تحریر : رشید صافی تاریخ اشاعت     16-06-2026

مشرقِ وسطیٰ میں امنِ نو

سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ شاہد ہے کہ جنگیں شروع کرنا آسان ہوتا ہے مگر اہداف کا حصول اور انہیں منطقی انجام تک پہنچا کر اپنی مرضی کے مطابق ختم کرنا مشکل عمل بن جاتا ہے۔ جب کوئی ریاست جنگ کا فیصلہ کرتی ہے تو وہ سٹرٹیجک کیلکولیشن کے تحت چند ہفتوں یا مہینوں کا منصوبہ بناتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنگیں اپنی راہیں خود متعین کرتی ہیں۔ دورِ حاضر اور ماضی کی تمام چھوٹی بڑی جنگیں اس حقیقت پر صادق آتی ہیں۔ ویتنام کی دلدل ہو‘ افغانستان کا طویل تنازع یا حال ہی میں رونما ہونے والے معرکے۔ سب اس بات کے گواہ ہیں کہ فاتح اور مفتوح کا موازنہ صرف ملبے کے ڈھیروں پر ہی کیا جا سکتا ہے۔ سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ اب جنگوں کی آگ صرف فریقین تک محدود نہیں رہتی۔ گلوبلائزیشن کے اس دور میں جنگ کے جغرافیائی دائرے سے ہزاروں میل دور بیٹھے وہ ممالک اور عام انسان بھی اس کی تپش سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں جن کا اس تنازع سے دور دور کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ اب جبکہ طویل گھٹن کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے افق سے جنگ کے سیاہ بادل چھٹ رہے ہیں تو عالمی برادری نے سکون کا سانس لیا ہے‘ تاہم جنگ کے باقاعدہ خاتمے کے بعد اب وہ اصل اور لرزہ خیز حقائق بھی سامنے آنا شروع ہو جائیں گے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی اس ساڑھے تین ماہ کی خوفناک جنگ میں فریقین کا جانی ومالی نقصان کتنا ہوا‘ اور اس ہولناک تنازع کے سبب دنیا کی معیشتوں کو مجموعی طور پر کتنے کھرب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔
کبھی کبھی عالمی سیاست کے بڑے کھلاڑیوں اور سپر پاورز کی سٹرٹیجک کیلکولیشن یکسر غلط ثابت ہوتی ہے۔ جس طرح زمین کی گہرائی میں کھدائی کے دوران اچانک کوئی سخت چٹان یا پتھر آ جانے سے پوری مشینری کا زور ٹوٹ جاتا ہے اور کھدائی کا عمل تعطل کا شکار ہو جاتا ہے‘ بالکل اسی طرح اس ساڑھے تین ماہ کے تنازع کے دوران آبنائے ہرمز کی جزوی و کُلی بندش نے دنیا کو ایک بڑا سبق سکھایا ہے۔ عالمی طاقتوں نے یہ جانا کہ صرف بے پناہ عسکری قوت‘ ٹیکنالوجی اور مادی وسائل کی فراوانی ہی فتح کی ضامن نہیں ہوتی بلکہ زمینی طاقتوں کے مقابل جغرافیائی و سٹرٹیجک اہمیت سے بھی انکار کی گنجائش نہیں ۔ آزاد مؤرخ جب بھی اس دور کا احاطہ کرے گا وہ اس بات کو نمایاں انداز میں لکھے گا کہ کس طرح چند ہفتوں کا عسکری جنون اور غلط سٹرٹیجک اندازے انسانیت کو ترقی کے سفر میں برسوں پیچھے دھکیل دیتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے بھیانک بحران کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی‘ امن کی کوششوں اور دنیا کو اس تباہی سے نکالنے والوں میں پاکستان کا نام سنہری اور نمایاں حروف میں درج ہو گا۔ جب عالمی طاقتیں بیانات کی جنگ اور فوجی ارتکاز میں مصروف تھیں پاکستان نے ذمہ دار اور امن پسند ریاست کے طور پر مخلصانہ سفارتی کوششوں کا آغاز کیا۔ پاکستان کی یہ سفارتکاری رنگ لا ئی ہے اور دنیا ایک بڑے عالمی سانحے سے بچ گئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس تاریخی سفارتی کامیابی کی تصدیق کرتے ہوئے عالمی برادری کو بتایا کہ امریکہ اور ایران کے مابین جامع امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس معاہدے پر دستخط کی تقریب 19 جون کو جنیوا (سوئٹزرلینڈ) میں منعقد ہو گی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر جاری کردہ بیان میں لکھا کہ طویل اور پیچیدہ مذاکرات کے بعد یہ باضابطہ اعلان کیا جا رہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ دونوں فریقوں نے تمام محاذوں پر‘ بشمول لبنان میں فوری اور مستقل طور پر عسکری کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کیا ہے‘‘۔ وزیراعظم نے اس پیش رفت پر دونوں ممالک کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے خطے کو مزید تباہی سے بچانے کیلئے جنگ پر سفارتکاری کو ترجیح دی اور اس تنازع کے حل کیلئے سنجیدہ اور تعمیری کوششیں کیں۔ پاکستان کی جانب سے ان دیگر علاقائی ممالک کے کردار کی بھی تعریف کی گئی جنہوں نے ثالثی کے اس پورے عمل میں معاونت کی۔
امن معاہدے کے حوالے سے واشنگٹن سے بھی مثبت بیانات آ رہے ہیں۔ امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی اور امن معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے مشرقِ وسطیٰ میں نئے دور کے آغاز کی علامت قرار دیا ہے۔ فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے خلیجی ممالک اور اپنے تمام علاقائی اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس پیچیدہ معاہدے کیلئے ایسی حقیقی سیاسی اور سفارتی گنجائش پیدا کی جس کے بغیر یہ بڑی تبدیلی اور جنگ بندی ممکن نہیں تھی۔ صدر نے وہ حقیقی سپیس قائم کی جہاں اس خطے کے مستقبل کو مثبت انداز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور اب ہمیں پوری امید ہے کہ ایرانیوں کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے اور پُرامن دور کا آغاز ہو گا۔ جے ڈی وینس نے امید ظاہر کی کہ خطے میں استحکام کے بعد عالمی سطح پر توانائی اور تیل کی قیمتوں میں واضح کمی آئے گی جس سے عام صارفین کو ریلیف ملے گا۔انہوں نے کہا کہ 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی دستخطی تقریب میں وہ خود شرکت کریں گے جبکہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ صدر ٹرمپ بھی اس موقع پر موجود ہوں اور اس معاہدے پر مہر تصدیق ثبت کریں۔
خوش آئند اور اطمینان بخش پہلو یہ ہے کہ ایرانی حکام بھی اس امن معاہدے کی تصدیق کر رہے ہیں حالانکہ محض ایک دن پہلے تک خطے کی صورتحال یکسر مختلف اور انتہائی کشیدہ دکھائی دے رہی تھی‘ جہاں کسی بھی وقت وسیع تر جنگ چھڑ سکتی تھی۔ تاہم اس تاریخی موڑ پر ایرانی حکام نے اپنے اصولی مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے دنیا پر یہ واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ ہونے والا یہ معاہدہ کسی قسم کے بیرونی دبائو‘ پابندیوں یا مجبوریوں کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ طویل سفارتی کوششوں‘ تہران کی دفاعی استقامت اور کئی ہفتوں پر محیط انتہائی پیچیدہ مذاکرات کا ثمر ہے۔ اس موقع پر ایرانی حکام نے پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام مذاکرات پاکستانی ثالثی کے ذریعے ہی آگے بڑھے‘ جس کے نتیجے میں فریقین ایک دوسرے کے تحفظات کو سمجھتے ہوئے اس حتمی مفاہمت تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ ایران کے مطابق امن معاہدہ اس کے شہدا کی قربانیوں‘ عسکری مصلحت‘ سفارتی مہارت اور دفاعی استقامت کا عکاس ہے‘ نہ کہ کوئی مسلط کردہ فیصلہ۔ اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ معاہدے کے اعلان سے محض چند گھنٹے قبل تک پورا ایران ہائی الرٹ اور جنگی تیاریوں میں مصروف تھا اور اسرائیل کی جانب سے بیروت پر کیے جانے والے حالیہ حملوں کے جواب میں ایک بڑے فوجی ردعمل پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا تھا۔ اگر جوابی حملہ کر دیا جاتا تو شاید یہ امن عمل ملبے کا ڈھیر بن جاتا اور ثالثی کی کوششیں کچھ عرصے کیلئے معطل ہو جاتیں۔ لیکن آخری لمحات میں عسکری ردعمل کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرنے کے فیصلے نے اس امن معاہدے تک پہنچنے کی راہ ہموار کی۔ 28 فروری 2026ء سے شروع ہونے والا یہ خونیں معرکہ اگرچہ اپنے پیچھے ہزاروں کہانیاں‘ معاشی نقصانات اور تلخ یادیں چھوڑ گیا ہے لیکن اس کا خاتمہ بین الاقوامی سفارت کاری اور عقل سلیم کی بہت بڑی فتح ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved