اعتراف سے اصلاح کا دروازہ کھلتا ہے مگر اس کیلئے فولادی عزم و ارادے کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومتی ارادے کے بارے میں تو ہم کوئی پیشگوئی نہیں کر سکتے مگر حکومتی اعترافات کی ایک جھلک آپ کے سامنے ضرور پیش کریں گے۔ حکومت نے حالیہ اکنامک سروے میں تسلیم کیا کہ زرعی و صنعتی نمو کے اہداف حاصل ہو سکے اور نہ ہی برآمدات بڑھ سکیں۔ غربت 28.9فیصد تک پہنچ گئی۔ اعتراف تو حکومت نے کیا ہے مگر ادھورا۔ عالمی بینک سمیت دیگر کئی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان میں 45فیصد تک لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہماری حکومت نے خطِ غربت کی اپنی تعریف وضع کر لی ہے۔ اس کے مطابق جو شخص 8483 روپے ماہانہ کماتا ہے وہ خطِ غربت سے اوپر ہے۔ بھلا آٹھ ہزار سے گھر چلتا ہے؟ یہ غریبوں سے مذاق نہیں تو اور کیا ہے۔ یہ آمدنی 30 ڈالر ماہانہ یعنی ایک ڈالر یومیہ بنتی ہے۔ جبکہ عالمی طور پر جو شخص تین ڈالر یومیہ سے کم کماتا ہے وہ خطِ غربت سے نیچے شمار کیا جاتا ہے۔ عالمی فارمولے سے غربت ناپی جائے پھر تو آدھی سے زائد پاکستانی آبادی خطِ غربت سے نیچے چلی جائے گی۔ بہرحال پاکستانی فارمولے کے مطابق بھی تقریباً ہر تیسرا فرد خطِ غربت سے نیچے ہے۔
عمومی طور پر دیکھیں تو دیہی علاقوں میں غربت 36.2 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 17.4 فیصد ہے۔ علاقائی جائزہ لیں تو سب سے زیادہ غربت‘47 فیصد بلوچستان میں اور سب سے کم‘ 23فیصد پنجاب میں ہے۔ اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان میں فی کس سالانہ آمدنی 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہو گئی ہے۔ اس اضافے سے ایک اور مسئلے کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ملک میں طبقاتی تقسیم مزید بڑھ چکی ہے۔ پاکستان کے شہری علاقوں میں صرف دس فیصد ایلیٹ کلاس ملکی دولت کے 72 فیصد کی مالک ہے۔ حکومت بالآخر جمعۃ المبارک کے روز ایک ایسا بجٹ لانے میں کامیاب رہی جس کا سرِ عنوان بقول ثاقب لکھنوی یہ ہے کہ ''باغباں بھی خوش رہے راضی رہے صیاد بھی‘‘۔ یعنی آئی ایم ایف بھی خاموش اور حکومت بھی اپنی سابقہ روش پر قائم۔ لے دے کے حکومت نے بجٹ میں عوام کو جو ریلیف دیا ہے وہ بس اتنا ہے کہ تنخواہوں میں سات فیصد اضافہ اور کم از کم اجرت 10 فیصد بڑھائی جائے گی۔ یہ اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ ملک کا مجموعی بجٹ 18771 ارب روپے کا ہے۔ اس میں دفاعی اخراجات کا حصہ 17.6 فیصد ہے۔ وفاقی بجٹ کا تقریباً 43 فیصد قرضوں کے سود کی ادائیگی کیلئے مختص کیا گیا ہے۔ اس بجٹ میں امیروں کے استعمال کی صرف چند چیزوں پر مزید ٹیکس لگایا گیا ہے جبکہ عام آدمی کے استعمال کی کم از کم 36 اشیا پر اضافی ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے۔ ان میں دودھ‘ ڈیری مصنوعات‘ خوردنی تیل‘ گھی‘ بیکری آئٹمز‘ پلاسٹک کی گھریلو اشیا اور سینیٹری آئٹمز وغیرہ شامل ہیں۔حکومت کا کہنا ہے کہ ہم نے ڈوبتی ہوئی معیشت کی نیّا کو استحکام کے کنارے لگایا ہے۔
بجٹ کے موقع پر حکومت نے خود یہ اعتراف کیا ہے کہ ملک میں اس وقت بیروزگاری 21برس کی بلند ترین سطح‘ 7.1 فیصد پر ہے۔ ایک اور تخمینے کے مطابق دیکھیں تو ملک میں 13سے 14کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں۔ بیروزگاری اور کم مالی استعداد کی بنا پر تقریباً ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ بجٹ میں کچھ اہداف میں معمولی رد و بدل کیا گیا ہے مگر معیشت کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کا کوئی قابلِ عمل پروگرام نہیں دیا گیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ بالواسطہ ٹیکسز کم سے کم ہوتے‘ لیکن بجٹ میں براہِ راست ٹیکسز 7613ارب اور بلاواسطہ ٹیکسز 7651 ارب روپے ہیں۔ بالواسطہ ٹیکسوں کی زد میں عوام کی اکثریت آتی ہے۔ ترقی یافتہ معیشتوں میں بالواسطہ ٹیکس کم سے کم اور براہِ راست ٹیکسوں کا حجم کہیں بڑا ہوتا ہے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2022ء میں داخلی قرضہ 31.1 ٹریلین روپے تھا جبکہ مارچ 2026ء میں یہ قرض 57.6 ٹریلین روپے ہو چکا ہے۔ جون 2022ء میں پاکستان کا بیرونی قرضہ ملا کر 127.7 ارب ڈالر تھا۔ اب یہ قرضہ 138 ارب ڈالر ہو چکا ہے۔ پہلا قرضہ ادا نہیں ہو پاتا اوپر سے اور قرضہ عوام پر لاد دیا جاتا ہے۔ آج ہر پاکستانی اوسطاً تین لاکھ 33 ہزار روپے کا مقروض ہے۔ عالمی اور ایشیائی بینک کے طویل مدتی قرضوں کے علاوہ ہم نے قلیل مدت کیلئے آئی ایم ایف اور کئی دوست ممالک سے قرضہ پکڑ رکھا ہے۔ ان قرضوں کی ادائیگی کی تلوار ہر وقت ہمارے سروں پر لٹکتی رہتی ہے۔ اس وقت پاکستان کے ذمے آئی ایم ایف کا تقریباً دس ارب ڈالر کا قرضہ ہے۔
اب معیشت کے اصل مسائل کی طرف آتے ہیں۔ پاکستانی معیشت کی لائف لائن برقرار رکھنے میں اوورسیز پاکستانیوں کا سب سے اہم حصہ ہے۔ مالی سال 2025ء میں سمندر پارکام کرنے والے بھائیوں نے 38.3ارب ڈالر پاکستان ارسال کیے ۔ شہروں کی طرف نقل مکانی کے باوجود آج بھی زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ گندم‘ چاول‘ گنا اور مویشیوں کی افزائش سے ملکی آبادی کے ایک بڑے حصے کو روزگار ملتا اور اشیائے خور و نوش بھی مہیا ہوتی ہیں۔ کبھی ٹیکسٹائل کی برآمدات سے پاکستان کو بھاری زرِمبادلہ حاصل ہوتا تھا مگر اب کپاس کی جگہ جنوبی پنجاب میں گنا اگایا جاتا ہے۔ دوسری طرف اکثر ٹیکسٹائل ملیں بھی بند پڑی ہیں۔ ہماری معیشت بین الاقوامی قرضوں کے وینٹی لیٹر پر ہے۔ ملکی و غیرملکی ماہرینِ اقتصادیات ہماری معیشت کے بنیادی نقائص بیان کرتے اور اصلاحِ احوال کی طرف توجہ مبذول کراتے رہتے ہیں۔ ان نقائص میں شامل ہیں: کم ٹیکس‘ بھاری اندرونی و بیرونی قرضے‘ کم برآمدات‘ درآمدات کی بھرمار‘ سیاسی عدم استحکام‘ بیرونی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر‘ فی ایکڑ کم زرعی پیداوار اور صنعتوں کا پہیہ جام۔ ہم ہر چند برس کے بعد سیاسی و معاشی عدم استحکام کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پھر کوئی نجات دہندہ حکومت مزید قرضوں کے ذریعے معیشت میں استحکام لانے کی دعویدار بن کے آتی ہے مگر مستحکم معیشت اور بڑی شرح نمو کیلئے کوئی بڑی تبدیلی لانے سے قاصر رہتی ہے کیونکہ عوام سے کم سے کم رابطہ رکھنے والی حکومت کی زیادہ سے زیادہ توجہ اپنا اقتدار مینج کرنے پر ہوتی ہے۔ اب ذرا یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہماری طرح کچھ اور ملکوں کو اس طرح کے معاشی چیلنجز پیش آئے تو ان کا ردِعمل کیا تھا۔ مجھے یاد پڑتا ہے ایک بار ہم نے ویتنام کی خستہ حال معیشت کے شاہراہ ترقی پر تیز رفتاری کے ساتھ گامزن ہونے کا تفصیل سے تذکرہ کیا تھا۔ ویتنام‘ بنگلہ دیش اور انڈونیشیا وغیرہ کئی بار عدم استحکام کی زد میں آئے مگر ان کی ہمیشہ دو نکاتی پالیسی رہی کہ معیشت میں صرف مالی استحکام نہیں لانا بلکہ مستقل بنیادوں پر اس کی شرح نمو کو بڑھانا ہے اور روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے ہیں۔ ہماری پالیسی تیسری دنیا کی قدرے مستحکم معیشتوں کی طرح دو نکاتی نہیں محض یک نکاتی رہی ہے یعنی عارضی مالی استحکام اور بیرونی و اندرونی قرضوں کی بھرمار‘ حکومتی شاہانہ اخراجات اور مینو فیکچرنگ پر کوئی توجہ نہیں۔ حکومت اوورسیز پاکستانیوں کو چھوٹی صنعتیں لگانے کا موقع دے تو باہر سے پاکستانی دو گنا زرِمبادلہ بھیج سکتے ہیں۔ باہر سے لوگ زرمبادلہ لاتے ہیں‘ انڈسٹری کی فیزیبلٹی ہمراہ ہوتی ہے‘ سالہا سال سرکاری دفاتر میں دھکے کھاتے اور پھر دور دیسوں کو لوٹ جاتے ہیں۔ حکومت اپنے اقتصادی و سیاسی رویوں پر نظر ثانی کرے۔ حکومت نے بجٹ 2026-27ء کیلئے جو اہداف مقرر کیے ہیں ان میں چار فیصد گروتھ ریٹ اور مہنگائی 8.2 فیصد سے بڑھنے نہ دی جائے۔ ٹیکس جمع کرنے کیلئے ایف بی آر کا ہدف جی ڈی پی کا 15.26 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ بات اعتراف و عارضی مالیاتی اہداف سے آگے بڑھ کر قرضوں سے نجات اور مستقل بنیادوں پر اقتصادی خوشحالی کی طرف آنی چاہیے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved