یہ جو چلے جا رہا ہے‘ یہ کون ہے؟
مشکل سے پاؤں اٹھاتا ہے۔ اگلا قدم چلنے سے پہلے ہانپنے لگتا ہے۔ مکھیوں کو اڑانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے‘ کبھی جھرجھری لے کر‘ کبھی سر کو جھٹک کر‘ مگر رِستے ہوئے زخموں پر مکھیاں ٹوٹ پڑتی ہیں۔ اس ذی روح کیلئے راحت نام کی کوئی شے نہیں۔ صبح کی خنکی ہو یا گئی رات کا سناٹا‘ کڑکتی‘ چلچلاتی دوپہر کی اذیت ہو یا خون چوستے پسوؤں سے بھری شام‘ اس کیلئے ذرہ بھر سکون نہیں۔ اس بات کا کوئی امکان بھی نہیں کہ کوئی دور افتادہ راحت اس کے پاس سے گزر ے۔
یہ کون ہے جو چلے جا رہا ہے؟ کبھی اس کی کھال سے بیگ بناتے ہیں‘ کبھی جیکٹیں اور کبھی جوتوں کے تسمے! کبھی کوئی اس کی پشت پر بیٹھ کر ہانکنے لگتا ہے۔ کوئی ہل میں جوتتا ہے اور کانٹوں بھری قمچیاں مارتا ہے۔ کبھی چراگاہ میں لے بھی جائیں تو پشت پر ڈنڈا رسید کر کے گالی دیتے ہیں اور اس کا گوشت کھانے کی دھمکی دیتے ہیں۔ اس کے جگر اور گردے‘ جو کبھی صحیح سلامت تھے‘ ایک ایک کر کے ناکارہ ہونے لگے ہیں۔ خوراک حد درجہ کم ہو گئی ہے۔ جو تھوڑی بہت گھاس کھاتا بھی ہے‘ ہضم نہیں ہوتی۔ معدے سے اٹھتی جلن صبح تک بے چین رکھتی ہے۔ دل کی رگیں تنگ ہو گئی ہیں۔ کمر میں مسلسل درد رہتا ہے۔ ٹانگیں جو کبھی فولاد کی طرح تھیں‘ کانپتی ہیں۔ مالک کو کوئی پروا نہیں۔ وہ اس سے سالہا سال فائدہ اٹھا چکا ہے۔ کسی رات‘ تنہائی میں سانسوں کی آمد و رفت رک جائے گی اور یہ گر پڑے گا۔
یہ کون ہے؟ یہ ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہے۔ اس نے کم و بیش 40 برس ریاست کی خدمت کی ہے۔ اس نے اپنی محنت اور دیانت سے ریاست کے کروڑوں اربوں روپے بچائے۔ لوگ کچھ بھی کہیں‘ چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے تمام سرکاری ملازموں کے خلاف یاوہ گوئی اور ہرزہ سرائی کرتے رہیں‘ سچ یہ ہے کہ اس سرکاری ملازم نے چار دہائیاں‘ صبح سے شام تک کام کر کے ریاست کی مشینری چلائی۔ بسوں میں سفر کیا۔ سائیکل چلائی۔ غروبِ آفتاب کے بعد دفتر سے اٹھا۔ راتوں کو گھر میں بیٹھ کر فائلیں نمٹائیں۔ ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو سکولوں میں داخلے دلوائے۔ بیوی بچے بیمار ہوئے تو انہیں ہسپتالوں میں لے کر گیا۔ چھٹی کبھی ملی کبھی نہ ملی۔ اتوار کو اتوار بازار میں سستے سودا سلف کی تلاش میں پھرا۔ کام کرتے کرتے کمر دہری ہو گئی۔ بینائی میں ضعف آ گیا۔ چلنے میں دقت ہونے لگی۔ ریٹائرمنٹ پر جی پی فنڈ‘ پنشن ملا کر بچوں کی شادیاں کیں۔ اکثریت کے پاس ریٹائرمنٹ کے وقت اپنی چھت نہیں ہوتی۔
عوام میں یہ بات پھیلائی گئی کہ ہر سرکاری ملازم کرپٹ ہے۔ بد عنوان ہے۔ سائلین کو تنگ کرتا ہے۔ سچ کیا ہے؟ اس لکھنے والے نے 37 برس سرکاری ملازمت میں گزارے۔ درجنوں محکموں میں کام کیا۔ بیسیوں شعبوں سے واسطہ پڑا۔ اس پروردگار کی سوگند جس نے اپنے بندوں کی اکثریت کو حلال و حرام میں فرق کو سمجھنے کی صلاحیت بخشی‘ گنتی کے چند شعبوں کو چھوڑ کر سرکاری ملازموں کی اکثریت دیانتدار ہے‘ محنتی ہے اور ذمہ دار!! ایسا نہ ہوتا تو ریاستی مشینری جام ہو چکی ہوتی۔ ہسپتال‘ ٹرینیں‘ سکول‘ کالج‘ ڈاکخانے‘ تھانے‘ ایف بی آر‘ قومی بچت کے مراکز ٹھپ ہو چکے ہوتے۔ بجلی‘ گیس‘ پانی کا نظام تہ و بالا ہو چکا ہوتا۔ مسلح افواج اور دیگر سرکاری ملازموں کو تنخواہیں نہ ملتیں۔ ریگستانوں میں کوہستانی چوٹیوں پر‘ اور مورچوں میں بیٹھے ہوئے فوجیوں کو اشیائے خورو نوش نہ مل رہی ہوتیں‘ بیواؤں کی پنشن بند ہو جاتی۔ افغانستان کی سو فیصد آبادی پاکستان میں منتقل ہو چکی ہوتی۔ سڑکیں اور پُل بنانے والوں کو معاوضے ملنے بند ہو جاتے۔ ٹھیک ہے کہ کچھ سرکاری ملازموں نے یورپ‘ امریکہ اور کینیڈا میں جائدادیں خریدیں‘ حرام کی آگ اپنے اور اپنے بچوں کے پیٹ میں بھڑکانے والے یقینا موجود ہیں مگر ایسے جہنمی تعداد میں کم ہیں۔ ان کو بنیاد بنا کر تمام سرکاری ملازموں کو مطعون کرنا سخت نا انصافی ہے۔ غیر ذمہ دارانہ عمومی دعویٰ کرنا (Sweeping statement)دینا آسان ہے‘ ثابت کرنا مشکل ہے۔ کیا تمام ڈاکٹر لالچی ہیں؟ کیا تمام وکیل جھگڑالو ہیں؟ کیا تمام میوہ فروش خراب مال بیچتے ہیں؟ کیا تمام پاکستانی عہد شکن‘ دروغ گو اور خائن ہیں؟ کیا تمام علما دنیا دار ہیں؟ ہم سب جانتے ہیں کہ ان سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔ تو پھر سرکاری ملازموں کی اکثریت بددیانت اور راشی کس طرح ہو سکتی ہے؟
ابھی اگلے روز بجٹ کا اعلان ہوا ہے۔ زندگی کے فعال برس ریاست پر نچھاور کرنے والے ان ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟ سات فیصد!! یہ سات فیصد اضافہ کس طبقے نے تجویز کیا ہے اور منظور کیا ہے؟ وہ طبقہ جس کا ہر فرد ارب پتی نہیں تو کروڑ بلکہ کروڑوں پتی ضرور ہے۔ ان میں سے اکثر کی قیام گاہ‘ گاڑی‘ پٹرول‘ نوکر یہاں تک کہ کھانا پینا بھی سرکار کے ذمے ہے۔ یہ ریٹائرمنٹ کے بعد لاکھوں میں پنشن لیتے ہیں۔ پٹرول‘ بجلی‘ گیس‘ پانی‘ ٹیلیفون مرنے تک سرکاری خزانے سے ہے۔ تفصیل میں گئے تو Contempt کے جرم میں پکڑے جا ئیں گے۔ آپ پارلیمنٹ کے ارکان کی کل مراعات معلوم کریں۔ دل بیٹھ جائے گا۔ تنخواہ‘ سفری خرچ‘ سرکاری پاسپورٹ‘ کئی قسم کے الاؤنس‘ علاج معالجہ‘ غرض لاتعداد مراعات!! ان پر کسی قانون کا اطلاق بھی نہیں ہوتا! اسلحہ کی نمائش دھڑلے سے کرتے ہیں۔ گاڑی کے نیچے دے کر لوگوں کو مار دیں تو سزا ملنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا! ایک صاحب سینیٹ کے چیئرمین تھے تو اپنے آپ کو اور دیگر ارکان کو کیا کیا مراعات دے گئے‘ ڈھونڈ کر پڑھیے۔ دل سے ہوک اُٹھے گی۔ ایک خاتون لاکھوں کے قرضے معاف کرا گئیں۔ اس طبقے کے ارکان صبح لندن میں کرتے ہیں تو شام جنیوا میں۔ اور ساتھ وزیروں اور سیکرٹریوں کی فوج!! جو درباری بنے پھرتے ہیں! علاج ان کا یورپ سے ادھر ہوتا ہی نہیں۔ ہر شہر میں ان کے محلات ہیں۔ جہاز ان کیلئے رکشے جیسا ہے۔ دنیا کی سب سے مہنگی گاڑیاں ان کے پاس ہیں اور بے شمار ہیں۔ ان کے بچے‘ پوتے‘ نواسے یورپ میں ہیں۔ یہ ہے وہ طائفہ جس نے ریٹائرڈ سرکاری ملازموں کی پنشن سات فیصد بڑھائی ہے۔ حاتم طائی کی قبر پر لات ماری ہے اور بخل کی انتہا کر دی ہے۔ یہ وڈیرہ ذہنیت ہے۔ یہ فیوڈل مائنڈ سیٹ ہے۔ یہ طبقہ عوام کو رعایا گردانتا ہے اور اپنے آپ کو بادشاہ!! خدا کی قسم ! یہ وہ گروہ ہے جو سودا سلف لینے کبھی بازار گیا ہی نہیں۔ سرکاری ہسپتالوں اور سرکاری سکولوں کے کبھی قریب بھی نہیں پھٹکے! یہ سمجھ ہی نہیں سکتے کہ پنشن میں سات فیصد اضافہ اضافہ نہیں طمانچہ ہے! یہ اندازہ ہی نہیں کر سکتے کہ زندگی کی مشعل دونوں سروں سے کس طرح جلتی ہے!
بارہا گفتہ ام و بارِ دگر می گویم! پہلے بھی بارہا بتایا ہے‘ ایک بار پھر عرض ہے۔ جو جانتا ہے وہ جانتا ہے‘ جو نہیں جانتا وہ جان لے کہ پاکستان میں امرا کی حکومت ہے۔ فرنگی اس نظامِ حکومت کو اولیگارکی (Oligarchy) کہتے ہیں۔ یعنی ایک چھوٹے سے طبقے کی حکومت جس کے پاس دولت ہے۔ فیصلہ سازی اس طبقے سے باہر نہیں جا سکتی۔ عوام کیلئے یہ ممکن ہی نہیں کہ فیصلہ سازی پر اثر انداز ہو سکیں۔ سادہ سی مثال آپ کے سامنے ہے۔ بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں کا‘ زبردست شور کے باوجود‘ کوئی بال بیکا نہیں کر سکا۔ زیرو بجلی پیدا کرنے والے بھی اربوں روپے لے رہے ہیں۔ چینی کی مثال لے لیجیے۔ ہر سال برآمد کر کے اربوں کماتے ہیں۔ پھر مہنگی کر کے مزید اربوں اور پھر درآمد کر کے مزید در مزید کھربوں کماتے ہیں! کون؟ فیصلے کرنے والے! عوام پچیس کروڑ کیا‘ پچاس کروڑ بھی ہو جائیں تو کچھ نہیں کر سکتے! اولیگارکی زندہ باد! عوام مردہ باد!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved