنوں کس حال میں ہیں؟
چین کا سفر جوہری طور پر ان سوالات کے جوابات تلاش کر نے کے لیے تھا۔ درست تر الفاظ میں ان مظاہر کو دیکھنا مقصود تھا جو زبانِ حال سے اس کامیابی کی داستان سنا رہے ہیں۔ کچھ ضمنی سوالات بھی پیشِ نظر تھے جن کا ذکر بعد میں ہو گا۔ گنتی کے چند دن کا قیام‘ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا کہ ایسے سوالوں کے حتمی جواب دیے جا سکیں۔ یوں بھی انسانی مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر کوئی حتمی حکم لگانا ایک غیر علمی رویہ ہے۔ واقعات کی کئی جہتیں ہوتی ہیں اور مشاہدے کی ایک حد ہوتی ہے۔ تاہم پس منظر کی معلومات اور اہلِ علم کی آراء سے بھی اگر استفادہ کیا جائے تو سب کو یکجا کرنے سے معقول بات کی جا سکتی ہے۔
سنکیانگ میں بیسویں صدی کے آخر اور اکیسویں صدی کے اوائل میں شورش کی ایک نئی لہر اٹھی۔ اختلاف کی ایک تاریخ ہے جس نے نئی فکری اور سیاسی تبدیلیوں کے ہمراہ‘ صورتِ حال کو انگیخت کیا۔ یہاں اویغور قبیلے کا غلبہ تھا جو اصلاً ترک ہیں۔ 1884ء میں چنگ بادشاہت(Qing Dynasty) میں یہ علاقہ باقاعدہ سلطنتِ چین کا حصہ بنا۔ یہاں قبائلی توازن پیدا کرنے کیلئے اسی عرصے میں ہان (Han) قبیلے کو آباد کیا گیا۔ بوجوہ یہاں اقتدار کے لیے جنگ جاری رہی۔ یہ کئی جنگجو لیڈروں کے درمیان تھی۔ بیسویں صدی میں یہاں بغاوت ہوئی جو 'قبول بغاوت‘ کہلاتی ہے اور اس کے نتیجے میں 1933ء میں پہلی 'مشرقی ترکستان ریپبلک‘ کے قیام کا اعلان کر دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں جنگجو لیڈر شینگ شیائی کا اقتدار قائم ہوا۔ اسے سوویت یونین کی مدد میسر تھی۔ سوویت ریاست اس حما یت کے نتیجے میں یہاں کے قدرتی وسائل تک رسائی چاہتی تھی۔ یہی وہ دور ہے جب ترک یا مسلم کے بجائے اویغور (Uyghur) کی شناخت پر اصرار ہوا۔ 1942ء میں شینگ نے سوویت یونین کو چھوڑ کر چین سے معاملہ کر لیا۔ 1944ء میں ایک اور بغاوت ہوئی اور دوسری 'مشرقی ترکستان ریپبلک‘ کے قیام کا اعلان کر دیا گیا۔ اس بغاوت کو بھی کہتے ہیں کہ سوویت یونین کی حمایت حاصل تھی۔ چین میں جب خانہ جنگی شروع ہوئی اور ماؤ اشتراکی انقلاب آیا تو اسے بھی سوویت یونین کی حمایت حاصل ہوئی۔ 1949ء میں جب نیا اشتراکی چین وجود میں آیا تو سنکیانگ کا الحاق چین کے ساتھ ہو گیا۔
1950ء میں سنکیانگ کو ایک خود مختار اکائی کا سٹیٹس دیا گیا۔ اس کے بعد بھی امن نہیں آیا۔ 1968ء میں مشرقی ترکستان پیپلز پارٹی قائم ہوئی۔ اس پر اویغور علیحدگی پسندوں کا غلبہ تھا۔ اس طویل کہانی کو مختصر کرتے ہوئے‘ تاریخ اس خطے کی سیاست پر بھی اثر انداز ہوتی رہی جیسے سوویت یونین کی ا فغانستان میں آمد اور پھر 'جہاد‘ کی کامیابی۔ اس سے اسلامی بیداری کے نام پر ایک تحریک اٹھی۔ ترکستان اسلامی جماعت بنی۔ یہی جماعت تھی جو پہلے مشرقی ترکستان تحریکِ اسلامی تھی۔ جہاد کی عالمگیر لہر اُٹھی تو القاعدہ کی آئیڈیالوجی کیلئے یہاں سازگار ماحول موجود تھا۔ یوں بیسویں صدی کی آخری دہائی میں اس خطے میں بھی آزادی اور اسلامی انقلاب کے نام پر دہشت گردی کی لہر اٹھی۔ کئی لوگ اپنی جان سے گئے۔ یہی وہ لہر تھی جسے چین نے ختم کیا۔ سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ہوا؟
اپنے مختصر قیام کے دوران میں مَیں نے جو دیکھا‘ جو سمجھا اور جو کچھ قابلِ بیان ہے‘ اس کے مطابق چین نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تین کام کیے۔ ایک طرف دہشت گردی سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا۔ دوسری طرف علاقے میں ترقی کے ایک غیر معمولی عمل کا آغاز کیا۔ عوام کے لیے زندگی کو سہل بنایا۔ تیسری طرف ان سماجی عوامل کو مخاطب بنایا جو ایسے فساد کا باعث بنتے تھے۔ مجھے ارمچی اور ینگ انگ جانے کا موقع ملا۔ ایک شاندار انفراسٹرکچر‘ صنعتیں اور جدید زراعت کا قابلِ دید نظام۔ مسلم تہذیب کے مظاہر بھی دیکھے۔ ارمچی کے سب سے مقبول بازار میں ایک بڑی اور خوبصورت مسجد خطے کی اسلامی شناخت کی گواہی دے رہی ہے۔ ایک اسلامی مرکز جانے کا بھی اتفاق ہوا۔ شاندار مسجد اور مدرسے کی عالیشان عمارت۔ طلبہ کو اسلامی علوم پڑھتے دیکھا۔ تجوید سے لے کر تفسیر تک پڑھائے جا رہے تھے۔ سڑکوں پر گاڑیوں کا کوئی شمار نہیں تھا۔ خوشحالی تو جیسے چھلک رہی تھی۔ ارمچی میں شہر کا مرکزی بازار مقامی تہذیب کا نمائندہ تھا۔ مسجد کی خوبصورت عمارت کے پہلو میں ثقافت بھی اپنا رنگ دکھا رہی تھی۔
سنکیانگ کے شہری ان دنوں اپنی ترقی کا ستر سالہ جشن منا رہے ہیں۔ نئی اور جدید عمارتوں کا ایک سلسلہ ہے جو آسمان کو چھونے کی تمنا کر رہا ہے۔ ایک عمارت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا میوزیم بنایا گیا ہے۔ دوسری میں ستر سالہ ترقیاتی عمل کے مختلف مراحل کو تصاویر‘ ماڈلز اور تھری ڈی ٹیکنالوجی سے اس طرح اجاگر کیا گیا ہے کہ تاریخ نظروں کے سامنے چلتی پھرتی دکھائی دیتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا کہ چین کے لوگوں نے کیسے اپنی غیر معمولی محنت اور استقامت سے تاریخ کا رخ بدل دیا ہے۔
تیسرا کام یہ کیا گیا کہ علاقے کی شناخت کو بدل ڈالا گیا ہے۔ یہاں ہان اور اویغور کے علاوہ کئی نسلی شناختیں ہیں۔ اس کے لیے کئی اقدام کیے گئے۔ ہان کو یہاں آباد کیا گیا۔ اب وہ اکثریت میں ہیں۔ اویغور کی آباد ی بھی بڑھ گئی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے جب چین میں 'ایک خاندان ایک بچہ‘ کی پالیسی اپنائی گئی تو اویغور کو اس سے استثنا دے دیا گیا۔ اس سے ان کی آبادی میں بہت اضافہ ہوا۔ دہشت گردی کے خلاف اس حکمتِ عملی کا اگر میں خلاصہ کروں تو اس کے تین نکات ہیں۔ دہشت گردی کی سخت سزا‘ آبادی کے لیے بڑا ترقیاتی پروگرام اور فساد کا باعث بننے والے سماجی عوامل کا تدارک‘ جیسے قبائل کے مابین آبادی کا تناسب۔ یہ سب اسی وقت ممکن ہوا جب سارے قبائل‘ اقوام اور عوام کو ایک مرکزی نظام کے تابع کر دیا گیا۔ ثقافتی اقدار اور مذہب کی آزادی کو اسی حد تک گوارا کیا جاتا ہے جس حد تک وہ قومی وحدت اور اجتماعی شناخت کے لیے قابلِ قبول ہے۔ اسی کو آپ جوابی بیانیہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مجھے کسی سرکاری بیانیے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیے۔
اس سفر میں نیک اور اچھے لوگوں کا ساتھ رہا جس نے سفر کو خوشگوار اور سہل بنا دیا۔ جامعہ امدادیہ کے مفتی محمد زاہد‘ مولانا تقی عثمانی کے صاحبزادے جو خود اسلامی معیشت کے ماہر ہیں‘ ڈاکٹر عمران اشرف عثمانی‘ پشاور یونیورسٹی کے ڈاکٹر عامر رضا‘ کے پی اسمبلی کے رکن احمد کندی‘ اکوڑہ خٹک سے مولانا عبدالحق ثانی‘ تبلیغی جماعت کے شاہد صاحب‘ پشاور سے نور حبیب صاحب‘ گھمگول شریف سے محمد انور جنیداور خبیب فاؤنڈیشن کے ندیم احمد وفد میں شامل تھے۔ دعوہ اکیڈمی اسلامی یونیورسٹی اسلام آبادکے ڈاکٹر پروفیسر محمد الیاس نے حسنِ خلق اور حسنِ تدبیر سے ان سرگرمیوں کو منظم کیے رکھا۔انٹر نیشنل کونسل فار ریلیجیئس افیئرز کے صدر برادر محمد اسرار مدنی نے اس سفر کا اہتمام کیا۔ انہوں نے 'مذہبی سفارتکاری‘ کی ایک طرح ڈالی ہے‘ سفارتی حلقے جس کی اہمیت کا اب ادراک کر رہے ہیں۔ یہ ایک معلومات افزا سفر تھا۔ ایسا ہر سفر میرے لیے اس سوال کو اضطراب میں بدل دیتا ہے کہ ہم اپنے مسائل کے حل پر کیوں قادر نہیں؟ ترقی یافتہ اقوام عقل اور تجربات سے اگر سیکھ سکتی ہیں تو ہم کیوں نہیں؟ ہمارے دن آخر کب پھریں گے؟
سفر کا آخری مرحلہ بیجنگ میں دو روزہ قیام تھا۔ وہاں وزارتِ خارجہ کے حکام سے اہم ملاقات ہوئی۔ اس حوالے سے اور پاک چین تعلقات پر اپنے تاثرات‘ ان شاء اللہ اگلے کالم میں بیان کروں گا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved