تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     15-06-2026

بے زبان لو گ

زبان تو ہے اور اس میں کچھ کہنے کی فطری سکت بھی مگر بوجوہ کچھ لوگ خاموشی سے سب کچھ سہتے رہتے ہیں۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ جو اُن کے ہم عمر تھے‘ سکول‘ کالج یا دیہات میں کھیتی باڑی کے پیشوں کے ہم جولی‘ زیادہ تر اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں۔ اکثر تو اُس صف میں ہیں کہ ان کی شریکِ حیات اُن سے پہلے راہی ٔملکِ عدم ہو چکیں۔ دل کی بات کس سے کہیں‘ تنہائیوں کا رونا کس کے سامنے روئیں اور گزرے وقتوں کی داستانیں کسے سنائیں۔ بزرگوں کے اس طبقے میں خوش قسمت وہ ہیں جنہیں مالی آسودگی میسر ہے۔ آبائی جائیدادیں اور خوشحالی یا پھر اپنے پیشوں کے دوران برُے دنوں اور ملازمت کے بعد کی زندگی کے لیے جنہوں نے کچھ بچت کرنے کی عادت اختیار کی۔ ان میں سرکاری ملازمین کا وہ بڑا طبقہ بھی شامل ہے جو پنشن اور دیگر مراعات یافتہ تو ہے مگر سماجی محرومیوں کا شکار وہ بھی نظر آتے ہیں۔ سب تو ایسا کبھی نہیں کرتے مگر جواپنے تعلقات کو استوار کرنے میں ناکام رہتے ہیں‘ ان پر ریٹائرمنٹ ایک بھاری پتھر کے طور پر اچانک آن گرتی ہے۔ وہ لوگوں کی طوطا چشمی کا گلہ کرتے ہیں لیکن اصل بات تو یہ ہے کہ ملازمت اپنی طاقت کا سودا کرنے میں گزار بیٹھے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ موقع پر‘ فوری طور پر مادی شکل میں صلہ ملا ہو‘ دیگر صورتیں بھی ممکن تھیں۔ اپنے ہاں کے بزرگوں اور اُن کی عمر کے لوگوں کی زندگیوں کا کوئی تقابل مناسب نہیں۔ تہذیب‘ ثقافت‘ طرزِ زندگی اور حکومت کی طرف سے سہولتوں کے بارے میں فرق کی کیا بات کریں‘ ہمارے ہاں تو یہ سب کچھ ناپید ہے۔
دنیا میں بہت سی جگہیں دیکھیں جہاں عمر رسیدہ لوگ رہتے ہیں۔ اُن کی عمر کے لحاظ اور صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے مخصوص نوعیت کی رہائش گاہیں‘ کالونیاں اور سہولتیں میسر ہیں۔ سب کے لیے یہ مفت کی باتیں نہیں۔ جس طرح آپ اپنی مالی استعداد کو پیش نظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر اور ہسپتال کے بارے میں فیصلہ کرتے‘ اس طرح صنعتی ممالک بھی بزرگوں کی کالونیوں کے لیے جگہ اور سہولتوں کا تعین کرتے ہیں۔ کم از کم وہاں بزرگ بے زبان نہیں‘ اُن کی مضبوط اور گرج دار آواز ہے۔ وہ منظم ہیں اور جب بات صحت پر اٹھنے والے اخراجات‘ ہیلتھ انشورنس اور سوشل سکیورٹی بینیفٹ جو ماہانہ پنشن کی ایک شکل ہے‘ کی آتی ہے تو بزرگ شہریوں کو آپ اکٹھا دیکھتے ہیں۔ امریکن ایسوسی ایشن آف ریٹائرڈ پیپل وہاں کی بڑی غیر حکومتی تنظیموں میں سے ایک ہے۔ نہ اس کی لیڈرشپ جعلی ہے اور نہ ہی کسی کے ذاتی مفاد اور کمائی کی آلہ کار ہے۔ کوئی اس سے منافع نہیں لیتا۔ ساڑھے تین کروڑ سے زیادہ اس کے رکن ہیں‘ جو پندرہ بیس ڈالر سالانہ چندہ دیتے ہیں‘ یعنی ایک ناشتے یا دوپہر کے کھانے کے برابر۔ یہ انجمن بزرگوں کو آخر میں جینے کا سلیقہ‘ اپنے اثاثے محفوظ کرنے کے گُر‘ ورزش‘ خوراک‘ تفریح اور صحت کے پروگراموں سے مستفید کرتی رہتی ہے۔ سب سے بڑھ کر اُن کے حق میں حکومت کے سامنے آواز بلند کرتی ہے۔ انتخابات میں اس کے اراکین اُس صدارتی امیدوار اور پارٹی کے حق میں مجموعی طور پر ووٹ ڈالتے ہیں جو اُن کے مفاد میں منشور بناتی ہے۔ ان کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے مقامی ریڈیو اور ٹیلی ویژن سٹیشن اُن کی تفریح اور دلچسپی کے موضوعات پر پروگرام ترتیب دیتے ہیں۔ اُن کی ضروریات کی چیزیں پیدا کرنے والی کمپنیاں اُنہیں سپانسر کرتی ہیں۔ وہاں مشاہدے میں ہے کہ امریکی اور یورپی بزرگ باوسائل ہونے کے باوجود اکثر ہاتھ کرنے والوں کے ہتھے بھی چڑھ جاتے ہیں۔ کئی مرتبہ دیکھنے میں آیا کہ بزرگوں کو مفت ٹرانسپورٹ‘ لنچ‘ کچھ نرم گرم مشروبات اور یہاں تک کہ تیس چالیس ڈالر ہاتھوں میں تھما کر جوا باز کمپنیاں جوئے خانے‘ جنہیں وہ کیسینو کہتے ہیں‘ میں لے جاتی ہیں۔ اُن کی اکثریت شام کو لٹی پٹی واپس آتی ہے۔ اُن کا نقصان بہرحال اتنا نہیں ہوتا جو پنجاب کے زمینداروں کا کسی زمانے میں لاہور کے بدنام بازار میں ہوا کرتا تھا۔ اب بھی ہمارے کچھ زمیندار شہزادوں کے سماجی رجحانات زیادہ مختلف نہیں‘ مگر دولت برباد کرنے کے ڈھنگ کچھ بدل گئے ہیں۔
ایک نظریہ ہے‘ جو مغرب میں زیادہ مقبول ہے اور جس کے اثرات پوری دنیا میں پھیل رہے ہیں۔ پنجابی زبان اور فلمی گیتوں میں بھی اس موضوع پر بہت خوبصورت شاعری ہے‘ مہذب انداز میں جو بادشاہ ظہیر الدین بابر نے کہا تھا کہ ''بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘‘۔ میرے ذہن میں تو وہ بزرگ آتے ہیں جو یا تو اس فلسفے پر عمل کرکے تہی دست ہو چکے ہیں یا وقت کے ظالم تھپیڑوں نے انہیں زندگی کے ایسے ساحلوں کی طرف دھکیل دیا ہے جہاں کسمپرسی ان کا مقدر بن چکی ہے۔ کئی کہانیاں ہیں جو اس طرف دھیان کرنے پر دل میں ابل پڑتی ہیں اور زور زور سے ضربیں لگاتی ہیں۔ لکھنے سے معذرت کہ کردار حیات ہیں‘ ان کی حالت دیکھی نہیں جاتی کہ قسمت نے ایسی جگہ پر انہیں لا کھڑا کیا ہے کہ جہاں روشنی‘ امید اور باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں بچا۔ زندگی کے آخری حصے کے لیے دانشمندانہ فیصلوں اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ مگر اس سب کے باوجود خوش قسمتی‘ صحت اور صحتمند رشتے جو آپ کو حوصلہ دیں‘ نیچے گرا کر سفاکانہ انداز میں آپ پر ہنسیں نہیں‘ ہنسی دبا کر خوش نہ ہوں اور کم از کم تضحیک نہ کریں۔ آپ خوش قسمت ہیں اور اس سے بڑھ کر اچھا مقدر کیا ہو سکتا ہے کہ آپ کسی کے محتاج نہیں۔ یقین مانیں‘ بزرگوں کے چہروں پر اداسی دیکھتا ہوں تو دل بیٹھ جاتا ہے۔
ہمارے بزرگوں کی اکثریت وسائل کے باوجود سماجی تنہائی کا شکار ہے۔ کہتے ہیں کہاں جائیں‘ کس سے ملیں‘ کون ہمیں پہچانے گا‘ مجبوراً بہت ہی محدود حلقے ہیں جو وقت کے ساتھ مزید سکڑ کر چند رشتہ داروں‘ ساتھیوں یا ملازموں تک محدود رہ جاتے ہیں۔ دیہات میں بزرگوں کے پاس وسائل نہیں‘ جن کے پاس کبھی زمین کی صورت تھے‘ بہت کچھ بلکہ بعض کیسوں میں سب کچھ بیٹوں نے اپنے قبضے میں لے لیا۔ کل کے کئی زمینداروں کو آج دوسروں کا دست نگر دیکھتا ہوں تو دل بھر آتا ہے۔ ہوا یہ کہ دبائو میں آ کر زمین بیٹوں کے نام کردی‘ ہاتھ کٹوا بیٹھے اور پھر کبھی دینے والا ہاتھ لینے پر مجبور ہو گیا۔ سمجھدار لوگ ایسی جلد بازیاں نہیں کرتے۔ مادیت پرستی میں تیل دیکھو‘ تیل کی دھار دیکھو والا محاورہ متروک نظر آتا ہے۔ خود غرضی کے تیل کی دھار ہر جگہ اور ہر موسم میں ایک جیسی ہوتی ہے۔ دیہات میں جو کبھی چھوٹے زمیندار‘ مزارع‘ کاشتکار اور دستکار تھے‘ وہ مجھے ہر جگہ مفلوک الحال دکھائی دیتے ہیں۔ اُن کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ اولاد جسے محنت مزدور ی کرکے پالا‘ بڑا کیا‘ انہیں پائوں پر کھڑا کرکے زندگی کا رختِ سفر بھی دیا‘ وہ بھی معاشی جبر کے پیش نظر آنکھیں پھیر لیتی ہے۔ بازاروں میں جانے سے بھی بیچارے کتراتے ہیں کہ کہیں چائے خانے پر بیٹھیں تو جیب میں کچھ تو ہونا چاہیے کہ ایک پیالہ چائے خرید کر پی سکیں۔ آپ اگر شہر کے لوگ ہیں تو آپ نے شاید بچوں‘ بزرگوں اور عورتوں کی وہ غربت نہیں دیکھی جو یہ درویش اپنے آبائی علاقے میں اکثر دیکھتا ہے۔ ان میں جو اَب عمر رسیدہ ہیں‘ وہ بیچارگی کے کونے کھدروں میں‘ کبھی اس پیڑ کے نیچے‘ کبھی اُس دربار پر‘ کبھی کسی ہمدرد کے ٹھکانے کے چکر لگاتے رہتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک شفا خانے کی انتظار گاہ میں کچھ وقت گزرا تو قطار میں بے زبان بزرگ افسردگی سے بوجھل‘ اپنی فائلیں ہاتھوں میں تھامے خاموش نظر آئے۔ کچھ سے بات چھیڑی‘ کچھ کی طرف مسکرا کر دیکھا اور مسکرانے پر قائل کرنے کی کوشش کی‘ کچھ کو سلام کیا۔ ایک اجنبی سے کہا کہ پہلے بھی ہم کہیں ملے تھے۔ دوسرے اجنبی نے سرگوشی کی کہ اس عمر میں یہی کچھ کہتے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved