وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27ء کا بجٹ ایسے وقت میں پیش کیا ہے جب معیشت استحکام اور نمو کے درمیان ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔ تقریباً 18 ٹریلین روپے کے وفاقی بجٹ میں ایک طرف 15.26 ٹریلین روپے کا ریکارڈ ٹیکس ہدف مقرر کیا گیا ہے تو دوسری جانب مختلف شعبوں کو ریلیف دینے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس بجٹ میں اصل فائدہ کس کو ہوا اور بوجھ کس پر پڑا؟
تنخواہ دار طبقے کی بات کریں تو حکومت نے 52 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف دیا ہے۔ سالانہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے آمدنی والوں کے لیے ٹیکس شرح 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد‘ 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے آمدنی والوں کے لیے 30 فیصد سے 25 فیصد‘ 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے آمدنی والوں کے لیے 35 فیصد سے 29 فیصد اور 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے آمدنی والوں کے لیے 35 فیصد سے 32 فیصد کر دی گئی ہے۔ 10 ملین روپے سے زائد آمدنی پر عائد 9 فیصد سرچارج بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد جبکہ کم از کم اجرت میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے‘ لیکن حکومت خود آئندہ سال اوسط مہنگائی 8.2 فیصد رہنے کا تخمینہ دے رہی ہے‘ جس سے حقیقی آمدنی میں اضافہ محدود رہ سکتا ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ بڑھا کر 838 ارب روپے کر دیا گیا ہے‘ جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔ اس پروگرام سے ایک کروڑ بیس لاکھ خاندان مستفید ہو سکتے ہیں۔ رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو بجٹ کا سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا شعبہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ حکومت نے تقریباً 115 ارب روپے کا ریلیف دیا ہے۔ جائیداد کی خریداری پر ایڈوانس ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد اور فروخت پر ٹیکس 5.5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد کر دیا گیا ہے۔ بیرون ملک ظاہر شدہ اثاثوں پر ایک فیصد کیپٹل ویلیو ٹیکس بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ کاروباری شعبے کے لیے سپر ٹیکس میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ 50 کروڑ روپے تک آمدنی رکھنے والی کمپنیوں کے لیے سپر ٹیکس ختم جبکہ اس سے زائد آمدنی پر شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔ تاہم بینکوں‘ تیل وگیس اور کھاد کے شعبے کو اس رعایت سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے فکسڈ ٹیکس آسان سکیم متعارف کرائی گئی ہے جس کے تحت 20 کروڑ روپے تک سالانہ کاروبار رکھنے والے تاجر ایک سادہ اور آسان طریقہ کار کے ذریعے اپنے ٹرن اوور کا ایک فیصد ٹیکس ادا کر سکیں گے جبکہ کم از کم سالانہ ٹیکس 25 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایف بی آر یہ تعین کس طرح کرے گا کہ کس دکان کا ٹرن اوور 20 کروڑ سے زیادہ ہے؟ دکاندار 25 ہزار روپے ادا کر کے اپنی مرضی کی کم آمدن ریٹرن جمع کروا سکتے ہیں‘ جیسا کہ ماضی میں ہوتا آیا ہے۔ اگر چیک اینڈ بیلنس نہ رکھا گیا توصرف 25 ہزار روپے ٹیکس دکانداروں کے لیے ایک طرح کی ٹیکس ایمنسٹی سکیم بن سکتی ہے۔
برآمدات اور آئی ٹی سیکٹر کے لیے بھی اچھی خبر ہے۔ آئی ٹی برآمدات پر 0.25 فیصد رعایتی ٹیکس شرح مزید تین سال کے لیے برقرار رکھی گئی ہے جبکہ عمومی برآمدات پر کم از کم ٹیکس دو فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے بیرون ملک ادائیگیوں پر ود ہولڈنگ ٹیکس بھی پانچ فیصد سے کم کرکے صرف 0.5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ صنعتی شعبے کو ایک طرف تقریباً 180 ارب روپے کی کسٹم ڈیوٹی رعایت دی گئی ہے۔ 3125 ٹیرف لائنوں پر کسٹم ڈیوٹی کم یا ختم کی گئی ہے جبکہ 1914 ٹیرف لائنوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کی گئی ہے۔ دوسری طرف درآمدی خام مال پر اضافی تین فیصد سیلز ٹیکس لگا کر صنعتوں پر نیا بوجھ بھی ڈالا گیا ہے۔ گاڑیوں کے شعبے میں پالیسی ملی جلی ہے۔ کچھ ہائبرڈ گاڑیوں پر 18 فیصد سیلز ٹیکس نافذ کیا گیا ہے۔ دو کروڑ سے تین کروڑ روپے مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر 30 فیصد اور تین کروڑ روپے سے زائد مالیت کی گاڑیوں پر 40 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔ اسی طرح 2000 سی سی سے 3000 سی سی گاڑیوں پر 70 فیصد اور 3000 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر 81 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی نافذ کی گئی ہے۔ ڈیجیٹل معیشت کے لیے پہلی مرتبہ سوشل میڈیا آمدن پر پانچ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس لگایا گیا ہے جس کا اطلاق یوٹیوب‘ فیس بک‘ انسٹاگرام اور ٹک ٹاک سے حاصل ہونے والی آمدن پر ہو گا۔
بجٹ میں اگر کسی ایک عدد نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی ہے تو وہ پٹرولیم لیوی ہے جو تقریباً 1.68ٹریلین سے 1.73 ٹریلین روپے کے درمیان مقرر کی گئی ہے۔ یہ رقم وفاقی حکومت کے ترقیاتی بجٹ سے 70 فیصد زیادہ ہے۔ بجٹ کے مطابق آئندہ مالی سال میں تقریباً 7.8 سے آٹھ ٹریلین روپے صرف قرضوں کے سود کی مد میں ادا کیے جائیں گے۔ یعنی کل آمدن کا تقریباً 43 فیصد سود کی ادائیگیوں میں خرچ ہو گا۔ یہ مالیاتی ڈھانچہ ایک تلخ حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ ریاست زیادہ آمدن تو پیدا کر رہی ہے مگر اس آمدن کا بڑا حصہ مستقبل بنانے کے بجائے ماضی کے قرضوں اور ان کے سود کی ادائیگی میں خرچ ہو رہا ہے۔ تاہم اس بجٹ کا سب سے بڑا بوجھ بالواسطہ ٹیکسوں اور لیویز کی صورت میں عوام پر ہی پڑے گا۔ حکومت نے پٹرولیم لیوی سے 1.68 ٹریلین روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جبکہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے مزید 50 ارب روپے حاصل کیے جائیں گے۔ پاکستان کی معیشت کے بارے میں ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ مالی سال 2018-19ء میں بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 9.1 فیصد تک پہنچ گیا تھا جبکہ آج یہ کم ہو کر تقریباً 3.6 فیصد کی سطح پر آ گیا ہے۔ یعنی سات برسوں میں بجٹ خسارے میں 5.5 فیصد پوائنٹس کی کمی ہوئی ہے جو گزشتہ دو دہائیوں کی کم ترین سطح ہے۔ یہ معمولی کامیابی نہیں۔ خسارے میں کمی کا مطلب ہے کہ حکومت کو کم قرض لینا پڑتا ہے۔ کم قرض لینے سے بینکوں پر حکومتی دباؤ کم ہوتا ہے‘ نجی شعبے کے لیے قرضوں کی گنجائش بڑھتی ہے اور افراطِ زر کے دباؤ میں بھی کمی آ سکتی ہے۔ اگر خسارہ اب بھی 2018-19ء کی سطح پر ہوتا تو حکومت کو تقریباً 6.7 ٹریلین روپے اضافی قرض لینا پڑتا۔ دوسرے لفظوں میں پاکستان نے وفاقی بجٹ کے ایک تہائی حصے کے برابر قرض لینے سے گریز کیا ہے۔ تا ہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا خسارے میں کمی ہی معاشی اصلاحات کا نام ہے؟ جواب نفی میں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بجٹ خسارہ تو کم ہوا ہے مگر اصلاحات کا خسارہ برقرار ہے۔ موجودہ جاری اخراجات اب بھی تقریباً 16 ٹریلین روپے ہیں‘ سرکاری ادارے ہر سال دو ٹریلین روپے سے زائد کا بوجھ ڈال رہے ہیں اور توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ پانچ ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ اسی طرح ترقیاتی اخراجات کے بڑے دعوؤں کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کتنے سکول فعال ہوئے‘ کتنے ہسپتال بنے اور کتنے ترقیاتی منصوبے عوام کو حقیقی سہولت فراہم کر سکے؟ محض رقوم مختص کرنا ترقی نہیں‘ نتائج دینا ترقی ہے۔ بجٹ خسارہ کم ہونا ایک مثبت پیش رفت ہے‘ لیکن اصل کامیابی اس وقت ہو سکتی ہے جب ریاست اپنے حجم‘ اخراجات اور ناکامیوں کو بھی کم کرے۔ ورنہ شاید پاکستان مالیاتی دباؤ تو کم کر لے مگر معاشی اصلاحات کا سفر ادھورا رہ سکتا ہے۔ بجٹ خسارہ کم ہوا ہے‘ مگر اصلاحات کا خسارہ اب بھی برقرار ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved