تحریر : سعود عثمانی تاریخ اشاعت     15-06-2026

زنجیر بدل گئی ہماری

غلامی کی شکلیں بدل گئیں لیکن غلامی نہیں بدلی۔ یہ قدرے معزز غلامی ہے جس میں پیروں میں دکھائی دینے والی زنجیریں اور گلے میں جھنکتا طوق نہیں ہوتا۔ احسان دانش کا مصرع ہے: آزاد کر دیا ہمیں زنجیر ڈال کر۔ بس ہم اسی طرح کے آزاد ہیں۔ شاید غلامی کے ادوار میں ایک ہی زنجیر ہواکرتی ہو گی اور وہ بھی اس وقت جب غلام کے فرار ہو جانے کا اندیشہ ہو لیکن اس دور میں نہ دکھائی دینے والی اتنی زنجیریں ہیں کہ شاید ہی کسی دور میں رہی ہوں گی۔ اب غلام کہیں بھاگ نہیں سکتا اور یہ زنجیریں بھی ہر وقت بجتی رہتی ہیں۔ ان زنجیوں کا احساس ہر بجٹ کے وقت زیادہ شدت سے ہونے لگتا ہے۔ اگلے روز بجٹ کا اعلان ہو گیا اور یہ زنجیریں مزید بھاری ہو گئیں۔ میں نے ایک بار لکھا تھا:
تقدیر تو خیر کیا بدلتی ؍ زنجیر بدل گئی ہماری
کیا تقدیر ہے ہماری۔ ہم نے مہاجن سے پیسے لیے سو لیے‘ ان پر کمر توڑ دینے والا سود اٹھایا سو اٹھایا‘ لیکن ان پیسوں کو خرچ کیسے کرنا ہے‘ یہ بھی مہاجن طے کرتا ہے۔ کتنے پیسے کہاں دینے ہیں‘ کتنے سکے کس کی جیب میں جانے ہیں‘ رقم میں کتنے فیصد سود کی مد میں واپس کرنا ہے یہ ہم طے نہیں کرتے۔ کر بھی نہیں سکتے کہ یہ پیسے اس قرض کے ہیں جس نے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے۔ زندگی یہ حسرت کرتے گزر گئی اور باقی ماندہ گزر جائے گی کہ ہم معاشی لحاظ سے اپنے پیروں پر کھڑے نظر آئیں۔ ہر بجٹ میں امید بندھتی ہے کہ شاید اس بار حکومت اور فیصلہ ساز یہ خیال کریں کہ ہم کتنی دیر یہ قرض اٹھائے جائیں گے۔ ہر بجٹ سے پہلے کچھ انقلابی تبدیلیوں کی آس بندھتی ہے کہ شاید اس بار... لیکن وہ اس بار کبھی آ ہی نہیں پاتا۔ بلکہ بجٹ سے پہلے یہ خبریں آنے لگتی ہیں کہ مہاجن نے فلاں فلاں معاملات پر کڑی شرطیں لگا دی ہیں کہ یہ نہیں کرنا اور وہ نہیں کرنا۔ اس بار بھی یہی ہوا۔ وہی عوام کی فلاح کے وعدے‘ وہی ملک کی بہتری کی سکیمیں‘ وہی قرض سے باہر آنے کی خواہشیں۔ کاغذوں کے ایک پلندے میں درج خوبصورت الفاظ۔ جن میں ایک لفظ بھی بجٹ بنانے اور فیصلے کرنے والوں کی نیت کی ترجمانی نہیں کرتا۔
کچھ دن پہلے میں کسی سے بات کر رہا تھا کہ پٹرول کی قیمتوں‘ بدلتی دنیا اور ٹیکنالوجی کی انقلابی تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے برقی گاڑیوں کی ملک میں سخت ضرورت ہے‘ اور ضرورت کا مطلب یہ نہیں کہ مہنگی گاڑیاں جو کسی اوسط آمدنی والے کی دسترس میں نہ ہوں بلکہ ایسی گاڑیاں جو اکثر وبیشتر طبقات خرید سکیں۔ ظاہر ہے کہ اس سے ایک طرف پٹرول کی بچت ہوگی دوسری طرف فضائی آلودگی کم ہو گی۔ ہمارے شہر بدترین آلوودہ شہروں میں شمار ہو رہے ہیں۔ صاف ہوا شہروں میں بھی میسر آنا شروع ہو جائے گی۔ اس وقت پٹرول کا ایک ہفتے کا امپورٹ بل 800 ملین ڈالر کے قریب ہے۔ ماہانہ 2.27 ارب ڈالر ہم صرف پٹرول در آمد کرنے میں خرچ کرتے ہیں۔ یہ ہماری کل درآمدات کا ایک چوتھائی ہے‘ یعنی ہم اس کو اگر نصف کی حد تک بھی کم کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو ہمیں مہاجن سے قرض لینے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ اس کا آسان حل الیکٹرک گاڑیوں‘ موٹر سائیکلوں‘ ٹرکوں وغیرہ کو زیادہ سے زیادہ سستا کرنا ہے‘ تاکہ ملک اس دلدل سے نکل سکے۔ ہر سال کی طرح میں خودفریبی میں مبتلا تھا کہ شاید حکومت کو اس کا ادراک ہو جائے کہ خلقِ خدا کس طرح اپنا پیٹ کاٹ کر پٹرول ڈلواتی ہے۔ خوش فہمی تھی کہ پاکستان میں سولر انقلاب کی وجہ سے جو بجلی کی بچت ہوئی ہے اس کو دیکھتے ہوئے الیکٹرک گاڑیوں پر ڈیوٹی کم کی جائے گی‘ ان کی تیاری میں سہولتوں کا اعلان کیا جائے گا اور چند سال میں اس کے نتائج پورے ملک کو ملنے لگیں گے۔ لیکن بجٹ سے پہلے یہ خبریں آنے لگیں کہ مہاجن نے کہا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں پر ڈیوٹی اور ٹیکس کم مت کرنا‘ ورنہ... اور اس ورنہ کا مطلب ہم سب جانتے ہیں۔
چنانچہ بجٹ میں ان گاڑیوں پر ٹیکس کم نہیں ہوا‘ نہ ڈیوٹی کم کی گئی بلکہ جو تفصیلات آ رہی ہیں ان کے مطابق یہ گاڑیاں اور مہنگی ہو جائیں گی۔ براہ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اور ابھی تو بات صرف گاڑیوں کی ہو رہی ہے‘ روزمرہ استعمال کی جن چیزوں پر ٹیکس بڑھایا گیا ہے وہ تو الگ موضوع ہے۔ گاڑیوں کی حد تک نتیجہ یہ ہو گا کہ لوگ روایتی گاڑیاں ہی خریدنے اور استعمال کرتے رہنے پر مجبور ہوں گے۔ پٹرول کی درآمد بڑھتی جائے گی اور قیمتیں بھی۔ فضائی آلودگی جو پہلے ہی اپنی حدوں کو چھو رہی ہے‘ مزید بڑھے گی۔ اس آلودگی کو ختم کرنے کے لیے نئی مشینیں‘ نئے آلات خریدے جائیں گے اور یہ امپورٹ بل میں مزید اضافہ کریں گے۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ مہاجن اس پر پابندی کیوں لگاتا ہے؟ اور افسر شاہی یہی چلن برقرار کیوں رکھنا چاہتی ہے؟ جواب کوئی مشکل نہیں۔ مسئلہ صرف مہاجن ہی نہیں کاروباری مافیاز بھی ہیں جن کے مفادات کے خلاف کوئی بجٹ نہیں بن سکتا۔ پٹرولیم مصنوعات کا بھی بہت پھیلا ہوا کاروبار ہے‘ وہ نہیں چاہیں گے کہ ان کی کمائی کم ہو۔ پاکستان میں ہر قسم کی روایتی اور الیکٹرک گاڑیاں پہلے ہی دیگر ملکوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ کسی درمیانی سی گاڑی کی قیمت‘ جو اوسط درجے کے گھر کی بنیادی ضرورت ہے‘ 60 لاکھ سے کم نہیں‘ اور یہ نچلی حد ہے‘ بالائی حد نہیں۔ ایک عام آدمی کے لیے 60 لاکھ جمع کرنا ایک خواب ہوتا ہے۔ اتنی رقم میں تو چند سال پہلے تک زمین کا ٹکڑا خرید کر گھر بنایا جاتا تھا‘ وہ بھی ساری عمر کی پونجی جوڑ کر۔ اب زمین کے مافیاز نے زمین بھی دسترس سے چھین لی ہے۔ گورے مہاجنوں کو خطرہ ہے کہ اگر الیکٹرک گاڑیاں سستی ہوئیں تو اس کا سب سے بڑا فائدہ پاکستان کے ساتھ چین کو ہوگا۔ وہ ہمسایہ بھی ہے اور الیکٹرک گاڑیوں کا بہت بڑا برآمد کنندہ بھی اور افسر شاہی ان سیٹھوں کے ہاتھوں میں کھیلتی ہے جو روایتی گاڑیوں کے بڑے پلانٹ لگائے بیٹھے ہیں۔ اگر الیکٹرک گاڑیاں مہنگی ہی رہیں تو ان سب کا فائدہ ہے۔ مسئلہ صرف اس آدمی کا ہے جو پٹرول کی قطار میں کھڑا اپنی جیبیں ٹٹولتا ہے اور اپنے بیوی بچوں کو جھوٹی تسلیاں دیتا ہے کہ ان کی گاڑی لینے کے خواب جلد ہی پورے ہوں گے۔ چکی میں پستے اس آدمی کو کوئی یہ بتانے والا نہیں کہ جب تک یہ مہاجن ہیں جب تک یہ مافیاز ہیں اور جب تک یہ فیصلہ ساز ہیں‘ ان بچوں کے خواب پورے ہونے والے نہیں۔
لیکن یہ تو صرف ایک پہلو ہے۔ آپ یہ خبر بھی پڑھ لیں تاکہ اندازہ ہو سکے کہ آپ آئندہ کس دور سے گزرنے والے ہیں۔ بجٹ میں تقریباً 150 ارب روپے کے نئے ٹیکس شامل ہیں۔ گھی‘ خوردنی تیل‘ مٹھائیاں‘ پاستا اور مختلف مسالوں پر بھی 18 فیصد جی ایس ٹی کی تجویز ہے۔ ہر قسم کے جوتے سیلز ٹیکس میں شامل کر دیے گئے ہیں۔ کراکری اور گھریلو استعمال کی اشیا پر بھی سیلز ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ طوالت کی وجہ سے میں نے یہ خبر مختصر کر دی ہے ورنہ جن اشیا پر نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں ان کی فہرست لمبی ہے۔ بجٹ رفتہ رفتہ اپنی شکل دکھاتا رہے گا اور ہر نئی خریداری آپ کا سانس مزید دوبھر کرے گی۔ سو میرے خوش فہم ہم وطنو! تیار ہو جاؤ۔ جنہوں نے واسا کی منتوں سے تنگ آکر خود بورنگ کروا لی ہے‘ جنہوں نے اپنے پنکھے سولر پلیٹوں پر منتقل کر دیے ہیں‘ جنہوں نے اپنی حفاظت کے لیے گلیوں میں گارڈ رکھے ہیں‘ جنہوں نے سرکاری سکولوں سے اپنے بچے کسی پرائیویٹ سکول میں داخل کروا دیے ہیں‘ اگر آپ سمجھ رہے تھے کہ اب آپ گورنمنٹ کے چنگل سے نکل گئے تو جلد ہی سمجھ آ جائے گی کہ چنگل ہوتا کیا ہے۔ آپ پرانی زنجیریں کھڑکھڑاتے اور تنگ ہوتے تھے۔ یہ نئی زنجیریں کیسی سجیں گی آپ پر؟ آپ بچ کے جائیں گے کہاں؟ ہے کوئی راہِ فرار؟ ہاں ایک بہرحال ہے۔ زیر زمین دو گز کے ٹکڑے میں۔ سانس لینا بند کر دیجیے‘ تاکہ ٹیکس دینا بند ہو سکے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved